آدرش گھوٹالہ، 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ، سدرشن جی سب کو چھوڑئے اوبامہ کے گن گایئے

وسیم راشد
موضوعات کم تھوڑی ہیں لکھنے کے لیے۔‘‘ روزانہ گرما گرم خبریں آرہی ہیں جو چاہے لکھئے جس پر چاہے لکھئے، جو دل میں آئے لکھئے‘‘ یہ الفاظ ہیں ہمارے ایک بہت ہی قریبی دوست اور کرما فرما کے، جن سے ہم نے جب کہا کہ بھئی ہمیں اداریہ لکھنا ہے، دل میں یوں تو بہت کچھ ہے، کچھ شکایتیں، کچھ تکلیفیں، مگر سمجھ میں نہیںآتا کہ کس کا انتخاب کروں تو یہ جواب دیا تھا انہوں نے۔ حقیقتاً شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس میں 24گھنٹے میں کم سے کم 4-3ایسی چونکا دینے والی خبریں مل جاتی ہیں، جن سے نہ صرف میڈیا پوری طرح کھیلتا رہتا ہے، بلکہ روزنامہ کے مدیران کی بھی چاندی رہتی ہے۔ یہاں یہ جملہ کہنے کا مقصد تمہید باندھنا نہیں ہے، بلکہ اس درد کو محسوس کرانا ہے، جس میں سیاسی شعبدہ باز اپنی چالیں چل رہے ہیں اور غریب عوام مہنگائی اور کرپشن کے بیچ بری طرح پس رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہوتا نہیں کہ 2-3دن کے لیے ملتوی کردیا جاتا ہے۔ ابھی تو ملک دولت مشترکہ کھیلوں کی بدعنوانی سے ہی نہیں ابھرنے پایا تھا کہ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی کا کیس سامنے آگیا اور پھر سامنے آیا ہندوستان کا سب سے بڑا بدعنوانی کا کھیل، جس میں ایک لاکھ 70ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ جی ہاں  ہم-2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی بات کر رہے ہیں۔ وزیر مواصلات اے راجہ جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 2008میں -2جی اسپیکٹرم بازار نرخ سے بہت کم قیمت پر فروخت کیے اور اس طرح حکومت کو ایک لاکھ 70ہزار کروڑ کا نقصان ہوا۔ بدعنوانی تو جیسے اس ملک کا مقدر بن گئی ہے۔،کسی کام میں شفافیت نہیں، کسی کے جذبے میں سچائی نہیں ہے، بلکہ کہنا یوں چاہیے کہ جذبہ ہی نہیں تو سچائی کہاں سے آئے گی۔ ہم اسکول وکالج سے ہی پڑھتے آئے ہیں کہ غریب اور غریب اور امیر اور امیر ہوتا جارہا ہے اور ایسا لگاتار ہورہا ہے۔ اب سمجھ میں آیا کہ جس ملک کے سربراہان، جس ملک کی تقدیر بنانے والے، جس ملک کی حکومت صرف اور صرف بدعنوانی پر ہی چل رہی ہو،و ہاں یقینا امیر تو اور امیر ہوںگے ہی۔ اب یہ امیر کون ہیں؟ عام لوگ تو مہنگائی جھیل رہے ہیں اور یہ امیر بدعنوانیوں کا ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ کلماڈی جیسے لوگ، اشوک چوان جیسے لوگ، اے راجا جیسے لوگ، یہ تو بڑے بڑے بدعنوانوں کے نام ہیں، نہ جانے تالاب میں اور کتنے مگرمچھ نکلیںگے،مگر تبھی جب صحیح معنوں میں اس کی تہہ تک جایا جائے ۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں اگر مہنگائی کو لے کر بحث کی جائے اور اس پر بھلے ہی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلے تب بھی سکون رہتا ہے کہ چلو عوام کی، اس کی پریشانیوں کی کہیں تو بات ہوئی، مگر جب پورا دن ہی فضول کی بکواس بازی میں گزر جائے تو جیسا کہ سدرشن جی نے بیان دیا اور اس پر ہنگامہ مچ گیا۔ ہم نے شروع میں ہی آپ سے کہا تھا نا کہ ایشوز کی کمی تھوڑی ہے۔ یہ دیکھئے سدرشن جی کا ایشو نکل آیا۔ اب کوئی یہ بتائے کہ 85سال کا بزرگ جس کی دماغی حالت اتنی خراب ہو کہ وہ بات کرتے کرتے بھول جائے، جسے اسپتالوں کے نام تک یاد نہ ہوں، وہ سونیا جی کو اتنی بڑی اور بلاسٹ کرنے والی بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ جس شخص کو اپنے ساتھیوں کے نام یاد نہ ہوں، وہ یہ کیسے یاد رکھے گا کہ سونیا جی کی پیدائش کے وقت ان کے والد جیل میں تھے، اس لیے سونیا جی اپنی تاریخ پیدائش 1944کی بجائے 1946بتاتی ہیں۔ یہ سب کہلوائی ہوئی باتیں ہیں۔ اب ان کے منہ سے کون کہلوا رہا ہے؟ کون ان کو پوری طرح سے استعمال کر رہا ہے؟ یہ دیکھنا ضروری ہے۔ ایسے میں اٹل جی اور اڈوانی جی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ سینئر لیڈر ہونے کے ناطے ان کو اس بیان کی مذمت کرنی چاہیے، مگر ابھی تک ان کی طرف سے یا سنگھ پریوار کی جانب سے کوئی مذمتی بیان نہیں آیا ہے۔ گزشتہ دنوں اے آئی سی سی کی میٹنگ میں کانگریس نے سنگھ پریوار پر کھلا حملہ کیا تھا اور ان کو دہشت گردی کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ کہیں یہ سب اسی کا رد عمل تو نہیں ہے۔ گودھرا حادثہ کے بعد تو ہم عمل اور رد عمل کے لفظ سے ہی خائف ہونے لگے ہیں، کیوں کہ گودھرا حادثہ کو بھی Actionکا Reaction کہا گیا تھا۔ خیر یہاں بات یہ نہیں ہے کہ کیا ہوا؟ یہاں بات یہ اہم ہے کہ ہوا تو کیوں ہوا؟ ایسا لگ رہاہے کہ پورا ملک ایک گیند کی طرح صرف چند کھلاڑیوں کے پیروں میں دے دیا گیا ہے اور وہ اس گیند کو جس طرح چاہے کھیل رہے ہیں، جس طرف چاہے اچھال رہے ہیں۔ کیا ہوگا اس ملک کا؟ دم گھٹنے لگتا ہے کبھی کبھی تو سوچ کر۔ چلیے جب ہم سبھی تلخ باتیں ہی کر رہے ہیں تو اجمیر بم دھماکوں کی بھی بات ہوجائے۔ اب سنگھ پریوار اس لیے برہم ہے کہ بم دھماکوں کی تفتیش میں اندریش اور سنگھ پریوار کا نام کیوں آرہا ہے۔ موہن بھاگوت جی بھی کیوں پیچھے رہتے؟ انہوں نے بھی کھلے عام محاذ چھیڑ دیا ہے۔ ویسے بھی موہن بھاگوت کی زبان تو جب بھی کھلتی ہے تو صرف مسلمانوں کے خلاف ہی کھلتی ہے اور شعلے اگلتی ہے۔
چلیے اب اوبامہ کی بھی بات کرلیتے ہیں۔ اوبامہ ہمارے لیے کیا لائے اور ہم سے کیا لے گئے۔ براک اوبامہ ایک معمولی شکل و صورت کے بے حد پروقار، خوش اخلاق ، زبردست مقرر و خطیب ہیں۔ وہ آئے اور ایک جادو گر کی طرح سب کو مبہوت کر گئے۔ ان کی خوش لباسی، ان کا بولنے کا انداز، ان کی طلباء سے گفتگو کرتے وقت کی Body Language، ان کا ٹھہراؤ، کس کس چیز کی تعریف کی جائے، ہر ایک ان سے مرعوب تھا۔ مشیل اوبامہ نے بھی نہ صرف امریکہ کی خاتون اول ہونے کا ثبوت دیا، بلکہ وہ سبھی پر اپنی چھاپ چھوڑ گئیں۔ ہندوستان کے ڈیزائنر ز ان کے جیسی پوشاک تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ طلباء ان کی ایک ایک ادا پر فدا ہیں۔ یوں جانئے کہ دونوں ہی پوری طرح سے عوام کو اپنا دیوانہ بنا گئے، مگر ایک سوال کا جواب کوئی دے دے کہ ہمیں اوبامہ کیا دے گئے اور ہم سے کیا لے گئے۔ امریکہ یوں تو بڑا ہی خوابوں کا سا ملک لگتا ہے اور ظاہر ہے کہ پوری دنیا کی آنکھیں اس کی روشنی سے چکا چوندھ ہیں، مگرجس وقت اوبامہ صدارتی انتخاب لڑ رہے تھے، اس وقت امریکہ کی مالی حالت اچھی نہیں تھی، وہاں کے نوجوان بے روزگار تھے۔ انہوں نے جو صدارتی تقریر کی تھی، اس میں بھی یہی کہا تھا کہ صدر بننے کے بعد ان کا پہلا کام بے روزگاری کو ختم کرنا ہوگا، مگر 22مہینے گزرنے کے بعد بھی جب وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر پائے اور حال ہی میںجب امریکہ کے سنیٹ اور ھائوس آف ریپرزینٹیٹو کا انتخاب ہوااور براک اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی انتخاب ہار گئی اور سینیٹ میں ہار گئے تو انہوں نے ہندوستان اور انڈونیشیا جانے کا قصد کیا اور جب اوبامہ یہاں آئے تو ان کے ذہن میں صرف اور صرف یہی تھا کہ واپس جا کر اپنے نوجوانوں اور ملک کے لوگوں کو کیا جواب دوںگا۔ اس لیے وہ پہلے ممبئی گئے، وہاں کے بڑے بڑے صنعتکاروں سے ملے، اسی طرح وہ انڈونیشیا بھی گئے اور وہ ہندوستان سے جتنے بھی معاہدے کر کے گئے، اس میں ان کے ملک کے نوجوانوں کے لیے نوکریوں کے بہتر مواقع بھی ہیں اور نئی نئی صنعتوں کا پھیلاؤ بھی۔ لیکن ہندوستان کی بدقسمتی یہ کہ اس کے پالیسی سازوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ہمیں ، ہمارے ملک کو کیا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت اوبامہ کے جانے کے بعد پریس کانفرنس کر کے پورے ہندوستان کو یہ بتاتی کہ کیا ہوا؟ خیر یہاں صرف کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اوبامہ ہم سے بہت کچھ لے گئے ہیں، مگر فی الحال ہماری جھولی میں صرف ایک وعدہ ہے کہ ہاں ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت ملنی چاہیے اور وہ اس کے لیے کوشش کریںگے اور کچھ نہیں ہے۔
اپنا یہ مضمون لکھتے لکھتے نہ جانے کیسے مجھے ’ونود دوا‘ کا ونود دوا لائیو پروگرام یاد آگیا، جس میں وہ پورے پروگرام میں بہت ہی تلخ اور حساس موضوعات پر بات کرتے ہیں، لیکن اخیر میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے ایک پرانا گانا سنوا کر ہلکا پھلکا کردیتے ہیں۔ میری بھی خواہش ہوئی کہ چلتے چلتے ذرا ہلکی پھلکی بات بھی ہوجائے جی ہاں ’بگ باس‘ کی میں بات کرنا چاہتی تھی، اس پروگرام نے اقدار و تہذیب و تمدن کو جس طرح پامال کیا ہے، وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ اس وقت دو لڑکیوں سارہ اور وینا ملک نے پورے ہندوستان کو ہلا رکھا ہوا ہے۔ سارہ علی کے ساتھ گھر میں نکاح کر رہی ہیں، جو ’سارہ‘ کے والد کے مطابق دوسرا نکاح ہے اور بگ باس نے نہ صرف ان کی پوری شادی کا انتظام کیا، بلکہ عجلۂ عروسی تک سجادیا اور ان دونوں کو وہاں بھیج دیا۔ بڑا رحم کیا بگ باس نے کہ ہم کوعجلۂ عروس کے سین نہیں دکھائے۔ دوسرا تہلکہ ’وینا‘ ملک نے مچا رکھا ہے، جو کبھی ’اشمت‘ پر فدا ہوتی ہیں تو کبھی ’ایشانت‘ پر۔ کبھی کھلم کھلا بوسہ و کنار کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی ایک ہی رضائی میں سوجاتی ہیں۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ پروگرام کون سی سوسائٹی کے لیے بنایا گیا ہے۔ سب سے زیادہ گھٹیا پن وینا ملک کر رہی ہے۔ اس پروگرام میں آنچل نام کی لڑکی ہے۔ شویتا تیواری ہے، مگر نہ جانے وینا ملک کو بگ باس نے کتنا پیسہ دیا ہے کہ وہ تو کھلے عام کپڑے اتارنے پر آمادہ ہوگئی ہے۔ اگر پیسوں کے لیے اور سستی شہرت کے لیے کوئی اتنا کرسکتا ہے تو پھر تو وینا ملک کو سلام ہے۔
نیٹ پر وینا ملک کے لیے بے شمار میل میں نے دیکھے، جس میں کم سے کم 100سے 200میل میں نے پڑھے بھی، جن میں اس کو نہایت گندی گندی گالیاں دی گئی ہیں اور ا س کو بے حد گھٹیا قسم کے خطابات جیسے پاکستانی کال گرل، جھوٹی، مکار، ڈراما باز تک کہا گیا ہے اور تقریباً 50لوگوں نے لکھا ہے کہ اس کی ویزا کینسل کردینی چاہیے۔ امبیکاسونی جی کیا آپ ٹی وی دیکھتی ہیں؟ کیا آپ اس طرح کے فحش پروگراموں پر کوئی روک نہیں لگا سکتیں؟ ہم یوروپ میں نہیں بیٹھے ہیں، ہم ہندوستان میں ہیں، جہاں کی روایات اور اقدار کی دنیا تعریف کرتی ہے۔آپ بھی اس کی پروردہ ہیں، اگر آپ یہ سب دیکھ کر بھی ضبط کر رہی ہیں تو آپ کو بھی سلام ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *