وقت کے ساتھ بدلا ہے بالی ووڈ

رتیکا سونالی
فلمیسازوںہدایتکاروں کے یکطرفہ راج سے بالی ووڈ آزاد ہو چکا ہے۔لبرل ازم کے دور کا گواہ بن کر بالی ووڈ اب اپنے آپ میں ایک طاقت بن کر ابھر چکا ہے۔اس بدلائو کے پیچھے انڈسٹری کی اقتصادی حالت کا بڑا تعاون ہے۔اس سے فلموں کے طور طریقوں میں بھی بے حد تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ بدلائو ضروری ہے۔ تبدیلی کے عمل میں کچھ مثبت اور منفی یعنی دونوں طرح کی چیزیں سامنے آتی ہیں۔ جو مثبت چیزیں سامنے آتی ہیں، انہیں سماج آئندہ ممکنہ تبدیلی تک تسلیم کر لیتا ہے، جبکہ تبدیلی کے دوران آئی منفی چیزیں تھوڑے وقت کے بعد خود سماج سے باہر ہو جاتی ہیں۔ بالی ووڈ میں تبدیلی کے دوران دونوں ہی فریق سامنے آئے۔بین الاقوامی فلمی کمپنیوں ، ملکی و غیر ملکوں کے صنعتی گھرانوں اور فنکاروں کے ذاتی پروڈکشن ہائوسیز کی فلمسازی اور کارکردگی کامعیار بھی پہلے سے بہتر ہو گیا ہے۔تجربہ کار غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعہ بالی ووڈ میں دلچسپی لینے سے یہاں ایڈیٹنگ اور شوٹنگ وغیرہ تکنیکی کاموں کے لئے استعمال ہونے والی تکنیک بھی ایڈوانس اور زیادہ بہتر ہو گئی ہے، جس کا اثر پردے پر بہتر پیشکش میں نظر آتا ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعہ فلمسازی کے شعبہ میں انٹری کرنے سے منافع نظر میں آ گیا ہے، جس کی وجہ سے کمپنیاں ہر حال میں، بنا کوالٹی پر سمجھوتہ کئے بغیر بہترین فلم بنانے کی امید رکھتی ہیں۔
فلم ہٹ ہو، یہ امید رکھ کر فلمسازی سے وابستہ ٹیم کوشش کرتی ہے کہ ایک بہترین فلم بنے۔ اس سوچ سے نہ صرف فلموں کی کوالٹی اچھی ہوئی ہے، بلکہ ان کا معیار بھی عالمی ہو گیا ہے۔ آئوٹ ڈور لوکیشن پر شوٹنگ ہونے سے دنیا کے دوسرے ملکوں میں بیٹھے ہندوستانی بالی ووڈ سے اپنی وابستگی محسوس کرتے ہیں اور اس سے فلم کا بہتر پرموشن ممکن ہو پاتا ہے اور بالی ووڈ کی مقبولیت بڑھتی ہے۔ دورحاضر کے حساب سے تبدیلی ہونے پر فنکاروں کے حالات میں بھی مثبت تبدیلی آئی ہے۔ پہلے فلمسازوں اور ہدایتکاروں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے رہنے والے اداکار اب خود کے پروڈکشن ہائوس ہونے کی وجہ سے کسی بھی طرح کے استحصال کا شکار کم ہی ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی انہیں محنتانہ کے معیار پر تو کبھی کارکردگی کے معیار پر جسمانی اور ذہنی استحصال کا شکار ہونا پڑتا تھا، لیکن اب فنکاروں کے حالات اچھے ہیں۔ اپنے پروڈکشن ہائوسیز ہونے کی وجہ سے وہ فلمسازوں کی من مانی برداشت کرنے کے لئے مجبور نہیں ہیں اور نئے فنکاروں کی دقتوں کو سمجھتے ہوئے وہ دانشمندی اور کارکردگی کے بل پر اپنی فلموں کے لئے ان کا انتخاب کر سکیں گے۔اس سے بالی ووڈ میں ایک صاف شفاف ماحول پیدا ہوگا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ تمام تبدیلیاں بالی ووڈ اور فنکاروں کے لئے اچھا اشارہ مانی جا سکتی ہیں۔

رتیکا ایس برنوال

نوجوان طبقہ کی نبض کو پڑھنے اور ان کی امنگوں کو بیان کرنے میں ماہر رتیکا ایس برنوال ہمیشہ کچھ الگ کرنےکو کوشاںرہتی ہیں۔

Latest posts by رتیکا ایس برنوال (see all)

Share Article

رتیکا ایس برنوال

نوجوان طبقہ کی نبض کو پڑھنے اور ان کی امنگوں کو بیان کرنے میں ماہر رتیکا ایس برنوال ہمیشہ کچھ الگ کرنےکو کوشاںرہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *