مائننگ ایکٹ میں ترمیم ، حقیقت کچھ اور ہے

آدتیہ پوجن
مائنس اینڈ منرلس (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 1957میں ترمیم کے لیے وزارتی سطح کی کمیٹی کی سفارشیں حکومت کے ارادوں کی پول کھول کر رکھ دیتی ہیں۔ کان کمپنیوں کے منافع کا 26فیصد حصہ کان کنی والے علاقوں اور مقامی باشندوں کی ترقی کے لیے الگ رکھنے کی تجویز ہو یا ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن کی تشکیل سے متعلق مشورے، گہرائی سے دیکھیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حکومت آدیواسیوں اور غریب کسانوں کی ہمدرد ہونے کا صرف دکھاوا کرنا چاہتی ہے۔
مرکزی حکومت کان کنی قانون میں بڑے پیمانے پرترمیم کی تیاری میں ہے۔ مائنس اینڈ منرلس (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) بل، 2010پر غور و خوض کے لیے بنائی گئی وزرا کی کمیٹی اپنی تجاویز کو آخری شکل دے چکی ہے اور امید یہی ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اسے پیش کر دیا جائے گا۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کی صدارت میں تشکیل کردہ اس کمیٹی نے موجودہ ایم ایم ڈی آر قانون 1957میں وسیع ترمیم کے اشارے دیے ہیں۔ ویسے تو کمیٹی نے اپنی تجاویز میں کئی اہم سفارشات کی ہیں، لیکن جو دو سب سے اہم تجاویز ہیں، ان میں پہلی تجویز ہے کان کنی سے ہونے والے منافع میں مقامی لوگوں کو 26فیصد حصہ اور دوسری تجویز ہے غیر قانونی کان کنی کو روکنے کے لیے ایک قومی کان کنی ریگولیٹری کمیشن کی تشکیل۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے کانوں کے الاٹمنٹ میں عوامی علاقوں کی مہم کو ترجیح دینے سے متعلق بندو بست میں بھی ترمیم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ نئی کانوں کا الاٹمنٹ صرف 10سالوں کے لیے کیا جائے گا اور کچھ خاص مواقع کو چھوڑ کر عوامی علاقہ کی کمپنیوں کو بھی اب نجی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ریاستوں کے ذریعہ کانوں کے الاٹمنٹ سے پہلے مرکز کی منظوری کی لازمیت بھی ختم ہوجائے گی۔ کمیٹی کی تجاویز کے مطابق ریاستی حکومت کو ہی یہ طے کرنا ہوگا کہ کانوں کے الاٹمنٹ میں پوری طرح شفافیت ہو اور یہ انہی کمپنیوں کو ملے جو اس لائق ہیں۔ الاٹمنٹ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے کمیٹی نے یہ تجویز رکھی ہے کہ اگر کوئی کمپنی نئی کانوں کی تلاش کرتی ہے تو اسے خود ہی اس کی نگرانی اور کان کنی کا حق حاصل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کان علاقہ اور مقامی لوگوں کی ترقی کے لیے ایک ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن کی تشکیل کی بھی تجویز ہے۔
کان کنی سے ہونے والے منافع میں مقامی لوگوں کی حصہ داری کی تجویز خاص طور سے لائق تحسین ہے، کیوں کہ حال ہی میں ویدانتا اور پاسکو جیسی کمپنیوں کی اسکیموں کے خلاف مقامی لوگ جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے، اس سے ان کی حالت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ کان کنی اسکیموں سے متاثر ہونے والی زیادہ تر آبادی آدیواسیوں اور غریب کسانوں کی ہوتی ہے جو اپنی زندگی بسر کرنے کے لیے اس پر منحصر ہوتے ہیں، لیکن کان کنی کمپنیاں زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں انہیں ان کی رہائش گاہ اور جنگلوں- کھیتوں سے بے دخل کر دیتی ہیں۔ نہ تو انہیں ان کی زمین کی مناسب قیمت مل پاتی ہے اور نہ ہی ان کی بازآباد کاری کا مناسب انتظام کیا جاتا ہے۔ ہرجانے کے نام پر تھوڑے بہت پیسے دے کر انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس حالت کے مدنظر منافع میں 26فیصد حصہ داری کمیٹی کی تجویز لائق تعریف ضرور ہے، لیکن اس سے مسئلہ کا پوری طرح حل نہیں ہوسکتا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مقامی فرقوں کو کان کنی کی اسکیموں میں حصہ دیا جاتا۔ کمیٹی کے پاس ایسے مشورے بھی بھیجے گئے تھے، لیکن اس نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ کان کنی اسکیموں سے ہونے والے منافع میں مقامی لوگوں کو ہرسال 26فیصد حصہ داری کی بات کمیٹی نے ضرور کی ہے، لیکن اس رقم کا استعمال کیسے کیا جائے گا، یہ واضح نہیں ہے۔ ویسے بھی نجی کمپنیاں تجویز کے عمل میں آنے سے پہلے ہی اس کی مخالفت شروع کرچکی ہیں۔ فیڈریشن آف انڈین منرل انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ ا س سے کان کنی کے علاقہ میں سرمایہ کاری پر برا اثر پڑے گا۔ وہیں فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس(فکی) نے کہا ہے کہ اس تجویز سے کان کمپنیوں پر غیر ضروری اقتصادی بوجھ پڑے گا۔ فکی کی یہ بھی دلیل ہے کہ مقامی باشندوں کی صرف منافع میں ہی نہیں، بلکہ خسارے میں بھی حصہ داری ہونی چاہیے۔ غریب آدیواسیوں اور کسانوں کو بہلا پھسلا کر یا زور زبردستی کر کے کروڑوں کی کمائی کرنے والی کان کمپنیوں کے نمائندوں کی اس کھسیاہٹ کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے، لیکن غریبوں کے تئیں حکومت کی اس بے رخی کو سمجھنا کافی مشکل ہے۔ کمیٹی کی تجاویز میں مقامی آبادی کی بھی پوری طرح تشریح نہیں کی گئی ہے۔ مقامی فرقوں سے مطلب صرف کان اسکیم سے سیدھے متاثر ہونے والی آبادی ہے یا اس علاقہ کی پوری آبادی یا پھر پوری ریاست کی آبادی، اسے واضح نہیں کیا گیا ہے۔ کان علاقہ اور وہاں رہنے و الے لوگوں کی ترقی کے لیے ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن کی تشکیل کی تجویز کی گئی ہے، جس کے ذریعہ ضلع انتظامیہ ترقیاتی کاموں کو عملی جامہ پہنائے گا۔کان کمپنیوں کے منافع میں مقامی لوگوں کی 26فیصد حصے سے تشکیل کیے جانے والے فنڈ کا استعمال کیسے ہوگا، علاقے کی ترقی کے لیے کس طرح کی اسکیمیں چلائی جائیںگی، یہ بھی واضح نہیں ہے۔
کان علاقوں کے الاٹمنٹ میں ریاستی حکومتوں کا کردار بڑھانے کی تجویز بھی حکومت کے منشا کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں، جن میں ریاستی سرکاریں مقامی فرقوں کی مخالفت کے باوجود کان کمپنیوں کے ساتھ کھڑی نظر آئی ہیں۔ اس کی سب سے بہتر مثال اڑیسہ کی پاسکو اسکیم ہے۔ اس اسکیم میں جس طرح گھپلے بازی ہوئی، قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جس طرح پاسکو کو ماحولیات سے متعلق کلیئرنس دیا گیا، وہ اظہر من الشمس ہے۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ پاسکو کی غیرقانونی کارگزاریوں میں ریاستی حکومت بھی برابر کی حصہ دار تھی، پھر کان علاقوں کے الاٹمنٹ میں اس سے شفافیت کی امید بھلا کیسے کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح غیرقانونی کان کنی کو روکنے کے لیے قومی کان کنی ریگولیٹری کمیشن کی تشکیل کی تجویز بھی دلیل کی کسوٹی پر کھری نہیں اترتی۔ اس کے تحت ریاستی حکومتوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ غیر قانونی کان کنی سے جڑے معاملات کی جانچ اور کارروائی کے لیے وہ الگ سے عدالتوں کی تشکیل کرسکیں، لیکن آندھرا پردیش اور کرناٹک میں غیرقانونی کان کنی کے معاملے سامنے آنے کے بعد بھی متعلقہ ریاستی حکومتیں جس طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں، اسے دیکھتے ہوئے اس کے مستقبل کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
سچائی یہ ہے کہ کان کنی قانون 1957میں ترمیم کی حکومت کی کوشش صرف ایک دکھاواہے، جس کا صرف ایک مقصد نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ تبھی تو عوامی مہم جوئی کے لیے محفوظ علاقوں میں بھی نجی کمپنیوں کو کان کنی کی اجازت دینے کی تجویز کی گئی ہے۔ دراصل پاسکو اور ویدانتا جیسی کمپنیوں کی اسکیموں کے خلاف مقامی لوگوں کی مخالفت سے گھبراکر مرکزی حکومت صرف یہ دکھانا چاہتی ہے کہ وہ آبادی کے اس طبقے کے تئیں فکر مند ہے۔ آدیواسیوں اور غریب کسانوں کی ترقی کے لیے پہلے بھی ملک میں کئی اسکیمیں چلائی گئی ہیں، جن کے چلانے کی ذمہ داری ضلع انتظامیہ کے ہاتھوں میںہے۔ ان اسکیموںکا نتیجہ یہی ہے کہ آبادی کا یہ طبقہ اب بھی مین اسٹریم سے باہر ہے اور ناخواندگی، غریبی، بیروزگاری جیسے تمام مسائل کے سبب ذلت بھری زندگی جینے کو مجبور ہیں۔ ایسی حالت میں ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن کے ذریعے کان کے علاقوں میں ترقی کے کام چلانے کی ذمہ داری ضلع انتظامیہ کے ہاتھوں میں سونپنا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ کان کمپنیاں اپنے منافع کو مقامی آبادی کے ساتھ بانٹنے کی تجویز کی تو مخالفت کر ہی رہی ہیں، ان کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ ایسا کرنے کو راضی ہو بھی جائیں تو ترقی کے کاموں کا پیسہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی سرکاری مشینری کی لال فیتہ شاہی اور بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ حکومت کی اصلی مرضی بھی یہی ہے۔ حالانکہ موقع ابھی ہاتھ سے نہیں نکلا ہے۔ ان تجاویز پر ابھی کابینہ کی منظوری باقی ہے، اس کے بعد تجاویز سے متعلق بل یہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ حکومت اگر چاہے تو اس میں اب بھی ترمیم کرسکتی ہے اور نئے قانون کو آدیواسیوں اور غریب کسانوں کا بہی خواہ بناسکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کان کنی کی اسکیموں میں مقامی لوگوں کی براہ راست حصہ داری متعین کی جائے اور کان کنی کے علاقوںکی اکالوجی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تحفظ سے متعلق معاملات بھی ذہن میں رکھے جائیں۔
لینڈ ایکوائرمنٹ ایکٹ میں ترمیم کب ہوگی؟
کان کنی کی اسکیموں کے خلاف مقامی لوگوں کی مخالفت کے نتیجے میں حکومت ظاہری طور پر ہی سہی، لیکن قومی کان کنی قانون 1957میں ترمیم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، لیکن اترپردیش میں یمنا ایکسپریس وے کے خلاف کسانوں کے پرتشدد مظاہروں کے باوجود مرکزی سرکار لینڈ ایکوائرمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے لیے بیدار نہیں ہوئی ہے۔ اس سے قبل ایسے ہی مظاہرے آندھراپردیش اور مہاراشٹر جیسی دوسری ریاستوں میں بھی ہوچکے ہیں، لیکن مرکزی سرکار اعلامیہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔ انگریزوں کے ذریعے بنائے گئے لینڈ ایکوائرمنٹ ایکٹ 1894میں، مرکزی حکومت کی حیثیت زمین مالکوں اور نجی کمپنیوں کے درمیان بچولیے کی ہے۔ کان کنی کی اسکیموں کے لیے بھی حکومتیں غریب آدی واسیوں کو ان کے روائتی رہائشی علاقوں سے بے دخل کرنے کا کام کرتی رہی ہیں اور آدیواسی فرقہ اس پر احتجاج کرتارہا ہے۔ پاسکو، آرسیلر متل اور ویدانتا جیسی انٹرنیشنل کمپنیوں کی اسکیموں کے بعد حکومت کان کنی قانون میں تو ترمیم کررہی ہے، لیکن لینڈ ایکوائرمنٹ ایکٹ کے تئیں ٹال مٹول والے رویے سے حکومت کی نیت پر شک ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *