پاکستانی حکمرانوں کی تنگ نظری

ایم خان
پاکستان میں سیلاب نے جو تباہ کاری مچائی ہے، وہ بلاشبہ بربادی کا ایک بڑا ہی بھیانک منظر پیش کرتی ہے۔ نہ صرف پاکستان کی تاریخ میں بلکہ قیام پاکستان سے پہلے بھی اس خطے میں قدرتی آفات کا ایسا المناک واقعہ پیش نہیں آیا تھا اس سے قبل 2005 میں زبردست زلزلہ آیا تھا اور اس میں بھی کافی جانی اور مالی نقصان ہوا تھا لیکن سیلاب نے اس سے کہیں بڑی تباہی مچائی ہے۔ جانی نقصان کا تو ابھی اندازہ بھی پورے طور پر نہیں کیا جاسکا ہے ،لیکن مالی نقصان کا اندازہ کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا کم وبیش آٹھواں حصہ کسی نہ کسی طور پر متاثر ہوا ہے۔ بہت سے بنیادی ڈھانچے پورے طور پر تباہ ہوگئے۔ کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور ایک اندازے کے مطابق ابھی تک کم از کم دس لاکھ افراد اس طور پر ناموافق حالات میں پھنسے ہوئے ہیں کہ ان تک کسی کی رسائی بھی نہیں ہوسکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے اور پوری دنیا نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے عالمی برادری سے کئی بار پرزور اپیل کی کہ وہ پاکستان کے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لئے آگے آئیں۔ اپیل کے بعد ابتدائی مرحلے میں جو عطیات اور امداد مختلف ممالک کی طرف سے وصول ہوئی یا جس کا اعلان ہوا وہ توقع سے کہیں کم تھی۔ اس لئے اقوام متحدہ اور بعض عالمی رہنمائوں کو بار بار امداد کے لئے اپیل جاری کرنی پڑی۔ ایک بات یہ بھی واضح طور پر محسوس کی گئی کہ عالمی پیمانے پر دہشت گردی سے پاکستان کا نام جڑ جانے کی وجہ سے نہ صرف انفرادی طور پر عطیہ دہندگان نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض ممالک نے بھی عدم دلچسپی کا ثبوت دیا۔ خود پاکستان کے قریبی دوست سعودی عرب نے بھی بعض وجوہات سے سست روی کا مظاہرہ کیا۔ البتہ اقوام متحدہ اور امریکہ وغیرہ کی بار بار کی اپیل کے بعد صورتحال تھوڑی بدلی حالانکہ 2005 میں جب زلزلہ آیا تھا تو مختلف ممالک کی طرف سے بھرپور امداد حاصل ہوئی تھی۔
بہرحال! عالمی برادری کافی فکرمند ہے اور چاہتی ہے کہ پاکستان کی مصیبت کی اس گھڑی میں اس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے۔ ہندوستان نے شروع ہی میں ابتدائی امداد کے طور پر 50لاکھ ڈالر دینے کی پیشکش کی لیکن پاکستان اسے قبول کرنے میں پس وپیش میںرہا۔ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جب اپنے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی سے فون پر رابطہ قائم کرکے اس المناک صورتحال پر اظہار افسوس کیا تو انہوںنے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان ہندوستانی امداد قبول کرے تو یہ ملک ممکنہ حد تک ہر طرح کا تعاون دینے کیلئے تیار ہے، لیکن کئی روز تک یہ معاملہ التوا میں پڑارہا۔ بالآخر امریکہ کے اصرار پر حکومت پاکستان نے امداد قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ دراصل پاکستان کی موجودہ حکومت یا وہاں کی سیاسی قیادت کو ہندوستان سے مدد لینے میں کوئی خاص تامل نہ تھا لیکن فوجی ٹولے کی ہندوستان دشمن سوچ سے سبھی خائف رہتے ہیں اور شاید اسی لئے پاکستان پس وپیش میں تھا۔ امید کے عین مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے جیسے ہی ہندوستانی امداد قبول کرنے کا اعلان ہوا فوجی ٹولے اور اس کے ہمنوائوں کی طرف سے تنقید کی بوچھار شروع ہوگئی۔ بالآخر وزیراعظم گیلانی کو اس بات کی وضاحت کرنا پڑی کہ امداد ٹھکرانے کا کوئی جواز نہ تھا۔ پاکستان جب ہندوستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کاخواہاں ہے تو پھر اس کی امداد قبول نہ کرکے ایک بہت بڑی سفارتی غلطی کرنے کا مرتکب ہوتا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2005میں جب زلزلہ آیا تھا تب بھی ہندوستان نے ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں زبردست تباہی آئی تھی اور ہزاروں افراد ملبوں میں پھنسے ہوئے تھے چونکہ جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ بہت قریب تھا اس لئے ہندوستان نے ہیلی کاپٹر بھیجنے کی بھی پیشکش کی تھی تاکہ مصیبت زدہ لوگوں تک رسائی ہو اور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچایا جاسکے۔ اس وقت بھی حکومت پاکستان نے ہندوستان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا، حالانکہ اس وقت دونوں ملکو ں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ چل رہاتھا اور اعتماد بحال کرنے کی کوششیں بھی ہورہی تھیں۔ جنرل پرویز مشرف خود اقتدار میں تھے اور انہی کے دورِ اقتدار میں جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن انہوں نے ہندوستان کا تعاون لینے سے انکار کردیا تھا۔ دراصل پاکستانی فوج نے ایک ایسی منفی سوچ کو پروان چڑھایا ہے جس میں ہندوستان دشمنی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو مصیبت کے لمحوں میں بھی مخاصمانہ جذبات کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ہندوستان ایک پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ایسے حالات میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ ایسے موقعوں پر تنازعات اور اختلافات کو بنیاد بناکر منفی خیالات کو فروغ نہیں دینا چاہئے۔ قدرتی آفات کسی بھی وقت کسی بھی خطے پر نازل ہوسکتی ہیں اور ہوتی بھی رہتی ہیں لہٰذا ایسے حالات میں صورتِ حال کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔
پاکستان کی حد تک ستم ظریفی یہ ہے کہ فوج نے میڈیا سے لے کر مختلف سیاسی سماجی اور کاروباری حلقوں میں اپنے بہت سے ہمنوا پیدا کرلئے ہیں جو عموماً فوج کے نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تباہ حال لوگوں پر کچھ بھی گزرتی رہے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ چنانچہ میڈیا میں فوج کا حامی حلقہ اس وقت حکومت پاکستان کو یہ کہہ کر کوس رہا ہے کہ اس نے ہندوستان کی پیشکش کو قبول کرکے ’’پاکستان کے وقار کا سودا‘‘ کیا ہے۔ ایک اخبار کی مدیرہ نے تو اپنی تحریر میں یہاں تک کہا کہ پاکستان نے جو امداد قبول کی ہے وہ ’’کشمیریوں کے خون سے آلودہ‘‘ ہے۔ ان کے مطابق ایسا کرکے حکومت پاکستان نے کشمیریوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ حالانکہ پاکستان کے متعدد صحافیوں نے حکومت کی اس بات کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ہندوستان کی پیشکش کو فوراً قبول کرلینا چاہئے تھا۔ ان صحافیوں کے مطابق پاکستان عالمی برادری سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر اس ملک کو اس برادری میں رہنا ہے تو اسے روایتی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس مثبت سوچ کے خریدار پاکستان میں کم ہی ملتے ہیں۔ فوج کے پیدا کردہ خیالات نے اتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلا رکھی ہیں کہ منتخب حکومتیں اور سیاست داں بھی عموماً ڈرے اور سہمے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر ایسا ماحول نہ ہوتا تو پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو ہندوستانی امداد قبول کرنے کے بعد وضاحتی بیان نہ جاری کرنا پڑتا۔
پاکستان میں فروغ پانے والی اس منفی سوچ پر عالمی برادری کو بھی حیرت ہے۔ اپنے ایک بیان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے خارکوس پرائر نے کہا ہے کہ ایسے کم از کم چالیس اضافی ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے جو بھاری سامان اٹھا سکیں، کیونکہ ان کی مدد کے بغیر پریشان حال لوگوں تک خوراک پہنچانا مشکل ہورہا ہے۔ دراصل انہوں نے یہ بیان اس پس منظر میں دیا ہے کہ کم از کم آٹھ لاکھ افراد ایسی حالت میں ہیں جنہیں ہیلی کاپٹر کے بغیر نہ تو کوئی مدد پہنچائی جاسکتی ہے اور نہ ہی انہیں محفوظ مقامات تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس صورت میں ہندوستان کے فوجی ہیلی کاپٹر بے حد کارآمد ثابت ہوسکتے تھے، لیکن پاکستان کو اس میں پس وپیش ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع نے اس بات پر سخت افسوس ظاہر کیا ہے کہ ایسے المناک موقع پر پاکستان منفی رویوں کامظاہرہ کررہا ہے۔ عالمی برادری نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ پاکستان کا اگر یہی رویہ رہا کہ اپنے کسی پڑوسی ملک کے تئیں مصیبت کی اس گھڑی میں بھی نفرت ہی کا پرچار کرے تو پھر عالمی برادری کہاں تک اس کی مدد کرسکے گی؟ پاکستان کو ہندوستان دشمنی کچھ اتنی عزیز ہے کہ وہ نہ صرف لاکھوں پاکستانیوں کو یونہی بے یارومددگار مرتا ہوا دیکھ سکتا ہے بلکہ پوری دنیا کی ناراضگی بھی مول لے سکتا ہے، لیکن اپنا رویہ ترک نہیں کرسکتا۔ البتہ دہشت گرد تنظیموں کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ فلاح انسانیت کے نام پر اپنے خفیہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *