ردی والا

ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب
میں دوپہر میں قیلولہ کا پا بند ہوں،رسول اللہ کی اس سنت پر بلا ناغہ عمل کرتا آرہاہوں،دوران قیلولہ روزانہ ایک آواز میری سماعت سے ٹکراتی ۔دھیرے دھیرے مجھے اس آوازسے اس قدر ما نوسیت ہو گئی کہ میرے دل میں اس شخص سے ملنے کی خواہش بیدار ہوگئی ۔ میں روزانہ ان سے ملنے کا ارادہ کر تالیکن اپنی تساہلی کے سبب نہیں مل پا تا۔ کبھی کبھی یہ آوازمتعدد بار سنائی دیتی ،نہ جا نے کیوں مجھے اس شخص سے اتنی ہمدردی ہو گئی تھی جب تک اس آواز کو سن نہ لیتا دل میں عجیب طرح کی بے چینی رہتی اور پھر ایک دن مصمم ارادہ کرکے میں نے ان سے ملاقات کر ہی لی۔ردی پیپر کی بسا اوقات بڑی اہمیت ہوتی ہے خاص طور پر مہینہ کے آخر میں جب جیب بالکل جواب دے دے۔میرے پاس چند ایسے اخبارات تھے جسکی مدد سے میں وقتاً فوقتاًمضامین تحریر کیاکرتاتھا۔ مجھے اس کی لت کیسے لگی یہ ٹھیک سے یاد نہیں ہے البتہ دس پندرہ سالوں سے یہ سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا ہے۔
پیپر،ہاں!ردی بیچو کی صدا جیسے ہی میرے گوش کے لطیف ونازک پردے سے ٹکرائی میں فوراً اپنے کمرہ سے باہر آگیا۔
السلام علیکم …یہ بابا کا مخصوص انداز تھا ۔ ہوسٹل کا چکر لگاتے ہوئے انہیں جو بھی لان میں نظر آتا اس کو پرزور طریقے سے سلام کرتے ، حسب عادت انہوں نے مجھے بھی تپاک سے سلام کیا اور خیریت دریافت کی ۔پھر اپنے نحیف کاندھے پررکھی ہوئی گٹھری کو نیچے اتارا اور اس سے ترازو نکالنے لگے اس دوران میں ان کے خدوخال کابغور مطالعہ کرنے لگا۔
لمبا چہرہ جس پر بڑھاپے کی ان گنت جھریاں ، سرمئی چمکدار آنکھیں ، گھنی داڑھی، کشادہ پیشانی جس پر سجدہ کے نشان ،سر پر دوپلی ٹوپی اور ہاتھ میں ایک عصا جس کے سہارے وہ اپنی طویل مسافت طے کرتے تھے۔
میرے اس طرح دیکھنے پر بابا جھلا گئے ۔کہنے لگے بیٹا تم اس طرح مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ میںدوسرے ر دّی والوں کی طرح ناپ تول میں کمی بیشی نہیں کرتا ،تم چاہو تو کسی اور کو اپنی ردّی بیچ لینا مگر اس طرح مشکوک نظر سے مت دیکھو ایمان ہی ایک ایسی چیز ہے پوری زندگی جس کو  میں نے بچا کر رکھا ہے،بارہا ایسے مواقع آئے جب میرے دل میں فاسد خیالات پیدا ہوئے مگر خداگواہ ہے کہ کبھی میں نے اپنے ضمیر اور ایمان کا سودا نہیں کیااپنی پوری زیست اسی ایمانی قوت کے سہارے بسر کرلی اور اب تو نہ جانے کب بلاوا آجائے ،آگے تمہاری مرضی …یہ کہتے ہوئے بابا کی سانس پھولنے لگی وہ ناراض ہو کر اٹھنے لگے ،شاید ان کو میرا اس طرح سے دیکھنا ناگوارلگا۔ارے بابا آپ تو برا مان گئے، آپ جیسا سوچ رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے آپ سے پوری ہمدردی ہے اور آپ کے متعلق میرے خیالات بھی ٹھیک ہیں آپ کا یہی نورانی اور معصوم چہرہ تو مجھے …ورنہ مجھے آپ پر ردّی کا یہ بوجھ ڈالنے کا کوئی شوق نہیں تھا آپ وزن کریں مجھے آپ پر مکمل اعتماد ہے۔ وزن کرنے کے بعد بابا نے بیس روپے دیے او رمیرا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
مجھے آپ نے ردی کے پیسے دیے ہیں بابا… پھر شکریہ کس بات کا؟ اس رازکو تم نہیں سمجھ سکتے کہ تم نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے،مجھے متفکر دیکھ کر بابا نے کہا اس بات کو چھوڑو تم خیریت سے توہونا؟ اگر تمہیں برا نہ لگے تو ایک بات پوچھوں؟ ہاں بالکل پوچھیے مجھے خوشی ہوگی ۔میرے اس انداز پر بابا کا حوصلہ بڑھا میں نے دیکھا اس وقت ان کے چہرہ کی شگفتگی دو چند ہوگئی۔ نماز تو تم پڑھتے ہو؟ پھر خود ہی کہنے لگے مجھے لگتا ہے تم نماز ضرور پڑھتے ہوگے …آپ کا اندازہ ٹھیک ہے بابا، مگر پابندی نہیں ہوپاتی ۔کوئی بات نہیں ہے اس عمر میں عموماً ایسا ہوتا ہے مگر نماز کے لیے کوتاہی نہیں کرنی چاہئے ۔اس کے ساتھ ہی بڑے بزرگ کا احترام بھی ضروری ہے۔ بالکل ضروری ہے بابا مجھے لگا بابا کو کوئی شکوہ ہے ۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بابا مسکرا کر کہنے لگے ،اب دیکھو نا بسا اوقات لڑکے مجھے بلاوجہ ہی کمرہ میں بلا لیتے ہیں اور جب میں ان کے کمرہ میں داخل ہوتا ہوں تو وہ جھٹ سے چادر میں اپنا منہ چھپا لیتے ہیں ، ہنس کر میرا مذاق اڑاتے ہیں،مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں ،وہ ہمارے بچے ہیں ، نوجوان ہیں۔ یہ کہتے ہوئے بابا نے اپنی ردّی اٹھائی سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔
بابا نے پہلے دعوتی فریضہ انجام دیا پھر دبے انداز میں نئی نسلوں سے سرزد ہورہی اخلاقی بے راہ روی کی طرف توجہ دلائی او رمختصر سے وقت میں بہت کچھ کہہ کر چلے گئے مگر میں الجھ گیا،مجھے جہاں بابا کا یہ انداز بہت پسند آیا وہیں بابا کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ان سے ردّی فروخت کر کے میں نے ان پرکون سا احسان عظیم کردیا؟ دیر سے دور تک سوچنے کی حالانکہ میری پرانی عادت ہے باوجود اس کے بابا کی بات کو سمجھنے سے میں قاصر رہا ۔
آدمی اور آدمی میں پھر نہ ہوتیں دوریاں
کاش ہم اس دور کے انساں کو انساں دیکھتے
یونیورسٹی کے پانچ چھ سالہ سفر میں جن افراد واشخاص سے میں کسی حد تک متاثر ہوا ان میں ردّی والے بابا کے ساتھ میری ایک کلاس فیلو بھی شامل ہے ۔  دقیانوسی خیالات کی وجہ سے مجھے ہمیشہ صنف نازک سے وحشت رہی ہے… وجود زن سے کائنات میں رنگ تو ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ سماج میں چاروں طرف پھیلی بے ہنگی وبے حیائی کی اسّی فیصد ذمہ دار بھی خدا کی یہی حسین مخلوق ہے، زن اور زر… اس کے باوجود اپنے کلاس میٹ کے دعوتی، اصلاحی جذبے اور دینی مزاج میں جو خلوص ہے وہ کسی بھی بندہ کو اپنا گرویدہ بنانے کے لیے کافی ہے ۔ اس کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ اصلاح وتعمیر کا سب سے بڑا علم بردار صرف مذہب اسلام ہے اور حقیقی اصلاح وتعمیر اسلام ہی کے دامن میں ہے ۔عام طور پر کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیوں میں اس طرح کے دینی امتزاج کا مزاج نہیں ہوتا مگر اسے میں نے دعوت واصلاح کے لیے ہمیشہ مساعی وکوشاں دیکھا ، اس لیے میرے دل میں اس کے لیے کبھی کوئی بدگمانی پیدا نہیں ہوئی، کل کیاہونے والا ہے کسے خبر۔
مجھے بابا کا شدت سے انتظار تھا چونکہ اس مختصر سی ملاقات میں ہی میرے دل پر ان کے گہرے نقوش ثبت ہوئے تھے اس لیے ان کی عظمت میرے دل میں مزید بڑھ گئی تھی ۔ میں انہی کے متعلق سوچ میںغرق تھا کہ اچانک میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کہیں بابا کو خود اپنوں نے تو ردّی سمجھ کر باہر نہیں کر دیا؟ یہ سچ ہے کہ بڑے بزرگ جو کبھی گھر اور دالان کی شان ہوا کرتے تھے اب انہیں ردّی اور کوڑا سمجھ کر گھر سے باہر کسی کونے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ نہ کوئی پیار سے ان کی طرف دیکھتا ہے اور نہ کوئی اپنا سمجھتا ہے ،خود ان کا مستقبل بھی ان کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہی اس روشن خیال سماج کی شان ہے۔ ایک طرف جہاں انسانوں کے حقوق کا راگ الاپا جارہا ہے وہیں دوسری طرف بوڑھوں کے لیے آوارہ اور لاوارث مویشیوں کے طرز کا’ اولڈ ہاؤس’ اور رین بسیرا تعمیر کیا جارہا ہے یعنی اب انسانوں کی کوئی وقعت واہمیت نہیں رہی۔
کیا بحیثیت انسان وہ لائق احترام نہیں ہیں؟ کیا ان کے پاس دل نہیں ہوتا ہے اور اگر ہوتا ہے تو کیا بڑے بزرگ کا دل توڑنا سنگین جرم اور گناہ نہیں ہے؟ آخر کو کوئی تو مجبوری ہوگی جو بابا اس عمر میں اتنی محنت ومشقت کررہے ہیںاس قدر دکھ اور تکالیف  برداشت کر رہے ہیں۔
سنا ہے اگر بندہ کو کسی چیز کی تلاش ہوتی ہے اور ا س کے لیے وہ واقعی مخلص ہوتا ہے تو اوپر والا کوئی نہ کوئی سبیل ضرور نکال دیتا ہے، مجھے بابا تو دوبارہ نہیں ملے مگر ایک دوسرے ردّی والے سے ان کی روداد زندگی معلوم ہو گئی جسے سن کر جسم کے سارے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میرے قلب سے بے ساختہ یہ صدا آئی خدایا رحم فرما۔
آرزو، حسرت، امید، خواب
زندگی ترکش میں کیا کیا تیر لے کر آئی ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *