یہ ہیں نول گڑھ کے گائڈ

ششی شیکھر
مرارکا حویلی میں ببلو شرما فراٹے دار فرینچ اور انگریزی میں سیاحوں کو حویلی کی تاریخ سے واقف کرا رہا ہے، لیکن یہ معلوم ہونے پر تعجب ہوا کہ ببلو پڑھا لکھا نہیں ہے، غریبی کی وجہ سے اسکول نہیں جاسکا تھا۔ شروع سے ہی دوستوں کے ساتھ نول گڑھ آنے والے غیرملکی سیاحوں کے ساتھ گھومتا رہتاتھا۔ انہیں سے تھوڑی بہت فرینچ سیکھنے لگا۔ اپنے دوست محمد یونس سے انگریزی سیکھی۔ سالوں تک گھومتے سیکھتے آج ببلو نول گڑھ کا ایک جانا مانا ٹورسٹ گائڈ بن چکا ہے۔ فرینچ اور انگریزی زبان پر اس کی ایک جیسی گرفت ہے۔ ببلو کی ہی طرح شیر محمد کو بھی دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ پانچویں درجہ تک پڑھا شیر محمد اتنی اچھی انگریزی بول سکتا ہے۔ پانچویں تک ہی پڑھا جاوید بھی فرینچ بولتاہے۔
دراصل اپنی خوبصورت حویلیوں کے لیے مشہور نول گڑھ راجستھان کا ایک اہم سیاحتی مقام بن چکا ہے۔ یہاں ہر سال تقریباً 30ہزار ملکی- غیرملکی سیاح آتے ہیں۔ ظاہر ہے اتنے سیاحوں کے لیے گائڈ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، چونکہ گائڈ ہی ان ملکی- غیرملکی سیاحوں کے لیے آنکھ اور کان کا کام کرتے ہیں۔ ان کے ذریعہ دی گئی اطلاع سے ہی سیاح نول گڑھ کی وراثت کو جانتے اور سمجھتے ہیں۔ ببلو، جاوید، شیر محمد جیسے مقامی نوجوان گائڈ کے طور پر کام تو کر رہے ہیں، لیکن ایک پروفیشنل گائڈ کے لیے اور جو ڈھیر ساری اہلیتیں چاہئیں،ان میں اس کی کمی تھی۔ کم پڑھے لکھے ان نوجوانوں کے لیے کوئی سرکاری تربیت کی سہولت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کے پاس اپنے وسائل تھے تاکہ وہ خود کو مزید بہتر گائڈ کے طور پر پیش کر سکیں۔ اس کمی کو پورا کرنے اور پروفیشنل گائڈ تیار کرنے کے لیے مرارکا فاؤنڈیشن نے ان نوجوانوں کے لیے 10روزہ تربیتی کورس کی شروعات کی۔
فاؤنڈیشن نے مقامی میونسپل بورڈ کی مدد سے ان غیرتربیت یافتہ گائڈ کو مناسب تربیت دینا شروع کیا۔ تربیت کے دوران ان نوجوانوں کو مقامی ہیری ٹیج، ہوٹلس، اسمارک، سیاحت اور ٹریول سے جڑے ماہرین کی مدد سے تربیت دی گئی۔ اس تربیتی کیمپ میں نول گڑھ کے تقریباً تمام تربیت یافتہ اور غیرتربیت یافتہ گائڈ شامل ہوئے۔ اس تربیت کا فائدہ یہ ہوا کہ ان نوجوانوں کو نول گڑھ کی سیاحت کی صحیح صحیح معلومات کے ساتھ ساتھ سیاحت کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے  کا موقع ملا۔ عابد نام کا ایک گائڈ کہتا ہے کہ اس تربیت سے نہ صرف اس کا حوصلہ بڑھا ہے، بلکہ اب وہ زیادہ تر سیاحت سے جڑے مسائل پر سیاحوں کو معلومات فراہم کرنے میں خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے۔ ایک اور گائڈ منوج شرما بتاتا ہے کہ ہیری ٹیج کی معلومات تو مرارکا فاؤنڈیشن پہلے بھی ہیری ٹیج تحفظ کیمپ کے ذریعہ سے دیتا رہا ہے، لیکن سیاحوں کو یہ معلومات کس طرح پوری تہذیب اور ثقافت کے ساتھ دی جائے، اس کا پتہ اس گائڈ تربیتی کیمپ کے ذریعہ سے ہی چلا۔
تربیت کے آخر میں ان نوجوانوں کو فاؤنڈیشن اور میونسپل بورڈ کی جانب سے ایک سر ٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔ چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے یہ نوجوان کہتا ہے کہ اسے سب سے زیادہ اس بات کی خوشی ہے کہ اس تربیت کے بعد ان کے سر سے غیرتربیت یافتہ کا لیبل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہٹ گیا ہے اور اب وہ زیادہ فخر اور اعتماد کے ساتھ سیاحوں کو نول گڑھ کی وراثت سے واقف کراسکے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *