پچاس ہزار بچوں کی موت کا ذمہ دار کون ؟

پربھات رنجن دین
شمالی ہند میں پھیلا نامعلوم بخار کہیں بایو دہشت گردی کا نتیجہ تو نہیں…۔ مشرقی اترپردیش، شمال مغربی بہار اور اس سے ملحق نیپال کے ترائی علاقے میں دماغی بخار سے روزانہ ہونے والی اوسطاً 100بچوں کی موت کی آخر وجہ کیا ہے؟ مشرقی اترپردیش کے پچھڑے اضلاع کہیں بایو دہشت گردی کی تجربہ گاہ اور یہاں کے لوگ کہیں ’گنی-پگ‘ تو نہیں بنائے جارہے ہیں؟ اس سوال سے پورا ملک اور خاص طور پر شمالی ہند کے لوگ گھرے ہوئے ہیں، لیکن جواب دینے یا ذمہ داری لینے کے لیے کوئی راضی نہیں ہے…۔ نہ ریاستی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت۔ مشرقی اترپردیش کے گورکھپور، کشی نگر، دیوریا، سنت کبیر نگر سمیت 8اضلاع میں جاپانی انسیفلائٹس وبا کی طرح پھیل گیا ہے۔ اس کا شکار زیادہ تر بچے ہو رہے ہیں۔ بہار کے چھپرا، سیوان اور گوپال گنج جیسے سرحدی اضلاع میں بھی یہ مرض پھیلا ہوا ہے۔ مشرقی اترپردیش میں تو حالت انتہائی سنگین ہے۔ حکومت کی غفلت کا عالم یہ ہے کہ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں یہ مانتی ہی نہیں کہ یہ بیماری جاپانی انسیفلائٹس ہے۔ بچوں کی اندھادھند اموات ہو رہی ہیں، لیکن اس بیماری کا سرے سے انکار کرنے کی سرکاری کوششیں چل رہی ہیں۔ اعداد و شمار دبائے جارہے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد غلط بتائی جارہی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں صرف مشرقی اترپردیش میں ہی 50ہزار بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔اس سے زیادہ بچے معذور ہوگئے ہیں۔ نسلیں خراب ہو رہی ہیں اور اس کا مہلک سلسلہ جاری ہے۔ آپ سروے کریں تو معلوم ہوگاکہ روزانہ اوسطاً 100بچوں کی موت ہو رہی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ اس سال اب تک 219بچوں کی ہی تو موت ہوئی ہے۔ مگر جب آپ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں گے  تو حیرت میں پڑ جائیںگے کہ جب 2005میں صرف گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں 1500بچوں کی موت ہوئی تھی، توپھر حکومت بچوں کی بے تحاشہ ہو رہی اموات کو کیوں نہیں قبول کر رہی ہے، اس کے برعکس وہ فرضی اعداد و شمار کیوں گھڑ رہی ہے؟ سرکاری اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ 20سالوں میں 6500سے زیادہ بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کہ اس دوران صرف گورکھپور میں واقع بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہی 8500بچوں کی موت ہوئی۔ جھوٹ کی بنیاد پر تیار کردہ یہ سرکاری اعداد و شمار بھی کتنے بھیانک ہیں یہ دیکھنے کی بات ہے۔ سرکاری طور پر 1978میں اس بیماری سے مرنے والے بچوں کی تعداد 1072 تھی، جو 2005میں ڈیڑھ ہزار سے اوپر پہنچ گئی۔ یہ تعداد بالترتیب بڑھتی ہی گئی ، تب سے لے کر آج 2010تک اگر بی آر ڈی میڈیکل کالج کے علاوہ دیگر اسپتالوں اور چھوٹے بڑے نرسنگ ہومز میں ہوئی اموات کا حساب کیا جائے، تو مرنے والے بچوں کی تعداد حیران کن تعداد میں پہنچ جائے گی۔ لندن میں واقع ہیلتھ پروٹیکشن ایجنسی سینٹر کی رپورٹ حکومت ہند اور حکومت اترپردیش کے فرضی اعداد و شمار پر طمانچے کی طرح ہے۔ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2005سے لے کر اب تک یعنی محض پانچ سال میں شمالی ہند(مشرقی اترپردیش) اور اس سے ملحق نیپال کے ترائی علاقے میں جاپانی انسیفلائٹس سے پانچ ہزار لوگوں موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سال یعنی 2010میں جنوری سے لے کر ستمبر کے درمیان صرف گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہی 338بچے جاپانی انسیفلائٹس کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے۔ مشرقی اترپردیش کے دیگر متاثرہ اضلاع یا بہار کے متاثرہ اضلاع میں مرنے والوں کی تعداد کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں، لوگ معذور ہو رہے ہیں اور نسلیں برباد ہو رہی ہیں۔ مشرقی اترپردیش اور شمال مغربی بہار اس بیماری سے بری طرح سے متاثر ہے۔ بچوں کی مسلسل اموات ہو رہی ہیں، لیکن کوئی سننے والا نہیںہے۔ قانون سازیہ سے لوگوں کا بھروسہ پوری طرح ختم ہوچکا ہے۔ 2007میں پہلی مرتبہ ٹیکہ لگانے کا انتظام کیا گیا، وہ بھی محکمہ صحت کے افسران کی بدعنوانی کی نذر ہو گیا۔ یہاں تک کہ وائرس کی جانچ بھی پنے میں ہوتی تھی اور وہاں سے رپورٹ کبھی آتی ہی نہیں تھی۔ پارلیمنٹ سے سڑک تک کافی شور برپا ہونے کے بعد گورکھپور میں نیشنل وائرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کاقیام عمل میں تو آیا، لیکن مرکز نے جو ساڑھے پانچ کروڑ روپے دیے، وہ پیسہ ریاستی حکومت نے بھیجا ہی نہیں۔ آبادی کے مطابق صرف مشرقی اترپردیش میں ایک کروڑ ٹیکوں کی ضرورت ہے۔ یہاں تین بار ٹیکے لگنے تھے، لیکن صرف ایک بار ہی ٹیکہ لگایا گیااور بقیہ محکمہ صحت کی نذر ہوگیا، جو ٹیکہ مارچ میں لگایا جانا تھا، وہ مئی-جون میں لگایا گیا۔ 18لاکھ ٹیکے واپس بھیج دئے گئے، جو ٹیکے لگائے گئے، وہ بھی ایکسپائر تھے یا ان کی نگرانی میں لاپروائی کی وجہ سے بیکار ہوچکے تھے۔ بی آر ڈی میڈیکل کالج کے ماہر امراض اطفال پروفیسر کے پی کشواہا کی باتیں سنیںگے تو رونگٹے کھڑے ہوجائیںگے۔ پروفیسر کشواہا کے مطابق جاپانی انسیفلائٹس سے بچنے والے بچوں میں 20فیصد بچوں کی آگے کی زندگی کا مطلب صرف سانس لینا ہی رہ جاتا ہے۔ لکھنؤ کے معروف فزیشین ڈاکٹر نیرج بھسین کے مطابق جاپانی انسیفلائٹس کی شرح اموات تقریباً 50فیصد ہے اور اس بیماری سے جو بچ بھی جاتے ہیں ان کے جسم کا نقصان (ریسیڈیول ڈیمیج) اتنا ہو چکا ہوتا ہے کہ بقیہ زندگی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آنند سنگھ کے مطابق مریضوں کی بے تحاشہ بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے دوا کے لیے اسپتال کو ہر سال 40کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن حکومت محض 40لاکھ روپے ہی دیتی ہے۔
آخر اس جان لیوا وبا کے پھیلنے کی وجوہات کیا ہیں؟ اس بارے میں ریاست کا کوئی طبی افسر اصل وجہ بتانے کی حالت میں نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے افسر گندگی اور مچھروں کو اس کی وجہ بتاتے ہیں، پھر یہ مرض پورے ملک میں کیوں نہیں پھیل رہاہے؟ ایک خاص علاقے میں ہی اس کا بار بار کیوں حملہ ہو رہاہے؟ حکومتی نظام اور سیاسی بے اطمینانی کی وجہ سے کہیں اس علاقے کو خاص طور پر تجربہ کے لیے تو نہیں منتخب کیا جارہا ہے؟ ابھی اسی سال 16جون کو امریکہ کی فلوریڈا یونیورسٹی میں ہوئی ایک ورکشاپ میں جراثیم پر مبنی دہشت گردی کے خدشات پر تفصیلی مذاکرہ ہوا، اس سے آپ کو کئی سوالوں کے جواب خود بخود مل جائیںگے۔ بحث کا موضوع تھا کہ ’پیتھوجین-انفیکٹیڈ ویکٹر و ایڈیز‘ مچھروں کے ذریعہ پھیلائے جانے والی بایو دہشت گردی کامقابلہ کیا جاسکے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی کے حوالے سے منعقدہ اس مذاکرہ میں ماہرین نے یہ تسلیم کیا کہ وائرس سے انفیکٹیڈ مچھر حالانکہ بہت وائرس پھیلاچکے ہیں، لیکن جاپانی انسیفلائٹس اور چکن گنیا سے امریکہ اس طرح گھرا ہوا نہیں ہے، جس طرح ہندوستان۔ ظاہری دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بایو دہشت گردی کا آسان راستہ اختیار کرنے کے لیے کئی اہم دہشت گرد تنظیمیں اس پر متواتر کام کر رہی ہیں اور مہارت حاصل کرتی جارہی ہیں۔ حالانکہ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ جراثیم کے بارے میں سطحی معلومات رکھنے والے دہشت گرد گروپ بھی ہندوستان جیسے ’ٹراپیکل کلائی میٹ‘ والے ممالک میں اس کا آسانی سے استعمال کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان پر قابو پانے کا کوئی طریقہ نہیںاختیار کر رہی ہے۔ بایو دہشت گردی کے حساس مسئلے پر فلوریڈا یونیورسٹی میں منعقد سیمنار کا انعقاد فلوریڈا یونیورسٹی کے ’پیتھوجینس انسٹی ٹیوٹ‘، ’فلوریڈا میڈیکل اینٹومولوجی لیباریٹری‘ اور ’یو ایس ڈی اے سینٹر فار میڈیکل ایگریکلچرل اینڈ ویٹرینری اینٹومولوجی‘ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ مشہور کتاب ’ورلڈ ایٹ رسک‘ کے مصنف سابق گورنر اور سینٹر باب گراہم بھی اس سیمنار میں شامل تھے۔
بہرحال ملک کے سیکورٹی ماہرین کے مطابق ممبئی جیسے دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کی تیاریوں پر تو ملک کا دھیان ہے، لیکن بایو دہشت گردی سے نمٹنے کا کوئی طریقہ فی الحال ملک کے پاس نہیں ہے۔ بنگلور میں واقع’ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ کا اس جانب کچھ کام چل رہا ہے، لیکن ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہی ہے۔ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) جے آر بھاردواج کے مطابق اس کے لیے حکومت، کمپنیوں اور سماجی طبقوں سے قوی مدد کی ضرورت ہے۔ فوجی میڈیکل کور کے سابق ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل جے آر بھاردواج کی نگرانی میں بایو دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقوں پر تحقیق کی جارہی ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ گائڈ لائن بھی جاری کی گئی ہے۔ اس کی سنگینی اس بات سے ہی سجھی جاسکتی ہے کہ این ڈی ایم کی 8رکنی ٹیم کی صدارت خود وزیراعظم منموہن سنگھ کر رہے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم کے پیسے پر این ڈی ایم اے نے ’انٹی گریٹیڈ ڈیسیز سروی لانس پروگرام‘ بھی شروع کر رکھا ہے۔ اس پروگرام کے لیے ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیسیز‘ کو نوڈل ایجنسی بھی بنایا ہوا ہے، لیکن شمالی ہند میں پھیل رہی اس وبا پر کوئی دھیان ہی نہیں ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس پروگرام کو ملک کے تقریباً 600اضلاع تک پہنچانے کا نشانہ ہے۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ بایو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے الگ سے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کا قیام ہوچکا ہے۔ اس کی 8بٹالین باقاعدہ کام کر رہی ہیں۔ ایک بٹالین میں ایک ہزار ممبران ہیں اور دو بٹالین بڑھائے جانے کی تجویز کو منظوری مل چکی ہے، لیکن مشرقی اترپردیش میں بچے مر رہے ہیں، اس پر کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ اس فورس کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اسے بایو، کیمیکل، ریڈیولوجیکل اور نیوکلیئر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خاص طور پر تربیت دی گئی ہے، لیکن انہیں مشرقی اترپردیش کی پراسرار بیماری نظر نہیں آرہی ہے، جس نے یہاں کے معصوم بچوں کو ’گنی- پگ‘ بنا ڈالا ہے۔ جب کہ ’یو ایس کمیشن آن دی پروینشن آف ویپنس آف ماس ڈسٹرکشن پرولیفیریشن اینڈ ٹریرزم‘ کی ’ورلڈ ایٹ رسک ‘ رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی ملک بایو اور ایٹمی دہشت گردی کے حملے کی زد میں ہیں۔ ان میں ہندوستان بھی شامل ہے۔
ہندوستان کے ماہرین حیاتیات بھی مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ہندوستان کو ’ڈیسیز سروی لانس‘ کی طرف کام کرنا چاہیے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ بایو-ٹریرسٹ اٹیک عام سی دکھائی دینے والی متعدی بیماری یا وبا کی شکل میں ہو سکتی ہے۔ ’آرمڈ فورسز میڈیکل کالج میں مائیکرو بایولوجی کے سربراہ رہ چکے کرنل اننت سبرامنیم ناگیندر مسلسل بایو دہشت گردی کے خطرے کے تئیں خبردار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح کشمیر سے لے کر ملک کے اندرونی حصے تک دہشت گردانہ سرگرمیاں اور حملے جاری ہیں، اس سے ہمیں تو بیدار ہونا ہی ہوگا۔ بایو دہشت گردی کا خطرہ ہندوستانی فوج اور سیکورٹی ماہرین کو پہلے سے ہی ڈرا رہا ہے، لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر مرکز قطعی سنجیدہ نہیں ہے، جب کہ 1965کی ہند-پاک جنگ کے درمیان ہی شمال مشرقی ریاستوں میں پھیلے ’اسکریب ٹائیفس‘ نامی بیماری کے بارے میں بایو وار کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ بایو وار کے ہتھیار کے طور پر ’نیومونک پلیگ‘ کے بارے میں فوجی ماہرین پہلے سے جانتے ہیں۔ سورت کے بیڑ علاقے میں 1994میں پھیلا ’بوبونک پلیگ‘ بایو دہشت گردی کے ہتھیار کے تجربے کی شکل میں ہی دیکھا جاتا ہے، جس میں سیکڑوں افراد کی جانیں گئی تھیں۔ دہلی میں 1996میں ڈینگو کا پھیلنا بھی سیکورٹی ماہرین کی نظر میں بایو دہشت گردی کے ہتھیار کا تجربہ ہے۔ تب ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیبل ڈیسیز‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کمل دتہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ڈینگو کی بیماری کا اس طرح پھیلنا مشکوک ہے اور اس کے پس پردہ بایو دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کا ہاتھ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی سال دہلی میں سرکاری طور پر ڈینگو کے ایک لاکھ 252معاملے درج ہوئے اور ان میں 423افراد کی موت ہوگئی تھی، لیکن اس وقت سے لے کرآج تک ڈینگو کی روک تھام کے کیا طریقے اپنائے گئے وہ سب سامنے ہے۔ اس کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات کا پتہ لگانے یا اس کی کاٹ کرنے کی باتیں تو چھوڑ ہی دیں۔ سلی گوڑی میں کچھ ہی عرصہ قبل پراسرار انسیفلائٹس بایو دہشت گردی کا ہی نمونہ ہے، جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 45افراد اور غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیکڑوں افراد کی موت ہوئی۔ معروف معالج ڈاکٹر نیرج بھسین مشرقی اترپردیش سمیت شمال ہند میں پھیلی وبا کو بایودہشت گردی کے غلط تجربوں کی شکل میں دیکھنے کی بجائے سماجی صحت کے مسائل کی شکل میں دیکھنا اور اس کے کامیاب علاج کے انتظام کو اولیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی دیگر مخفی وجوہات کو تلاش کرنا دوسرے ماہرین کا کام ہے، ڈاکٹروں کا کام تو علاج کرنا اور لوگوں کے صحت یاب ہونے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بہرحال بایو- کیمیکل دہشت گردی کے غلط تجربوں کے طور پر 2002-2003 میں جب ایس اے آر ایس(سیویئر ایکیوٹ رسپیریٹری سنڈروم) پھیلایا گیا، تب ہندوستان میں بایو سیفٹی لیبل-4سطح کی محض ایک تجربہ گاہ تھی۔ اس کے بعدآٹھ سال کے درمیان یعنی 2010تک ملک میں ایسی ایک ہی لیباریٹری بن پائی، یعنی ملک میں محض2لیباریٹری ہیں۔ بایو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے حکومت ہند کی دلچسپی اور رفتار کااس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ابھی تک مرکزی حکومت نے ایسا کوئی قانون نہیں بنایا ہے کہ مہلک جراثیم، کیمیائی، ریڈیو دھرمی یاایٹمی دہشت گردی جیسے حملوں کے شکار لوگوں کے فوری علاج کے لئے  پرائیویٹ اسپتال قانونی طور پر پابند ہوں۔اب یہ بات پوشیدہ نہیں رہی ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ بڑی تعداد میں بایو ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے افسران اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکہ میں9/11حادثہ کے دو سال قبل القاعدہ افغانستان میں ایجنٹ ایکس نامی خفیہ مشن میں لگا ہواتھا،جو اینتھریکس سے وابستہ تھا۔قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 2001میں امریکہ میں خطوط میں لگے اینتھریکس پائوڈر کی وجہ سے پانچ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے خلاف امریکی حکومت نے ڈارک ونٹر نام سے آپریشن بھی چلایا تھا۔سال 2001میں امریکہ پر اینتھریکس کاحملہ بایو دہشت گردی کا نمایاں کیس ہے۔ بعد ازیں ہندوستان پر اینتھریکس حملہ کی کوششیں ہوئیں۔سال 2001میں ہی بایو دہشت گردی ہندوستان میں داخل ہوئی۔اس وقت مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ چھگن بھجبل کو اینتھریکس آلودہ لفافہ بھیجا گیا۔ اس وقت سے وزارت دفاع کے تحت ڈی آر ڈی او بایو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مثبت طریقہ تلاش کر رہا ہے۔امریکہ کی وزارت دفاع ، وزارت صحت اور سماجی خدمت دونوں ہی بایو دہشت گردی کا سامنا کرنے کے طور طریقوں پر مسلسل کام کر رہے ہیں لیکن ہندوستان میں لیڈر چادر تان کرسورہے ہیں۔ امریکہ کی وزارت دفاع پنٹاگن کی نگرانی میں چلنے والے بایو ڈیفنس پروگرام کے تحت جوائنٹ ویکسین ایکویزیشن پروگرام بھی چلایا جا رہا ہے، جوخاص طور پر حساس مقامات پر تعینات امریکی فوجیوں کے لئے ضروری ویکسین مہیاکراتے ہیں۔ اس محکمہ نے یلو فیور، جاپانیز انسیفلائٹس ،ٹی بی، کالرا،پلیگ، اینتھریکس اور اسمال پاکس کے ٹیکے تو بنا لئے ہیں لیکن ماہرین دفاع کا ماننا ہے کہ بایو دہشت گردی کے کئی دیگر سرگرم ایجنٹوں مثلاً، ٹلاریمیا، رفٹ ویلی فیور، ابولا، رسن،بوٹولزم اور اسٹے فیلوکوکول اینٹروٹاکسن جیسے خطرناک ایجنٹ کے مقابلہ کے لئے ابھی کوئی طریقہ تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔1977میں ہی اسمال پاکس کے خاتمہ کا اعلان کر دیا گیا تھا، اس کے لئے کارآمد ٹیکے بھی تیار کر لئے گئے تھے ، لیکن بایو دہشت گردی کے ذریعہ کچھ اہم ممالک میں اس کے پھر سے پھیلنے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ان ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے۔دفاعی اور ماہرین صحت کی معلومات کے مطابق اٹلانٹا کے سینٹر فار ڈیسیز کنٹرول اینڈ پروینشن کے علاوہ سائبیریا کے نوبو سبسرک میںواقع اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولولجی اینڈ بایو ٹیکنالوجی میں اسمال پاکس کے جراثیم ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت سوویت یونین نے بایو ویپنسکی شکل میں اسمال پاکس کے جراثیم بڑی تعداد میں تیار کئے تھے۔

ہندوستان میں بایو دہشت گردی کے برے تجربے

اسکرب ٹائفس -1965-شمالی مشرق ہند
ببونک اینڈ نیومونک پلیگ -1994بیڈ اورسورت
ڈینگو ہیمریجک فیور -1996-دہلی
اینتھریکس -1999-مدنا پور بنگال
مسٹری انسیفلائٹس -2001-سلی گوڑی بنگال
فوٹ اینڈ مائوتھ  ڈیسیز -2003-شمالی ہند
برڈ فلو -2007پورے ہندوستان میں
چکنگونیا -2008-وسط ہندوستان میں
سوائن فلو -2009-پورے ہندوستان میں

پورا مشرقی اتردیش بند کر دیں گے: یوگی آدتیہ ناتھ

مشرقی اتر پردیش میں پھیل رہی اس بیماری پر سرکارکی بے اعتنائی کے خلاف جدوجہد کرنے اور مریضوں کی خدمت میں آگے بڑھ کر کام کرنے والے  گورکھناتھ دھام کے مہنت اور ممبر پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کہتے ہیں کہ گورکھ پور کابی آر ڈی میڈیکل کالج مریضوں سے بھرا پڑا ہے۔لوگ اپنی زمین جائداد بیچ کر علاج کے لئے آتے ہیں اور اپنے بچوں کی لاشیں لے کر یہاں سے جاتے ہیں۔ اس کے حوالہ سے عوامی اپیل داخل کرنے کی بھی تیاری ہو رہی ہے، کیونکہ بغیر عدالت کی دخل اندازی کے کوئی کارآمد نتیجہ نہیں نکلنے والا، لیکن سماجی اور سیاسی حالت بھی اتنی بدتر ہو چکی ہے کہ ریاستی حکومت عدالت کے احکامات کو بھی نظر انداز کر رہی ہے۔اب سخت تحریک کی ضرورت ہے۔ پورا مشرقی اتر پردیش بند کر دینا پڑے گا، تب جا کر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی آنکھ کھلیں گی۔ملک کا بچپن ناگہانی موت کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ خطرناک اشارہ ہے۔ سرکاری تاناشاہی، بدعنوانیاں، نکماپن اور سرکاری مشنری کی مجرمانہ بے اعتنائی کے خلاف ہم لوگوں نے مشرقی اتر پردیش کے ہر ضلع میں دھرنا دے کر تحریک کی شروعات کر دی ہے۔ میڈیکل کالج گھیرے جائیں گے۔انتظامیہ کو گھیرا جائے گا پھر پورا مشرقی اتر پردیش ٹھپ کر دیا جائے گا۔ دوا کے نام پر پیسہ آ رہا ہے لیکن میڈیکل کالج کے پرنسپل سے لے کر محکمہ صحت کے افسران اور ریاست کے وزیر صحت سارا پیسہ کھا جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بہار کے وزیر صحت نند کشور یادو سے میری بات چیت ہوئی ہے، لیکن اپنی ریاست میں عوام کی صحت کے حوالہ سے کسی کو تشویش نہیں ہے۔اتر پردیش کے وزیر صحت گورکھ پور آئے، لیکن جاپانی انسیفلائٹس کے مریض بچوں کو دیکھنے گورکھ پور کے اسپتال تک نہیں پہنچے۔ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر بھی آئے، لیکن انھوں نے بھی مریضوں کو دیکھنا گوارا نہیں سمجھا۔یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ اس وباکے خلاف وہ مسلسل سڑک سے پارلیمنٹ تک مظاہرہ کرتے رہے ہیں، لیکن آج تک کوئی مثبت کارروائی نہیں کی گئی ۔ پارلیمنٹ میں خوب شور شرابہ کرنے کے بعد گورکھ پور میں نیشنل وائرس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں آیا، لیکن وہ بھی سرکاری بے اعتنائی کا شکار ہو رہا ہے۔ یوگی کہتے ہیں کہ چالیس کروڑ کی دوائیں دینے کی جگہ حکومت چالیس لاکھ روپے کی دوا دیتی ہے ، جبکہ پتھروں اور مورتیوں پر اربوں کھربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔

لکھنؤ کا یہ ہے حال تو ریاست تو ہوگی ہی بدحال

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ تک نامعلوم بخار سے متاثر ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے لکھنؤ اور اس کے آس پاس پھیلے انجانے بخار سے لوگوں کی موتیں ہو رہی ہیں، حکومت کا صدر دفتر ہونے کے باوجود یہاں کوئی سرکاری طور پر یہ بتانے والا نہیں ہے کہ یہ بخار کیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ڈاکٹروں، نرسنگ ہوموں اور یہاں تک کہ جھولا چھاپ ڈاکٹروں تک پربن آئی ہے۔ ایک معمولی دوا کی دکان والے کا کہنا تھا کہ اس بار جتنی دوائیں فروخت ہوئی ہیں، اتنی کبھی نہیں ہوئیں۔اسپتالوں میں بھاری بھیڑ ہے، لیکن ڈاکٹروں کو یہ پتہ نہیں چل رہا کہ یہ آخر کون سی بیماری ہے جو لوگوں کی اس طرح جان لے رہی ہے۔کوئی ڈینگو کہہ رہا ہے تو کوئی کچھ اور ۔ خود لکھنؤ کے (سی ایم او) ڈاکٹر اے کے شکلا کا کہنا ہے کہ لکھنؤ میں پھیلی بیماری ڈینگو نہیں ہے۔ ان کے مطابق لوگ الٹی دست اور ہارٹ اٹیک سے مر رہے ہیں۔بدقسمتی تو دیکھئے کہ دوسری جانب ریاست کے ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس پی رام کہتے ہیں کہ لکھنؤ سمیت ریاست کے 37اضلاع میں ڈینگو پھیلا ہوا ہے۔ ڈاکٹر رام اس میں مشرقی اتر پردیش کے ان 8اضلاع کا نام نہیں لیتے، جہاں جاپانی انسیفلائٹس سے بچوں کی مسلسل موتیں ہو رہی ہیں۔ ریاست کے چیف سکریٹری اتل کمار گپتا ڈینگو کی  روک تھام کے لئے میٹنگ بلا کر رسم پوری کرتے ہیں، مگر مشرقی اتر پردیش میں پھیلتی موت کے مسئلہ پروہ اتنابھی نہیں کرتے۔ ڈینگو کی روک تھام کے لئے بھی کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ہیلتھ ڈائریکٹر بھی اسے قدرت کے حوالہ چھوڑ دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ ٹھنڈ آئے گی تو ڈینگو اپنے آپ دب جائے گا۔

جا ن لیوا جراثیم کتنی طرح کے ہوتے ہیں

قسم اے: اس قسم میں سب سے جان لیوا جراثیم آتے ہیں۔ یہ بہت آسانی سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیںاور شرح اموات بھی بڑھ جاتی ہے۔تکنیکی اصطلاح میں اسے ٹولریمیا یا ریبٹ فیور کہتے ہیں۔اس کے جراثیم کو فرینسی سیلا ٹولے رینسس کہا جاتا ہے۔اس سے ہونے والی بیماری میں سانس لینے میں تکلیف، جان لیوا نمونیا اور موت تک ہو جانے والا سسٹم فیلیور ہوتا ہے۔
اینتھرینکس بھی قسم اے کے زمرے میں آتا ہے، لیکن یہ کنٹے جس بیماری نہیں ہوتی ۔ یہ پائوڈر کی شکل میں ہوتی ہے۔ 2001کے آخر میں امریکی سینیٹروں کے خلاف ایتھریکس کے جراثیم دہشت گردی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کئے گئے تھے۔ ہندوستان میں بھی اسے آزمایا گیا تھا۔ بایو دہشت گردی کے ہتھیار کی شکل میں بالو لنم ٹاکسن کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ قسم اے کے زمرے میں رکھے جانے والے خطرناک جراثیم کلوٹریڈیم بوٹولنم ہے، جو سانس کے نظام کو متاثر کر تا ہے اور آخر میںآدمی کی موت ہو جاتی ہے۔ ببونک پلیگ بھی اسی زمرہ میں بایو دہشت گردی میں استعمال آنے والی بیماری ہے۔اسے یرسینیا پیسٹس بیکٹریم سے پھیلایا جاتا ہے۔ ماربرگ ، ابولا، لاسا فیور یا بولویائی بخار کے نام سے جانا جانے والا بخار جان لیوا ہوتا ہے۔ خون کے رسنے سے مریض کی موت ہو جاتی ہے۔ اس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔
قسم بی: وائرل انسیفلائٹس ، وینیجویلن ایکوائن انسیلفلائٹس ، ایسٹرن ایکوائن انسیفلائٹس، ویسٹرن ایکوائن انسیفلائٹس ، وائبریو کالرا،ٹائفس ، رسن، کیو فیور ، پی -سٹاکوسس، میلی آئے ڈاسس ، گلینڈرس، ای کولی، شگیلا، برو لاسس جیسی بیماریاںقسم بی میں آتی ہیں، جو نہایت ہی خطرناک ہوتی ہیں۔ قسم سی میں آنے والے جراثیم سے وہ بیماریاں پھیلتی ہیں، جو دیکھنے میں عام ہوتی ہیں، لیکن ان کا اثر بہت بڑی آبادی پر ہوتا ہے اور وہ ہولناک تباہی مچاتی ہیں۔

جان لیوا جراثیم بکھیرنے والے طیارہ کو چین نے مار گرایا،ہندوستان نے جانے دیا۔۔۔!

سال 2009کے جون کے مہینہ کی ہی تو بات ہے، جب سوائن فلو کے جراثیم کا چھڑکائو کرنے والے امریکی طیارہ کو چین نے مار گرایا تھا۔ ایسے ہی مشکوک اڑان بھرتے امریکی آپریٹیڈ طیارے کو ہندوستان اور نائیجیریا کی فضائیہ نے جبراً اتار تو لیا لیکن اس طیارے کو مار گرانے کی ان میں جرأت نہیں تھی۔ چین کی شکایت ہے اور ہندوستانی خفیہ ماہرین کا شک ہے کہ امریکی آپریٹیڈ یوکرینین طیارہ سے بایولوجیکل ایجنٹس کا چھڑکائو کیا جا رہا تھا۔زمبابوے کے طیارہ ایم ڈی-11سے زہریلے وائرس کا چھڑکائو کرنے والے امریکی آپریٹیڈ طیارہ کو چین کے شنگھائی میںواقع پوڈانہ  ایئر پورٹ پر مار گرایا گیا تھا۔ چین نے سرکاری طور پر بتایا تھا کہ وہ طیارہ سی آئی اے سے منسلک ایواینٹ ایوی ایشن کمپنی کا تھا۔ برطانوی فوج کے سابق افسر اینڈریو اس کمپنی کے مالک ہیں اور طیارہ کا رجسٹریشن انگلینڈ کا ہے۔ اس میں سی آئی اے کے تین ایجنٹ مارے گئے تھے اور چار زخمی ہوئے تھے، جو امریکہ، بلجیم ، انڈو نیشیا اور زمبابوے کے شہری ہیں۔ علاج کے دوران انڈو نیشیائی شہری نے چین کی خفیہ پولس کے سامنے یہ قبول کیا تھا کہ وہ امریکی فوج کے انڈو نیشیا اڈہ پر نیول میڈیکل ریسرچ یونٹ نمبر 2میں کام کرتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ انڈو نیشیا کے اس امریکی فوجی اڈہ کو وہاں سے ہٹائے جانے کے بارے میں وہاں کے وزیر دفاع زبونو سدرشنوں کئی مرتبہ مطالبہ کر چکے ہیں۔ آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ انڈو نیشیا میں واقع امریکی فوج کا بایو ویپن بیس راک فیلر انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے قائم ہے۔ راک فیلر انسٹی ٹیوٹ وائرل بیماریوں پر ریسرچ اور تراکیب پر کام کرنے کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔اس حادثہ کے کچھ ہی دنوں بعد 26جون 2009کو اے این-124کو ممبئی میں فورسڈ لینڈنگ کرنی پڑی۔ ہندوستانی فضائیہ نے امریکی آپریٹیڈ طیارہ کو ممبئی میں اترنے پر مجبور کر دیا۔ ایسے ہی دوسرے طیارہ کو نائجیریائی فضائیہ نے اترنے پر مجبور کر دیا۔ نائجیریا ئی فضائیہ نے تو اس طیارہ کیپائلٹ گروپ کو گرفتار بھی کر لیا، لیکن ہندوستان یہ ہمت نہیں دکھا پایا۔ حقیقت یہ ہے کہ چینی  فضائیہ  نے ہندوستانی اور نائجیریائی فضائیہ کو اس بارے میں پہلے ہی خبر کر دی تھی اور یہ بتا دیا تھا کہ امریکی طیاروں سے سوائن فلو(ایچ -1،این -1)کے جراثیم کا چھڑکائو کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً45ہزار کلو گرام خطرناک کچرا بھی دھویں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بکھیرا جا رہا تھا۔
حالانکہ امریکی فریق کا کہنا ہے کہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے تحت امریکی طیارہ افغانستان جا رہا تھا ،لیکن امریکی فضائیہ کو یو کرینی طیارہ کی ضرورت کیوں پڑی تھی، اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ممبئی ایئر پورٹ پر طیارہ کو 24گھنٹے تک روکے رکھا گیا، لیکن ہندوستانی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی اور آخر کار طیارہ کو جانے کی اجازت دے دی گئی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *