!انتہا پسندی غلط فلسفے کی پیداوار

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ریڈیکل (انتہا پسندی) اسلام ہے۔ تین ہفتے قبل ٹونی بلیئر کی خود نوشت شائع ہوئی ہے،جس میں انھوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ مغربی ممالک کی غیر متوازن پالیسیاں انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ اپنی خود نوشت کی اشاعت کے موقع پر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق برطانوی وزیر اعظم جنھوںنے صدام حسین کے پاس نیو کلیئر ہتھیاروں کی بڑی کھیپ ہے کہہ کر عراق پر چڑھائی کی تھی، بی بی سی کو بتایا ہے کہ انتہا پسند اپنے اسلام کو کمیونزم سے جوڑتے ہیں۔ وہ اپنے نظریات کو بنیاد بنا کر اپنا ہر فعل درست سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول ان کے لئے تبدیلی کا لمحہ امریکہ میں 11 ستمبر 2002 ایک کا حملہ تھا۔ ٹونی بلیئر نے لکھا ہے کہ میرے لئے اس کا جواب بہت سادہ تھا۔ مذہبی نظریہ کی بنیاد پر نیویارک کی گلیوں میں ایک دن میں تین ہزار لوگ مار دئے گئے ۔ میرے لئے اہم بات یہ تھی کہ اگر انہیں تیس ہزار یا تین لاکھ لوگ بھی مارنے پڑتے تو وہ مار دیتے۔ اسی لئے مجھے محسوس ہوا کہ خارجہ پالیسی میں مکمل طور پر نظرثانی کا وقت آ گیا ہے کہ ہمیں ایک نئے اور مختلف قسم کے خطرے کا سامنا تھا۔
اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ برطانیہ کو اندرون ملک انتہائی پر جوش انتہا پسندوں یا شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کا خطرہ ہے۔جو نہ صرف القاعدہ کے طریقہ کار میں تبدیلی اور جیلوں میں قید مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ نظریات کا نتیجہ ہے بلکہ بے گانگی اوربرگشتگی پر توجہ مرکوز کرنے والی خارجہ پالیسی کا شاخسانہ ہے۔ ٹونی بلیئر اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’مجھے  غلط کہیں یا صحیح لیکن مجھے یہی لگا کہ گیارہ ستمبر کے بعد خطرے کے پیمانے میں تبدیلی آ گئی ہے اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔ میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ انتہا پسند اور ان کی شدت پسند تحریکیں اور ان کی طرف سے جوہری کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے حملوں کا عزم ہمارے لئے سب سے بڑے خطرات ہیں۔ ٹونی نے لکھا ہے کہ انتہا پسند اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ انھوں نے عراق اور افغانستان میں برطانوی افواج کی موجودگی کا جواز اور اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فلسطین، چیچنیا، کشمیر، عراق اور افغانستان میں انتہا پسندی ناقابل برداشت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ لوگ دہشت گردی کی مہم نہ چلاتے تو غیر ملکی افواج کب کی عراق اور افغانستان چھوڑ چکی ہوتیں۔اس لئے دہشت گردوں کا یہ جواز کہ وہ غیر ملکی قبضے کے خلاف نبردآزما ہیں بالکل فضول اور کچرہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ امریکی فوجی عراق چھوڑ چکے ہیں لیکن انتہا پسند ابھی تک بغداد میں کار دھماکے کر رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا مقصد عراق سے امریکی فوجیوں کو نکالنا نہیں بلکہ وہاں کی حکومت کو گرانا ہے، جسے عوام نے منتخب کیا ہے۔ سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اعتراف کیا ہے کہ وہ تاحال یہ نہیں سمجھ سکے کہ انتہا پسندانہ اسلامی نظریات سے مکمل طور پر چھٹکارا کیسے پایا جائے لیکن انھوں نے اس سلسلہ میں ایک بات واضح طور پر کہی ہے کہ ایران انتہا پسند اسلام کی سرپرستی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس لئے ضروری ہے کہ کسی بھی طریقہ سے اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے۔
ٹونی بلیئر کے خیالات کی تائید میں رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں بھی یہی کہا ہے کہ حالات بتاتے ہیں کہ حملوں کا ایک سلسلہ کسی وقت بھی شروع ہو سکتا ہے۔ جس میں القاعدہ کے کئی حملوں میں انفرادی کردار سامنے آئیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ برطانوی تجزیہ نگار برطانیہ پر حملوں سے متفکر ہیں۔ ان کے تجزیہ کے مطابق جہاں تک درون ملک پھیلتی ہوئی دہشت گردی کا تعلق ہے برطانیہ کو کسی بھی دوسرے مغربی ملک سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ اب نہ صرف خطرات کی نوعیت بدلی ہوئی ہے بلکہ اس کا اصل بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ پہلے جہاں پاک، افغان سرحد سے برطانیہ میں لگ بھگ سبھی حملوں کی پلاننگ ہوتی تھی اور تحریک چلتی تھی۔ وہیں اب عرب جزیرہ نمامیں القاعدہ انتہائی سرگرم ہو چکا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ کرسمس کے موقع پر ایک امریکی طیارہ کو دھماکے سے اڑانے کی ناکام سازش میں اس بدلے ہوئے منظر نامے کا دخل تھا۔
2000سے اب تک برطانیہ کے خلاف بیس دہشت گردی کی سازشیں کی گئیں جن میں سے صرف ایک کامیاب رہی اور وہ تھی جولائی 2005میں لندن میں چار پاکستانی نژاد برطانویوں نے دھماکے کر کے 52افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان حملوں کی سازش کے الزام میں230سے زیادہ افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا، لیکن جیل میں قید مسلمانوں میں انتہا پسندی اور کٹر پن کے نظریات پھیلنے سے حکومت  کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آئندہ پانچ سال میں لگ بھگ 800امکانی انتہا پسند عناصر جیل سے رہائی کے بعد سامنے آ سکتے ہیں۔ ان میں ایک بڑا نام عالم انور اولاکی شاگردوں کا ہے۔ یہ ایک نمایاں متحرک امریکی ہے۔اس نے 2008میں13فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اولاکی اور دوسرے نئے انتہا پسند لیڈر اب انفرادی طور پر لوگوں کو دہشت گردی کے لئے تیار کر رہے ہیں تاکہ وہ کھیلوں کے بڑے بڑے ٹورنامنٹس، ہوٹلوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا سکیں۔ علاوہ ازیں دہشت گرد انفرادی طور پراہم، مقبول، مشہور اور معروف شخصیات کو بھی نشانہ پر رکھ  سکتے ہیں اور یہ کہنے میں کوئی شے مانع نہیں کہ ایسی کوششوں میں سے کوئی ایک کوشش بڑے پیمانے پر کامیاب ہوسکتی ہے۔ وہ چاہے مسلمان انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہو یا کسی اور کے، ہمیں محتاط اور چوکنا رہنا ہوگا کہ مسلمانوں کی کمزوریاں ، غلطیاں اور بدنصیبیاں امریکہ کی ایجاد کردہ نہیںوہ صرف اسے استعمال کرنے اور فائدہ اٹھانے کا قصوروار ہے۔ ہمیںیہ جاننا ضروری ہے کہ دشمن کون ہے اور یہ جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کون دشمن نہیں ہے۔ امریکہ کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ جب تک پاکستان میں جاگیرداری ختم نہیں ہوتی وہ پاکستان میں کبھی جاپان یا کوریا جیسا معاشرہ نہیں دیکھ سکتا۔
دوسری طرف امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے شہریوں کو ایک بار پھر خبر دار کیا ہے کہ وہ یوروپ کے دورہ سے گریز کریں۔ یوروپی ممالک میں دہشت گردوں کے حملوں کا خطرہ ہے۔ ان ہی خطرات کو برطانوی حکومت نے ملک میں القاعدہ سے لاحق خطرہ کی شدت کو جو عمومی نوعیت کی تھی ،بڑھا کر سنگین قرار دے ڈالا ہے۔ امریکہ کی انٹیلی جنس نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اور شمالی افریقہ کے بعض دہشت گردوں کی جانب سے یوروپ پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اسرائیل ان کے خاص نشانوں پر ہوں گے۔ یوروپ کے اخبارات کی رپورٹوں میں تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ یوروپی شہروں میں ممبئی طرز کے حملوں کی سازش تیار کرنے والے پاکستانی و عرب دہشت گردوں کی نظر میں ایفل ٹاور، لن کا سنٹرل اسٹیشن نمایاں مقامات رکھتے ہیں۔یہ وہ مقامات ہیں جہاں پر ہر سال لاکھوں افراد ان کی سیاحت اور مشاہدے کے لئے آتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے کیمپوں میں تربیت دی جارہی ہے۔حال ہی میں ایک پاکستان نژاد جرمن شہری کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جس نے نشانوں کی فہرست فراہم کی۔ اس سے افغانستان کے بگرام ہوائی اڈے پر گرفتاری کے بعد مزید پوچھ تاچھ کی جاری ہے۔ ادھر جاپان کی وزارت خارجہ نے بھی یوروپ کا سفر کرنے والے یا وہاں مقیم جاپانی شہریوں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے اور انہیں متنبہ کیا ہے کہ القاعدہ اور اس سے منسلک تنظیموں کی جانب سے یوروپ میں انتہائی شدید حملوں کا امکان موجود ہے۔
میرے حساب سے دہشت گردی کی کالی بلی کی تاریک کمرے میں تلاش ہو رہی ہے،جو وہاں نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *