دو بچوں کا مقابلہ بوڑھے شیر سے

عمران خان
سماج وادیوں کی سرزمین جموئی میں دو بچوں کو بوڑھے شیر کا ڈر ستارہا ہے۔ ضلع کے دو سرکردہ لیڈر نریندر سنگھ کے بیٹے اجے پرتاپ سنگھ اور جے پرکاش یادو کے بھائی وجے پرکاش یہاں سے امیدوار ہیں اور انہیں سخت چیلنج پیش کررہے ہیں بزرگ کانگریسی لیڈر ارجن منڈل۔ تینوں امیدواروں کی اپنی الگ الگ طاقت ہے تو کمزوریاں بھی ہیں۔ میدان جیتنے کے لئے تینوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے، لیکن ان کی کمزوریاں راستے میں رکاوٹ کھڑی کررہی ہیں۔اجے پرتاپ کو اپنے والد پر بھروسہ ہے تو وجے پرکاش کو اپنے بھائی کی پالیسی پر پورا اعتمادہے۔ اجے جے ڈی یو سے انتخاب لڑ رہے ہیں تو وجے پرکاش آرجے ڈی کے امیدوار ہیں۔ کانگریس کے ٹکٹ پر ارجن منڈل کو اپنی سادگی اور راہل گاندھی کے کرشمے پر یقین ہے۔ گزشتہ الیکشن میں یہاں سے نریندر سنگھ کے بیٹے ابھے سنگھ نے وجے پرکاش کو شکست دے کر جیت حاصل کی تھی۔ ابھے کی موت کے بعد اس کے بڑے بھائی اجے پرتاپ پر پارٹی نے بھروسہ کیاہے۔ اس الیکشن سے پہلے سیاست کی دنیا سے دور رہنے والے اجے پرتاپ گھر گھر جاکر اپنے والد کا تعارف پیش کرکے ووٹ مانگ رہے ہیں تو وجے اپنے بھائی اور لالو یادو کا واسطہ دے رہے ہیں۔ اجے ترقی کا ثبوت دے رہے ہیں تو وجے رائے دہندگان سے ترقی کا وعدہ کررہے ہیں۔اجے کے ساتھ راجپوت ووٹروں کی طاقت ہے تو وجے کے ساتھ یادوؤں کا ووٹ ہے۔ ادھر ارجن منڈل ووٹروں کو بتارہے ہیں کہ میری جیت کا مطلب ہے ، جموئی میں ترقی اور امن وسکون کی گارنٹی۔ اپنے لئے آخری موقع مانگنے والے منڈل جی کو کوئری اور کرمی رائے دہندگان کی پوری حمایت حاصل ہے۔مسلمانوں کا بھی بڑا طبقہ ان کے ساتھ ہے۔ارجن منڈل اور وجے پرکاش دونوں ایک ایک بار جموئی سے جیت چکے ہیں۔جب کہ اجے یہاں سے پہلی بار قسمت آزمارہے ہیں۔ علاقے کووہ اچھی طرح جانتے ہیں، اس لئے کافی سنبھل کر اپنی مہم چلارہے ہیں۔ ارجن منڈ ل تو اس اکھاڑے کے پرانے کھلاڑی ہیں، اس لئے ہر علاقے کے ووٹروں کا مزاج سمجھتے ہیں اور اسی حساب سے اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ کانگریسی امیدوار ہونے کی وجہ سے ارجن منڈل کو بھومیہار، برہمن اور مسلم ووٹروں پر پورا بھروسہ ہے۔ موجودہ سیاسی حالات پر بات کریں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تینوں ہی امیدواروں کو اپنی گرفت مضبوط کرنے میں پسینے چھوٹ رہے ہیں،لیکن حقیقت میں اصلی نشانہ پسماندہ ووٹ ہے۔ جموئی میں اس بارپسماندہ ووٹ ہی امیدوار کی جیت میں اہم رول ادا کرے گا۔ اس ووٹ بینک کا جتنا بڑا حصہ جسے ملے گا وہ اتنا ہی فائدہ میں رہے گا۔ مسلم رائے دہندگان کا رخ بھی الیکشن کا رخ موڑ سکتا ہے۔نہایت پسماندہ ووٹروں میں منڈل جی کے تئیں مثبت اشاروں سے اجے اور وجے کے کان کھڑے ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں نے بھی پوری طاقت لگادی ہے۔ راجپوت ووٹوں کے لئے آرجے ڈی رگھوونش بابو کا استعمال کررہا ہے۔ جے ڈی یو کو کرمی ووٹوں کے لئے نتیش کمار کے کرشمے پر بھروسہ ہے۔اجے پرتاپ کا کہنا ہے کہ جموئی کے عوام صحیح فیصلہ کریں گے اور تیر پر ہی اپنا ووٹ دیں گے۔ دوسری طرف وجے کہتے ہیں کہ جس طرح سورج کا طلوع ہوناطے ہے، ٹھیک اسی طرح ہماری جیت بھی پکی ہے۔ لوگوں کو ٹھگنے والوں کو عوام اس الیکشن میں پوری طرح مسترد کردیں گے۔ ارجن منڈل کہتے ہیں کہ جموئی کو امن اور ترقی چاہئے اور یہ میں دینے جارہا ہوں۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ مجھے پیار دیا ہے اور میرے اس آخری الیکشن میں بھی وہ  پوری طرح میرے ساتھ دل سے جڑگئے ہیں۔ ان تینوں کے علاوہ پرکاش بھگت، پونم دیوی اور نشانت پارتھ سارتھی بھی اپنی قسمت آزمارہے ہیں، لیکن اصلی مقابلہ دو بچوں اور ایک بوڑھے شیر کے درمیان دکھائی دے رہا ہے ۔دونوجوانوںکی تیزی اور ایک عمررسیدہ وجہاں دیدہ کے تجربہ کے درمیان جموئی کی لڑائی دلچسپ موڑ لے چکی ہے۔آخری وقت میں جو امیدوار اپنے دل اور دماغ پر قابو رکھ پائے گا، جیت اسی کے دروازے پر دستک دے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *