سیلاب کے قہر کا خوف اب تک ہے

کویتا کماری
یوں  تو ہمارے وزیر اعلی نتیش کمار بہار کی ترقی کو بہت زور شور سے آگے لے جانے کی بات اور دعویٰ کرتے رہے ہیں ،شاید وہ اپنے اس دعویٰ میں کامیاب بھی رہے ہونگے لیکن انھیں کی ریاست بہار میں کچھ گائوں ایسے بھی ہیں جہاں ہمارے وزیراعلیٰ اور ان کے کارندوں کی نگاہیں نہیں پہنچ پائی ہیں ۔ایک ایسے ہی گائوں کی طرف میں آپ سب کے ساتھ ان کا دھیان بھی دلانا چاہتی ہوں ،جہاں چرخہ کے ذریعہ ہمیں جانے کا موقع ملا ۔دربھنگہ ضلع سے تقریباً 75کلومیٹر دور کرت پور بلاک کے گورابورام پنچایت میں واقع منسارا مُسہری گائوں کی حالت بہت ہی زیادہ قابلِ رحم ہے۔ وہاں سیلاب جیسے گمبھیر مسائل سے لوگ بُری طرح جھوجھ رہے ہیں ،ہر سال آنے والے سیلا ب سے لوگوں کی زندگی تہس نہس ہوگئی ہے، سیلاب نے ان پر ایسا گہرا اثر چھوڑا ہے کہ سیلاب کا نام سنتے ہی ان کے رونگٹے آج بھی کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ گزشتہ سالوں کے سیلاب ان کے لئے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہوتے ،مگر یہ خواب صرف گزشتہ سالوں تک ہی محدود نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کو آج بھی ہر سال اس کا سامنہ نہ چاہتے ہوئے بھی کرنا پڑتا ہے ۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا ہے تو ہمیں اپنا گھر بار چھوڑ کر باندھ پر پناہ لینی پڑتی ہے ،اس دوران اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور چھوٹی سے چھوٹی گھریلوضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی نائو سے ایک کلومیٹر’’رسیاری’’گائوں جانا پڑتا ہے۔ ہماری حالت ہم سے زیادہ اور کون سمجھ سکتاہے ’’اسی ٹولہ کی کملا دیوی کہتی ہیں کہ اتنا سب کچھ ہوتا ہے مگر ہم لوگوں کو سرکار کی طرف سے ایک بھی نائومہیا نہیں کرائی گئی ہے،جس کے پاس نائو ہے وہ تو سیلاب میں بھی ہم سے بہتر زندگی گزار لیتے ہیں، مگر سوچئے کہ ہم میں سے زیادہ تر کے پاس نائو بھی نہیں ہے،جو سیلاب کے دنوں میں نقل وحمل کا واحدذریعہ ہوتاہے ۔” واضح ہو کہ یہ باندھ عوام کی راحت کے لئے بنایا گیا تھا ،لیکن یہاں کملا،کوسی اور گہواں تینوں ندیاں یکجاہونے کی وجہ سے باندھ کے دونوں طرف پانی جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سیلاب کے بعد مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں ،جس سے یہاں کے لوگ اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں ۔اس گائوں میں علاج کے لئے کوئی بھی اسپتال نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف بیماریوں سے پریشان گائوں کے لوگوں کو کئی کلومیٹر دور’جھگڑئوا‘گائوں جانا پڑتاہے،جہاں جانے پر بھی ان کا اطمینان بخش علاج نہیں ہو پا تا ہے ،جبکہ کھانے کو اناج ،رہنے کو مکان،پہننے کو کپڑوں کی پریشانی تو عام بات ہے ۔سیلاب کے دوران یابعدمیں حکومت کی جانب سے مہیا کرائی جانے والی اسکیموں سے بھی یہ لوگ دور ہی رہتے ہیں کیونکہ حقیقی طور پر یہ لوگ منسارا مُسہر گائوں سے ایک کلومیٹر جانب مغرب ندی پر سیلاب کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے کے لئے بنائے گئے باندھ کے باشندے تھے ۔مگر جگہ کی تنگی اور دوسری پریشانیوں کی وجہ سے یہ لوگ مشرقی باندھ پر آکر رہنے لگے ۔ شایداسی لئے حکومت کے ذریعہ مہیا کرائی جانے والی تمام اسکیمیں ان تک نہیں پہنچ پارہی ہے ۔ مگر واضح ہو کہ آج کل الیکشن کے زمانہ میں ہر پارٹی کے امیدوار اورعلاقہ کے ایم ایل اے صاحب بھی یہاں تک آسانی سے پہنچ رہے ہیں اور عوام سے اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کی پُر زور اپیل کر رہے ہیں۔حالانکہ بہار سے پہلے مرحلے کے الیکشن میں سیلاب زدہ علاقوں سے یہ خبر بھی آئی ہے کہ علاقے کے عوام نے اپنے رہنمائوں کے اس رویے سے مایوس ہو کرترقی نہیں تو ووٹ نہیںکا نعرہ دے کر اپنے آپ کو الگ رکھا جو کہیں نہ کہیں ہمارے جمہوری نظام کو چلانے والوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بہر کیف ! ا س سے متعلق جب میں نے مقامی باشندوں سے بات کی تو ان میں سے ایک 42 سالہ بیوہ خاتون ردھیادیوی نے بتایا کہ سیلاب کے دوران اور بعد میں ہم لوگوں کے ساتھ جو حالات پیش آتے ہیں وہ ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ ہماری اس زندگی سے تو بہتر موت ہےحکومت کی طرف سے مہیا کرائی جانے والی دلت اور مہادلتوں کی اسکیموں کا فائدہ مہادلتوں کی فہرست میں شامل ان لوگوں کو بالکل بھی نہیں مل پارہا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں میں کافی مایوسی دیکھی جارہی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق کچھ غیر سرکاری تنظیمیں سیلاب کے دوران تو مدد بھی کردیتی ہیں مگر سیلاب کے بعد ہماری مدد کرنے والا کوئی بھی نظر نہیں آتا ۔وہ آج بھی اسی انتظار میں ہیں کہ کوئی تو آئیگا جو ہمارے لئے مدد گار ثابت ہوگا ۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا ان کا انتظار انتظار ہی رہے گا؟ کیاہماری نئی حکومت ان کے لئے مسیحا ثابت ہوگی ؟ آخر ان کی مشکلات کا کوئی تو حل ہوگا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *