فلساز، ہدایتکار ، ہر تبدیلی اچھی نہیں ہوتی

آدتیہ پوجن
وقت کے ساتھ چلنا ہم سب کی مجبوری ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی جڑوں سے ہی دور ہوجائیں، لیکن ہندی فلم انڈسٹری کا کچھ ایسا ہی حال ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بالی ووڈ میں نئی نئی تکنیکیں آئیں، ناظرین کا نیاگروہ جڑا، نئے زمانے کے نوجوان پروڈیوسر-ڈائریکٹر آئے۔ ان کی مدد سے ہندی فلموں کی خوبیوں میں بے شک اضافہ ہوا، لیکن کنٹینٹ گم ہوکر رہ گیا۔ اب ایک فلم بنانے میں 100-200 کروڑ روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ بڑے بڑے اسٹاروں کو لے کر شاندار سیٹ تیار کئے جاتے ہیں، دھماکے دار موسیقی ہوتی ہے، لیکن وہ کشش نہیں ہوتی، جو پہلے کی ہندی فلموں میں ہوتی تھی۔ فلم انڈسٹری بہت تیزی سے کارپوریٹ شکل اختیار کرتی جارہی ہے،تو نتیجتاً کارپوریٹ کلچر کی خامیوں کا اس کے ساتھ جڑنا بھی لازمی ہے۔ اب فلموں کو پروڈیوسر- ڈائریکٹر کی تخلیق کی شکل میں نہیں دیکھاجاتا، بلکہ ایک پروڈکٹ کی شکل میں دیکھا جاتا ہے، جس میں گاہکوں کو لبھانے کے لئے ہر مسالہ موجود ہو۔ پروڈیوسر-ڈائریکٹر بنے اداکار اور ان کے پروڈکشن ہاؤس اس سچائی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بازار کے مزاج کو بھانپ کر بڑی تعداد میں فلمیں بناتے ہیں، گویا فلمیں کسی فیکٹری میں بنتی ہوں۔ یہ فلمیں ہٹ ہوں یا نہ ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ  ان کا ٹارگیٹ ناظرین کا ایک خاص طبقہ ہی ہوتا ہے اور اپنی لاگت وصول کرنے میں یہ کامیاب رہتی ہیں۔ یہ بازارپرستی کی ایک جانی پہچانی شکل ہے، جس میں پروڈکٹ تو گاہک کی پسند کے مطابق تیار کیا جاتا ہے، لیکن اس کی کوالٹی پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ ایسی فلموں میں عام ناظرین کی پسند کوئی معنیٰ نہیں رکھتی اور پروڈیوسر-ڈائریکٹر کی تخلیقی صلاحیت بھی گم ہوکر رہ جاتی ہے۔
فلموں کی تخلیق ایک فن ہے۔ ستیہ جیت رے، راج کپور اور کمال امروہوی جیسے پرانے زمانے کے فلم کاروں کی فلموں سے ان کے کام کی پختگی اور تخلیقی صلاحیت جھلکتی تھی، ان کا وژن نظر آتا تھا، لیکن بازارپرستی نے آج صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلمیں آتی ہیں، جاتی ہیں اور ہمارے ذہن سے بھی نکل جاتی ہیں، ہم انہیں یاد نہیں رکھتے۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح بازار میں ایک نئی چیز آتی ہے اور ہم تبھی تک اسے یاد رکھتے ہیں، جب تک اس سے بہتر کوئی نئی چیز ہمارے سامنے نہ آجائے۔ یہی کارپوریٹ کلچر ہے، جس کا شکار ہماری ہندی فلم انڈسٹری ہو کر رہ گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *