بہار میں ممتا اور راہل کی سیاسی جنگ

بمل رائے
کیا میں آپ کو چڑیا جیسا نظر آتا ہوں؟ کانگریس کے یوراج نے کولکاتا میں اخبارنویسوں سے جب یہ بات پوچھی تو سبھی حیرت زدہ رہ گئے۔ حالانکہ اشارہ سمجھنے میں انہیں دیر نہیں لگی۔ 15سے17ستمبر تک بنگال میں راہل کے طوفانی دورے کے ٹھیک ایک دن پہلے سلی گوڑی میں ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ ہم موسم بہار کی کوئل نہیں ہیں۔ ہم یہاں ایک دن کے لئے نہیں آتے، ہر وقت خوشی اور غم میں آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔
اس طرح کچھ علاقوں میں سوکھے کے شکار بنگال میںتشبیہ وتمثیل کی خوب بارش ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نوجوان کانگریس کی ممبرشپ مہم شروع کرنے کے لئے بنگال آئے راہل نے یہاں کی پہلے سے گرم سیاست کو مزید گرما دیا۔ عوامی جلسوں اور روڈ شوز میں امنڈتی بھیڑ کو دیکھ کر ان کے سیاسی گلیمر کی تو جھلک ملی ہی، ساتھ ہی ممتا کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں بھی صاف نظر آئیں۔ سرد جنگ خوب چلی۔راہل نے صاف صاف کہا کہ عزت نفس کی قیمت پر کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ امیرہندوستان ا ورغریب ہندوستان کے اپنے تکیہ کلام کی طرز پر راہل نے یہاں بھی بنگالیوں کا بنگال اور مارکسوادیوں کا بنگال نام کا ایک نیا نعرہ دیا۔ حالانکہ زیادہ چرچا اس بات پر ہوا کہ ہم (سی پی ایم کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے) ممتا جی کے ساتھ ہیں اور ہاتھ بڑھا سکتے ہیں، لیکن سر نہیں جھکا سکتے۔ راہل نے بنگال کے چار عوامی جلسوں میں یہ ڈائیلاگ مارا اور ایک بار پریس کانفرنس میں بھی سخت لہجہ استعمال کیا۔
اس دورے کا مقصد ممتا کے ذریعہ بے عزت کئے جارہے ،افسردگی اور ناامیدی کے شکار کانگریسی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ گزشتہ لوک سبھا الیکشن کے بعد سے ہی لیڈروں اور کاکنوں کا کانگریس چھوڑکر ترنمول میں آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی وقت کولکاتا کے سابق میئر سبرت مکھرجی، فی الوقت ترنمول کے رکن پارلیمنٹ سدیپ بندوپادھیائے اور سومین متر جیسے لیڈر کانگریس چھوڑ کر ممتا کے خیمے میں آگئے۔ ممتا نے جنوبی بنگال میں کانگریس کو لوک سبھا کی ایک بھی سیٹ نہیں دی۔ اس کے بعد میونسپل کارپوریشن کے الیکشن میں دیدی گیری کی وجہ سے کانگریس کو اتحاد کے بغیر ہی آگے بڑھنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ حالانکہ اس کے بعد بھی دل بدلی کا عمل جاری رہا۔ ریاستی کانگریس کے لیڈروں نے آخر میں راہل گاندھی کو پیغام بھیجا، جس کے نتیجے میں راہل کو بنگال آنا پڑا۔
راہل نے اپنے دورے کی شروعات شمالی بنگال سے کی، جہاں ابھی کانگریس کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑی ہے۔ جلپائی گوڑی، مالدہ ، مرشدآباد، رائے گنج اور اتر دیناج پور جیسے اضلاع میں کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط ہے اور ممتا ابھی ان علاقوں پر پوری طرح قبضہ نہیں کرپائی ہے۔ راہل کے بیان پر ممتانے 19ستمبر کو بردوان میں اپنے ایک عوامی جلسے میں جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی کسی کے آگے نہیں جھکیںگی۔ ان کے بیانوں کی تلخی سے ان کی ناراضگی کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بایاں محاذ حکومت پر انہوں نے ایسے الزامات عائد کئے، جو ایک مرکزی وزیر کو زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ بدھادیب سرکار سپاری قاتلوں کے لئے اور سپاری قاتلوں کے ذریعہ بنی ہے۔ ممتا نے کہا کہ سوکھا راحت کے لئے 500کروڑ کی جو رقم (حالانکہ یہ رقم بنگال، بہار اور اڑیسہ تینوں ریاستوں کے لئے ہے) ملی ہے، اس کا استعمال بنگال کی حکومت ضرور ہتھیار خریدنے میں کرے گی۔ انہوں نے بردوان کے ایس پی راجارام راج شیکھرن کو بھی دھمکی دی کہ ترنمول اقتدار میں آئی تو انہیں سبق سکھایا جائے گا۔
یہ سب دیکھ کر اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ سیاسی زمین بچانے یا ہڑپنے کی کوشش میں کہیں بنا بنایا کھیل نہ بگڑ جائے، کیونکہ ان دونوں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان شگاف جتنا زیادہ گہرا ہوگا سی پی ایم کو اتناہی زیادفائدہ ہوگا۔ جیسے جیسے اسمبلی الیکشن قریب آتے جارہے ہیں، اقتدار کی دعویدار ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی تلخیاں بایاں محاذ مخالف رائے دہندگان میں بھرم پیداکررہی ہیں۔ راہل نے مارکسواد کو ایک مردہ نظریہ بھی کہا ، جسے بنگال میں ڈھویا جارہا ہے۔ اس پر چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور ترجمان محمد سلیم نے کہا کہ راہل کو اتنا علم ہونا چاہئے کہ بنگال کوئی ملک نہیں ، جس کا موازنہ کیوبا اور چین سے کیا جاسکے۔  انہوں نے سوال کیا کہ راہل بتائیں کہ مرکزی حکومت کیا گاندھی اور نہرو کی پالیسیوں پر چل رہی ہے؟ 19ویں صدی میں پیداہوئے مارکس کا نام آج بھی لیا جارہا ہے، پھر یہ نظریہ فوت شدہ کیسے ہوگیا؟ سلیم نے اس بہانے راہل کو ان کے والد کے اس بیان کی یاد دلائی، جس میں انہوں نے کولکاتا کو’ مرتا ہوا شہر‘ بتایا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ بے خوف ہوکر اپنے دوست عمر عبداللہ کے کشمیر میں ڈل جھیل کے کنارے بیٹھ کر ناشتہ کرسکتے ہیں؟ جب کہ مبینہ طور پر مرتے ہوئے شہر کے پارک اسٹریٹ میں وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق راہل کے عوامی جلسوں میں کانگریس کے وحشت زدہ ناامید نوجوانوں کی فوج پہنچی تھی، جو ترنمول کی دہشت سے خوف زدہ ہیں۔
ویسے راہل کے دورے سے بنگال کے کانگریسی لیڈران کافی خوش ہیں۔ چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر مانس بھوئیاں نے کہا کہ راہل کے ذریعہ پیدا کئے گئے عوامی طوفان کے بعد وہ ریاست کے مختلف حصوں میں رکنیت مہم کے لئے کود پڑے ہیں اور انہیں کافی کامیابی مل رہی ہے۔ کانگریس ابھی سے ہی دباؤ بنانا چاہتی ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ ممتا پچھلے لوک سبھا چناؤ میں جیتی گئی 6سیٹوں کے تناسب میں ہی اسمبلی سیٹوں پر نہ سمیٹ دے۔ اس طرح اس کے کھاتے میں 294 میں سے25-30سیٹیں ہی آئیں گی۔2006 کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو قریب 17فیصد اور ترنمول کو قریب 31فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس وقت اس کا بی جے پی سے اتحاد تھا، جسے تقریباً دو فیصد ووٹ ملے تھے اور ایک بھی سیٹ پر جیت حاصل نہیں ہوپائی تھی۔ اس حساب سے کانگریس کم سے کم 100-125 سیٹوں کے لئے اپنا دعویٰ کرسکتی ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں ممتا نے کانگریس کو جنوبی بنگال کی ایک بھی سیٹ نہیں دی تھی، لیکن اسمبلی الیکشن میں پنجہ ایسا ہر گز نہیں کرنے دے گا۔ کانگریس چاہے گی کہ سیٹوں کی تقسیم اس طرح ہو کہ بنگال کے ہر حصے میں اس کے تنظیمی ڈھانچے اور لیڈروں  پر برااثر نہ پڑے۔ 18ستمبر کو پارٹی کے عہدے داروں کی میٹنگ میں جب کانگریس کے جنرل سکریٹری ویریندر کٹاریا نے بھول سے کہہ دیا کہ پریہ رنجن داس منشی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، تو اسٹیج پر ہی ہنگامہ ہوگیا۔ یہ انسانی بھول تھی، کیونکہ داس منشی برسوں سے کومہ میں ہیں۔ یہ سنتے ہی ان کی اہلیہ دیپا داس منشی اسٹیج پر کھڑی ہوگئیں اور ان کے حامی مشتعل ہوکر کٹاریا کو برا بھلا کہنے لگے۔ یہ کانگریس کا وہی خیمہ ہے، جو ممتا کے ساتھ اتحاد کے خلاف تھا۔ راہل کے گربیٹا دورے کے دو دن بعد ہی جھاڑگرام کے تین کانگریسی لیڈروں نے پارٹی چھوڑدی۔ ان کا ماننا تھا کہ پارٹی یہاں کے آدیواسیوں کی حفاظت کرنے میں کامیاب نہیں ہوپائے گی۔
ممتا مانتی ہیں کہ بایاں محاذ مخالفت کی ہوا صرف ان کی وجہ سے بنی ہے۔ حالانکہ مرکز میں برسراقتدار محاذ کی قائد ہونے کے ناطے کانگریس نے ممتا کو من پسند وزارت اور بجٹ میں حسب منشا اسکیموں کو منظوری دی۔ یہاں تک کہ ممتا ریل بھون چھوڑ کر بنگال میں بیٹھی رہتی ہیں۔ جب شور شرابہ ہوتا ہے تو وزیر مالیات دفاع میں سامنے آجاتے ہیں۔ ویسے اس تعلق سے ایک دلچسپ واقعہ سننے کو ملا۔ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ممتا دہلی گئیں تو انہوں نے کچھ زیادہ وقت گزار کر اپنی شبیہ درست کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران فائلیں دلّی سے کولکاتا لانے میں پورے گیارہ لاکھ روپے کا بل آگیا۔ اب فائلیں کوریئر سے تو آئیں گی نہیں، کسی نہ کسی افسر یا افسروں کے گروپ کو یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے۔ ان کا ہوائی سفر اور ہوٹلوں میں قیام وغیرہ میں لاکھوںروپے کا خرچ تو آئے گاہی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ترنمول کے ہی ایم پی اور مرکزی وزیر مملکت برائے سیاحت سلطان احمد کو شروع میں جب گھر نہیں ملا تھا تو وہ افسروں کے کہنے پر سرکاری گیسٹ ہاؤس کو چھوڑ کر ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرے۔ بل لاکھوں میں آیا تو ممتا کی اصول پسندی بیدار ہوگئی اور انہوں نے سلطان احمد کو اپنی جیب سے بل اداکرنے کا فرمان جاری کیا۔ اب ممتا بنرجی کو بھی اپنے پاس سے 11لاکھ روپے ریلوے کی وزارت کو ادا کرکے ایک مثال قائم کرنی چاہئے۔ ورنہ لوگ یہی سمجھیںگے کہ ان کے قول وفعل میں تضاد ہے۔
درگا پوجا کے پہلے ممتا کے طوفانی دورے چل رہے ہیں اور وہ گھما پھراکر راہل پر وار کررہی ہیں۔ یہاں تک کہ 20ستمبر کو ایک عوامی جلسے میں انہوں نے کہا کہ وہ سونے کے پلنگ پر بیٹھ کر نہیں ، بلکہ عوام کے درمیان دھول مٹی میں رہ کر سیاست کرتی ہیں۔ اس بیان میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن ممتا کو تھوڑا احتیاط سے کام لینا چاہئے، تاکہ ہاتھ آئی بازی کے پھسلنے کا خطرہ پیدا نہ ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *