اداکار عرش پر فلمساز فرش پر

راجیش ایس کمار
امول گپتے ہدایتکاری کے مقصد سے فلم’’ تارے زمین پر‘‘ کی کہانی کو لے کر کسی فلمساز کے بجائے عامر خان جیسے اداکار کے پاس پہنچتے ہیں۔یہ کہانی عامر خان کو پسند آ جاتی ہے اور وہ اداکار کے ساتھ ساتھ بطور فلمساز اس فلم سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔پروڈکشن کے درمیان میں ہی عامر امول کو باہر کر کے خود ہدایت کار کی کیپ سنبھال کر منافع کے ساتھ ساتھ ایوارڈس سے بھی اپنی جھولی بھر لیتے ہیں۔یہ حالت ہے آج ہدایت کاروں کی۔کل تک جو اداکار رول مانگنے کے لئے ان کے آگے پیچھے گھومتے تھے، آج وہ خود کو فلمسازوں، ہدایت کاروں کا آقا سمجھ رہے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اسٹارڈم کا جو نشہ ان پر حاوی ہے، وہ ان ہی  فلمسازوں، ہدایت کاروں کی دین ہے۔
فلمساز،ہدایت کار اور اداکار یہ تینوں وہ اہم کڑیاں ہیں، جن پر ہندی سنیما کی بنیاد قائم ہے، لیکن آج یہ بنیاد کمزورہوتی جا رہی ہے۔کبھی اداکاروں کو تلاش کر کے انہیں اداکاری کے گر سکھا کر پردۂ سیمیںپر اتارنے والے فلمساز آج ان ہی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بننے کے لئے مجبور ہیں۔عامر خان، شاہ رخ خان اور اکشے کمار جیسے اداکار آج خود ہدایت کار اور کہانی منتخب کرتے ہیں۔انہیں پردے پر اتارنے والے ان کے گاڈ فادر منصور خان، راج کنور اور پرمود چکرورتی پردے کی چکاچوندھ میں کہیں کھو گئے ہیں۔ بیشتر فلم ساز اور ہدایت کار اب کسی سائڈ بزنس کے ذریعہ روزی روٹی کما رہے ہیں یا پھر مفلسی میں زندگی جی رہے ہیں۔سبھاش گھئی جیسا شو مین اب بڑے ستاروں کے ذریعہ مکتا آرٹس کو بچانے کی کوشش میں ہے۔ یو ٹی وی اور اشٹ ونائک جیسی کارپوریٹ کمپنیاں اداکاروں کو منھ مانگی رقم اور منافع میں حصہ داری دے کر پروڈکشن کے شعبہ میں ٹکی ہوئی ہیں۔
لیکن یہ حالات ایک دم نہیں بدلے ہیں۔ اس تبدیلی کو سمجھنے کے لئے اداکار، فلمساز ،ہدایتکار کے رشتوں کو شروعات سے سمجھنا ہوگا۔7جولائی 1896کو بامبے میں لیومیئربرادران جب اپنی پہلی سنے میٹو گرافی ایگزیبیشن دکھا رہے تھے (جو ہندوستان کی مبینہ طور پر پہلی فلم ہے)تب تک اداکار پیدا نہیں ہوئے تھے۔جب پرنٹنگ، پینٹنگ اور جادوگری میں ماہر دادا صاحب پھالکے نے 1913میں راجا ہریش چندر کی تخلیق کی، تب تک صرف فلمساز، ہدایت کار ہی سنیما کو قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔پروڈکشن کے دوران اداکاروں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس وقت جسم فروش اور بھانڈ تک فلم میں اداکاری کے لئے راضی نہیں تھے۔ ہندی سنیما کے پہلے فلمساز، ہدایت کار پھالکے نے اشتہار دیا کہ جو بھی شخص اداکاری کا خواہشمند ہو، وہ ان سے رابطہ کرے۔اس طرح اداکار وجود میں آئے۔1940کا واقعہ ہے جب بامبے ٹاکیز نے ڈالڈا گھی کی ایڈ فلم بنائی ، جو ممکنہ پہلی ہندوستانی ایڈ فلم تھی۔اس میں کام کرنے والی سمیت نائک نامی ایک اداکارہ کو چال کے لوگوں نے یہ کہہ کر نکلوا دیا کہ یہاں شریف لوگ رہتے ہیں۔ تب اداکاراور اداکارائوں کو جسم فروش اور بھانڈ کے برابر مانا جاتا تھا۔ ہم نے پھالکے اور ڈالڈا کا ذکر صرف یہ بتانے کے لئے کیا کہ اس وقت اداکار اور اداکارائوں کی کیا حیثیت تھی۔آج کے اداکار اسٹارڈم کے نشے میں چور ہیں، لیکن تب وہ اپنے وجود کے لئے لڑ رہے تھے۔پھالکے جیسے فلمساز، ہدایتکار نے سنیما کو سماجی اہمیت دلانے کے لئے گھر کا سامان تک فروخت کیا، اداکار وں کی تلاش کی اور انہیں اداکاری کے گر سکھائے۔تب جا کر پردے پر دکھائی دینے والا فنکار اسٹار کہلایا۔ جبکہ وہ خود پردے کے پیچھے سائلنٹ میکر کا رول ادا کرتے رہے۔
1930تک ہندی سنیما ایک چھوٹی اور کمانے والی انڈسٹری میں تبدیل ہو چکا تھا۔ پھر اسٹوڈیو سسٹم شروع ہوا۔ بامبے ٹاکیز، پربھات فلم کمپنی، واڈیا مووی ٹون اور مدراس ٹاکیز وجود میں آئے۔اداکاروں کو ان اسٹوڈیو میں ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ 1940کے آس پاس اسٹوڈیو سسٹم ٹوٹا اور اداکار اپنا محنتانہ خود طے کرنے لگے۔ اسی دوران فارمولہ فلموں اور ان میں کالے پیسے کا اندراج ہوا۔ پھردیکھتے ہی دیکھتے اداکار سائننگ امائونٹ کا مطالبہ کرنے لگے۔ 50کی دہائی میں سہراب مودی، راج کپور، گرو دت اور دیو آنند اسٹار بن کر ابھرے۔بڑھتا اسٹار پاور اور فلموں کا بڑھتا بازار دیکھتے ہوئے اداکار خود فلمساز اور ہدایت کار بننے لگے۔ راج کپور شو مین بن گئے، جبکہ دیو آنند اپنے بینر نوکیتن کے لئے آج بھی فلموں کی ہدایت کاری کر رہے ہیں۔اسی دور میں فلمساز، ہدایت کاروں کے ہاتھوں بنے سپر اسٹار انہیں کے ہاتھوں سے پھسلنے لگے۔راج کپور کی شہرت روس تک پہنچ گئی۔ سنیمائی ادارے کا ڈھانچہ ٹوٹنے لگا۔فلم سازوں، ہدایتکاروں کے دفتروں کے چکر کاٹنے والے اداکاروں کے گھروں پر فلمساز، ہدایتکار قطار لگانے لگے۔سائننگ امائونٹ کی جگہ وہ منافع میں حصہ مانگنے لگے۔آج اداکار اپنی مرضی کے مطابق فلمیں بناتا ہے اور وہ بھی ہدایت کار بن کر۔کبھی مغل اعظم کو آصف، مدر انڈیا کو محبوب خان اور پاکیزہ کو کمال امروہوی کی فلم  بتانے والے ناظرین اور میڈیا آج دبنگ کو سلمان ، تھری ایڈیٹ کو عامر خان اور سنگھ از کنگ کو اکشے کی فلم بتا رہے ہیں۔جبکہ ابھینو ، انیس اور ہرانی کے نام بعد میں آتے ہیں۔ یہ ٹرینڈ بتاتا ہے کہ بنانے والے خود ہی اپنی شناخت کو ترس رہے ہیں۔
حالانکہ 1970کی دہائی کے کچھ فلمساز، ہدایتکار اس تبدیلی سے بچے رہے۔ شبانہ ، اسمیتا اور نصیر الدین شاہ جیسے ستاروں کو تلاش کرنے والے شیام بینیگل ،گووند نہلانی، مرنال سین، کمار ساہنی اور سید مرزا جیسے فلمساز، ہدایت کار آج بھی اپنی شرطوں پر اپنے پسندیدہ اداکاروں کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں لیکن یہ فلمساز،ہدایت کار کمرشیل سنیما سے باہر رہے۔16ایم ایم کا سنیما 35اور 70ایم ایم سے گزرتا ہوا جب آئی میکس فارمیٹ تک پہنچا تو اس درمیان بہت کچھ بدل چکا تھا۔ تکنیک اورتکنیشین سے لے کر فلم تک، اقتصادی ڈھانچے اور سنیما کے تئیں سماج کا نظریہ بھی بدل گیا۔ اس بدلتے ماحول میںجو خود کو ڈھال پایا، وہی ٹکا رہا۔ اگر موجودہ حالات کے اسباب کی بات کریں تو اس کااصل سبب بازارہی رہا۔چونکہ اداکار ، فلمسازاور ہدایتکار سے پہلے بازار کی بازیگری سمجھ گئے۔ لہٰذاوہ دانشمندی اور تکنیک کی جستجو میں لگے رہے اور خود کو بڑے برانڈ کے طورپر قائم کرتے رہے۔آج اس برانڈ کا قد اتنا بڑھ گیا ہے کہ اسے بنانے والے بھی بونے ثابت ہو گئے۔ غلطی فلمسازوں ، ہدایتکاروں کی بھی ہے۔زیادہ منافع کمانے کے لئے مشہوراداکاروں پر انحصار، اسکرپٹ اور تکنیک میں دخل اندازی کے سبب ہی ایسے حالات پیدا ہوئے۔ ساتھ ہی سنیما کے کاروبار اور کارپوریٹ گھرانوں کے فلمسازی کے شعبے میں کودنے سے بھی فلمسازوں، ہدایت کاروں کی اہمیت کم ہوئی۔ علاوہ ازیں میڈیا کی امیج میکنگ پالیسی بھی اس کے لئے ذمہ دار ہے۔مجموعی طور پر جن فلمسازوں، ہدایت کاروں نے اقتصادی سرمایہ کاری کے ذریعہ فلمیں بنائیں، ستارے بنائے، وہ فرش پر ہیں اور اداکارعرش پر۔ دراصل سنیما بھی ایک صنعتی ادارہ ہے۔اداکار اس ادارے کے ڈھانچے کو توڑ مروڑ کر خود کو تراشنے والوں کو ہی گمنامی کے اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *