جماعت اسلامی ہند کا سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان

نوازش مہدی
دہلی میں منعقدہ جماعت اسلامی ہند کے عظیم الشان اجلاس میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں جماعت نے ایک سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔البتہ جماعت اسلامی کے اندر یہ بحث کافی دنوں سے جاری تھی کہ ملک کی انتخابی سیاست میں جماعت اسلامی کی حکمت عملی کیا ہو،جماعت اسلامی کے جنرل سکریٹری نصرت علی نے دہلی میں ہونے والے کل ہند اجتماع کے افتتاحی سیشن میں اس بات کا اعلان کیا کہ ’اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اور اقدار پر مبنی سیاست کے فروغ، عام انسانوں کی فلاح وبہبود اور عدل وانصاف کے قیام کے لیے ایک سیاسی پارٹی کی تشکیل کی جائے گی‘۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اس پارٹی میں پارٹی کے مقاصد سے اتفاق رکھنے والے مسلم اور غیر مسلم افراد بشمول ارکان جماعت شریک ہوسکیں گے۔ یہ پارٹی اپنے کاموں میں آزاد ہوگی۔ جماعت اس پارٹی کے قابل قدر اقدامات کی تائید کرے گی۔ البتہ ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گی۔
4سے 7نومبر تک چلنے والے اس اجلاس میں سیاسی پارٹی کے قیام کے علاوہ جماعت نے مختلف امورو مسائل پر بھی بحث کی۔ اجلاس کے افتتاحی سیشن میں امیر جماعت اسلامی ہند مولاناسید جلال الدین عمری نے کلیدی خطبہ پیش کیا اور جہالت کی جانب تیزی سے گامزن معاشرے پر شدید چوٹ کی۔انہوں نے اپنے خطاب میںکہا کہ آج ہر طرف حقوق انسانی کا چرچا ہے لیکن جدھر دیکھئے انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں۔ خاص طور پر اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ملک بھی مادی ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے اور ترقی پذیر ملکوں میں اسے سب سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک غیرمتوازن ترقی ہے۔ اس کا فائدہ شہری آبادی کو اور وہ بھی اس کے ایک مخصوص طبقہ کو حاصل ہے۔ ملک کی زیادہ تر آبادی غربت اور افلاس کی زندگی گزار رہی ہے۔ یہاں کی چالیس فیصد آبادی کی روزانہ آمدنی بیس روپے سے زیادہ نہیں ہے۔ رہائش، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتیں بھی ا سے میسر نہیں ہیں۔پھر وہ ترقی کے بارے میں کیسے سوچ سکتی ہے؟
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ملک کا بلکہ پوری دنیا کا ایک اہم مسئلہ اخلاقی زوال ہے۔ کرپشن، رشوت، خیانت اور بدعہدی کا زورہے۔ یہاں کسی بھی شخص کو خریدا جاسکتا ہے اور پیسہ کے ذریعہ جائز وناجائز کام کیا اور کرایا جاسکتا ہے۔ مغرب کے زیراثر جنسی آوارگی جس طرح پھیل رہی ہے وہ بہت ہی تشویشناک ہے۔ آزادانہ جنسی تعلق میں کوئی قباحت نہیں محسوس کی جارہی ہے۔ ہم جنسی کی لعنت کو قانو نی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یقین ہے کہ دنیا اور آخرت میں انسان کی فلاح اسلام سے وابستہ ہے۔ اسی میں اس کے دکھ درد کا علاج ہے اور اس کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس سے انسانوں کے درمیان فرق وامتیاز ختم ہوسکتا ہے اور اسی کے ذریعہ ظلم کا خاتمہ اور عدل وانصاف کا قیام ممکن ہے۔ اسی سے سکون سے محروم انسان کو سکون وراحت اور آخرت کی فلاح نصیب ہوسکتی ہے۔
اجلاس میںجہاں ملک بھر کے تقریباًسات ہزار اراکین جماعت نے شرکت کی وہیں 1200خاتون اراکین جماعت نے بھی شرکت کی اور خاتون اراکین نے ہزاروں کے اس مجمع کو پر جوش انداز میں خطاب کیا۔ ’’خواتین میں تحریک اسلامی کا فروغ: صورت حال اور تدابیر’’  کے عنوان سے ناصرہ خانم اور شہناز بتول نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہندوستانی معاشرے میں مسلمان خواتین کے مثبت رول اور انہیں اسلامی تحریک سے قریب کرنے کی ضرورت پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سے وابستہ خواتین کو مذہبی، سماجی ، سیاسی اوردیگر معاملات میں مثبت اقدام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں متعدد مذہبی ، سماجی و سیاسی حلقوں کی خواتین ایک دوسرے کے قریب آئیں اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ہندوستانی سماج اور سیاست میں مثبت مداخلت کا راستہ ہموار کریں۔
ناصرہ خانم نے کہا کہ جماعت کی خاتون ارکان نے بلا تفریق مذہب و ملت ہر طبقے اور گروہ کی خواتین سے رابطہ قائم کیا ہے تاکہ ملکی سطح پرمسلم خواتین کوایک طرف اپنے حقوق سے واقفیت حاصل ہو اور دوسری طرف ہر مذہب و ملت کی خواتین کے درمیان بین مذہبی مکالمات کا شاندار آغاز ہو۔ہندوستان میں متعدد غیر اسلامی پابندیوں کے سبب مسلم خواتین کا دائرہ کار صرف چہاردیواری تک محدود سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سماج کی تعمیر میں عورتوں کا بھی اسی قدر حصہ ہے جس قدر مردوں کاہے۔واضح رہے کہ جماعت سے وابستہ خواتین نے کیرالہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش، تمل ناڈ و، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر ، دہلی، اتر پردیش اور دیگر صوبوں میں عام مسلم خواتین میں بیداری  لانے کی قابل قدر سعی کا آغاز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے ہندوستان کی مسلم خواتین میں بیداری کی ایک نئی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ پچھلے سال جماعت اسلامی کے ذریعے منعقدہ کیرالہ کانفرنس میں عام مسلم خواتین نے لاکھوں کی تعدادمیں شرکت کی تھی۔ایسی ہی ایک کانفرنس پچھلے سال حیدرآباد میں بھی ہوئی تھی۔
اس موقع پرکل ہند ناظمہ خواتین جماعت اسلامی ہند عطیہ صدیقہ نے’’عصر حاضر میں خواتین کو درپیش چیلنجز اور تحریک اسلامی‘کے عنوان پر گفتگو کی جس میں انہوں نے کہا کہ آج ہمارے سماج کا ایک بڑا چیلنج تعلیم سے محرومی ہے، جہیز کی لعنت ہمارے سماج کا ناسور ہے جس کی وجہ سے لڑکیاں بن بیاہی گھروں پر بیٹھی رہتی ہیں، دختر کشی نے مردوں اور عورتوں کے تناسب کو متاثر کر رکھا ہے، آج خواتین کی تعداد مردوں کے بالمقابل مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی عالمی تحریک کے ذریعہ ان کی شخصیت کو مادہ پرستی کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، مغربی تہذیب، فیشن پرستی یہ تمام چیزیں چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے ان مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس موجودہ صورتحال میں خواتین کی آزادی اور ان کو حقوق دلانے کے لیے کئی نام نہاد تحریکیں کام کررہی ہیں، ان حالات میں تحریک اسلامی کی خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح اسلامی تعلیمات پیش کریںاور ان چیلنجز کا حل پیش کریںاور کچھ ایسے ایشوز اور مسائل کو ٹیک اپ کریں جس سے معاشرے میں ایسی تبدیلی آئے جو ہر کہیں محسوس کی جانے والی ہو۔ خواتین میں تعلیم کو فروغ دینا ہوگا، مذہب کے تعلق سے بیدار کرنا ہوگا، صحت وصفائی کے تعلق سے بیداری لانی ہوگی، عورتوں کو شوہروں کے مظالم سے بچانے کی تحریک چلانی ہوگی، لائف اسٹائل کے تعلق سے بیدار ہونا پڑے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مردوں اور عورتوں کو ایک ساتھ میدان میں آنا ہوگا، ایک ساتھ مل کر معاشرے کے مسائل حل کرنے ہوں گے۔
اجلاس کے آخری دن غریبی، غلامی اور بد امنی کے عنوان پر رام لیلا میدان سے پارلیمنٹ ہائوس تک جماعت کی ریلی ہونی تھی جس کا اجازت نامہ بھی دہلی پولس سے لے لیا گیا تھا۔تاہم عین موقع پر دہلی پولس نے اجازت نامہ یہ کہہ کر منسوخ کریا کہ  وی وی آئی پی کی سیکورٹی کو خطرہ ہے۔ یعنی براک اوبامہ دہلی تشریف لا رہے ہیں۔ اس لئے اس ریلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہورہت میں عوام کو اپنی آواز اٹھانے سے محروم کردیا۔ بعد ازاں جماعت نے ریلی کے تعلق سے ابوالفضل میں واقع اپنے مرکزی دفتر میں اجتماع عام کا اہتمام کیا، جس کا مقصد عوام کو یہ بتانا تھا کہ وی وی آئی پی کی سیکورٹی کا نام لیکر کس طرح اپنے ہی ملک کے شہریوں کے آئینی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے جماعت کے جنرل سکریٹری نصرت علی نے دہلی پولس کے رویہ پر سخت احتجاج ظاہرکیا اور اسے امریکی غلامی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح حکام نے جماعت کی ریلی کو جس میں ملک کی کئی دیگر سماجی تنظیموں کے رہنما اور کارکن شرکت کرنے والے تھے، اس کو منسوخ کرکے عام شہریوں کے حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ہندستان امریکہ اور اسکے معاشی سامراجی عزائم کے شکنجے میں تیزی سے کستا چلا جا رہاہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے الزامات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور انکو ہراساں کئے جانے کے اقدامات پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے ممبئی بم دھماکوں سمیت سبھی دہشت گردانہ واقعات کی منصفانہ انکوائری کا بھی مطالبہ کیا۔ تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
اجتماع عام کو خطاب کرتے ہوئے معروف اسلامی مفکر اور جماعت کے مرکزی مشاورتی کونسل کے رکن جناب ٹی کے عبداللہ نے کہا کہ ہندستان کو امریکہ کی قیمت پر پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات نہیں بگاڑنے چاہئیں۔ انہوں نے ہند، روس اور چین کے مشترکہ محاز کے قیام کی بھی پرزور وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے عالمی سطح پرنہ صرف ہندستان کے رول میں بہتری آئیگی بلکہ اس سے ہندستان کے وقار میں بھی اضافہ ہوگاں۔ جمعیت علمائے ہند کے سکریٹری جنرل مولانا محمود مدنی نے منموہن حکومت کی پالیسیوں کو غلامی کی عبارت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے ہندستان کے تعلقات بھی غلامی کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے زیر اثر آنے کے باعث حکومت کی معاشی پالیساں عوام دشمن ہوتی جا رہی ہیں۔ جس سے سماج میں بے چینی پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بم دھماکوں کے معاملے میں آر ایس ایس رہنمائوں کی شمولیت پر بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ ایس آئی او کے کل ہند سکریٹری شاہنواز علی ریحان نے گلوبلائزیشن کو ملک کی تہذیب وثقافت کے لئے خطرہ قرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اولڈ ایج ہوم کا فروغ مغربی تہذیبی یلغار کا گھنائونا روپ ہے۔ انہوں نے کہا مغربی معاشی یلغار نے انسان کو ایک کنزیومر اور پروڈکٹ میں تبدیل کردیا ہے جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔
اس اجتماع سے مسلم مجلس مشاورت کے نمائندے کے علاوہ دہلی کی مسجد فتحپوری کے امام  مولانا مفتی مکرم ، ملک کے واحد مسلم انگریزی اخبار ملی گزٹ کے ایڈیٹر ظفرالاسلام خان اور دیگر تنظیموں کے رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔علاوہ ازیںچار روزہ اجلاس سے جماعت کے سکریٹری شیخ مجتبیٰ فاروق، میڈیا کو آرڈینیٹر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس اور  ملک بھر کے صوبوں سے آئے جماعت کے اہم ذمہ داران نے بھی خطاب کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *