لندن نامہ

حیدر طبا طبائی ،لندن یو کے
دہشت گردی حکومتوں کے غلط فیصلوں سے ہونے والی عوامی کشمکش، معرکہ آرائی اور خانہ جنگی کی سب سے بدترین شاخ ہے۔
ڈیوڈ ہیڈلی جو لشکر طیبہ جیسی فاسد اور انسانیت کش جماعت کا ممبر ہے۔ جو ممبئی میں خون ناحق بہانے کا ذمہ دار ہے۔ اس کی اہلیہ نے خفیہ طور پر خاوند کی سرگرمیوں کا ویڈیو کیسٹ تیار کر رکھا تھاجو اب ایف بی آئی کے سپرد کر دیا گیاہے۔خود ہیڈلی پس دیوار زندان ہے۔ اس کی بیوی گزشتہ تین سال سے شوہر کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فلم بنا رہی تھی۔ڈیوڈ ہیڈلی نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ ممبئی حملوں سے قبل لشکر طیبہ نے اس کو پاکستان میں اپنے فوجیوں کے ذریعہ ٹریننگ دی تھی۔ ہیڈلی کی بیوی نے گھر میں چھپے ہوئے اسلامی نظریات کے حامل لٹریچر بھی تلاش کر کے پولس کو دئے ہیں۔
فرانس لندن سے صرف دو گھنٹے کے راستے پر واقع ہے۔ وہاں کے حالات کا اثر انگلستان کی سیاست پر بھی خوب پڑتا ہے۔گزشتہ روز فرانس کی عدالت نے اس عیسائی فرانسیسی خاتون کو تین سال جیل کی سزا سنائی جس نے کچھ وقت پہلے ایک الجیریا نژاد مسلم خاتون کا برقع سر سے کھینچ کر اتارا تھا اور فرانسیسی خاتون 63سال کی ہے جبکہ مسلم برقع پوش لڑکی 26سال کی ہے۔ ایک شاپنگ سینٹر میں جب یہ دونوں روبرو ہوئے تو فرانسیسی خاتون نے اسلام کے خلاف نعرہ بلند کیا اور برقع کھینچ کر کہا کہ اب میں تمہارا چہرہ دیکھ سکوں گی۔ فوراً پولس آ گئی۔ فرانسیسی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔ پھر مقدمہ چلا اور آخر کار فرانسیسی خاتون کو تین سال جیل کی سزا ہوئی۔
گزشتہ روز سوئٹرزلینڈ  میں 14برس کی کھدائی کے بعد دنیا کی سب سے بڑی سرنگ جس کی لمبائی 57کلو میٹر ہے، مکمل ہو گئی ہے۔ اب اس سرنگ سے ہر روز تین سو ٹرینیں گزریں گی۔ جن کی رفتار ڈھائی سو کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ اس سے کاروبار اور یوروپ میں سفر بہت آسان ہو جائے گا۔
بریڈ فورڈ میں ایک 23سالہ پاکستانی لڑکی جو حاملہ بھی تھی، آگ میں جھلس کر راکھ ہو گئی۔ ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق آسیہ اسی سال ایک پاکستانی سے شادی کر کے بریڈ فورڈ آئی تھی۔وہ انگریزی نہیں بول سکتی تھی وہ گھر میں تنہا تھی کہ اچانک آگ لگ گئی۔ اب پولس تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ حادثہ تھا یا آسیہ کے شوہر نے جان بوجھ کر بیوی کو مارا ہے۔
ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکڑوں غیر ملکی ڈاکٹروں کا انگریزی بولنے پڑھنے یا سمجھنے کا امتحان لئے بغیر وزارت صحت ان کو بھرتی کر لیتی ہے۔ اس وقت سو پرائمری کیئر اسپتالوں میں سیکڑوں غیر ملکی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں، جن کو انگریزی نہیں آتی۔ اس کی وجہ سے ایک جرمن ڈاکٹر کے ہاتھوں ایک مریض کی موت واقع ہو گئی۔ یہ سب اسی وجہ سے ہوا کہ ڈاکٹروں کو ہندوستان سے نہ بلایا جائے بلکہ یوروپی یونین کے ممبر ممالک سے ہی ان کی بھرتی عمل میں آئے اور اب حال یہ ہے کہ جہاں کسی جرمن ، فرینچ یا مشرقی یوروپ کے ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی تو مریض بھاگ جاتے ہیں۔
ایک عدالتی فیصلے سے برطانوی فوج میں ملازم نیپال کے گورکھے فوجی مقدمہ ہار گئے کیونکہ ریٹائر ہونے کے بعد ان گورکھوں کو اتنی پنشن نہیں ملتی ہے، جتنی انگریز فوجیوں کو ملتی ہے۔ اس بنا پر گورکھے عدالت پہنچے لیکن عدالت نے گورکھوں کے خلاف فیصلہ دیا ہے کیونکہ وہ ریٹائرہو کر نیپال واپس ہو جاتے ہیںاورجہاں کی کرنسی میں یہ پنشن بہت ہوتی ہے۔ گورکھے جو ہانگ کانگ ، فاک لینڈ اور برطانیہ بھر میں موجود ہیں۔ ان کی ایک ویلفیئر سوسائٹی بھی ہے، جس کے چیئر مین میجر ریٹائر راول دیوان نے کہا ہے کہ اب ہم اپنا مقدمہ یوروپی یونین کی عدالت میں لے جائیں گے۔
سن 2012میں ہونے والے برطانوی اولمپک کی تیاریوں کے لئے ملازمین کی تعداد دس ہزار چالیس ہو گئی ہے۔ ان ملازمین میں54فیصد کا تعلق لندن سے ہے۔ باقی ملک کے دوسرے شہروں سے ہیں۔
دو روز قبل لندن پولس نے بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث 17افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور 13سے 17برس تک کی 28لڑکیاں و لڑکے برآمد کر لئے ہیں۔ ملزمان ان بچوں سے بھیک، چوریاں یا جنسی جرائم جیسے کام کراتے تھے۔ایک دوسرا چھاپہ مشرقی لندن کے علاقے ایلفورڈ میں مارا گیا وہاں سے 52بالغ لڑکے و لڑکیاں برآمد ہوئیں جبکہ 103بچوں کو بھی برآمد کیا ہے۔ سات ملزمان پر مقدمہ چل رہا ہے جن کو فوراً جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ لوگ ایک کنواری برطانوی لڑکی پانچ ہزار پائونڈ میں فروخت کرتے تھے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں وزارت تعلیم کے جونیئر وزیر نے بتایا کہ برطانیہ بھر میں تارکین وطن کے بچوں کی تعلیم پر روزانہ 13ملین پائونڈ خرچ ہوتے ہیں۔ ساڑھے پانچ لاکھ امیگرینٹ بچوں کو تعلیم دلانے پر آئندہ پانچ سال میں40ارب پائونڈ کا خرچہ ہوگا۔ غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے والے ایک لاکھ 35ہزار تارکین وطن کو برطانیہ میں مستقل قیام کی اجازت دے دی گئی ۔ گزشتہ روز برطانوی سماجی کارکن لینڈ انار کر کو افغان طالبان نے اغوا کر کے ہلاک کر دیا ۔ یہ جوان لڑکی یہ سن کر کہ افغانستان میں بچے و خواتین بھوک سے مر رہے ہیں، اپنے کاندھے پر روٹیاں و پنیر لاد کر گھر گھر بانٹ رہی تھی اور ظالم طالبان نے اس کو بھی نہ چھوڑا۔ لینڈا کی المناک موت سے برطانیہ بھر میں خاص کر اسکاٹ لینڈ میں کہرام مچ گیا۔ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم کئی بار اپنے کو لامذہب اعلان کر چکے ہیں۔ وہ خدا کے وجود پر بھی بھروسہ نہیں کرتے۔انہیں اس وقت ذلت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے دو بیٹوں کو کیتھولک اسکول میں داخل کرنے پہنچے جبکہ وہ مذہبی اسکولوں کے سخت مخالف تھے۔ پرنسپل نے ان کو بٹھا کر ویڈیو کی وہ فلم دکھائی جس میں مذہبی اسکولوں کو بند کرنے کی وہ پرزور تقریر کر رہے تھے۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *