حکومت کو لگا جھٹکا

دلیپ چیرین
سینئر نوکر شاہوں سے متعلق دو معاملوں میں عدلیہ کے رخ سے سرکاری نظام کو یکے بعد دیگرے دو جھٹکے لگ چکے ہیں۔ پہلے معاملے میں چنئی ہائی کورٹ نے تمل ناڈو کی دراوڑ مونیتر کڑگم سرکار کے ذریعہ لتیکا شرن کے پولس ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ ہائی کورٹ نے ریاستی پولس سربراہوں کی تقرری کے معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایتوں کو نظر انداز کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو پھٹکار بھی لگائی ۔ ذرائع کے مطابق کئی سینئر افسروں کو نظر انداز کرکے شرن کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ چنئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا اثر دوسری ریاستوں میں بھی دیکھنے کو ملے گا، کیونکہ اپنے عزیزوں کو اعلیٰ منصب پر فائز کرنا سیاست دانوں کا شغل رہا ہے اور اس کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اسی طرح کے ایک دوسرے معاملے میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو 1975بیچ کے مدھیہ پردیش کیڈر کے آئی اے ایس افسر پرشانت مہتا کو ایڈیشنل سکریٹری کے عہدے پر ترقی دینے کا حکم دیاہے۔ مہتا کو عہدے میں ترقی دینے کے معاملے میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریوبنل (کیٹ) پہلے ہی حکم جاری کرچکا تھا، پھر بھی پرموشن کئے جانے والے افسران کی فہرست میں ان کانام شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ ہائی کورٹ کی پناہ میں پہنچے تھے اور ہائی کورٹ نے بھی کیٹ کے حکم پر مہر لگائی تھی۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت معاملے کو لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی تھی، لیکن اب شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہو۔ بہر حال عدلیہ کے سخت رخ کے باوجود اس کا امکان بہت کم ہے کہ موٹی چمڑی والے ہمارے لیڈروں کے کان پر جوں رینگیںگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *