بہار میں اب سیکولر اور انصاف پسند حکومت کا انتظار

اشرف استھانوی
بہار اسمبلی انتخاب کاطویل تر عمل اب اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہے۔ لوگوں کی ساری توجہ اب ووٹر لسٹ، شناختی کارڈ ، امید واروں کے انتخاب، سیٹوں کی تقسیم، انتخابی منشور، سیاست دانوں کے بنتے بگڑتے آپسی رشتوں ، راتوں رات بدلتی ریاستی وفاداریوں ، پولٹیکل نوک جھونک، مائو نوازوں کی طرف سے انتخابی بائیکاٹ کی اپیل اور ممکنہ انتقامی کارروائیوں کے خطرے کے باوجود گذشتہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخاب کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ پولنگ سے ہوتے ہوئے آنے والے انتخابی نتائج پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اور ایوان سیاست ، ریاستی سکریٹریٹ سے لے کر عام دفاتر، دکانوں، تعلیمی اداروں ، چوک چوراہوں اور بازاروں و گلیوں تک میں نئی اسمبلی اور نئی حکومت کے تعلق سے قیاس آرائیوں اور دعووں و جوابی دعووں کا دور شر وع ہو گیا ہے۔
ریاست کی 15 ویں اسمبلی کی شکل کیا ہوگی، اسمبلی معلق ہوگی یا کسی پارٹی یا اتحاد کو قطعی اکثریت حاصل ہوگی اور وہ خوش نصیب پارٹی کون ہوگی، بہار کے عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ سنایا یا موجودہ حکومت کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا اس سلسلہ میں ہر پارٹی اور اتحاد کے اپنے اپنے دعوے ہیں ۔ حکمراں این ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ وہ دوبارہ قطعی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے گا ۔آر جے ڈی -ایل جے پی اتحاد کے رہنمائوں کا دعویٰ ہے کہ اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوگی۔ 1995 کے بعد پہلی بار ریاست کی تمام سیٹوں پر تنہا انتخاب لڑ رہی کانگریس کا دعویٰ ہے کہ وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے آمرانہ رویہ سے ناراض ہو کر ان کا ساتھ چھوڑنے والے راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، پربھو ناتھ سنگھ، اور جمشید اشرف جیسے رہنمائوں کا دعویٰ ہے کہ عوام نے نتیش اور ان کی پارٹی کو مسترد کر دیا ہے اور بد عنوانی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اس لئے نتیش حکومت کی واپسی ممکن نہیں۔ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد کا دعویٰ ہے کہ عوام نے نتیش اینڈ کمپنی کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اس لئے نتیش کمار ایک آنے مارگ اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ خالی کرنے کی تیاری کریں۔ جب کہ نتیش، مودی اور ان کے وفاداروں کا کہنا ہے کہ آر جے ڈی کی مین اپوزیشن کی کرسی بھی خطرے میں ہے۔ جنتا دل یو کے ترجمان شیوا نند تیواری کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن لیڈر رابڑی دیوی دونوں سیٹوں پر ( حاجی پور اور سون پور) جیت حاصل کر لیں گی تو وہ سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔جب کہ آر جے ڈی کے رام کرپال یادو کا جواب ہے کہ تیواری جی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرہی لیں۔ کیوں کہ رابڑی دیوی دونوں حلقوں سے جیت رہی ہیں۔ اس طرح کے بلند بانگ دعووں نے عوام کو پوری طرح کنفیوژن میں مبتلا کر دیا ہے اور ان کے سامنے لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی اور کون ہوگا اگلا وزیر اعلیٰ؟ حالاں کہ اس کنفیوژن کے باوجود اتنی بات پہلے سے طے ہے کہ اگر این ڈی اے اقتدار میں آیا تو وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی ہوں گے اور آر جے ڈی اتحاد کی حکومت بنی تو اس بار لالو ہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ رابڑی دیوی کی دو حلقوں سے امید واری کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ ایک سیٹ اپنے شوہر لالو یادو کے لئے خالی کریں گی اور 6 ماہ کے اندر لالو ضمنی انتخاب جیت کر اسمبلی کی رکنیت حاصل کریں گے کیوں کہ لالو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ نتیش کی طرح بیک ڈور سے اقتدار میں نہیں آئیں گے۔یعنی وہ نتیش کی طرح کونسل کی رکنیت نہیں حاصل کریں گے۔
رہا سوال کسی خاص پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے عام مسلمانوں کا تو ان کی فکر قدرے مختلف ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ نئی اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ سیکولر اور صاف ستھری شبیہ کے لوگ منتخب ہو کر آئیں۔ ہر پارٹی کے زیادہ سے زیادہ مسلم ارکان بھی منتخب ہوں تاکہ قانون سازیہ میں ان کی نمائندگی بڑھے، مسلم خواتین بھی ایوان میں اپنی روایتی شان کے ساتھ نظر آئیں گے اور جو حکومت بنے وہ مسلمانو ں کی فلاح کے لئے کام کرے۔ مسلم ریزرویشن کی راہ ہموار کرے اور معاشرے کو تقسیم کرنے کی بجائے وہ ہر فرقہ اور ہر طبقہ کو ترقی کا فائدہ پہنچائے کیوں کہ مسلمانوں کی فلاح کے بغیر کسی بھی ریاست یا ملک کی ترقی ادھوری رہے گی۔ سچر کمیٹی نے آئینہ دکھا دیا ہے اور یہ مرکزی حکومت کے علاوہ ریاستی حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کو ترقی کی دوڑ میں شامل کریںاور پوری ریاست کو برابری کے ساتھ اوپر اٹھانے کی کوشش کریں۔ مسلمانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آج اگر مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف ریزرویشن ہے۔ ریزرویشن ہی نے اتنا بڑا فرق پیدا کیا ہے اور اب مسلمانوں کو اونچا اٹھانے کی ایک ہی صورت ہے کہ انہیں اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن دیا جائے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہار اسمبلی انتخاب میں حصہ لینے والی بڑی پارٹیوں اور اتحاد میں سے صرف آر جے ڈی – ایل جے پی اتحاد نے مسلمانوں کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ اپنے انتخابی منشور میں کیا ہے۔ این ڈی اے نے گول مول بات کی ہے کیوں کہ اس میں بی جے پی شامل ہے جو مسلم ریزرویشن کے نام سے ہی بھڑکتی ہے۔ کانگریس نے مسلم ریزرویشن کی بات تو کی ہے لیکن اتنی صفائی سے نہیں کیوں کہ کانگریس ابھی مرکزی سطح پر ہی یہ طے نہیں کر پائی ہے کہ ریزرویشن کتنا اور کیسے دیا جائے ۔ ایسے میں بہار کے مسلمانوں کا ریزرویشن سے متعلق خواب پورا ہوگا یا نہیں یہ تو 24 نومبر کو انتخابی نتائج آنے کے بعد ہی ظاہر ہوگا،لیکن اس طویل انتخابی عمل کے دوران کچھ سوالات ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن کا جواب انتخابی نتائج سامنے آ نے کے بعد بھی برقراررہے گا اور وہ سوالات انتخابی اصلاحات سے متعلق ہوں گے۔ کیوں کہ الیکشن کمیشن کی تمام تر سختیوں کے باوجود اس بار کے الیکشن میں منی پاور یعنی پیسے کا ہی کھیل ہوا۔بے شک پوسٹر اور بینر نہیں کے برابر چھپے۔ تشہیر کا شور بھی نہیں مچا۔ اخبارات میں اشتہارات بھی کم ہی چھپے لیکن اسمبلی انتخاب میں کمیشن نے اخراجات کی جو حد مقرر کی ہے اس سے 7-8 اور کہیں 10-10 گنا زیادہ خرچ ہوئے اور اس میں وہ خرچ شامل نہیں ہے جو ہیلی کاپٹروں کی دھواں دھار اڑانوں پر ان کی پارٹیوں نے خرچ کئے۔ خود پارٹیوں نے مقررہ حد سے زیادہ رقم اپنے امید واروں کو دی ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاف ستھری اور ایمانداری کی زندگی جینے والے اور رشوت کے پیسے کو ہاتھ نہ لگانے والے اور ہر کام میں شفافیت برتنے والے لوگ حکومت اور قانون سازیہ میں کہاں سے آجائیں گے۔ ایسے لوگ انتخاب لڑنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔داغدار لوگوں کو ایوان سے باہر رکھنے کا معاملہ ویسا ہی ہے اور اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس بار بھی بڑی تعداد میں داغدار لوگ قانون سازیہ میں نظر آئیں گے ۔ کیوں کہ ہر پارٹی نے ایسے لوگوں کو فراخدلی کے ساتھ ٹکٹ دئے ہیں۔ الیکشن کمیشن، انتظامیہ اور میڈیا کی تمام کوششوںکے باوجود ووٹرو ںخصوصاً شہری ووٹروں کو بوتھوں تک لے جانا اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ اب بھی تقریباً 50 فی صد لوگ جمہوری عمل میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ایسے میں یہ سوال برقرار ہے کہ یہ آدھی ادھوری جمہوریت کتنی معتبر ہے۔ شناختی کارڈ رکھنے کے باوجود ووٹروں کا پولنگ بوتھ سے مایوس لوٹنا، اور 25-30 فیصد ووٹروں کا ووٹر لسٹ سے باہر رہنا بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ لیکن مستقبل قریب میں ان کے جوابات بھی سامنے آئیں گے اس کی امید کافی کم ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *