آدرش سے بڑا فوج کی سینٹرل کمانڈ میں گھوٹالہ

پربھات رنجن دین
ممبئی آدرش سوسائٹی گھوٹالہ کے تار لکھنؤ سے جڑے ہیں۔ ممبئی اور لکھنؤ کے اس لنک کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ممبئی کے آدرش سوسائٹی گھوٹالہ سے بڑاگھوٹالہ سینٹرل کمانڈ ہیڈ کوارٹر لکھنؤ میں کھلے گا۔ممبئی آدرش سوسائٹی گھوٹالے کو غور سے دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ گھوٹالہ کرنے والے افسران کا لکھنؤ سے ممبئی ؍پنے میں رابطہ مسلسل رہا ہے۔ اسے قائم رکھنے میں ڈیفنس اسٹیٹ سروس کے ڈائریکٹر جنرل بال شرن سنگھ نے اہم کردار ادا کیا ۔ ابھی ریٹائرہونے سے قبل تک وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے۔پنے چھائونی کی اہم افسر ریشیل کوشی کو ہٹا کر ان کی جگہ بھیجے گئے بی اے دھیالن ہوں یا دھیالن کو پنے بلا کر ان کی جگہ لکھنؤ میں مقرر کی گئیں بھائونا ٹھاکر ہوں، یہ سب اسی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں، جو فوج کی شبیہ پر بٹا لگاتے ہیں۔ سینٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹر لکھنؤ سے لے کر سائوتھ کمانڈ ہیڈ کوارٹر ممبئی ؍پنے تک ڈیفنس پراپرٹی سروس میں تعینات افسر لینڈ گریبرس(زمین ہڑپنے والے) کا کام کر رہے ہیں۔ آدرش ہائوسنگ سوسائٹی کے وجود میں آنے سے لے کر سوسائٹی کا ممبر بنانے تک کے عمل میں جو بے ضابطگیاں ہوئیں ان میں وہی افسران سرگرم رہے، جو سینٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹر میں رہتے ہوئے فوج کی غیر منقولہ املاک کو گروی رکھ چکے ہیں۔ آدرش سوسائٹی میں باہری لوگوں کو ممبر شپ دینے پر خوب شور شرابا مچا ہوا ہے لیکن سینٹرل کمانڈ ہیڈ کوارٹر کا فوجی علاقہ لیڈروں، دلالوں اور مشکوک قسم کے باہری لوگوں کو دئے جانے کے باوجود ہر جانب خاموشی طاری ہے۔فوج کے علاقہ میں مال بن چکے ہیں اور غیر فوجی عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ یہاں تک کہ فوجی علاقے کی پلاٹنگ کر کے اسے عام لوگوں کے ہاتھوں فروخت کیا جا رہا ہے۔ فوجی علاقہ کی ایک منتازعہ کوٹھی کو وزیر اعلیٰ مایاوتی کے یوم پیدائش پر گفٹ دینے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ جبکہ ریاست کا اقتدار سنبھالتے ہی وزیر اعلیٰ نے فوجی علاقہ کی ایک دیگر عالیشان کوٹھی پہلے سے ہی قبضے میں کر لی تھی۔
بہر حال سینٹرل کمانڈ کی املاک کا کباڑا کرنے کی خطرناک تصویر دیکھنے سے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ آرمی ہیڈ کوارٹر میں ڈیفنس اسٹیٹ سروس کے ڈی جی بال شرن سنگھ نے لکھنؤ چھائونی کے سی ای او بی اے دھیالن کو پنے میںمقرر کرنے کے لئے کس طرح فوجی آدرشوںکی دھجیاں اڑا دیں۔ درحقیقت فوجی آدرشوںکی فضیحت اس لئے کی گئی کہ الٹ پلٹ میں ماہر دھیالن کو پنے بھیجنے سے آدرش گھوٹالے میں فضیحت ہونے سے انہیں نجات ملنے کی امید تھی۔ انڈین ڈیفنس اسٹیٹ سروس کے افسر بی اے دھیالن نے گزشتہ ماہ ہی پنے چھائونی کونسل کے سی ای او کا عہدہ سنبھالاہے۔ دھیالن کو اس عہدہ پر جبراً مقرر کرایا گیا، یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پنے چھائونی پر شہر کی سی ای او ریشیل کو شی کو جبراً بنایا گیا۔ڈائریکٹر جنرل کو اس کی بھنک مل چکی تھی کہ آدرش ہائوسنگ سوسائٹی کا مایاجال بکھرنے لگا ہے، لہٰذا دھیالن کو پنے لانا ضروری ہے۔ ریشیل کوشی اپنی ایماندارانہ شبیہ کے لئے مشہور ہیں۔ کوشی کے رہتے ہوئے اس معاملہ میں دفاع کا کوئی راستہ نہیں مل رہاتھا۔ڈائریکٹر جنرل بال شرن سنگھ نے پانچ اکتوبر کو ریشیل کوشی کو ہٹانے اور دھیالن کو لانے کا حکم جاری کیاتھا جبکہ کوشی کا چھ ماہ کا ٹینیور باقی تھا۔ ڈائریکٹر جنرل کو 31اکتوبر کو ریٹائر ہو جانا تھا، لیکن انہیں ریشیل کوشی کے وہاں رہتے ہوئے گھوٹالہ میں پھنسنے کا خدشہ ستا رہا تھا۔ لہٰذا ریٹائر ہونے سے تین دن قبل انھوں نے دھیالن کو پنے چھائونی کونسل کے سی ای او کے عہدہ پر فائز کرکے ہی سانس لی۔دھیالن کو ممبئی سرکل میں سال 2007میں بہترین خدمات کے لئے فوج کی طرف سے سپاس نامہ دیا جا چکا ہے۔اسی دور میں قلابہ کا آدرش سوسائٹی گھوٹالہ بھی پختہ ہو رہا تھا۔ دھیالن پر گھوٹالے اور بے ضابطگیوںکے جو معاملے چل رہے تھے انہیں درکنار کر کے ڈیفنس اسٹیٹ سروس برانچ ان کی مدح سرائی کرتی رہی۔دھیالن کو بہترین خدمات کی تعریف اس وقت ملی جب ان کے خلاف چنڈی گڑھ کے دفتر میں پنچایتوں کے سروس چارج میںبے قاعدگی کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ مالی بے ضابطگی کے سنگین الزامات کی چارج شیٹ اسی سال خارج ہوئی اور اسی سال آدرش گھوٹالہ بھی اجاگر ہوا۔ الزامات خارج کرنے کے پیچھے دلیل یہ دی گئی کہ متعلقہ رقم 30لاکھ روپے سے کم ہے ۔ دھیالن کے خلاف ایسے کئی معاملے چل رہے ہیں۔ ایک اسٹنگ آپریشن میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد دھیالن کافی بدنام ہوئے۔سائوتھ سینٹرل کے کرکی فوجی علاقہ میں بھی بے ضابطگیاںکرنے کے لیے وہ کافی مشہور ہیں۔قابل ذکر ہے کہ دھیالن کے رہتے ہوئے پنے میں فوج کی زمین پر مافیائوں کا قبضہ ہوا ہے اور ڈیفنس پراپرٹی سروس کے تین افسران کے خلاف سی بی آئی کی تفتیش بھی چل رہی ہے۔ آپ معاملہ کی سنگینی کو اس بات سے ہی سمجھ سکتے ہیں کہ دھیالن کو پنے چھائونی کونسل کے سی ای او عہدہ پر لانے کے خلاف سائوتھ کمانڈ کے جنرل افسر کمانڈنگ ان چیف (جی او سی ان سی)لیفٹیننٹ جنرل پردیپ کھنہ نے فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو خط لکھا اور سخت اعتراض درج کرایا ۔کسی بھی کمانڈ کے فوجی کمانڈر عام طور پر ڈیفنس پراپرٹی سروس کے انتظامی معاملات میں تب تک دخل نہیں دیتے، جب تک کوئی انتہائی سنگین معاملہ نہ ہو۔ لیفٹیننٹ جنرل کھنہ نے فوجی سربراہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ پنے کینٹونمنٹ جیسی سب سے خوشحال چھائونی علاقہ میں مشتبہ کردار والے شخص کی اس طرح پوسٹنگ غلط ارادوں سے کی گئی۔ کوشی کو ہٹایا جانا اعلیٰ افسران کے ذریعہ اپنے عہدہ کا بیجا استعمال ہے۔ پنے چھائونی کے سی ای او کو ڈیفنس اسٹیٹ سروس کا سینئر افسر مانا جاتا ہے جسے ریئل اسٹیٹ کے معاملات نمٹانے کا اختیار ہوتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ فوج کے پاس سات ہزار مربع کلو میٹر سے زائد زمین ہے۔ فوج کے تینوں حصے ملا کر 17.3لاکھ ایکڑ زمین ہے۔ کل 17.3لاکھ ایکڑ زمین میں سے اکیلے 13.79لاکھ ایکڑ زمین بری فوج کے پاس ہے۔ فضائیہ کے پاس محض01.51لاکھ ایکڑ اور بحریہ کے پاس 0.37لاکھ ایکڑ زمین ہے۔ ملک کی19ریاستوں کی 62چھائونیوں میں ہی دو لاکھ ایکڑ زمین ہے۔ اس زمین کے استعمال کا اختیار بھی فوج کے پاس ہے، جس کا بیجا استعمال کر کے آدرش سوسائٹی جیسے گھوٹالے کئے جاتے ہیں۔ دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش کے نزدیک فضائیہ کے سنتشٹی شاپنگ کمپلیکس کے حوالے سے جو بے ضابطگیاںکی گئیں، انہیں آڈیٹر جنرل نے بھی نشانزد کیا ۔ یہ گھوٹالہ ایئر فورس وائیوس ویلفیئر ایسو سی ایشن نے کیا تھا۔آدرش سوسائٹی گھوٹالہ کو انجام دینے والوں نے لکھنؤ میں رہتے ہوئے سینٹرل کمانڈ کی غیر منقولہ املاک کا کیا کباڑا کیا اس کا نمونہ دیکھئے۔ جب ملک آزاد ہوا تھا اس وقت سینٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹر لکھنؤ کے پاس 13کیمپنگ گرائونڈ تھے۔آج لکھنؤ ہیڈکوارٹر کے پاس صرف سات کیمپنگ گرائونڈ رہ گئے ہیں۔ بقیہ چھ کیمپنگ گرائونڈ کہاں گئے، اس کا جواب فوج کے پاس نہیں ہے۔ سرکاری طور پر پوچھا جاتا ہے تو حساس فوجی مسئلہ بتاتا ہوا ، رٹا رٹایا انکار والا جواب ملتا ہے۔ لیکن فوج کے اس انکار سے حقیقت نہیں چھپنے والی۔ سینٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹر کی چھائونی  علاقہ میں اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ مایاوتی، بی ایس پی لیڈر ڈاکٹر اکھلیش داس، کانگریس لیڈر پرمود تیواری (ان کے سمدھی کے نام پر)، اقتدار کے خاص  نوکرشاہ پردیپ شکلا اور ان کی اہلیہ ارادھنا شکلا، سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور ممبر اسمبلی رگھوراج پرتاپ سنگھ، بی ایس پی لیڈر اور تاجر سدھیر ہلواسیا سمیت کئی دیگر لیڈران، نوکرشاہوں اور دلالوں کو کینٹ کی بڑی بڑی کوٹھیاں اور کوٹھیوں کے ساتھ زمین کے بڑے حصے کیسے ملے؟فوج کے کس قانون کے تحت باہری لوگوں کو فوجی علاقہ کی یہ کوٹھیاں حاصل ہوئیں؟اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ مایاوتی کو کینٹ میں ملے گھر کو عالیشان بنانے کے لئے فوجی علاقہ کے ضابطوںکو بالائے طاق رکھ کر ہرے پیڑ کاٹنے اور پتھر لگوانے کی اجازت کیوں اور کس نے دی؟ڈیفنس اسٹیٹ محکمہ اس پر خاموش ہے، لیکن اس کے پیچھے کس طرح کی ڈیلنگ ہوئی اور فوجی علاقے میں نئے نئے باشندے کیسے آگئے، اس کی وجوہات لوگ جانتے ہیں۔
اب تو ریاستی حکومت کے ایک بااثر وزیر نسیم الدین صدیقی بھی فوجی علاقہ کی ایک متنازع کوٹھی پر قبضہ کرچکے ہیں اور اسے 15دسمبر کو وزیراعلیٰ کے یوم پیدائش پر تحفہ کے طور پر پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ کینٹ علاقہ کے 12تھمیا روڈ پر واقع اس کوٹھی کا واقعہ کچھ کم دلچسپ نہیں ہے۔ سینٹرل کمانڈ کے جی او سی ان چیف رہتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس چوہان نے 2002-2003میں فوجی طاقت کے بل پر اس کوٹھی پر جبراً قبضہ کرلیا تھا۔ فوج کی تاریخ میں پہلی بار کسی جی او سی ان چیف کی بیوی محترمہ میرا چوہان، بریگیڈیرکمانڈر سنجیو مدان، بریگیڈیر اے کے شریواستوسمیت کئی دیگر فوجیوں پر ڈاکہ زنی، دوسرے کے مکان پر جبراً قبضہ و مجرمانہ دراندازی اور ساز باز کا لکھنؤ میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس چوہان راستے سے ہٹ گئے اور ریٹائر بھی ہوگئے۔ اسی متنازع کوٹھی کو اونے پونے داموں میں خرید کر نسیم الدین صدیقی اس میں فٹ ہونے میں لگے ہوئے ہیں۔ قانون کو ٹھینگے پر رکھ کر چلنے والے ان لیڈروں کو یہ بھی پتہ ہے کہ 12تھمیا روڈ پر واقع اس کوٹھی کا مالکانہ حق چوطرفہ تنازعہ کے گھیرے میں ہے۔
بہرحال لکھنؤ ہیڈکوارٹر کے علاوہ بھی آپ جہاں کہیں بھی دیکھیں، فوج کی زمین پر غیرقانونی قبضہ ہے۔ کانپور، گورکھپور، میرٹھ، وارانسی، فیض آباد، الٰہ آباد ہر جگہ فوج کی اراضی پر لیڈر، مافیا، دلال یا دولت مند قابض ہیں۔ فوج کی زمین پر بلڈنگ، شاپنگ کمپلیکس وغیرہ تال ٹھونکے کھڑے ہیں تو فوج کے اندرونی علاقہ میں کوٹھیوں کی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ لکھنؤ میں فوج کے پاس ٹرانس گومتی رائفل رینج میں 195ایکڑ، اموسی فوجی علاقہ میں 185ایکڑ، ککریل رائفل رینج میں 100 ایکڑ، بخشی کا تالاب میں 40ایکڑ اور موہن لال گنج علاقہ میں 22ایکڑ زمین ہے، لیکن یہ اعداد و شمار صرف فوج کی دستاویزوں تک ہی محدود ہیں، زمینی حقیقت مزیدخوفناک ہے۔ ان میں سے زیادہ تر اراضی پر غیرقانونی قبضہ ہے۔ فوج کہتی ہے کہ قبضہ ہے، جب کہ اصلیت یہ ہے کہ اس کے پیچھے فوج اور دفاعی املاک سروس کے افسران کی بدعنوانی ہے۔
لکھنؤ میں سلطان پور روڈ پر فوج کی فائرنگ رینج کے بڑے حصے کی پلاٹنگ ہوگئی اور زمینیں فروخت بھی ہوگئیں۔ ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ کونسل نے گوسائیں گنج تھانے میں پراپرٹی ڈیلروں کے خلاف 30جولائی 2010کو مقدمہ بھی درج کرایا، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ زمین سے ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ کونسل کے اس بورڈ کو اکھاڑ پھینکا گیا، جس پر لکھا تھا کہ یہ فوج کی فائرنگ رینج کی زمین ہے۔ فوج کی دستاویز بتاتی ہیں کہ لکھنؤ میں ٹرانس گومتی رائفل رینج کی 90ایکڑ زمین اور اموسی میں پانچ ایکڑ زمین پر لینڈ مافیاؤں کا قبضہ ہے۔ ککریل میں تو فوج کی 23ایکڑ زمین پر باقاعدہ بڑی عمارتیں اور دکانیں بن چکی ہیں۔ چھاؤنی سے باہر فوج کی تقریباً 600ایکڑ زمین ریاستی حکومت سے تنازعہ میں پھنسی ہوئی ہے۔ کہیں پر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ کونسل سے تنازعہ ہے تو کہیں براہ راست حکومت سے قانونی داؤ پیچ چل رہے ہیں۔ کانپور میں فوج کی زمین پر الگ الگ علاقوں میں 6بستیاں آباد ہیں۔
کانپور شہر کے وارڈ نمبر- 1میں بھجی پوروا، لال کرتی، گولا گھاٹ، پچئی کا پوروا جیسی کئی بستیاں آباد ہیں۔ بنگلہ نمبر-16اور بنگلہ نمبر-17کی طرف جانے والے دو علاقوں میں گزشتہ 60سالوں سے غیرقانونی بستیاں آباد ہیں، لیکن انہیں ہٹانے کی کسی کو فرصت نہیں ہے۔ ان بستیوں میں پکے مکان تک بن چکے ہیں، پکی سڑکیں ہیں، بجلی کنکشن ہیں اور باقاعدہ راشن کارڈ بھی بنے ہوئے ہیں۔ کانپور چھاؤنی علاقہ میں بنا عالی شان اسٹیٹس کلب فوجی املاک کی بے ضابطگیوں کا گواہ ہے۔ اسٹیٹس کلب کا اسٹیٹس آج ایک شاندار ہوٹل کی طرح ہے۔ دو درجن سے زیادہ پانچ ستارہ سہولتوں سے آراستہ کمرے، بڑا ایئرکنڈیشن ہال اور کلب کے مالک وکاس ملہوترا کی اس سے ہو رہی اندھادھند کمائی کس کے بل بوتے ہو رہی ہے؟ فوجی علاقہ میں یہ کلب کیسے وجود میں آیا اور اس کے عوض میں کس نے کیا کیا پایا، اس کا جواب سامنے آنا تو ابھی باقی ہے۔
گورکھپور میں گگہا بازار میں واقع فوج کے کیمپنگ گراؤنڈ کی 33ایکڑ زمین میں سے تقریباً 10ایکڑ زمین پر قبضہ ہوچکا ہے۔ گورکھپور کے ہی سہجنواں، مہراج گنج ضلع کے پاس رنیاپور اور نوتنواں میں فوج کی زمین پر غیرقانونی قبضے ہیں۔ الٰہ آباد شہر میں فوج کے پریڈ گراؤنڈ کی تقریباً 50ایکڑ زمین قبضے میں ہے۔ یہاں غیرقانونی بستیاں آباد ہیں۔ 32چیتھم لائنس، 6چیتھم لائنس اور نیو کینٹ میں بھی فوج کی زمین پر غیرقانونی قبضے ہیں۔ میرٹھ کاچھاؤنی علاقہ تو مال، شاپنگ کمپلیکس اور سول کالونی میں تبدیل ہوچکا ہے۔
مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آدرش سوسائٹی گھوٹالہ معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرائی جائے گی۔ سی بی آئی تمام زاویہ سے معاملے کی جانچ کرے گی۔ اس بات کی بھی جانچ ہوگی کہ فوج کی زمین سوسائٹی کو کیسے مل گئی اور پھر اس میں لکھنؤ کنکشن اجاگر ہوگا۔ دفاعی املاک محکمے میں قلابہ ڈویژن میں کام کرنے والے افسر آر سی ٹھاکر کے آدرش معاملے میں سرگرم- مشتبہ کردار سے پردہ ہٹے گا اور تب لوگوں کو یہ بھی پتہ چلے گا کہ لکھنؤ چھاؤنی میں تیسرے درجے کے معمولی ملازمین کی غیرمتوقع ترقی کا سفر کیسے اور کن کن راستوں سے پورا ہوا۔ تب یہ بھی پتہ چلے گا کہ لکھنؤ چھاؤنی کی موجودہ سی ای او بھاؤنا سنگھ پنے سے لکھنؤ کیسے آئیں، کانپور میں اسٹیٹس کلب کیسے بنا؟ کن افسران کی مدت ملازمت میں بنا۔ الٰہ آباد چھاؤنی میں متنازع بھرتیاں کیسے ہوئیں؟ بریلی انجینئرنگ کالج سے کس افسر کے کیسے رشتے ہیں۔ فوجی علاقے میں سیاسی لیڈر اور دلال کیسے آباد ہوئے۔ ویجلنس اور دیگر ایجنسیوں میں جانچ کے لیے جو درجنوں کیس سازشی کوششوں سے رکے پڑے ہیں ان کا کیا ہوا وغیرہ۔

آدرش گھوٹالے پر خاموشی کیوں؟

سینٹرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں فوجی املاک کی کس طرح لوٹ مچی ہوئی ہے، اس کی چھوٹی لیکن خوفناک تصویر دکھائی ہے ’’چوتھی دنیا‘‘ نے۔ اس پر وزیر دفاع بولیں گے کہ انہیں سنٹرل کمانڈ میں چل رہے گھوٹالوں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ وزیر دفاع اے کے انٹونی کو دو مہینے قبل ہی آدرش گھوٹالے کے بارے میں بتادیا گیا تھا، لیکن گھوٹالہ عوامی طور پر اجاگر ہونے کے باوجود وزارت دفاع یہی کہتی رہی کہ اسے اس معاملے کی کوئی معلومات نہیں تھی۔ دراصل ممبئی کے آرٹی آئی کارکن یوگاآچاریہ آنند جی نے دو مہینے پہلے ہی وزیر دفاع کو خط لکھ کر آدرش سوسائٹی گھوٹالے کی معلومات فراہم کردی تھی اور ان سے چند ضروری معلومات بھی طلب کی تھیں۔ یوگاآچاریہ کو وزیر دفاع نے کوئی جانکاری تو نہیں دی بلکہ خاموشی اختیار کر گئے۔ آدرش گھوٹالہ یوگاآچاریہ آنند جی کی وجہ سے منظر عام پر آیا۔ میڈیا نے ان سے ہی ساری اطلاعات حاصل کیں، لیکن انہیں ہی ہائی لائٹ نہیں کیا۔ سب اپنے اپنے مفاد میں لگے رہے۔ آنند جی حق اطلاعات قانون کے ذریعہ جوہو کے آئی پی ایس افسر ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالے کا پتالگارہے تھے۔ اسی درمیان ایک افسر نے آنند جی کو آدرش گھوٹالے کے بارے میں اشارتاً بتادیا۔ بس پھر کیا تھا، یوگاآچاریہ آدرش کے پیچھے پڑ گئے۔ حق اطلاعات قانون کے تحت دستاویز حاصل کرنے میں انہیں ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا اور مہینوں جد وجہد کرنے کے بعد آخرانہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ میڈیا ان سے اطلاعات حاصل کرکے آدرش گھوٹالے کو منظر عام پر تو لایا ، لیکن آچاریہ کو حاشیے پر رکھ دیا۔
بہرحال، آدرش سوسائٹی گھوٹالے کا لب لباب یہ ہے کہ کارگل جنگ کے شہیدوں کے خاندان اور ان کی بیواؤں کی بازآبادکاری کے بہانے کھڑی کی گئی آدرش سوسائٹی گھوٹالے کا مرکز بن گئی۔ قلابہ کی یہ زمین فوج نے شانتا کروز رائفل رینج کی زمین کے عوض حاصل کی تھی۔ رائفل رینج کی زمین 1950میں ہی ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے بنانے کے لئے دے دی گئی تھی۔ اس کے بدلے فوج کوقلابہ کی زمین حاصل ہوئی تھی۔ سوسائٹی کے چیف پروموٹر آرسی ٹھاکر اور دفاعی املاک سروس کے افسران نے اس کے ذریعہ گھوٹالے کا راستہ کھولنے میں سرگرم رول ادا کیا اورجس شعبہ سے مخالفت کا امکان تھا اس کے علم برداروں کو سوسائٹی کا رکن بناکر منہ بند کردیا۔ ایسے منہ بند فوجی افسروں، نوکر شاہوں، لیڈروںاور دلالوں کی فہرست دیکھنے میں اگرچہ طویل ہے،لیکن آدرش اپارٹمنٹ کی 31منزلہ بلندی سے کم ہے۔ حکومت مہاراشٹر کے حکم نامے کے مطابق اور مہاراشٹر کوآپریٹیو سوسائٹی ایکٹ1960کے مطابق جن لوگوں کی ڈومیسائل نہیں بدلی ہو، انہیں سوسائٹی کا رکن نہیں بنایاجاسکتا۔ یعنی کم سے کم 15سال کی ممبئی میں لگاتاررہائش، لیکن اس ضابطے کی خوب دھجیاں اڑائی گئیں اور باہری لوگوں کو فلیٹس الاٹ کئے گئے۔ سابق آرمی چیف جنرل این سی وج اور جنرل دیپک کپور ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں۔ وج اور کپور دونوں نے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کو خط لکھ کر آدرش سوسائٹی میں رکن بنائے جانے کی درخواست کی۔ وج کا مکتوب 18 جون2008کو لکھا گیاجب کہ کپور کا خط 19جون2008کو تحریر کیا گیا۔ جنرل کپورنے تو اپنے آفیشیل لیٹر ہیڈ (نمبر17622-DK/DO) کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ جنرل وج نے بھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے آفیشیل لیٹر ہیڈ پر اپنا مراسلہ (نمبر13710-NCV/DO) لکھا۔ ان دونوں مکتوب کو پہلے تو مسترد کردیا گیا، لیکن 17دسمبر2008کو دوبارہ گزارش کی گئی اور اس بار اسپیشل کیس مانتے ہوئے اجازت مل گئی۔ ایسا ہی کئی دیگر فوجی افسروں، لیڈروں، ان کے رشتہ داروں، نوکرشاہوں اور دلالوں کے لئے ہوا اور پھرسوسائٹی میں گھر پانے کے لئے سب ایک ہی لائن میں کھڑے ہوگئے۔

جنرل کپور کی داغ دار تاریخ اور لکھنؤ

آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی میں اپنے لیے فلیٹ بک کرانے والے بری فوج کے سابق سربراہ جنرل دیپک کپور جب 2005میں ناردن کمانڈ میں جی او سی ان چیف تھے تو فوج کے انڈے، کپڑے اور اناج وغیرہ بیچ کر کھا گئے تھے۔ ان کے بعد جی او سی ان چیف بنے لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے کپور کے گھوٹالے کی جانچ شروع کی تو پناگ کا تبادلہ لکھنؤ کردیا گیا۔ گھوٹالہ بازوں کا یہ لکھنؤ پریم محض اتفاق نہیں ہے۔ کسی ایماندار افسر کو شنٹ کرنا ہوتا ہے تو اسے لکھنؤ بھیج دیا جاتا ہے اور کسی بے ایمان افسر کو ترقی دے کر لکھنؤ سے پرائم پوسٹنگ پر بھیج دیا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل پناگ کو فوج کا سربراہ بننے سے روک دیا گیااور دھیالن کو توصیفی سند دے دی گئی۔ جونیئر کمیشنڈ افسر کی بیٹی کی عصمت دری کرنے والے افسر میجر رینا کو نہ صرف جیل سے چھڑا کر بحال کیا جاتا ہے بلکہ ترقی دے کر اس کی پوسٹنگ باہر کردی جاتی ہے۔ فوج میں بھرتی کے لیے آئے 55بچوں کے سیور میں ڈوب کر مرنے کے باوجود میجر کو کچھ نہیں ہوتا، کیوں کہ اس کا باپ دہشت گردوں کو ہتھیار سپلائی کرنے کے معاملے میں ملزم ہے۔

کہاں لاپتہ ہوگیا شہید استھل

یہ جو آپ کالونی کی تصویر دیکھ رہے ہیں۔ یہ فوج کی زمین تھی اور اس پر شہید استھل بناتھا۔ شہید فوجیوں کی یاد میں یہاںمینار بن چکا تھا’شیلا لیکھ‘ بھی لگ گئے تھے۔ حسن کاری کا کچھ کام باقی تھا، لیکن پھر اچانک کام روک دیا گیا۔ لوگ یہاں شہیدوں کو خراج عقیدت دینے کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ پھر ایک دن اچانک شہید استھل منہدم کردیا گیا۔ شیلا لیکھ وغیرہ غائب کردئے گئے اور فوج کی زمین، کالونی کی شکل میں دکھائی دینے لگی۔ کچھ دنوں بعد گیٹ پر گومتی انکلیو کا بورڈ بھی لگ گیا۔ فلیٹس بھی بن گئے اور لوگوں کو الاٹ بھی ہوگئے، یہ آدرش گھوٹالے جیسا گھوٹالہ ہے کہ نہیں؟

بھاؤنا کے پر کترے، ڈی جی کا لکھنؤ دورہ ملتوی

آدرش گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کی اصلیت یہ ہے کہ دفاعی املاک کے محکمے کے نئے جنرل ڈائریکٹر اشوک ہرنال نے سب سے پہلے سینٹرل کمانڈہیڈ کوارٹر لکھنؤکی چھائونی کونسل کی سی ای اوبھاؤنا سنگھ کے پر کتر ڈالے۔جنرل ڈائریکٹر کی اس کارروائی سے ہی آدرش گھوٹالے کا ممبئی ٹو لکھنؤ لنک ظاہر ہو گیاہے، لیکن سی ای او اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے اختیار میں جو فرق ہے، اسے فوج کے افسر سے لیکر عام ملازمین تک جانتے ہیں۔خاص طور پر لائق توجہ بات یہ ہے کہ دفاعی املاک کے جنرل ڈائریکٹر اشوک ہرنال لکھنؤ آنے کا پروگرام بھی بنا چکے تھے، لیکن اچانک انھوں نے بھاؤنا سنگھ کوسی ای او کے عہدے سے ہٹا کرلکھنؤ دورے کا اپنا پروگرام بھی ملتوی کر دیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *