کشمیریوں کا دل جیتنے کی ضرورت

سنتوش بھارتیہ
اس بار کا تشدد اتنے دنوں تک اس لئے چلا، کیونکہ مسلسل لوگوں کی موت ہو رہی تھی۔ ہلاکتوں کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر اترآتے تھے اور حکومت کرفیو لگا دیتی تھی۔ مخالفت احتجاجی مظاہروں میں تبدیلی ہوتی رہی اور حکومت اسے دبانے کے لئے زیادہ سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتی رہی۔ ا س سے عوام اور حکومت کے درمیان نفرت اور غیر یقینی کی گہری کھائی پیدا ہو گئی۔ عمر عبد اللہ کے بیان پر بی جے پی نے جس طرح اسمبلی میں ہنگامہ کیا، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ کشمیر میں بحالیٔ امن کے خلاف ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ کشمیر کے لوگوں میں اور دیگر ریاستوں میں رہنے والے لوگوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔دوسری ریاستوں میں رہنے والوں کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔کشمیری ہندوستان میںاپنی مرضی سے شامل ہوئے۔ کافی دنوں تک کشمیر میں وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ہندوستان کے ساتھ ان کا انضمام شرائط کے ساتھ ہوا تھا۔ آج کشمیر کی سماجی اور اقتصادی حالت خراب ہے تو انہیں لگتا ہے کہ حکومت سے مل کر انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ یہ فرق ہندوستان کے لوگوں کو سمجھنا چاہئے۔ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان سے ملحق ریاست پنجاب ہندوستان کی سب سے ترقی پذیر ریاست ہے لیکن اس ریاست کے باہر آتے ہی جموں کشمیر میں غریبی نظر آتی ہے۔ کشمیری لوگوں کا درد کیا ہے یہ ہندوستان کے لوگوں کو پتہ ہی نہیں چل پاتا ہے۔کشمیر آج بھی ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے منقطع ہے۔آپ کسی بھی ریلوے اسٹیشن پر جائیں آپ کو ہر ریاست کا شہری مل جائے گا۔ کیرل، تمل ناڈو، یو پی ، بہار اور مہاراشٹر سب جگہ کے لوگ مل جائیںگے، لیکن کشمیری نہیں ملتے ہیں۔ اب ہم نے اس پہیلی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ کشمیر میں غریبی نہیں ہے یا بے روزگاری نہیں ہے۔ ایسا تو نہیں ہے کہ لوگ روزی روٹی کے لئے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ ہم لوگوں نے کشمیریوں کے ساتھ ایسا برتائو کیا ہے کہ کشمیری اپنی روزی روٹی کے لئے وہاں سے باہر نکلنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتے ہیں۔
1991میں مالے میں ہوئی سارک سمٹ کا ایک واقعہ آپ کو بتاتا ہوں۔ اسٹیج پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف تشریف فرماں تھے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم چندر شیکھر نے انہیں دیکھتے ہی پوچھا کہ آج کل آپ ہندوستان کے خلاف بہت بیان دے رہے ہیں، ہر جگہ کشمیر کے مسئلہ کو اٹھا دیتے ہیں۔ نواز شریف نے جواب دیا کہ ہمیں کشمیر دے دیجئے تو ہم ہندوستان کے خلاف بولنا بند کر دیں گے۔ چندر شیکھر جی انہیں اپنے کمرے میں لے آئے اور دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہوئی۔چندر شیکھر جی نے کہا کہ میں پاکستان کو کشمیر دینے کے لئے تیار ہوں، لیکن بشرطیکہ آپ کو پھر تمام مسلمانوں کو لے کر پاکستان جانا ہوگا۔ یہ سنتے ہی نواز شریف حیران رہ گئے۔ چندر شیکھر جی نے کہا کہ جس دلیل پر آپ کشمیر کو لینے کی بات کر تے ہیں وہی دلیل ہندوستان کے ہر شہر اور گائوں میں لگا دی جائے تو ہمارے ملک میں کسی بھی جگہ مسلمان نہیں رہ پائیں گے۔ انہیں وہاں سے بھگا دیا جائے گا۔ نواز شریف خاموش ہو گئے۔اس واقعہ کے بعد سے نواز شریف نے کشمیر کے معاملہ میں بیان بازی کرنے سے پرہیز شروع کر دیا۔
کشمیر ہندوستان کے لئے کسی زمین کا ٹکڑا نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کے آئین، ہندوستانی تہذیب کا امتحان لے رہا ہے۔ اگر ہم کشمیر میں سیکولر نہیں رہ سکتے تو بہار کے کسی شہر میں سیکولر کیسے رہ سکتے ہیں۔ کشمیر کا سوال ہندوستان کے پندرہ کروڑ مسلمانوں کا سوال ہے۔ کشمیر کا سوال ہندوستان کے آئین کے سیکولراسٹرکچر کا سوال ہے۔ سوشل فیبرک کی بنیاد کا سوال ہے۔ٹھیک اسی طرح سے جیسے پنجاب اور ہریانہ کی ترقی ہو اور بہار اور اڑیسہ میں نہ ہو۔ اگر ایسا ہوگا تو نکسل پرستی جیسی تحریک کا اٹھنا لازمی ہے۔
کشمیر کے حالات اب ایسے ہو گئے ہیں کہ تشدد، کرفیو اور ہڑتال سے لوگ عاجز آ چکے ہیں اور حریت کانفرنس کی اپیل کو لوگ نظر انداز کرنے لگے ہیں۔ اب سب یہی چاہتے ہیں کہ جیسی صورتحال ہے بس وہی بنی رہے اور تشدد کالامتناہی سلسلہ ختم ہو جائے۔حریت کے تیور بھی اب نرم ہو گئے ہیں۔  سڑکوں پر گاڑیاں آنے جانے لگی ہیں، سختی کا ماحول ختم ہو گیا، رہائشی علاقوں سے پولس چوکیوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے عمر عبد اللہ کے تئیں کشمیری عوام کا اعتماد بڑھا ہے۔ایسے میں حکومت ہند اور جموں و کشمیر کی حکومت کے سامنے یہ ایک سنہری موقع ہے جس میں کشمیری عوام کا دل جیتا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو فوراً کسی حل کی توقع تو نہیں ہے لیکن سب چاہتے یہی ہیں کہ حکومت حل نکالنے کی جانب کچھ پہل ضرور کرے۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تولوگوں کی ناراضگی ختم ہو جائے گی اور دوسراحکومت کو وقت بھی مل جائے گا۔ حکومت کو کچھ نکات پر فوراً عمل کرنا چاہئے۔سب سے اہم شرط یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر تشدد نہ ہو۔قریب 60لڑکوں کو گزشتہ کچھ دنوں میں پتھر چلانے کے جرم میں جیل بھیجا گیا ، انہیں رہا کیا جانا چاہئے تاکہ عوام کے غصہ میں کمی آئے اور جن لوگوں کی موت ہوئی ہے ان کے اہل خانہ کو اعلان شدہ پانچ پانچ لاکھ کا معاوضہ فوراً ملے۔ علاوہ ازیں حکومت نے جو پبلک سیفٹی ایکٹ میں تبدیلی کرنے کا وعدہ کیا ہے اس پر مثبت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ موضوعات ایسے ہیں جس پر کشمیر کے لوگوں کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ ان تمام چیزوں پر حکومت کب عمل کرتی ہے، لوگ اس کے منتظر ہیں۔ حکومت جتنا جلد ان معاملات کو نمٹائے گی لوگوں کا غصہ بھی اتنی جلدی ہی ختم ہو جائے گا۔ حکومت کی جانب سے اکتوبر ماہ میں امتحان دینے کی چھوٹ دی گئی ہے۔ ایسا ہی کچھ نومبر اور دسمبر میں کرنا ہوگا۔۔۔۔تاکہ عوام کو یہ محسوس ہو کہ حکومت ضروری کام کاج کے ساتھ ساتھ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کا یہ پہلا کام ہونا چاہئے کہ وہ اپنے برتائو سے کشمیر کے عوام میں قیادت اور حکومت کی گرفت مضبوط کرے۔ بعد ازیں حریت کے مطابات پر متوجہ ہونے کی ضرورت پڑے گی۔ حریت نے اپنا جو پانچ نکاتی پروگرام دیا تھا، اس میں آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ، آٹونامی، حقوق انسانی، نوجوانوں کی رہائی اور عوامی تحفظ وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت اگر کشمیر میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ پہلے کشمیر کے لوگوںکا دل جیتنے کی ضرورت ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *