خلافت عثمانیہ اسلام کی زریں سلطنت

محمد افروز قادری چریاکوٹی
وہ سرزمین جو تقریباً چھ سو سال تک اسلامی سلطنت کا مرکز رہی ہے ہم آج اسے ’ترکی‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ ترکی عثمانیوں کے دور خلافت میں دولت ِعثمانیہ کہلاتی تھی۔ ترکی کے دو حصے ہیں: ایک اناطولیہ جو کہ ایشیائی حصہ ہے؛ جبکہ دوسرا دومیلی جو کہ یوروپی حصہ ہے۔ اس طرح یہ ملک ایشیااور یوروپ دونوں میں واقع ہے۔ ایک زمانہ تھاکہ یہ سلطنت چالیس ہزار مربع میل کے رقبے پرمشتمل تھی، مگر خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد اناطولیہ اور دومیلی کا علاقہ ہی اب ترکوں کا ترکہ رہ گیا ہے۔
عثمانی خلافت تاریخ اسلامی میں وسعت کے لحاظ سے وسیع ترین خلافت تھی۔ اس اسلامی سلطنت نے یوروپ کی ناک کے نیچے جنم لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یوروپ کے بہت سے خطوں کو (بشمول بازنطینی ریاست کے پایہ تخت کے) اپنے اندر سمو لیا تھا ۔کم و بیش چھ صدیوں تک عثمانی سلطنت کی وجہ سے بین الاقوامی توازن برقرار رہا تھا، سیاسی و اقتصادی لحاظ سے بھی اورتمدن وثقافت کے اعتبار سے بھی۔
شاعر علامہ اقبال نے اپنی مشہورنظم جواب شکوہ میں اسی قوم وقبیلہ کی جانب اِشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
یہاں ’شانِ کئی‘ سے اقبال کی مرادسلجوقی سلطنت اور سلطنت عثمانیہ تھی اور شعر میں اس نئی دنیا کا حوالہ ہے جہاں سلطنت عثمانیہ کی توسیع کے نتیجہ میں اسلام پہنچا تھا۔ سلجوقی سلطنت کے بہت سے بادشاہوں کے نام کا جزئِ لقب ’کے‘ ہو تا تھا جیسے کے خسرو، کے قباد، کے کاس۔ یہ لقب قبیلہ کئی سے ان کے انتساب اورشجاعت وجواںمردی کی دلیل ہوتا تھا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عثمانی خلافت بہت وسیع الظرف تھی، صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں ظلم کے مارے یہودی یا عیسائی اگر کہیں نقل مکانی کر کے سکون پا سکتے تھے تو وہ سلطنت عثمانیہ ہی کی سر زمین تھی۔ سلطنت کی پوری تاریخ میں کوئی ایک حاکم بھی ایسا نہیں گزرا جس نے قبیلے یا خاندانی مفاد کو شریعت پر ترجیح دی ہو۔ تمام سلاطین نسلی اور قومی تعصب سے دور اپنے آپ کو دین اور شریعت کا محافظ سمجھتے تھے۔چھ سو سالہ طویل ترین تاریخ کی مالک سلطنتِ عثمانیہ میں ہر مذہب، نسل، زبان اور ثقافت رکھنے والے گروہ موجود تھے۔ اگرچہ عثمانی ترک نژاد تھے، مگر ان کی سلطنت کے سائے میں عربی، کردی، یونانی، بلغاری، بوسنائی اور سربی نسلی گروپوں کے ساتھ ساتھ مسلمان، عیسائی، یہودی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسان بھی زندگی بسر کرتے رہے تھے۔ چھ سو سال تک قائم سلطنتِ عثمانیہ میں کبھی بھی کلاسیکی طرز کی خانہ جنگی نہیں ہوئی تھی اور یوروپی سلطنتو ں کی طرح کبھی بھی دینی اور مذہبی جھڑپیں منظرِ عام نہیں آئی تھیں۔
عثمانیوں نے دیگر مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ ہمیشہ رواداری کا مظاہرہ کیا تھا۔ دینِ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں انہوں نے اہلِ کتاب یعنی عیسائیوں اور یہودیوں کو خود مختاری دیتے ہوئے انہیں ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ1492میں اسپین سے ملک بدر کیے جانے والے یہودیوں نے سلطنتِ عثمانیہ میں پناہ لیتے ہوئے پوری زندگی امن و امان کے ساتھ گزاری تھی۔ یہودیوں، عیسائیوں اور آرمینیوں کو سلطنتِ عثمانیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا تھااور اس طرح وہ اپنی خدمت کے ساتھ ساتھ سلطنتِ عثمانیہ کے فروغ میں بھی مدد گار ثابت ہوئے تھے۔دراصل اِس وقت میں تاریخ سلطنت عثمانیہ بیان کرنے کے موڈ میں نہیں اور نہ ہی سردست یہ میرا موضوع ہے، بلکہ میں اس وقت عہد عثمانیہ کے دو چند خدا آگاہ  سلاطین کی زندگی کے کچھ واقعات پیش کرنے کی سوچ رہاہوں۔ ہوا یہ کہ چند دنوں قبل شہرترکی کی مشہور دینی شخصیت شیخ عثمان نوری طوباش کی ایک انگریزی کتاب (Civilization of Virtues)میرے پاس ترجمے کے لیے آئی تھی؛ کتاب کیا ہے بس پڑھیے اور سر دھنیے۔ اسلوب تحریر نہایت اچھوتا، من موہنا اور دل افروز ہے۔ یہ سچ ہے کہ نئی زبانوں اور دیگر ممالک کے مصنّفین کی تحریریں پڑھنے سے بہت سے اَسرار سربستہ بے نقاب ہوتے ہیں اور ترکی تو ویسے بھی صدیوں تک اسلام ومسلمین کا اہم مرکز رہا ہے۔ یوں تو پوری کتاب ہی علم وحکمت کے جواہرسے جڑی ہوئی ہے، تاہم سلاطین ترک سے متعلق چند واقعات نے مجھے بری طرح متاثر کیا اوربھیگی پلکوں کے ساتھ ہی ان کا ترجمہ مجھ سے ممکن ہوسکا۔ تواس ’’نگارستان سعادت‘‘ سے چند کلیاں لے کرچوتھی دنیاکے قارئین کی مشام جاں معطرکرنے کے لیے حاضر ہوں،پڑھیں اور حظ اُٹھائیں۔
کہاجاتاہے کہ تقویٰ کے مطالبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان مشکوک بلکہ مباح چیزوں سے بھی دست کش ہوجائے صرف اس خوف سے کہ کہیں وہ اس کے باعث کسی ناروا کام میں نہ مبتلا ہوجائے۔ترمذی وابن ماجہ کی حدیث پاک میں آتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کااس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہوتا جب تک وہ بے ضرر چیز کو بھی اس خوف سے نہیں چھوڑ دیتا کہ شاید اس میں ضرر ہو۔تو اس حدیث کی روشنی میں یکے از سلطاطین ترک کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں: سلطان عبد العزیز خان نے اپنی دینی بصیرت اور سیاسی حکمت عملی سے اپنی فوج اور اس کے ارباب حل وعقد کے داخلی نزاعات کو ختم کرکے انھیں ایک حیرت انگیز موڑ تک پہنچا دیاتھا ، جس کے باعث اس کی سلطنت کا پایہ کافی مضبوط اور مستحکم ہوگیاتھا اور پوری دنیا اسے للچائی ہوئی نگاہ سے دیکھنے لگی تھی۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ سلطان کو حکومت فرانس اور لندن سے خصوصی دعوت نامے ملے۔
عبدالعزیز خان-جو تاریخ سلاطین میں حزم و احتیاط اورزہد وتقوی کے اعتبار سے بلند پایہ مقام رکھتا تھا- ’بولو‘سے اپنا باورچی بھی ساتھ لیتا گیا، صرف یہ سوچ کر کہ ازروئے شرع یوروپین کھانے مشکوک ہوں گے۔
٭ایک دوسری تاریخی شخصیت جو تقویٰ و احتیاط کے بلند مقام پر فائز نظر آتی ہے وہ سلطان عبد الحمید ثانی کی ہے۔ ان کا حکم تھاکہ اگر کوئی اہم مسئلہ رونما ہوجائے تو رات کے کسی بھی لمحے میرا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتاہے، کیوں کہ وہ کبھی بھی آج کا کام کل پر نہیں ٹالتے تھے۔ سلطان عبد الحمید ثانی کے منشی جناب اسعد بے ان کی سوانح حیات میں بیان کرتے ہیں:ایک شب ایسا ہوا کہ ایک اہم دستاویز پر دستخط کرانے کے لیے میں نے کسی رات کو سلطان کے دروازے پر دستک دی، مگر انھوں نے دروازہ نہ کھولا۔ تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے دوبارہ کھٹکھٹایااور اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔مجھے تشویش لاحق ہوئی اور میں سوچنے لگا کہ یا اللہ!کہیں پیغام اَجل تو نہیں آگیا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے پھر دستک دی، اتنے میں سلطان اپنے ہاتھوں میں ایک تولیہ لیے ہوئے دروازے پر نمودار ہوئے۔وہ اپنا چہرہ خشک کررہے تھے اور مسکراتے ہوے فرمارہے تھے:میرے بیٹے!میں نے محسوس کر لیا تھا کہ رات کے ان لمحات میں کسی اہم کام ہی کے لیے تم یہاں آئے ہوگے۔ تمہاری پہلی دستک پر ہی میں بیدارہوگیا تھا، مگر دروازہ کھولنے میں تاخیرکا باعث یہ ہوا کہ میں وضو کرنے چلا گیا تھا، کیوں کہ میں نے کبھی بھی اپنی قوم سے متعلق کسی دستاویز پر وضو کے بغیر دستخط کیا ہی نہیں۔پھر انھوں نے بسم اللہ پڑھ کر دستاویز پر اپنی دستخط ثبت کردی۔
یوں ہی سلطان با یزید دوئم اور ان کے برادر جیم سلطان کے درمیان وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ ایمان وایقان کی کس منزل پرپہنچے ہوئے تھے اور اسلام کے عطا کردہ فضل و کمال اور حسن و خوبی کے وہ قدرداں بھی تھے اور اس پر نازاں بھی۔سلطان با یزید دوئم(جنھیں ان کے زہدوتقویٰ کے باعث بایزید ولی کے نام سے بھی یاد کیا جاتاہے)1481 میں سریر آرائے سلطنت ہوئے۔ابتدائی چودہ سال محض حکومت کے ان نشیب وفراز اور مسائل واختلافات کو حل کرنے میں صرف ہوگئے جو ان کے بھائی جیم سلطان نے سلطنتِ عثمانیہ کے سلسلے میں کھڑے کر رکھے تھے اوریہ صورتحال با یزید دوئم کے لیے دنیائے عیسائیت کے اندرکوئی اہم رول ادا کرنے میں رکاوٹ بنی رہی۔
جیم سلطان نے با یزید کے سامنے یہ تجویز رکھی:بہتر ہوگا کہ ہم اپنے ملک کے دوحصے کردیں۔ آدھے پر آپ کی حکومت چلے اور آدھے پر میرا راج ہو۔
با یزید نے اس تجویز کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا:میرے بھائی!یہ ملک میرا نہیں، عوام کی امانت ہے۔ اگر ہم اس کی تقسیم کردیں تو حکومت کا سارا زورختم ہوجائے گا اور ہمارا شمار دنیا کی کمزور ترین ریاستوں میں ہونے لگے گا اور اس کے نتائج کتنے بھیانک ہوں گے تم اندازہ کرسکتے ہو، اس لیے میں اپنے جسم کے دو ٹکڑے کرنے کے لیے تو تیار ہوں مگر عوام الناس کی اِس امانت(ملک)کی تقسیم میرے بس سے باہر ہے۔کچھ ہی دنوں بعد جیم سلطان (کے اس رویے کودیکھ کر) جزیرہ روڈ کے فوجداروں کی طرف سے اسے خصوصی بلاوا آیا۔ وہ ان کے دلکش و سحرطراز اسلوب بیان سے بڑا متأثر ہوا اور بادلِ نخواستہ اُن کی دعوت قبول کرلی۔ پھر کیا ہوا کہ فوجدار اپنے وعدوں سے پھر گئے اور اس کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کرتے ہوئے اسے کلیسا کے مقتدرانِ اعلیٰ کے حوالے کردیا۔ ادھر یہ سربراہانِ کلیسا سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف آئندہ صلیبی جنگ کے لیے سلطان کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ جب وہ ان کے اس ناپاک مقصد کے لیے تیار نہ ہوا تو ان کے پادری نے جیم سلطان کو دین عیسائیت قبول کرلینے کا مشورہ دیا۔ اس پیشکش نے جیم سلطان کے دل کو ریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا۔ بکھری ہوئی توانائیوں کو اِکٹھا کرکے جیم سلطان نے پادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:یہ سلطنتِ عثمانیہ چہ معنی دارد!اگر تم ساری دنیا کو لاکر میرے قدموں میں ڈال دو تب بھی میں اپنے مذہب سے سرمو ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ محسوس کرلینے کے بعدکہ یہ اہل صلیب مجھے اسلام کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں جیم سلطان نے خدا کی بارگاہ میں جو دعا کی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں دین ومذہب کا دردکس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا:اے میرے پروردگار!اگر صورتحال یہی ہے کہ یہ کفار مجھے مسلم دنیا کو زیر و زبرکرنے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں توپھر اپنے اس بندے کو اس دنیا میں تا دیر زندہ نہ رکھ، جتنا جلدی ہوسکے میری روح کو اپنی بارگاہ میں واپس بلالے۔
اِدھراس کی زبان سے یہ دعا نکلی اور اُدھر اِجابت نے اسے گلے لگالیا اورمقام بیپلس کے اندر عین عالم شباب میں کوئی چھتیس سال کی عمر میں اس نے اس دنیا کو خیرآباد کہہ دیا۔ دمِ نزع اس نے اپنے اِردگرد موجود لوگوں سے جو وصیت نامہ مرتب کروایا وہ کچھ یوں تھا:میرے انتقال کی خبر ہر سو عام کردینا تاکہ غیرمسلم مجھے آلہ کاربناکر مسلمانوں کے خلاف جو کھیل کھیلنا چاہ رہے ہیں وہ قبل از وقت ہی ناکام ہوجائے۔ بعدازاں میرے بھائی سلطان با یزید کے پاس جانا اور اس سے درخواست کرنا کہ ہر قیمت پر میری نعش اپنے ملک میں لاکر دفن کرے۔ مجھے یہ گوارا نہیں کہ غیرمسلموں کی زمین میں میری تدفین عمل میں آئے۔ اب تک جو ہوا سو ہوا۔ دیکھنا کہیں وہ میرے اس عریضے کو مسترد نہ کردے۔ اس سے یہ بھی کہنا کہ میرے سارے قرض ادا کردے۔ میں قرضوں کا بوجھ لے کربارگاہ قدس میں حاضر نہیں ہونا چاہتا۔ اس سے کہنا کہ میرے اہل خانہ اورمیری اولاد و خدام کی غلطیوں کو درگزر کردے اور ان کی حیثیت کے مطابق ان کا خیال کرتا رہے۔سلطان با یزید دوئم نے اپنے بھائی کی اس وصیت کی پوری پوری تکمیل کی۔  دراصل یہی وہ اوصاف اور خوبیاں ہیں جن سے اسلام بنی نوعِ انسان کو آراستہ پیراستہ دیکھنا چاہتاہے۔ان دوبھائیوں کے باہمی تعلقات جہاں ان کی مذہب دوستی اور دین سے کامل وابستگی کا پتا دیتے ہیں وہیں ان سے ملک و قوم کے لیے ان کے سچے درد کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
اہل اسلام نے اپنی عبادتوں میں کیا خوب اہتمامات کیے ہیں حتی کہ حالتِ جنگ میں بھی ان کا شوق عبادت عروج پر نظر آتاہے،یہی وجہ تھی کہ اللہ کی رحمتیں بھی ان پر ٹوٹ کر برستی تھیں۔ونائس کے ترابیجانی نے یلدیریم بایزید کی فوج کی شجاعت وفتح یابی کا نقشہ یوں کھینچا ہے: سلطنت عثمانیہ کی فوج عہد رواں کی فوجوں کے برعکس شراب وکباب، گیمبلنگ اور دوشیزاؤں کے وجود سے ہمیشہ پاک رہی۔ مزید برآں عسکری تربیت کے دوران بھی مجاہدوں کو کبھی یاد حق سے غافل نہیں پایاگیا۔ وہ ہمہ وقت وقف عبادت و ریاضت رہاکرتے تھے اورسچ پوچھیں تویہی کلیدی رازتھا ان کی فتح وظفرکا۔
ترکی کی مسجد بایزید کی حسن تعمیر اور اس کی جلوہ سامانی جگ جگ ظاہر ہے۔ مسجد کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد سرکاری طورپر ایک عظیم شان عظمت وطمطراق کے ساتھ اس کا افتتاح بروزجمعہ عمل میں آیا۔ ایسی عظیم جامع مسجد کاافتتاح سلطان محمد بن فاتح کسی عظیم وجلیل امام وخطیب سے کرانے کا متمنی تھا، چنانچہ عوام وخواص کے ایک ٹھاٹھے مارتے ہوئے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا:میری دیرینہ آرزو ہے کہ اس عظیم الشان مسجد کا افتتاح کسی ایسی ہستی کے ہاتھوں عمل میں آئے جس کی پوری زندگی میں کبھی عصروعشا کی سنت قبلیہ بھی نہ ترک ہوئی ہو۔
یہ شرط سن کر مجمع کو جیسے سانپ سونگھ گیااور ہرطرف سناٹا چھاگیا۔ ایک طویل خاموشی کے بعد سلطان ازراہ تحدیث نعمت یہ کہتاہوا مصلّے کی طرف بڑھتادکھائی دیا کہ قوم وملت کے اس خادم کی سفروحضر اور جنگ وامن کسی بھی حالت میں عصروعشا کی سنن قبلیہ(غیرمؤکدہ) بھی الحمدللہ کبھی فوت نہیں ہوئی ہیں۔
سبحان اللہ! کچھ ایسے تھے ہمارے سلاطین اسلام اور’یہی تھا رازتب وتاب ملت عربی‘۔ہم تو فرائض کی ادائیگی میں بھی چوبند نظر نہیں آتے،سنت موکدہ اور پھر غیرموکدہ تو بڑی دور کی بات ہے!۔
دنیا کا جاہ و منصب اورسلطنت وحکومت کی جملہ اہم ذمہ داریوں کے باوجود نہ ان کی عبادت وریاضت کے خشوع وخضوع میں کچھ فرق پڑا اور نہ نمازوروزہ کے ذریعہ اپنی اخروی زندگی کو آبادکرنے کی جدوجہدمیں انھوں نے کوئی کسر روا رکھی۔
٭یاوز سلطان سلیم خان کے خادمِ خاص حسن جان بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ سلطان یاوز کے پیٹھ پر ایک پھوڑا نکل آیا۔مختصر سے وقت میں وہ اتنا بڑھا کہ اس میں گہرا سا غار بن گیا حتیٰ کہ اس سے جھانک کر دیکھنے سے یاوز کی کلیجی تک نظر آنے لگی تھی۔ اندازہ لگائیں کہ ان دنوں سلطان پر کیا بیت رہی ہوگی۔ اس وقت وہ ایک زخمی شیرمعلوم ہو رہے تھے، تاہم انھوں نے ایسے عالم میں بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنی بے بسی کو خاطر میں لائے بغیرمجاہدوں کو ہدایت وحکم نامہ جاری کرتے رہتے تھے۔میں ان کے قریب گیا، انھوں نے اپنی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:حسن جان!(میری)یہ کیا حالت ہے؟۔
مجھے لگاکہ ان کا آخری بلاوا آگیا ہے اور وہ بس حیات اخروی کے لیے شد رحال کرنے ہی والے ہیں تو اسی پس منظر کو اپنے ذہن میں رکھ کر، داغِ مفارقت سے جلتے ہوئے دل کے ساتھ میں نے افسوسناک لہجے میں عرض کیا:سلطان ذی جاہ! میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ(اوراس کی بارگاہ میں حاضر) ہونے کا وقت قریب آ گیاہے۔
یہ سن کرسلطان عظیم میری طرف متوجہ ہوئے اور حیرت واستعجاب سے فرمایا: حسن،حسن! تم یہ کیا کہہ رہے ہو۔کیاتم سمجھتے ہو کہ میں اب تک کسی اور کے ساتھ تھا! کیا تم نے اللہ سے میرے تعلق کے درمیان کوئی کمی یاکوتاہی محسوس کی ہے؟
ان کے اس جملے نے مجھے سراپاندامت بنادیا اور میں نے عرض کیا: نظربد دور میرے سلطان! میری یہ مراد ہرگز نہیں تھی۔ میرے وہم میں بس کچھ یوں آیاکہ آپ خود کو اس وقت جس حالت میں پاتے ہیں وہ دیگر حالتوں سے کچھ مختلف ہے۔
سلطان عظیم نے ایک دوسری دنیا میں داخل ہوتے ہوئے مجھے آخری بار مخاطب کرتے ہوے فرمایا:حسن! سورۂ یس پڑھو۔
میں نے چشم گریاں اور دلِ بریاں کے ساتھ سورۂ یس پڑھنا شروع کیا۔جب میں آیت کریمہ کے لفظ’’سلامٌ‘‘ پرپہنچا۔توٹھیک اسی وقت سلطان نے اپنی جاں جان آفریں کے حوالے کردی۔
آپ دیکھیں کہ جو لوگ اپنی پوری زندگی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ نہیں ہوتے انھیں کبھی بھی دم واپسیں اس قسم کی فضیلت و سعادت نصیب نہیں ہوتی۔اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ایک بامقصد اور اللہ ورسول کے احکامات پر عمل پیرا زندگی گزاریں تاکہ اچھی موت ہمارابھی نصیب جاں بن سکے۔
٭عہد عثمانیہ کے سب سے پہلے مؤرخ عاشق شہزادے نے ایک مرتبہ کہاتھاکہ یہ آل عثمانی کوئی عام خانوادہ نہیں بلکہ بڑے معتبر اور مقدس پشتوں سے ان کا تعلق رہاہے۔ان سے کبھی بھی کسی ناجائزکام کا صدور آنکھوں نے نہیں دیکھا۔ جوچیزیں از روئے شرع گناہ کے زمرے میں آتی تھیں ان سے بچنے کی انھوں نے حتی المقدور بھرپورکوشش کی۔
یہ ان کے انھیں مذکورہ وصف کی کرشمہ گری تھی کہ شیخ الاسلام ملا فیناری نے ڈنکے کی چوٹ پر بھری عدالت میں سلطان یلڈرم بایزید کی گواہی یہ کہتے ہوئے ٹھکرادی کہ انھوں نے جماعت سے نماز نہیں ادا کی۔جب سلطان نے اس کا سبب پوچھا تو انھوں نے اس کا جواب دیتے ہوے کھلے بندوں فرمایا:سلطان محترم! میں آپ کو جماعت میں نہیں دیکھتا؛ حالاں کہ اس قوم کے رہنما ہونے کے باعث آپ کو صف اوّل میں نظر آنا چاہیے۔بالفاظ دیگراگر آپ کارہائے خیر سرانجام نہ دیں گے تواور کون دے گا!یوں ہی اگر آپ ہی جماعت سے پہلوتہی کریں گے تو ذرا سوچیں کہ لوگوں کے لیے آپ کتنا برا نمونہ پیش کررہے ہیں۔بس یہی سبب ہے جو آپ کی گواہی کے قابل قبول ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اس واقعے کے بعد سلطان ہمیشہ پنج وقتہ نماز باجماعت مسجد میں ادا کرتا ہوا پایاگیا۔چھ صدیوں سے زائد عرصہ تک جو ملک اسلام کا محافظ رہا اور جس کے سلاطین و رعایاایسے اوصاف کے حامل رہے، اسے صرف آٹھ سال کے اندر اسلام سے بیگانہ کردیاگیااور اسلامی احکام بری طرح پامال کیے گئے، پھر نتیجے میں 29؍اکتوبر1923 کو باقاعدہ جمہوریت کا اعلان کردیاگیا اور مصطفی کمال اتاترک نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا جس کے بعد اسلامی قوانین تبدیل کردیے گئے، مگر الحمدللہ! آج پھر ترکی کے لوگ اسلامی نظام زندگی کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ اب وہاں اسلام پسندوں کی حکومت ہے اور سیکولر جماعتیں انتخابات میں بری طرح شکست کھاچکی ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ انشاء اللہ !ترکی دوبارہ احیائے دین اور اسلام کی سربلندی میں اپنا کردارضرور ادا کرے گا۔
نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کیلئے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *