ملک کے سات کروڑ بیس لاکھ بچوں کا پتہ نہیں ملا

شریش کھرے
دوہزار دس کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق پہلے   8کروڑ 50لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے تھے۔ دوسرے اعداد و شمار میں5سے 14سال کے ایک کروڑ 30لاکھ بچے مزدور ہیں۔ اگر 8کروڑ 50لاکھ میں سے 1کروڑ 30لاکھ گھٹا دیں تو سات کروڑ 20لاکھ بچتی ہیں۔ یہ ان بچوں کی تعداد ہے جو نہ طلبا ہیں، نہ ہی مزدور ہیں۔ تو پھر یہ کیا ہیں، کہاں ہیں اور کیسے ہیں؟ اس کا حساب بھی کسی کتاب یا ریکارڈ میں نہیں ملتا۔
ان سات کروڑ 20لاکھ کے اعداد و شمار میں14سے 18سال تک کے بچے نہیں جوڑے گئے ہیں۔ اگر انہیں بھی جوڑ دیا جائے تو ملک کے بچوں کی حالت بے حد خراب نظر آئے گی۔ دیکھا جائے تو ہندوستان میں بچوں کی عمر کو لے کر الگ الگ اصطلاحات ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بچوں کی عمر 0سے18سال رکھی گئی ہے۔ ہندوستان میں بچوں کی عمر کی حد 14سال کی ہے۔ لیکن الگ الگ ایکٹ کے مطابق بچوں کی عمر بدلتی جاتی ہے۔ جیسے بال-انصاف قانون ،2000میں18سال، بچہ مزدوری قانون ، 1886میں14سال، چائلڈ میرج ایکٹ میں لڑکے کے لئے 21سال اور لڑکی کے لئے 18سال کی عمر طے کی گئی ہے۔ کانوں میں کام کرنے کی عمر 15اور ووٹ دینے کی عمر 18سال ہے۔ اسی طرح حق تعلیم بل،2008میں بچوں کی عمر 6سے 14سال رکھی گئی ہے۔ اس سے 6سے کم اور 14سے زیادہ عمر والوں کے لئے تعلیم کا بنیادی حق نہیں مل سکے گا۔
اس حقیقت کو 2001کی مردم شماری کے اعداد و شمار سے جوڑ کر دیکھنا چاہئے جس میں پانچ سال سے کم عمر کے چھ لاکھ بچے گھریلو کام کاج میں الجھے ہوئے ہیں۔ قانون کی ایسی تفریق سے ناخواندگی اور بچہ مزدوری کے مسائل الجھتے چلے جاتے ہیں۔ سرکاری پالیسیوں اور اسکیموں میں بھی بچوں کی عمر کولے کر مایوسی نظر آتی ہے۔ 14سال تک کے بچے ’’یووا کلیان‘‘ وزارت کے تحت آتے ہیں لیکن 14سے 18سال والے بچے کی حفاظت اور فروغ کے سوال پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ نوخیز بچوں کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ 2001کی مردم شماری میں نوخیزبچوں کی تعداد 22کروڑ 50لاکھ ہے۔ یہ کل آبادی کا 22فیصد حصہ ہے۔ اس میںبھی 53فیصد لڑکے اور 47فیصد لڑکیاں ہیں۔ یہ صرف تعداد کا فرق نہیں ہے، عدم مساات اور جنسی تفریق کا بھی فرق ہے۔
2001کی مردم شماری میں 0سے 5سال کی عمر والوں کا جنسی تناسب 1000:879ہے جبکہ 15سے 19سال والوں میں یہ 1000:858ہے۔ جس عمر میں جنسی تناسب سب سے خراب ہے اس کے لئے الگ سے کوئی حکمت عملی بننی تھی لیکن عمر کی ضرورت اور مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بات بالکل صاف ہے کہ بچیاں جیسے جیسے نوخیزبن رہی ہیں، ان کی حالت بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ دیکھا جائے تو محکمہ تعلیم اور محکمہ برائے فروغ خواتین و اطفال کے تحت آتا ہے۔ لیکن ایک نوخیز لڑکی نہ تو بچی ہے اور نہ ہی عورت۔ اس لئے اس کے لئے کوئی محکمہ یا وزارت ذمہ دار نہیں ہوتی۔ اس لئے ملک کی نوخیزلڑکیوں کو سب سے زیادہ بے اعتنائی برداشت کرنی پڑتی ہے۔
ایک بالغ لڑکی کی شناخت نہ ابھر پانے کے پیچھے اس کی کمزوری نہیں بلکہ سماج میں موجود مفروضے ہیں۔لڑکی کی پیدائش کے بعد ہی اسے بہن، بیوی اور ماں کے دائروں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اسے شروعات سے ہی سمجھوتے کی تعلیم دی جانے لگتی ہے۔ لڑکیوں کو گھریلو کام، کم عمر میں شادی  اورماں بننے کی ذمہ داری ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس لئے 6سے14سال کے تمام بچوں کو مفت تعلیم دئے جانے کے باوجود 51فیصد لڑکیاں آٹھویں درجہ تک پڑھائی چھوڑ دیتی ہیں۔ ’’لڑکی ہے تو اسے ایسا ہی ہونا چاہئے‘‘ اس طرح کی باتیں اس کی زندگی، تحفظ، اورحصہ داری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ اس محروم گروپ کواپنی مرضی سے جینے کا انتظار ہے۔ اس سے ان کی زندگی میں مستقل تبدیلی آ سکے گی۔ فی الحال ایسے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔
ان کے ساتھ ہونے والی تفریق کو روکنے کے لئے دوہرے معیار سے بچنا ہوگا۔ اس کے لئے تعلیم کے اختیاری بل،2008میں بچوں کی اصطلاح 0سے 18سال تک کی جائے۔ ہر ایک بچے کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کا حق ملے۔ حکومت کو بچوں کی صحت کی ذمہ داری بھی لینی ہوگی۔ اس کے لئے وہ بچوں کی تعلیم پر جی ڈی پی کا 10فیصد اور صحت پر 7فیصد خرچ کرے۔ اقوام متحدہ کنونشن کے مطابق بچوں کیحقوق کا دائرہ بڑھایا جائے۔ بچہ مزدوری ایکٹ، 1986میں ترمیم کرتے ہوئے بچوں کو خطرناک کاموں سے روکنا ہوگا۔ منصوبے بناتے وقت بچوں کی عمر، جنس اور طبقہ کا دھیان بھی رکھا جائے۔ قومی پالیسی کے بنیادی اصول میں برابری کی گارنٹی ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *