کالاپانی‘‘ کے مقدموں کی معتبر تفتیش “

وصی احمد نعمانی( ایڈوکیٹ سپریم کورٹ)
کسی بھی عظیم قوم و ملک کے لیے اس کی وراثت ملک کے شاندار و تابناک ماضی کی عکاس ہوتی ہے اور اسی کی بنیاد پر مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ ’’تاریخ‘‘ وراثت کا وہ حصہ ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کا ’’بیرو میٹر‘‘ ہے۔ مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس ملک کی تاریخ سچائی، حقیقت پسندی، بے لوث تجزیہ اور فراخ دلی پر مبنی تحریری ریکارڈ پر ثبوت کے ساتھ موجود ہو، جس قوم و ملک نے اپنے سپوتوں کے تاریخی کارناموں کو ایمانداری اور فراخ دلی سے محفوظ کرنے کی مجاہدانہ کوشش نہیں کی، وہ خود اپنے ہاتھوں خسارہ میں رہا ہے۔ ہندوستان عظیم و پیارا ملک ہے۔ اس نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں۔ تاریخی واقعات اس کی مٹی میں ’’رچے بسے‘‘ ہیں، لیکن زیادہ تر مواقع پر احساس ہوتا ہے کہ ہم نے غیروں کی سازش میں آکر اپنی تاریخ کو ایمانداری کے ساتھ محفوظ رکھنے کی پاک کوشش نہیں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج اپنے ان آباء و اجداد کو جانتے تک نہیں ہیں، جن کی جاں فشانی اور صعوبتوں سے گزر کر ہمیں آزادی نصیب ہوئی ہے۔ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اپنے ان سورماؤں کو اب سے جاننے کی کوشش کریں اور دبے، چھپے، بوسیدہ، مگر سچائی پر مبنی حقائق کو جانیں اور ملک و قوم کے توسط سے دنیا کے سامنے لائیں اور سر اٹھا کر کہیں کہ ہمارا تعلق ان سورماؤں، علما، مجاہدوں، سپوتوں اور جیالوں سے ہے، جنہوں نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو اپنے سامنے جھکنے کے لیے مجبور کردیا اور آخر کار وطن عزیز کو آزاد کرالیا۔
جناب وسیم احمد سعید جو بذات خود ایک باوقار صاحب قلم، شاعر و ادیب ہیں، انہوں نے اپنی کتاب ’’کالا پانی‘‘ کے ذریعہ کچھ اسی طرح کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ کتاب درحقیقت ایک معتبر تاریخی دستاویز ہے۔ کالا پانی کے ان تمام مقدموں کے مواد نہایت سچائی کے ساتھ یکجا کیے گئے ہیں، جوپورے ملک میں فرضی کیس بنا کر چلائے گئے تھے۔ گاؤں، شہر، قصبہ، مدارس، اسکول، کھیت کھلیان اور چوپال سے پکڑ کر معزز اور جیالے شہریوں کو فرضی مقدمہ میں سازش کے تحت گرفتار کیا جاتا تھا۔ مقدمے دکھانے کے لیے چلائے جاتے تھے اور عمر قید یا پھانسی کی سزا کے لیے انہیں ’’کالا پانی‘‘ بھیج دیا جاتا تھا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان تمام حقائق اور سچائی پر ہماری تاریخ نہ صرف خاموش ہے، بلکہ مجرمانہ طور پر ان سچائیوں کو ریکارڈ پر لا کر ملک کے سامنے پیش کرنے میں غفلت اور ناانصافی سے کام لیتی رہی ہے اور یہ کام اب تک جاری ہے۔
جناب وسیم احمد سعید نے قوم کو اس نادر و نایاب کتاب کے ذریعہ بیدار کرنے اور جگانے کی پرخلوص کامیاب کوشش کی ہے، کیوں کہ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد منصف مزاج شہری بیدار ’’ہونے جیسے‘‘لگتے ہیں اور یہ احساس کرنے لگے ہیں کہ واقعی مورخوں نے بہت ناانصافی اور بند ذہن سے قومی ’’وراثت‘‘ کو پوشیدہ رکھ کر ملک کے ساتھ ناروا سلوک کیا ہے۔ ہندو مسلم گمنام مجاہدین آزادی، نامور شہریوں کی بزدلانہ گرفتاری، 44گمنام شہیدوں کو بے گور دفن کردینے کا ناپاک عمل، یہ سب کچھ یکجا کیا گیا ہے اور رونگٹے کھڑے کرنے والے واقعات سے ہمیں روشناس کرایا ہے۔ ایسے ایسے جید اور پاک و بابرکات علماء کو ایسی ایسی بھیانک اور ذلت آمیز سزائیں دے کر جنگ آزادی کی آگ کو سرد کرنے کی کوشش کی گئی کہ دل کانپ جاتا ہے، آنکھیں چھلک پڑتی ہیں، لیکن سر فخر سے اونچا ہوتا ہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے اپنی ’’ماٹی‘‘ اپنی ’’دھرتی‘‘ کی حفاظت و آبرو کے لیے خدا پر بھروسہ کرکے کس قدر عظیم کارنامہ انجام دے کر ہماری آزادی کی دولت ہمارے لیے کما کر ہمارے حوالہ کیا ہے۔ آج ان جیالے علمائے کرام اور بزرگان دین کی کاوشوں اور قربانیوں کو جب پڑھتے ہیں ’’کالا پانی‘‘ میں تو ظالموں کے سفید خون سے بے پناہ نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور ان سفید خون والے قبیلوں سے بھی جو آج آزاد ہندوستان میں علمائے کرام پر انگلیاں اٹھا کر الزام لگاتے ہیں، ان کی عقل پر ترس آتا ہے کہ آج بھی وہ غیروں کی سازشوں کا شکار ہو کر ملک و قوم کی ایکتا اور یکجہتی کے لیے کام کرنے کی بجائے نفرت و حقارت کو پروان چڑھا کر انہیںظالم حکمرانوں کی آج بھی ہمنوائی کر رہے ہیں اور ہندوستان کی سالمیت کو کمزور کرنے اور دیمک لگانے کی سازش کرتے رہتے ہیں۔ آج اسی قبیلہ کے سازشی ذہن، دارالعلوم دیوبند اور اسی مراتب کے دیگر جامعات پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ سب مدارس جس میں اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں، وہ سب دہشت گردی کے اڈے ہیں۔ ان سب کا نہایت معقول جواب صرف چند علمائے کرام کا نام لے کر جو ’’کالا پانی‘‘ کی سرزمین میں دفن ہیں، مگر نہایت آب و تاب کے ساتھ محفوظ ہیں۔ ان سب کی قربانیوں کا ذکر کرکے جناب سعید صاحب نے ٹھوس جواب دینے کی پاک کوشش کی ہے۔ خدا ان کی اس کوشش کو قوم و ملک میں قبولیت عطا کرے۔ انہوں نے نہایت صاف دل، پاک من اور ایک ایماندار مورخ کا کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ کے لیے نام نہاد نامور مورخوں کو راستہ بھی دکھایا ہے کہ ’’تاریخ نگاری‘‘ کسے کہتے ہیں۔ سورماؤں، بہادروں، جیالوں، بے لوث مجاہدوں اور ماٹی کے سپوتوں کی قربانی کو بدنیتی، بدعملی اور بدکرداری کا شکار ہوجانے دینا، توڑ مروڑ کر پیش کرنا درحقیقت ملک و قوم کے خلاف ان ’’سازشوں‘‘ کا ساتھ دینا ہے، جو کسی قیمت پر قومی وقار اور ملکی اتحاد کو پسند نہیں کرتی ہیں۔ اسی طرح کے سازش کار اور بدخواہ آج بھی ملک کی ترقی اور خوش حالی کے خلاف صف آرا ہیں۔
جناب وسیم احمد سعید نے ایک ہوشمند، تجربہ کار اور سچے ’’ماٹی پتر‘‘ کی حیثیت سے کالاپانی سے متعلق تمام واقعات میں سے چند اہم کو جاننے، سمجھنے اور نہایت بے باکانہ انداز میں عوامی عدالت میں پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ضروری ہوجاتا ہے کہ ’’کالا پانی‘‘ کتاب میں یکجا کیے گئے تمام مواد کی بنیاد پر ’’کالا پانی‘‘ کی سچی تاریخ لکھی جائے، اسے بنیاد بنا کرقومی یکجہتی اور بھائی چارہ کے فروغ کے لیے ہندی، انگریزی اور دیگر مقامی زبان میں تراجم کرکے عوام میں تقسیم کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنے اجداد کی قربانیوں کو جان سکے۔ فخر محسوس کرسکے اور نازاں ہوسکے کہ وہ کسی عظیم الشان قوم کے وارث ہیں۔
’’کالا پانی‘‘ کے مواد اور حقائق پر نظر ڈالنے پر لگتا ہے کہ ایسی کتاب اتنے اہم موضوع پر اب تک ہند و پاک میں نہیں لکھی گئی ہے، نہ اتنی صاف ستھری اور نہ اتنی تحقیق پر مبنی، کیوں کہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب نے مل کر مادر وطن کی آزادی کے لیے لڑائی لڑی، لیکن آج مورخوں کی تحریروں میں مسلمانوں کا نام نہیں کے برابر آتا ہے۔ علمائے کرام کا نام تو شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے، جب کہ علماء نے درحقیقت اپنے خون جگر سے جنگ آزادی کی مشعل کو روشن کیا۔ ہندوستانی مورخوں نے ایک مذہب کو آگے دوسرے کو بالکل سرد خانہ میں ڈال کر تاریخ رقم کی ہے۔ جناب وسیم احمد سعید نے نہایت منصفانہ طریقہ سے حقائق کا بیان کیا ہے، جہاں علمائے کرام مسلم مجاہدین کا نام لیا ہے، وہیں ہندو بھائیوں کے نام لکھے گئے ہیں۔ میں یہاں پر 314مسلم گمنام مجاہدوں میں سے زیادہ تر علماء کا نام لکھ کر پھر ہندو بھائیوں کا نام لکھوںگا، جن کو ’’کالا پانی‘‘کی سزا کاٹ کر مادر وطن کے سچے سپوت کہلانے کا نادر موقع ملا۔ مضمون کی طوالت کی قیمت پر بھی میری درخواست ہوگی کہ آج تو کم سے کم ہم اپنے ان اجداد کا نام پڑھنے کی سعادت حاصل کریں جن کے طفیل سعید صاحب نے ہمیں خود کو پرکھنے اور پہچاننے کا موقع دیا ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے، بلکہ کھوج کر یاد کرنی چاہیے، کیوںکہ:
اپنی تاریخ کو جو قوم بھلادیتی ہے
صفحۂ دہر سے خود کو وہ مٹا دیتی ہے
ہم ملک کی قربانی کی تسبیح کے دانوں کو گنیں اور گنگنائیں ان کے نام کو جو مندرجہ ذیل ہیں:
1- مولوی امیرالدین 2-بنگال کی پہلی شیر دل مجاہدہ رضیہ خاتون۔ (انگریزوں کے خلاف بغاوت کی اور کالا پانی کی سزا کاٹنے کے لیے وہاں بھیج دی گئیں۔)3- مولوی قاضی سرفراز علی 4- مفتی سید احمد بریلوی 5- مولوی علاء الدین خان 6- مولانا فضل حق خیر آبادی 7- مولوی قطب شاہ بریلوی 8- مولانا لیاقت علی خاں الٰہ آباد 9- مولانا احمد اللہ اعظمی 10- مولانا ریاض الحق 11-مولانا عبدالرحیم عظیم آبادی 12- مولانا یحییٰ علی جعفری 13- مولوی تبارک علی 14-مولوی علاء الدین 15-مولوی مظہر کریم وغیرہ۔
کتاب ’’کالا پانی‘‘ میں وسیم صاحب آگے رقم طراز ہیں: جید اور باکردار علماء کے علاوہ ہندوستان سے بے شمار سیاسی قیدیوں کو لمبی سزاؤں کے لیے ’’سیلولر‘‘ جیل میں قید کیاجاتا تھا۔ ان پر مختلف قسم کے الزامات لگا کر سازش کے تحت گرفتار کیا جاتا تھا، ان میں زیادہ تر بااثر اور رعب و دبدبہ والی شخصیتیں ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر:1- ساورکر بھائی 2- موتی لال ورما 3-بابو رام ہری 4- پنڈت پرمانند5- سدھا رام6- اولا سکراوت 7-سریندر کمار گھوس 8- بھائی پرمانند 9- اندو بھوشن رائے 10-پرتھوی سنگھ آزاد 11- یونس داس 12ترلوکی ناتھ چکرورتی 13- گرمت سنگھ وغیرہ۔
اسی طرح اس کتاب میں جناب سعید نے اس جانکاہ واقعہ کا مواد یکجا کرکے قوم و ملک کے سامنے رکھا ہے، جہاں 44مجاہدین آزادی کو شہید کردیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں کچھ اس طرح لکھا ہے، دیگر 44مجاہدین آزادی جو سب کے سب آزاد ہند لیگ ’’آئی این اے‘‘ کے سرگرم کارکن تھے اور سبھی پر جاسوسی کا الزام لگا کر جرم عائد کردیا گیا تھا۔ جاپانیوں کی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ٹرکوں میں بھر کر نامعلوم جگہ پر لے جایا گیا اور انگریزی حرف ’’L‘‘ کی شکل میں قطار میں کھڑا کر کے سب کو گولیوں کی بوچھار سے بھون ڈالا گیا۔ ان کی لاشوں کو فوجیوں نے جوتوں اور بندوقوں کی ٹھوکروں سے گڈھا میں دھکیل کر پاٹ ڈالا گیا۔ اس طرح 44شہیدان وطن کو بغیر کسی گور و کفن، نماز جنازہ اور آخری رسوم کی ادائیگی کے دفنا دیا گیا۔
جناب گوری شنکر پانڈے نے جو ’’لوکل ہارن‘‘ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس واقعہ پر ایک کتاب لکھ کر شاندار خراج عقیدت پیش کی ہے۔ میری تمنا ہے کہ ان شہیدوں کے نام کو لکھ کر اپنی زبان سے ایک بار دہرا کر خراج عقیدت پیش کرنے کا فخر حاصل کریں اور سعید صاحب کا شکریہ ادا کریں کہ انہوں نے ان ناموں کو گنگنانے کا نادر موقع عنایت کیا ہے۔ نام مندرجہ ذیل ہیں:
پریم شنکر پانڈے، ہیرا سنگھ چاولہ، بچن سنگھ، غلام سرور، فرزند علی، گجن سنگھ، بلونت سنگھ، نور حسین ملک، ایچ ایم راہلکہ، رتن چند، شیر سنگھ، ملک راج، مہما سنگھ، ہرنام سنگھ، جسونت سنگھ، نورماہی، پوکھر سنگھ چاولہ، کرنیل سنگھ، اننت لال، اتم سنگھ، جے رام تیواری، لکشمی داس سنگوا، راج رتن داس، نور احمد، دلپت رام، عبدالجلیل، کور سنگھ چاولہ، گیان سنگھ، رادھا کشن، بخشی سنگھ، موہر سنگھ، ستیش سنگھ، گوپال سنگھ، صاحب سنگھ، میر عالم، بسنت لال، پرتاپ ناتھ ناگ، دلیپ سنگھ، نیتا سنگھ، فضل بیگ، فضل حسین، ملکھان سنگھ، پارس رام، محمد خان۔
یہ ظلم و بربریت کا ننگا ناچ اس لیے کیا جاتا تھا کہ سیلولر جیل کے ظالم جیلر  ’’ڈیویڈبیری‘‘ کا ماننا تھا کہ ’’اس کے خدا نے اس کی قسمت میں یہ لکھا ہے کہ وہ اپنی ملکہ کے دشمنوں کو بجائے پھانسی دینے اور گولی مارنے کے تشدد اور شرمناک مظالم سے ختم کردے۔‘‘ شاید اس لیے جزائر انڈومان کو کبھی ’’زمینی جہنم‘‘ یا ’’وادی ظلمات‘‘ کہا جاتا تھا۔ وسیم احمد سعید صاحب نے سچائی اور حقائق پر مبنی واقعات کی تلاش میں ایک دیوانگی کی حد تک جوش و جذبہ سے سرشار ہو کر جزائر انڈومان-نکوبار کا سفر کیا۔ سیلولر جیل کا معائنہ کیا، وہاں کے ملازمین اور عہدیداران سے ملاقات کی۔ مقامی باشندوں سے رابطہ قائم کیا۔ انگریزی، ہندی، اردو زبانوں میں جو مواد دستیاب ہوسکے، ان سے استفادہ کیا اور پھر یہ نایاب و نادر کتاب ’’کالا پانی‘‘ تخلیق کرسکے۔ انہوں نے’’سفید خون‘‘ والے ظالموں کے کالے کارناموں اور ظلم و بربریت سے پردہ اٹھا کر نام نہاد کوتاہ نظر مورخوں کی بے حسی اور ناعاقبت اندیشی سے پردہ اٹھا کر قوم و ملک کو جوڑنے اور مضبوط بنانے کا ایک اہم نسخۂ کیمیا پیش کیا ہے۔
’’کالا پانی‘‘ سیلولر جیل کی مٹی میں مدفون پاکیزہ مجاہدانہ روحوں کی آواز کو سنو اور انہیں بنیاد بنا کر ہندوستان کی جنگ آزادی سے لے کر اب تک کے عظیم کارناموں کو، اس دھرتی کے سپوتوں کے کارناموں کے طور پر فراخ دلی سے قبول کرو۔ تنگ نظری، مذہب پرستی اور بدنیتی کی بنیاد پر’’سورماؤں‘‘ کی شہادت کو مت پرکھو۔ میں تمام اہل نظر، وطن پرست سے درخواست کروںگا کہ ’’کالاپانی‘‘ کتاب میں پنہاں اور آشکار کیے گئے جذبات کو جناب وسیم احمد سعید کی پاکیزہ کوشش کو معتبر نگاہ سے دیکھو، یہ عظیم ہندوستان کے مایۂ ناز سپوتوں اور سورماؤں کے لیے ایک زبردست خراج عقیدت کے مترادف ہوگا۔ میں اس طویل مضمون میں عالموں کے مجاہد علمبردار حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی سے منسوب چند دلخراش واقعات جنہیں حضرت علا مہ نے خود قلم بند کیا تھا، اس ’’سیلولر‘‘ جیل کے دہشت ناک شب و روز ہیں اور جن کی تلاش کرنے میں گمنام معتبر مورخ جناب ’’وسیم احمد سعید‘‘ صاحب نے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، اسے نقل کر کے اس کتاب کا مطالعہ آپ کے بیدار، باشعور اور فکر و جذبات سے لبریز ذہن کے حوالے کرتا ہوں۔ علامہ فضل حق خیرآبادی کے جذبات کچھ اس طرح بیان کیے گئے ہیں: ’’ایک قیدخانہ سے دوسرے قید خانے۔ ایک سخت زمین سے دوسری سخت زمین میں منتقل کرنا۔ مصیبت پر مصیبت اور غم پر غم پہنچانا۔ میرا جوتا اور لباس اتار کر موٹے اور سخت کپڑے پہنادئے۔ نرم و بہتر بستر چھین کر خراب، سخت اور تکلیف دہ بچھونے حوالے کرنا، گویا اس پر کانٹے بچھادئے گئے یا دہکتی ہوئی چنگاریاں ڈال دی گئی تھیں۔ میرے پاس لوٹا، پیالہ اور کوئی برتن نہیں چھوڑا۔ انجل سے ماش کی دال کھلائی، گرم پانی پلایا… پھر ناموافق آب و ہوا والے پہاڑ پر پہنچادیا، جہاں سورج ہمیشہ سر پر رہتاتھا۔ آسمان غموں کی بارش کرنے والا… اس کی زمین آبلہ دار۔ مسلمان کی خود کشی مذہب میں ممنوع اور قیامت کے دن عذاب و عتاب کا باعث نہ ہوتی تو کوئی بھی یہاں مقید و مجبور بناکر تکلیف ’’مالایطاق‘‘ نہ دیا جاسکتا اور مصیبت سے نجات پالیتا۔‘‘ یعنی خود کشی کو اولیت دے کر مصائب سے چھٹکارا حاصل کرلیتا۔
میری جانب سے قاری حضرات اور صاحب فکر و شعور سے درخواست ہوگی کہ اس کتاب ’’کالاپانی‘‘ کا مطالعہ اس لیے کریں کہ اس ہندوستانی ’’صحیفۂ سیاست‘‘ میں اوروں کی جو بددیانتی اور بدنیتی کا عمل پیش کیا گیا ہے۔ ان سب کو بے لوث، بے باک، غیرجانب دار قاری اپنی تحریر و تقریر کو بروئے کار لا کر بحث و مباحثہ کے ذریعہ ان جذبات کی عکاسی کریں، جس کی ضرورت ملک کی ایکتا اور بھائی چارے کو ہے اور ان سب کا حصول ممکن ہے اس طرح کی صاف ستھری تاریخی حقیقتوں پر مبنی کتابوں کے مطالعہ کے فروغ پر اور معتبر تفتیش کو بنیاد بنا کر۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *