مسلمانوں کا مین اسٹریم میں نہ آنا سوچی سمجھی سازش

زاہد خان
ہمارے ملک میں آزادی کے بعد سے ہی منصوبہ بند طریقہ سے یہ افواہ پھیلا دی گئی ہے کہ مسلمان مین اسٹریم  میں نہیں آنا چاہتے اور اسی وجہ سے وہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ کہنے کو تومسلمان ہر معاملہ میں پسماندہ ہیں، لیکن ان پر ہی یہ الزام  ہے کہ برسوں سے سیاسی پارٹیاں ان کو خوش کر رہی ہیں گویا مسلمانوں کی شرط پر ہی پورا ملک پسماندہ ہوگیا ہے۔ خیر، مان لیا جائے کہ مختلف حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو خوش کرتی رہیں، لیکن اس کے فائدے مسلم سماج میں کہیں دکھائی کیوں نہیں دیتے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔کسی بھی سیاسی جماعت نے جب مسلمانوں کی ترقی کا دعویٰ کیا تو، مسلم معاشرہ ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ گیا۔ بزرگ شاہ بانو کا معاملہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ مسلمان مین اسٹریم میں کیوں نہیں آ سکے اور اس کی کیا وجوہات رہیں، آیئے سلسلہ وار اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
آج اگر ہندوستانی مسلمان ملک کی مین اسٹریم میں کہیں نظر نہیںآتا، تو اس کے پس پشت باقاعدہ سوچی سمجھی سازش رہی ہے۔ حکومت کے اندر اورباہر بیٹھی رجعت پسند طاقتیں برسوں سے مسلمانوں کے ارد گرد سازشوں کے تار بنتی آئی ہیں، جن کی گرفت سے وہ چاہ کر بھی باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ آزادی کے بعد مسلمانوں پر سب سے بڑی بجلی ایواکیو پراپرٹی لاء کی شکل میں گری۔ اس قانون کے تحت مسلمانوں کی صنعت، کاروبار، دکان، مکان، زمین جائداد اور اثاثہ کو اس بنیاد پر ہتھیالیا گیا کہ ان کے اہل خانہ تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے تھے۔ ظاہر ہے، اس من مانے قانون نے ان کی اقتصادی اور سماجی حالت مزید بدتر کر دی۔ وہ راتوں رات اپنے آبا ؤ اجداد کی زمین جائداد سے بے دخل ہو گئے۔ اپنی جڑوں سے کٹ چکے مسلمانوں کی ہمت اتنی پست ہو چکی تھی کہ وہ مخالفت کرنے یا خود کو منظم کرنے کے لائق بھی نہیں رہے ۔لہٰذا ہندوستان میں انہیں جو تھوڑا بہت ملا اسے ہی اپنی قسمت سمجھ کر خاموش بیٹھ گئے۔ اپنی زمین جائداد سے تو وہ بے دخل ہوئے ہی، سرکاری ملازمتوں سے بھی انہیں ہاتھ دھونا پڑا۔ پنڈٹ جواہر لعل نہرو کی حکومت میں وزیر صنعت رہے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھر جی( جو بعد میں جن سنگھ کے بانی بنے) نے اپنے محکمہ میں باقاعدہ ایک خفیہ سرکلرکے ذریعہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں لینے سے روکا۔ مسلمانوں کے تئیں کم و بیش کچھ ایسا ہی رویہ اس وقت کے وزیر داخلہ گووند بلبھ پنت کا رہا ۔ انھوں نے اپنے ایک سرکاری حکم میں کہا تھا کہ پولس اور فوج میں مسلمانوں کی بھرتی نہ کی جائے یا کم سے کم کی جائے۔ پنت کا یہ سرکاری حکم جانے انجانے آج تک برقرار ہے۔ فوج کے محکمے میں آج بھی ایسی ذہنیت کے لوگ کام کر رہے ہیں، جو فوج میں مسلمانوں کی بھرتی کے خلاف ہیں۔ موجودہ وقت میں دس لاکھ ہندوستانی فوجی ہیں، جن میں مسلمانوں کی تعداد محض29ہزارہے۔ یہ فوج میں تعصب کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
ظاہر ہے، آزادی ملنے کے شروعاتی 25-30سالوں میں بمشکل انہیں سرکاری نوکریوں میں جگہ ملی۔ مسلمانوں پراعتماد نہ ہونا اور انہیں شک کے گھیرے میں رکھا جانا ایک بڑی وجہ رہی، جس کے سبب وہ شروع سے ہی ترقی کی دوڑ میں پچھڑتے چلے گئے۔ بہرحال جیسے تیسے اعتمادبحال ہوا، مسلمانوں نے مین اسٹریم میں آنے کی کوشش کی، مگر ملک میں ہونے والے ہر فرقہ وارانہ فساد نے انہیں پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔ فسادات کی آنچ سے مسلمانوں کے روزگار سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ فسادات کی زیادہ تر وجوہات مذہبی بتائی جاتی ہیں، جبکہ ان کے پیچھے اقتصادی وجوہات زیادہ کار فرما رہیں۔ مثال کے طور پر ممبئی،سورت، احمد آباد، میرٹھ ، علی گڑھ، مالیگائوں، اورنگ آباد، مرادآباد ،بھیونڈی ،بھاگلپور اور کانپور جیسے شہروں میں جہاں مسلمان اقتصادی طور پر زیادہ مضبوط تھے، وہیں سب سے زیادہ فسادات ہوئے۔ ان فسادات نے مسلمانوں کی اقتصادی کمر توڑ کر رکھ دی۔ آج سے 60سال قبل آئین سازوںنے بھلے ہی کسی کے ساتھ مذہب ،برادری، فرقہ اور نسل کی بنیاد پر کوئی تعصب نہ برتنے کا اعلان کیا ہو، مگر آج حقیقت اس کے برعکس ہے۔خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ یہ تعصب ہر معاملہ میں دکھائی دیتا ہے۔ مسلم فرقہ تعلیم، صحت، اقتصادی تحفظ اور عام شعبہ میں اکثریتی سماج سے کافی پیچھے ہے۔ حالانکہ، آئین کے تحت مساوات کاحق اسے بھی حاصل ہے۔
نیشنل کائونسل آف امپلائڈ اکنامک ریسرچ اور امریکہ کی میری لینڈ یونیورسٹی کے ذریعہ کرایا گیا انڈین ہیومن ڈیولپمنٹ کاسروے ملک میں مسلمانوں کے بدترین حالات کو بیان کرتا ہے۔سروے کے مطابق ملک میں ہر 10میں سے تین مسلم خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی 550 روپے سے بھی کم ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ31فیصدی مسلم خط افلاس کے نیچے ہیں۔ اس کے باوجود ملک کے حکمرانوں کو کہیں بھی تعصب نظر نہیں آتا۔ 1980میں گوپال سنگھ کمیٹی اور بعد میں سچر کمٹی، رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹوں میں مسلمانوں کی تصویر بہت حد تک نظر آئی ہے۔ مسلمانوں کی مجموعی ترقی کے لئے سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حکومت سے کئی سفارشیں کی تھیں۔ ان میں سب سے اہم سفارش یہ تھی کہ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کے تئیں ہونے والے تعصب کو روکنے کے لئے یکساں مواقع کمیشن کا قیام ہو، لیکن رپورٹ کو آئے چار سال ہو گئے، مگر یکساں مواقع کمیشن ابھی تک حقیقت نہیں بن پایا۔ جبکہ حکمراں کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں اس کمیٹی کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا جو بنی نہیں۔ یو پی اے کے دوبارہ اقتدارسنبھالنے کے فوراً بعد صدر جمہوریہ پرتبھاپاٹل نے جون 2009میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے یکساں مواقع کمیشن تشکیل کرنے کے لئے حکومت کے پابند ہونے کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔
سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشر کمیشن کی دوسری اہم سفارش یہ تھی کہ دلت مسلمانوں کو شیڈول کاسٹ کا درجہ دیا جائے، لیکن اس پر بھی حکومت قطعی سنجیدہ نہیں دکھائی دیتی۔ جبکہ پارلیمنٹ سے باہر دونوں جگہ حکومت پر رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کا زبردست دبائو بنا ہوا ہے۔اصل میں ملک میں مسلمانوں کی پسماندگی اتنی ہے کہ شہری علاقوں میں تقریباً38فیصدی اور دیہی علاقوں میں27فیصد مسلمانوں خط افلاس کے نیچے بدترین حالت میں گزر بسر کر رہے ہیں۔ ان کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے رنگناتھ مشرا کمیشن نے پسماندہ طبقہ کے 27فیصد کوٹہ میں بھی اقلیتوں کا کوٹہ مقرر کرنے کی وکالت کی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے اس جانب ابھی تک کوئی پہل نہیں کی۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھانے کے لئے سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں موجودہ حدبندی ایکٹ کا معائنہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس پر یو پی اے حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل بھی کر دی تھی، لیکن اس کی رپورٹ کا ابھی تک انتظار ہے۔ وقف جائداد کے مناسب انتظام کے لئے یو پی اے حکومت نے پارلیمنٹ میں بیان دیا تھا کہ موجودہ وقف بورڈ میںغلطیوںاور خامیوں کو دور کرنے کے لئے وقف ایکٹ میں فوری طور پر وسیع ترمیم کی جائے گی، جس سے کروڑوں اربوں روپے کی وقف جائدادوں کا بہتر طریقہ سے استعمال ہو سکے، مگر یہ ترمیم بھی پارلیمنٹ میں پیش ہونے کیمنتظر ہے۔
مسلمانوں کی آمدنی کا اہم ذریعہخود کا روزگار ہے۔سچر کمیٹی کا اندازہ تھا کہ مسلمانوں کو مالی اداروں سے دوسروں کے مقابلہ کم قرض ملتا ہے۔ انہیں قرض دینے میں آنا کانی کی جاتی ہے۔ ہر جگہ یہ حالت ہونے کے باوجود کہیں بھی اس کی نگرانی نہیں ہوتی ۔لہٰذا حکومت نے اس جانب اصلاح کرنے کے لئے مسلم نوجوانوں کو اپنے کاروبار کے لئے پبلک سیکٹر کے بینکوں سے قرض کی سہولت بڑھانے، آئندہ تین سالوں میں قرض موجودہ سطح سے بڑھا کر 15فیصد تک لے جانے اور اس کی نگرانی کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن حالات آج بھی نہیں بدلے ہیں۔اس معاملہ میں خود سرکاری اعداد و شمار کچھ اورہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2009-10میں گجرات میں سرکاری بینکوں نے اقلیتوں کو جو قرض دیا، وہ ان کے ذریعہ بنیادی شعبہ کو دیے گئے قرض کا محض4.45فیصد ہے، جبکہ یہ 10فیصد ہونا چاہئے تھا۔یہی نہیں بینکوں نے یہاں اقلیتوں کو 5,341کروڑ روپے دینے کا ہدف رکھا تھا، جبکہ بانٹا صرف 1860.81کروڑ روپے یعنی محض34.84فیصد ۔ مسلمانوں کو قرض دینے کے معاملہ میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چاہے گجرات میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی بی جے پی حکومت ہو یا پھر دہلی میں شیلا دیکشت کی کانگریس حکومت، دونوں کا مسلمانوں کو قرض دینے کے معاملہ میں ایک جیساہی رویہ رہا ہے۔ دہلی میں یہ ہدف 5,982کروڑ روپے کا تھا، لیکن بانٹے گئے محض3,165کروڑ روپے ۔ یعنی ہدف کا محض52.97فیصدحصہ۔ کم و بیش یہی حال کانگریس کی حکومت والی  دیگر ریاستوں جیسے مہاراشٹر اور راجستھان کا رہا، جہاں طے شدہ ہدف کا 50اور 58.51فیصدہی قرض بانٹا گیا۔
علاوہ ازیں یو پی اے حکومت نے اعلان کیا تھا کہ کثیر آبادی والے 90اضلاع جو پسماندہ ہیں، ان کی بنیادی اور اقتصادی سہولیات میں اصلاح کے لئے خاص انتظامات کئے جائیںگے۔ حکومت نے اس سمت میں کوششیں بھی کیں۔ ان علاقوں کی ترقی کے لئے کثیر علاقائی ترقی اسکیمیعنی ایم ایس ڈی پی شروع کی گئی، جو 2,750کروڑ روپے کی اسکیم ہے۔ محترمہ اندرا گاندھی کے 15نکاتی اقلیتی فلاح و بہبود پروگرام کے بعد مسلمانوں کی مجموعی ترقی کے لئے یہ دوسری سب سے بڑی پہل ہے، لیکن یہ اسکیم بھی اوچھی سیاست اورافسر شاہی کی لاپروائی کا شکار بن کر رہ گئی ہے۔ اس کی مثال مہاراشٹر ہے، جہاں2008-09کے دوران اس مد میں169کروڑ روپے جاری کئے گئے، لیکن حکومت نے اس پیسے کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کم و بیش یہی حال دیگر ریاستوں کا ہے، جہاں بمشکل اس رقم کا 10سے 15فیصدہی خرچ کیا جا سکا ہے۔
سیکولر حکومت اور تمام آئینی اختیارات ہونے کے باوجود مسلمانوں کو وقت وقت پر مسلمان ہونے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جس کی طرف شاید ہی کسی کا دھیان جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ نوکر شاہی اور حفاظتی ایجنسیوں کی فرقہ وارانہ ذہنیت کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ بنا جرم کے انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے۔ جب بھی کہیں فرقہ وارانہ فساد یا دہشت گردانہ واردات ہوتی ہے، پورے مسلم فرقہ پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔ پولس کی دھر پکڑ کا اول نشانہ مسلمان ہی ہوتے ہیں اور بغیرتفتیش کے گرفتاریاں عمل میں آنے لگتی ہیں۔ ملک میں حال ہی میں ہوئے تمام بم دھماکوں میں تفتیشی ایجنسیوں نے جو گرفتاریاں کیں، اگر غور کریں تو ان میں سب سے زیادہ گرفتاریاں مسلمانوں کی ہیں۔ یہ بات دیگر ہے کہ ثبوت نہ مل پانے کے سبب بعد میں انہیں چھوڑنا پڑا۔ مثلاً جے پور بم دھماکہ میں ڈاکٹر ابرار اور انوار اور حیدر آباد میں22مسلم نوجوانوں کو مکہ مسجد بم دھماکہ کا گناہگار بتا کر پہلے تو 8-10ماہ جیل میں رکھا گیا اور پھر بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ ان وارداتوں سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ ان کے تئیں شک اور علیحدگی کے ماحول نے انہیں مین اسٹریم سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔
یہی وہ وجوہات ہیں، جن کے سبب مسلمان چاہ کر بھی اہم کڑی میں نہیں آ پا رہے ہیں۔ مسلمان اہم کڑی میں آئیں، اس کے لئے حکومت کو اضافی کوششیں کرنی ہوں گی۔ سب سے پہلے سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کے تمام مشوروں اور سفارشات کو ایمانداری سے عمل میں لانا ہوگا۔ نوکر شاہی میں پھیلے فرقہ وارانہ تعصب اور لاتعلقی کودور کرنے کی خصوصی کوششیں کرنی ہوں گی۔ مسلمانوں کی تعلیمی، اقتصادی اور سماجی ترقی سے نہ صرف اس فرقہ کی حالت بہتر ہوگی، بلکہ ملک کی بھی مجموعی ترقی ہوگی۔ تمام ترکمیشن اور کمیٹیوں کی تشکیل کے پیچھے حکومت کا ہمیشہ یہی مقصد رہا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کی جائے اور انہیں ملک کی مین اسٹریم سے جوڑا جائے۔ دراصل، سوال حاشیہ پر پہنچے سماج کو آگے بڑھانے کا بھی ہے۔ نظر اندازکئے گئے طبقوں کی جائز توقعات، مطالبات کی نظر انداز بھلا کب تک کیا جا سکتا ہے۔ سماجی انصاف سبھی جگہ ضروری ہے۔ انصاف ہوگا تو مسلمانوں کی ترقی میںضرور جھلکے گا۔ ظاہر ہے مسلم فرقہ کی ترقی ملک کی ترقی سے الگ نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *