تاریخ میں لوگ اپنے کام سے یاد رکھے جاتے ہیں پتھر لگانے سے نہیں: اکھلیش یادو

سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کے صاحبزادے اکھلیش یادو سے بات کریں  توبالغ سیاست کی ابھرتی ہوئی شخصیت کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ نوجوان قیادت کے بحران سے لیکر یو پی سے جڑے کئی سیاسی مسائل پر ان سے تفصیل سے بات چیت کی گئی۔بات چیت کے اہم اقتباسات نذر قارئین ہیں۔
سوال: اترپردیش کی سیاست میں نوجوان قیادت کا فقدان ہے۔ ایک دو لوگوں کو چھوڑ کر، جس میں ایک چہرہ اکھلیش یادو کا ہے تو دوسرا چہرہ راہل گاندھی کا۔ یوپی کا ایک اور چہرہ ہے، لیکن وہ کبھی کبھار ہی نظر آتا ہے۔ وہ چہرہ ہے جتن پرساد کا۔ راہل گاندھی یوپی سے ممبر پارلیمنٹ ضرور ہیں، لیکن ان کے بارے میں پورے ملک کو معلوم ہے کہ وہ کہاں کے ہیں اور ان کی پارٹی کی ریاستی اکائی میں قیادت کی سطح پر کتنے نوجوان ہیں۔ ریاست میں یوتھ لیڈر شپ کا جو کرائسس ہے، اس خلیج کو کیسے پاٹا جاسکتا ہے؟
اکھلیش: آپ نے بہت اہم سوال کیا ہے۔ دیکھیے جہاں تک اترپردیش کا سوال ہے، ملک کی سیاست کا سوال ہے اور وہیں کانگریس پارٹی کے جو نوجوان لیڈر ہیں وہ بھی یہی سوال کھڑا کر رہے ہیں… اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور سماجوادی پارٹی کی نوجوانوں کی تنظیم نے یہ کوشش کی ہے کہ نوجوان پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں۔ بہت حد تک ہم اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج سب سے شاندار نوجوانوں کی تنظیم سماجوادی پارٹی کی ہے۔ نوجوانوں کے حوالے سے جد و جہد میں سماجوادی پارٹی ہی آگے رہی ہے، جب سے میں سیاست میں ہوں۔ آج میں ضرورپارٹی کا ریاستی صدر بھی ہوں، لیکن ہمیشہ جد و جہد میں نوجوانوں کے ساتھ ہی رہا۔ نوجوانوں کے ساتھ ہی مسلسل کام کیا ہے۔ طلبہ یونین کے سوال پر یا طلبہ یونین کے فاتح عہدہ داروں کی حلف برداری کے سوال پر ہم لوگ ہی کیمپس سے لے کر سڑک تک لڑے، سماجوادی پارٹی ہی آگے بڑھ کر جد و جہد کرتی رہی۔ ایک وقت ایسا تھا جب طلبہ یونین بحال تھی۔ طلبہ یونین کا انتخاب ہوا کرتا تھا۔ سماجوادی پارٹی کے پاس ہی پوری طلبا کی قیادت رہا کرتی تھی۔ سماجوادی پارٹی سے وابستہ طلبا ہی طلبا یونین میں پہنچتے تھے اور بہت بڑی تعداد میں آج طلبا یونین سے نکلے ہوئے نوجوان ہماری تنظیم میں بھی ہیں اور زیادہ تر سماجوادی پارٹی میں ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ جہاں تک کانگریس کے نوجوان لیڈر کا سوال ہے، بہت گھوم پھر کر تشہیر ہو رہی ہے۔ اس میں اخبار بھی ساتھ دے رہے ہیں، میڈیا بھی ساتھ دے رہا ہے۔ ایسا دکھایا جارہا ہے کہ جیسے نوجوان قیادت صرف کانگریس کے پاس ہے، نوجوان چہرے صرف کانگریس کے پاس ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کانگریس نے نوجوانوں کو موقع دیا ہے، وزیر بھی بنا یا، بہت اچھے عہدوں پر بیٹھایا، اپنی پارٹی کی حمایت دے کر وزیر اعلیٰ بھی بنایا۔ یہ صحیح ہے کہ انہیں کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ ملک کے تمام نوجوان ان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ یہ کچھ کام کریںگے، ان کے مسائل حل ہونگے، ان کی مایوسی دور ہوگی، لیکن یہ نوجوان لیڈر مکمل طور پر ناکام ہو رہے ہیں۔ وہ ناکامی کا سوال صرف اپنے اوپر نہیں کھڑا کر رہے ہیں، بلکہ یہ سوال ہم پر بھی لگا رہے ہیں، تمام ابھرتی نوجوان قیادت پر لگا رہے ہیں۔ ہم جہاں بھی عوام کے درمیان جائیںگے یا ہمارے نوجوان لیڈر جائیںگے اور عوام کے درمیان بات رکھیںگے، جہاں بھی لوگوں کے سامنے جد وجہد اور حل کی بات ہم کریںگے تو ہم پر بھی سوال اٹھیںگے، وہ کہیںگے کہ اتنے بڑے بڑے لیڈر جب کچھ نہیں کر پائے تو یہ قیادت کیسے کچھ کر پائے گی۔ اس لیے اگر یہ کچھ کام نہیں کر پارہے ہیں، مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ پا رہے ہیں، بیروزگاری کیسے ختم ہوگی، نوجوانوں کی مایوسی کیسے ختم ہوگی، اتنی بڑی قیادت ہونے کے بعد، حکومت ہونے کے بعد اگر کچھ نہیں کر پارہے ہیں تو سوال اپنے پر نہیں بلکہ وہ سوال تمام دیگر نوجوان قیادت کے ماتھے پر بھی چھوڑے جارہے ہیں۔
سوال: 2012کا انتخاب سامنے ہے۔ اترپردیش کا اسمبلی الیکشن کتنا اہم ہوتا ہے، یہ پورا ملک جانتا ہے۔ جن سوالوں کا آپ نے ذکر کیا، اس کے تناظر میں کانگریس قیادت جن سوالوں کے گھیرے میں ہے، بی جے پی قیادت جن سوالوں کے گھیرے میں ہے اور شدید بدعنوانی کے سبب بی ایس پی قیادت جن سوالوں کے گھیرے میں ہے، ان گھیروں سے نکلنے اور ریاست میں سماجوادی پارٹی کی تازگی بھری نوجوان شبیہ کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کیا کوئی اسکیم ہے؟
اکھلیش: دیکھیے ہم جد و جہد کر رہے ہیں، وہ اقتدار کی سیاست کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ہے جد و جہد کرکے  اپنے ساتھ نوجوانوں کو جوڑنا اور وہ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی نوجوانوں کو نہیں جوڑ پا رہے ہیں۔ جہاں تک اترپردیش کا سوال ہے، 2012کے انتخابات کا سوال ہے، یہ صحیح ہے کہ انہوں نے (کانگریس نے) مشن- 2012بنایا ہے، لیکن ادھر عوام کو دکھائی ہی نہیں دے رہا ہے کہ وہ مشن- 2012کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ میں تبصرہ نہیں کر رہا ہوں، لیکن اترپردیش کی جو بربادی ہے، اترپردیش کی ترقیاتی اسکیموں کو جو روکنے کا کام کیا جارہا ہے، اترپردیش کا جو پیسہ بدعنوانی کے ذریعہ برباد ہو رہا ہے، لوٹ ہو رہی ہے، اتنی منظم بدعنوانی لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی، جو بہوجن سماج پارٹی کی حکومت کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کو کرناٹک میں بدعنوانی نظرآتی ہے، لیکن اترپردیش میں کھلے عام لوٹ ہو رہی ہے، کھلے عام وزیر اعلیٰ سے لے کر وزیر اور پورا اقتدار منظم ہو کر بدعنوانی کر رہا ہے، لیکن کانگریس کو یہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر اترپردیش برباد ہو رہا ہے یا جس سطح پر بدعنوانی پہنچ چکی ہے، تو کہیں نہ کہیں کانگریس بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے اور ریاست کے عوام یہ دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ہم سماجوادی پارٹی والوں کو احساس ہوتا ہے کہ اگر ہم پوری تیاری کے ساتھ عوام کے پاس جائیںگے تو اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا، یہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ آج عوام کو بھی یہ محسوس ہو رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی کا بیروزگاری بھتہ کتنا بڑا فیصلہ تھا۔ علم کی دولت کا کتنا بڑا فیصلہ تھا، جو ہم لوگوں نے یونیورسٹیز قائم کیں، کالج بنائے، سڑکیں تعمیر کیں، پل بنائے، اترپردیش کو آگے بڑھانے کا کام کیا، چینی ملیں لگوائیں، آج عوام یاد کر رہے ہیں کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت ہوتی تو چینی ملیں بکتی نہیں بلکہ مزید لگتیں، لیکن یہ حکومت چینی ملوں کو فروخت کر رہی ہے۔ ہم لوگوں نے نوجوانوں کے لیے نوکری کا فیصلہ لیا تھا اور بیروزگاری بھتے کا بھی، لیکن تمام اسکیموں کا پیسہ یہ حکومت پتھروں، مورتیوں کو نصب کرنے میں خرچ کر رہی ہے۔ اتنے پتھر آزادی کے بعد کسی بھی حکومت نے نہیں نصب کرائے ہوںگے، جتنے اترپردیش میں بی ایس پی حکومت نے نصب کرائے ہیں۔ صرف اس لیے کہ ان کا نام تاریخ میں رقم ہوجائے گا؟ کام سے تاریخ رقم ہوتی ہے یا پتھر نصب کرنے سے؟ یہ انہیں کون سمجھائے؟ تاریخ اترپردیش کی بنے نہ بنے، لیکن خود کی تاریخ بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت اپنے ہی عظیم لوگوں کو چھوٹا دکھانا چاہتیہے۔ یہ حکومت اس کوشش میں ہے کہ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کا نام بھی ان کے سامنے چھوٹا پڑجائے۔ حکومت میں کچھ ایسے سپہ سالار افسر ہیں کہ کانشی رام بھی پیچھے چھوٹ جائیں، وزیر اعلیٰ صرف اپنے مجسمے، پتھر کے ہاتھی، پتھروں کے پارک اور پتھروں کی یادگار بنوانے میں لگی ہوئی ہیں۔ اتنے پیسے سے اترپردیش کا کتنا بھلا ہوسکتا تھا، یہ بات کیا عوام نہیں سمجھتے ہیں؟ اور جب ہم ان باتوں کو عوام کے پاس لے کر جائیںگے تو ہمیں یقین ہے کہ عوام سماجوادیوں کو موقع دیںگے۔ بجلی کا بحران بھی کم ہوسکتا تھا۔ آج جتنے بھی پروجیکٹ چل رہے ہیں، وہ سب سماجوادی پارٹی کی دین ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اترپردیش کو جتنی بھی بجلی مل رہی ہے، وہ سماجوادی پارٹی کی پالیسیوں کی ہی دین ہے، لیکن ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں لیاگیا، جس سے بجلی بننا شروع ہو۔ بجلی زندگی کے لیے اور ترقی کے لیے کتنی ضروری ہے، اسے بی ایس پی حکومت نہیں سمجھ رہی ہے۔ عام لوگوں کی زندگی بدحال ہوگئی ہے، حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ بی ایس پی حکومت کی اس نافرض شناسی کا سماجوادی پارٹی کو ضرور فائدہ ملے گا۔
سوال: آپ نے کہا کہ ان ایشوز کو لے کر لوگوں کے پاس جائیں گے… کیا اس کا کوئی خاکہ بنا ہے…؟
اکھلیش: پنچایت انتخابات کے پہلے ہی ہم لوگوں نے پورے صوبے میں سروے کرایا اور عام لوگوں سے درخواست منگوائی۔ پارٹی کا نصب العین یہ ہے کہ 2012کے انتخابات میں صوبے کے عوام کو لاقانونیت سے نجات ملے۔ اس لیے ہم لوگوں نے کوشش کی کہ سماجوادی پارٹی کے جو لوگ الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور ٹکٹ لینا چاہتے ہیں۔ ایسے خواہش مند لوگوں سے ہم نے درخواستیں منگوائیں۔ درخواست منگانے کے بعد ہم نے ان سے بات چیت کی اور انہی سے معلوم کیا کہ کس طرح الیکشن جیتا جائے۔ کیسے ہم اسمبلی الیکشن میں انہیں ممبر اسمبلی بنواسکتے ہیں۔ اس کام میں وقت تو ضرور لگا، لیکن اس سے پورے صوبے کی تصویر ابھر کر سامنے آگئی، اس سے پارٹی کو یہ غور و فکر کرنے کی بنیاد ملی کہ اسمبلی سیٹوں کے لیے امیدوار کیسے ہوں، زمینی سطح پر کیسی تیاری ہو اور موجودہ حکومت کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے۔ زمینی ایشوز سامنے آنے سے پارٹی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پارٹی کی نچلی اکائی سے لے کر اوپر تک کیسے کام ہونا ہے۔ امیدواروں کے بارے میں فیصلہ کرنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہوگی۔ اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ سماجوادی پارٹی نے 2012کے انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اٹاوہ ضلع چھوڑ کر صوبے کے تمام اضلاع میں سروے اور ممکنہ امیدواروں سے بات چیت کا کام مکمل ہوچکا ہے اور بہت جلد پارٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ کون سا امیدوار انتخابی میدان میں رہے گا۔ 2012میں صرف اترپردیش کی سیاست ہی نہیں بدلے گی، بلکہ 2014میں پورے ملک کی سیاست کو بھی بدلنے کا کام اترپردیش ہی کرے گا۔ بہار کے اسمبلی انتخابات بھی کافی حد تک اترپردیش کی سیاست کا اشارہ دیںگے۔ مشن بنا کر جو جماعتیں گھوم رہی ہیں(کانگریس و بی ایس پی کی طرف اشارہ تھا) ان کا مشن جب بہار میں فیل ہوجائے گا تو یوپی میں اس کے اثر کے بارے میں بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔
سوال: آپ قنوج کے رکن پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر بھی ہیں۔ پارٹی کا نوجوان صدر کیا اسمبلی انتخابات میں پارٹی کا امیدوار بھی ممکنہ طور پر نوجوان ہی چنے گا؟
اکھلیش: آپ یقین مائنے کہ ریاست بھر میں ہم لوگوں نے ممکنہ امیدواروں سے جو بات چیت کی ہے یا جو بھی ہم نے سروے کیا ہے، اس میں بہت بڑی تعداد میں نوجوانوں نے سماجوادی پارٹی سے ٹکٹ مانگا ہے۔ ہم لوگ انہیں موقع بھی دیں گے، لیکن ہم لوگوں نے ایک شرط ضرور رکھی ہے کہ عوام کے درمیان رہ کر کام کرنا ہوگا۔ اگر عوام کے درمیان کام کریں گے اور اس کا ہم معائنہ کرلیں گے اور عوام سے معلوم کریں گے کہ واقعی عوام کے درمیان رہ کر کسی نے کام کیا ہے تو پارٹی ایسے بااصول لوگوں کو ضرور موقع دے گی۔
سوال: جیسا کہ آپ نے کہا کہ اتر پردیش کی حکومت بدعنوانی کے تئیں اور کانگریس جس طرح آنکھ بند کئے ہوئے ہے، اسے دیکھتے ہوئے کیا آپ کو لگتا ہے کہ کانگریس اور بی ایس کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ ہے؟
اکھلیش:  دیکھئے میں لوک سبھا کا رکن ہوں، لوک سبھا میں کئی بار کئی ایسے ایشوز آئے جب بی ایس پی کے اراکین پوری طرح متفق الرائے نہیں ہوتے کہ انہیں فیصلہ کیا لینا ہے۔ وہ فیصلے جلدی جلدی بدلتے رہتے ہیں، کئی ایسے سوال آئے جس میں بی ایس پی کے رکن بولنا چاہتے تھے لیکن اچانک پیچھے ہٹ گئے۔ ایس پی پر بھی لوگوں نے تبصرے کئے، لیکن ہماری پالسیی اور راستہ صاف ہے کہ ہم بی جے پی کے ساتھ نہیں جاسکتے۔ ہم بی جے پی اور کانگریس سے دوری بناکر رکھیں گے ۔لوک سبھا میں جتنے بھی اہم سوال سامنے آئے ،بہوجن سماج پارٹی نے کانگریس کو ہی اپنی حمایت دی۔ کچھ مسئلوں پر ہم نے بھی کانگریس کو اپنی حمایت دی ہے، لیکن ہماری بالکل صاف اور واضح پالیسی یہ ہے کہ ہم بی جے پی کو ہرگزاقتدار کے قریب نہیں آنے دیں گے۔ اب دیکھئے نا، نوئیڈا پارک کا مسئلہ، لوگوں نے اس کے خلاف تحریک چلائی ۔ماحولیات کوتباہ کردیا۔ لیکن بعد میں کانگریس نے ہی ’’نوآبجکشن‘‘ دے دیا ۔ایکو پارک کہہ کر پتھروں کا پارک بنادیا اور پرانے جیل احاطے میں لگے سینکڑوں گھنے پرانے پیڑ کاٹ ڈالے۔ اس پر مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والے محکمہ جنگلات نے خاموشی کیوں اختیار کر لی؟ محکمہ ماحولیات خاموش کیوں رہا؟ کانگریس کی صدر ریتا بہوگنا جوشی کا گھر جلا ڈالا۔ گھر جلانے والے کو ایس پی نے ودھا پریشد کا رکن بنا دیا۔ کانگریس خاموش رہ گئی؟ کہیں نہ کہیں لگتاہے کہ کانگریس کا کوئی اشارہ ہے یا مدد مل رہی ہے، جس سے شہ پاکر بی ایس پی حکومت ریاست میں من مانی کرنے پر آمادہ ہے۔ بدعنوانی کے معاملے میں تو حد ہوگئی کہ اجودھیا فیصلے کے بہانے حکومت پولس کے لئے لاٹھی اور ٹارچ خریدنے کے نام پر کروڑوں روپے کھاگئی۔
سوال: سماجی اور سیاسی ماحول کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت اتر پردیش نے قدرتی ماحولیات کو بھی تباہ کرڈالا ہے۔ سیکڑوں گھنے پیڑ تہس نہس کرڈالے گئے، پتھروں سے شہر کو پاٹ ڈالا گیا،یہاں تک کہ گومتی ندی کے کناروں میں بھی پتھر نصب کردئے گئے ۔ ایس پی کی حکومت آئی تو اس کا کیا بندوبست کرے گی ایس پی کے پاس آخر اس کا علاج کیا ہے؟
اکھلیش: دیکھئے،بی ایس پی حکومت نے صرف لکھنؤ میں چار ہزار ایکڑ زمین پر غیر قانونی قبضہ کر رکھاہے۔ اسے پتھروں سے پاٹ دیا اور ہزاروں کروڑ روپے پھونک ڈالے۔ ماحولیات کی تو دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ اس حکومت نے ماحولیات کے سارے ضابطوں کو بالائے طاق رکھ دیا۔ گومتی ندی اور نالوں تک پر قبضہ ہوگیا، لکھنؤ ہی نہیں بلکہ پورے ملک میںاس حکومت نے اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ اس کی تلافی کسی چمتکار سے تو ہونہیں سکتی، لیکن جب کبھی بھی عوام ہمیں موقع دیں گے اور ہماری حکومت بنے گی تو جس ماحولیات کو اس حکومت نے ختم کردیا ہے، اسے تھوڑا بھی بحال کرنے کی کوشش ضرور کرے گی۔ سون بھدر، مرزا پور، ہمیر پور، بندیل کھنڈ جیسے اضلاع میں بغیر معیار کے جو پتھر خریدے گئے اور پہاڑوں کو منہدم کیا گیا، اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کو بخشانہیں جائے گا، خواہ وہ کوئی سیاسی شخصیت ہویا کوئی نوکر شاہ۔ ایسے نوکر شاہوں کی شناخت کرلی گئی ہے اور انہیں جیل جانا ہوگا۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت آنے پر ان کے خلاف سخت  سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
سوال:جن افسروں نے بی ایس پی کے کیڈر کی طرح طرز عمل اختیار کیا، نوکرشاہی کا تقدس پامال کیا اور اقتدار کے گلیارے میں بھی قابض ہیں، ایسے نوکر شاہوں کے بارے میں آپ کی پارٹی کیا سوچتی ہے اور ایسے افسروں سے کیسے نمٹے گی، جب آپ کی حکومت آئے گی؟
اکھلیش:  ایسے کچھ افسران ہیں ، جن کی ذمہ داری دوسری تھی ، لیکن وہ اپنی غیر جانبداری کو ہی بھول بیٹھے، وہ اپنی حدود سے تجاوز کر گئے اور حکومت کے کام کاج چھوڑ کر وزیر اعلیٰ یا پارٹی کے نوکر کی طرح کام کیا۔ جن افسروں نے ناانصافی کی ہے، بدعنوانی کی ہے، اتر پردیش کو لوٹا ہے اوراتر پردیش کو برباد کیا ہے، سماجوادی پارٹی نے تین سالوں میں ایسے افسروں کی فہرست تیار کی ہے، انہیں سزا ضرور ملنی چاہئے۔ کیا پنچم تل اس لئے بنا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو مشورے دے کہ وہ پیسے کیسے کمائیں؟ وہ پیسے کمانے کا فارمولہ ڈھونڈیں؟
سوال:  2007سے لے کر ابھی تک جس طرح بی ایس پی نے خراب سیاست اور انتظامیہ کا استحصال کیا اس کے خلاف ایس پی نے پرزور طریقے سے مخالفت کیوں نہیں کی اور ایک زبر دست تحریک چھیڑنے میں ناکام کیوں رہی؟ سماجوادی پارٹی اپنے آپ کو کہیں کمزور تو نہیں پارہی ہے مایا وتی حکومت کے سامنے؟
اکھلیش:  سب سے پہلی لاٹھی طلبہ کے اجلاس پر برسی تھی، جیسے ہی بی ایس پی کی حکومت بنی تھی، سماجوادیوں نے وقت دیا تھا چھ مہینے کا۔ کچھ مہینے گزر جانے کے بعد ایس پی کے نوجوان لیڈروں نے طلبہ فیڈریشن کے مسئلے پر حکومت کو گھیرا تھا۔ سماجوادی لوگ صرف حکومت سے پوچھنا چاہتے تھے کہ طلبہ فیڈریشن کی بحالی کی پارلیمنٹ میں جو یقین دہانی کرائی گئی تھی، وہ کب بحال ہوگی۔ اس جمہوری مانگ پر طلبہ کو کے کے سی کے سامنے بری طرح پیٹا گیا ۔ زخمی طلبہ کا علاج کرانے کے بجائے انہیں جیل بھیج دیا گیا، جس کے خلاف ریاستی قیادت ایس ایس پی کی رہائش گاہ کے سامنے جاکر بیٹھ گئی۔ ان میں میں بھی شامل تھا۔ اس کے بعد سے لگاتار سماجوادی پارٹی جدوجہد کرتی رہی، یہاں تک کہ پارٹی کے سینئر لیڈر اور اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما شیوپال سنگھ یادو کے ساتھ بھی پولس نے ہاتھا پائی کی۔ پارٹی اراکین اور لیڈروں پر جتنے جھوٹے مقدمے اس حکومت نے لادے جیل بھیجا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔یہ جمہوری سیاست کا سیاہ باب ہے۔کیا اسے سماجوادی پارٹی بھول جائے گی؟
سوال: آخر میں ریاست کے دلتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے بارے میں بتائیں کہ یہ طبقہ کتنا بی ایس پی کے ساتھ ہے اور کتنا ایس پی کے ساتھ؟
اکھلیش: یہ صرف کہنے سننے کی بات ہے کہ یو پی میں دلتوں کی حکومت ہے۔ ریاست میں سب سے زیادہ دلتوں کی حالت خراب ہے، جس کی بد قسمتی سے قیادت کر رہی ہے بی ایس پی حکومت۔ پریشانی آنے پر وزیر اعلیٰ ضرور یہ کہتی ہیں کہ وہ دلت ہیں اس لیے پریشانی میں ہیں اور پریشانی دور ہوتے ہی وہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں سرگرم ہو جاتی ہیں۔ انھوں نے دلتوں کے لیے کیا کیا؟ سب سے زیادہ غریب وہ، سب سے زیادہ بھوکے وہ اور سب سے زیادہ استحصال کا شکار وہ۔ پھر کس بات کی دلت حکومت۔ دلتوں کو یہ واضح طور پر سمجھ میں آگیا ہے کہ مایاوتی دلتوں کی صرف ایک ذات کے لیے ہیں۔اس میں بھی جاٹو طبقہ شک کے دائرے میں ہی ہے۔ دلتوں کے اس طبقہ کے لیے بھی مایاوتی نے کیا کیا؟اپنے رشتہ داروں کو چھوڑ کر۔اب دلتوں کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ان کا درد سماجوادی پارٹی ہی سمجھ سکتی ہے۔رہی بات مسلمانوں کی تو آپ یہ مانیں کہ مسلمان ایس پی کے ساتھ ہی ہیں۔یہ ان کے ساتھ ایس پی کا روائتی رشتہ ہے۔ کلیان سنگھ کا مسئلہ تو میڈیا کا مسئلہ ہے۔مسلمان بھی جانتے ہیں کہ کلیان سنگھ کا ساتھ صرف اس لیے لیا گیا تھا، کیونکہ ہمیں بی جے پی کو زمیں بوس کرنا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *