کشمیر کے لوگ بھی اپنے ہیں، انہیں ایسے مت مارو

وسیم راشد
گزشتہ انتخابات کے بعد جب عمر عبد اللہ نے کشمیر کا اقتدار سنبھالا تھا، تو کشمیری عوام کوان سے بڑی بڑی امیدیں تھیں۔عوامی توقعات یہ تھیں کہ عمر نئی پیڑھی  کے ہیں، جوان ہیں، مرکز ی حکومت میں وزیر رہنے کاتجربہ ان کے پاس ہے اس لیے ان کے کام کرنے کا طریقہ اور انداز کچھ الگ ہوگا۔اقتدار سنبھالنے کے بعد عمر صاحب سے پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ گزشتہ سال شوپیان میں جن دو لڑکیوں کا قتل ہوا تھا، عمر صاحب نے اسی وقت پورے معاملہ کے بارے میں جانے بغیریہ کہہ دیا کہ لڑکیوں کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی ہے۔ان کے اس بیان کو نادانی  مانا گیا۔ بعد میں اس کے حوالہ سے بہت ہنگامہ ہوا اور کشمیر دو ماہ تک بند رہا۔ صوبے کی اس خراب صورتحال کے لئے عمر کے اس بیان کو ذمہ دار مانا گیا۔ تمام تر تنازعات کے بعد سی بی آئی کو لایا گیا۔ حکومت نے اپنا چہرہ بچانے کے لئے وہی رپورٹ سامنے ڈال دی، جس میں عمر صاحب نے کہا تھا کہ دونوں لڑکیاں ڈوبنے سے مری ہیں۔لوگوں کو عمر صاحب کی وہ نادانی آج بھی یاد ہے۔ اس وقت امر ناتھ یاترا کا وقت تھا اور اس کے سبب یاترا پر بھی خاصہ اثر پڑا تھا۔
ماہ جون میں ایک کمسن بچے طفیل مٹو کی موت ہو گئی تھی ۔ جب موت ہوئی اور مقامی ٹی وی چینلوں پر یہ خبر دکھائی گئی تو عمر صاحب نے پہلی تنقید یہی کی کہ طفیل کی موت عید گاہ کے پاس کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک لڑکے کے ذریعہ بلا لگنے کے سبب ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ ایک لڑکے نے بلا اٹھایا اور طفیل پر حملہ کر دیا، جس سے اس کی موت واقع ہو گئی، لیکن لوگوں کا دبائو راتوں رات بڑھ گیا اور اگلی صبح پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ہمیں بتا دیا کہ طفیل کے سر کے پرخچے اڑ گئے تھے، کیونکہ اس کے سر کے اندر ٹیئر گیس شیل گھس گیا تھا۔ یعنی عمر صاحب نے جو بیان دیا تھا، وہ ایک بار پھر جھوٹ ثابت ہوا، جو بچکانہ اور لوگوں کو بہکانے جیسا تھا۔ لوگوں کا اشتعال ایک بار پھر شباب پر پہنچ گیا، کیونکہ اس بار بھی عمر صاحب نے وہی کہا کہ ان کے پاس معاملہ کی مکمل معلومات نہیں تھی۔ طفیل کی موت کے بعد حالات بے حد خراب ہو گئی جس کے سبب گزشتہ تین ماہ سے کشمیر پوری طرح بند ہے۔ خواہ یہ کرفیو ہو یا علیحدگی پسندوں کی چال، لیکن گزشتہ قریب تین ماہ میں تقریباً90ہلاکتیں ہو چکی ہیں، یعنی یومیہ اوسطاًایک موت ۔اموات کا سلسلہ جاری رہا، جسے نہ عمر صاحب روک سکے اور نہ ہی لوگوں سے معافی مانگ سکے۔نتیجتاً لوگوں کا غصہ پروان چڑھتا رہا۔ عمر صاحب کی یہ دو غلطیاں اہم ہیں کیونکہ گزشتہ سال بھی ایک قتل کے سبب یہ آگ بھڑکی تھی اور اس بار بھی طفیل مٹو کے حوالہ سے یہ آگ بھڑک گئی۔کشمیری عوام کا یہ ماننا ہے کہ عمر عبد اللہ کو اقتدار میں لانے کا مقصد گورننس نہیں ، بلکہ مسائل کا حل نکالنے کی امید تھی،لیکن یہ امید پوری نہیں ہو پائی۔ لوگوں کو جب اس بات کا احساس ہوا کہ عمرمسئلہ کا حل نہیں نکال پائیں گے تو وہ مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ عمر صاحب نے لوگوں کی ناراضگی دور کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا، سوائے مرکزی حکومت کی ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کے۔ خواہ فوج کی مدد لینے کا معاملہ ہو یا کرفیو لگانے کا۔ انھوں نے مرکز کے حکم کی تعمیل کی۔لوگوں کو یہ لگا کہ عمر عبد اللہ ان کے نمائندہ ہونے کے باوجود دہلی سے گائڈ لائن لیتے رہے۔لوگوںکو محسوس ہونے لگا کہ پی ڈی پی کی حکومت بہتر تھی۔ جب پی ڈی پی اقتدار میں آئی تو اس نے حل تونہیں دیا لیکن اس کے لئے پہل ضرور کی۔سری نگر، مظفر آباد سڑک کا کھلنا اس کی ایک مثال ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں نے اٹل بہاری واجپئی جی کو یاد کیا، جنھوں نے اعتماد بحالی کے اقدام  کی شروعات کی تھی۔ واجپئی بات چیت میں یقین رکھتے تھے اور انھوں نے ایسا کیا بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے این این وہرا کے گورنر راج کو بھی یاد کیا کیونکہ انھوں نے رائونڈ ٹیبل بلوائی تھی۔ نیشنل کانفرنس کی موجودہ حکومت کا براہ راست موازنہ لوگ گزشتہ تین حکومتوں سے کر رہے ہیں۔ جس میں پی ڈی پی بھی ہے، جس میں بی جے پی بھی ہے اور این این وہرا کا گورنرراج بھی ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ عمر عبد اللہ کو آگے لانے کے پیچھے نیشنل کانفرنس کا منشا یہ تھا کہ اس سے لوگوں کی امیدیں پارٹی سے جڑ جائیں گی کیونکہ وہ جوان ہیں، عام لوگوں سے میل جول کر سکتے ہیں۔ ان کے حوالہ سے لوگوں کی کوئی پیش گوئی نہیں تھی، نہ اچھی اور نہ ہی بری، لیکن عمر صاحب کو کشمیر کی سیاست کا ڈائنامکس سمجھ میں نہیں آیا۔ مصیبت کی گھڑی میں وہ اپنی انتظامی قابلیت بھی نہیں دکھا پائے۔ گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں عمر صاحب نے کہا تھا کہ پولس اور فوج ان کی سنتی  ہی نہیں ہیں۔ وہ پولس اور حفاظتی دستوں کو جو حکم دیتے ہیںاس کی صحیح تعمیل نہیں ہوتی ہے۔ یعنی انھوں نے خود قبول کر لیا کہ انتظامیہ پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔
کشمیر نے پہلے بھی پی ڈی پی اور کانگریس کی مخلوط حکومت دیکھی ہے۔اس میں بہت ساری دراڑیں تو تھیں، لیکن اسے مرکز کی حمایت حاصل تھی اور کانگریس اہم کردار میں تھی، اس لئے غلام نبی آزاد کسی طرح حکومت چلانے میں کامیاب رہے۔ لیکن چونکہ اس بار تال میل میں اہم کردار نیشنل کانفرنس کا ہے۔ ایسی حالت میں جو تال میل کا شریک کار ہوتا ہے، اس پر پورا اعتماد نہیں کر سکتے ۔ کہیں نہ کہیں وہ بھی اپنی الگ سیاسی روٹی سینکنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایک افسر دوسرے افسر کی نہیں سنتا ، ایک وزیر دوسرے وزیر کو نہیں مانتا ۔ایک پارٹی دوسری پارٹی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہے۔ کانگریس نے پچھلی بار بھی ایسا کیا تھا اور اس بار بھی کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال گزشتہ دنوں دیکھنے کو ملی۔  جب یکم ستمبر کو کشمیر کے انٹر نیشنل ایئر پورٹ کوبندکرنے کا اعلان ہوا تھا۔ اس کے بعد عمر صاحب نے وزارت شہری ہوا بازی سے اپیل کی تھی کہ کسی بھی حالت میں متبادل ایئر پورٹ کو کھلا رکھا جائے۔عمر صاحب دو تین دنوں تک ہاتھ پیر مارتے رہے، لیکن انہیں منع کر دیا گیا۔ عمر صاحب دہلی سے آ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ایئر پورٹ بند ہو جائے گا ۔اس بات کے لئے وہ یہاں کے لوگوں سے معافی بھی مانگتے ہیں۔ اس کے اگلے ہی دن سیف الدین سوز یہ اعلان کرتے ہیں کہ متبادل ایئرپورٹ کھلا رہے گا۔ یہ خوشخبری مرکزی حکومت سیف الدین سوز یعنی اپنے نمائندے کے ذریعہ کشمیر کے لوگوں تک پہنچاتی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہی تھا کہ اس کا کریڈٹ کانگریس کوہی جائے۔ تال میل میں اس طرح کا گیم پلان چلتا رہتا ہے اور یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ کشمیر میں جس طرح کا تشدد ہوا ہے، اس میں کہیں نہ کہیں اپوزیشن یا تال میل کی حصہ دار جماعتوں کا ہاتھ بھی ہے۔شک کی سوئی پی ڈی پی کی جانب گھومتی ہے، تو ایک دلیل کانگریس کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے۔کانگریس بھی اس وقت اس طرح کا کھیل کھیل سکتی ہے تاکہ لوگوں کے سامنے یہ صاف ہو جائے کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس دہشت گردی کی وجہ سے کشمیر پر حکومت کرنے کی اہلیت کھو چکی ہیں اور کانگریس کی حکومت ہی ریاست کو دوبارہ ٹریک پر لا سکتی ہے۔یہ کانگریس کا ایک منشا ہو سکتا ہے۔ ایسا ہونے سے کشمیر کے لوگوں کو یہ محسوس ہوگا کہ لابی بنانے اور اسے خوش کرنے کے لئے سیاسی پارٹیاں کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ اس لئے اس وقت کشمیری عوام نیشنل کانفرنس کی نیک نیتی پر شک کر رہے ہیں۔ کانگریس کے ارادوں پر بھی شک کر رہے ہیں۔ اگر پی ڈی پی کوئی مدد دے رہی ہے تو اس کی نیت پر بھی شک کی تلوار لٹک سکتی ہے۔ یہ تمام پارٹیاں اپنے ذاتی وسیاسی مفادات کو پورا کرنے میں لگی رہتی ہیں اور تال میل میں انھوں نے ہمیشہ دوسرے کو چوٹ پہنچائی ہے۔اگر بات علیحدگی پسندوں کی کریں تو کئی سالوں سے ان کی کافی مضبوط پکڑ ہے۔ اہم کڑی کی سیاسی پارٹیوں کی باہمی رسہ کشی میں یہ پکڑ مسلسل مضبوط ہوتی رہتی ہے۔ پی ڈی پی کے دور اقتدار میں نیشنل کانفرنس کے دائرۂ اثر والے علاقوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے علیحدگی پسندوں نے موقع کا فائدہ اٹھایا او رپوری وادی کشمیر میں اپنے دائرہ اثر کووسیع کر لیا۔کشمیر میں گیلانی صاحب کو عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ان کی سیاسی اپیل کے ساتھ ساتھ مذہبی اپیل بھی ہے۔ ایسا ہی حال میر واعظ کا بھی ہے۔ اب عید پرجو ہوا اس میں عمر صاحب اس لئے ہائی لائٹ ہو گئے، کیونکہ عید سے کچھ دن قبل گیلانی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ عمر صاحب آج تک صرف جامع مسجد میں ہی نماز کے بعد تقریر کرتے تھے اورعوام سے براہ راست خطاب کرتے تھے، لیکن جب گیلانی صاحب گرفتار ہو گئے تھے تواس بار عمر صاحب نے فیصلہ لیا کہ وہ نماز کے لئے درگاہ جائیں گے۔ درگاہ میں عید کی نماز کے بعد مظاہرے کو پر امن بنائے رکھنے کی شرط پر اجازت لینے کے بعد وہ لال چوک کی جانب نکل پـڑے۔یہ عید کا حادثہ ہے اور پولس سے اجازت نہ ملنے کے باوجود حکومت نے انہیں اجازت دے دی۔ پولس کے منع کرنے کے باوجود کشمیر کے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کرنے کی انہیں اجازت مل گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ لال چوک میں ایک جگہ پر جب یہ لوگ جمع ہوئے تو وہاں جتنی بھی سرکاری عمارتیں تھیں، ان میں آگ لگا دی گئی۔ شام تک یہ واضح ہو گیا کہ لوگ اتنے مشتعل ہو چکے ہیں کہ وہ کسی بھی لیڈر کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں اور قانون اپنے ہاتھ میں لے کر کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ دبائو بن سکے جو وہ مرکز پر بنانا چاہتے ہیں۔ یہ جو تشدد ہوا، اس کا حریت کو یہ فائدہ ملا کہ عید کے بعد جو یہاں کے حالات بگڑ چکے ہیں، اس کے پہلے ہی گیلانی صاحب نے اپنا فائیو پوائنٹ پروگرام مرکز کو دے دیا تھا، جب مرکز نے ان سے یہ کہا کہ وہ ان کو اس طرح سے لیڈ کریں تاکہ تشدد نہ ہو اور بات چیت ہوجائے۔
حریت نے اپنا جو فائیو پوائنٹ پروگرام دیا تھا، اس میں آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ، آٹونامی، ہیومن رائٹس، نوجوانوں کی رہائی اور عوامی تحفظ ہے۔ یہ پانچ ایشوز رکھتے ہوئے اس نے مرکز سے کہا کہ یہ اس کا شارٹ ٹرم گول ہے۔ اس کے پورا ہونے کے بعد ہم یہاں امن و سکون قائم کرنے کی کوشش کریںگے۔ پھر لانگ ٹرم گول کا تذکرہ کریںگے، جس میں کانفیڈنس بلڈنگ میجرس شامل ہیں اور مرکز سے بات چیت کی دعوت ملنے کے بعد ہم بات چیت کریںگے۔ لیکن یہ پانچ پوائنٹ اس کی شرط ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کا لب لباب یہ ہے کہ سارا معاملہ آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ کو واپس لینے پر ہی آکر ٹھہر گیاہے۔ عید سے پہلے ہی عمر صاحب نے کہا تھا کہ پانچ اضلاع میں اس کو ہٹا دیا جائے گا۔ گہرائی میں جاکر دیکھیں تو یہ پتا چلتا ہے کہ پانچ اضلاع میں پہلے سے ہی آرمی کا کوئی رول نہیں رہا ہے۔ وہاں صرف سی آر پی ایف اور جے کے پولس کا کنٹرول ہے، جو آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔ پھر بھی لوگوں کا غصہ کم کرنے میں یہ اعلان کارگر ہوسکتا تھا، لیکن اسے بھی مسترد کردیا گیا۔ اس کے بعد آگ میں گھی ڈالنے والا کام یہ ہوگیا کہ سی سی ایس کی میٹنگ جو عید کے دن طے تھی اور لوگ اس کے انتظار میں تھے کہ مرکز نے کہا ہے کہ عید کا تحفہ ملے گا، اس کو عین عید کے دن مسترد کردیا گیا۔ وہ بھی صرف اس لئے کہ ایک یا دو وزیر ابھی نہیں آسکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا اس پر یہ ردعمل رہا ہے کہ کیا کشمیر کو ترجیح نہیں بنایا جا سکتا ہے؟ کیا کشمیر کے جذبات کو اہمیت نہیں دی جاسکتی ہے؟ اور ایسا کیا تھا کہ دو لوگ نہیں آسکے اور یو پی اے حکومت نے سی سی ایس جیسی بڑی چیزکو مسترد کردیا، جب کہ لوگوں کی نظریں اس پر ٹکی ہوئی تھیں اور وہ عید کے تحفے کا انتظار کررہے تھے۔ اس طرح سے یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ ہمارے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ مرکز ہمیشہ سوچتا ہے کہ وقت گزرجائے گا، غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا، ایک راحتی پیکیج دے دیا جائے گا، لون دے دیا جائے گا، سود معاف کردیا جائے گا اور لوگ خاموش ہوجائیںگے۔ لیکن اس بارمعاملے نے طول پکڑ لیا تھا اور ان پانچ پوانٹ پر لوگ سنجیدہ ہوگئے تھے ،یہ کہا گیا کہ منی پور سے آرمڈ فورس اسپیشل پاور ایکٹ ہٹا دیا گیا تو یہا ںسے کیوں نہیں؟
عام لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نیک انسان ہیں۔ اگر ان کے سامنے مسئلہ صحیح طریقے سے رکھا جائے تو وہ کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالیںگے۔ کانگریس پارٹی کے تئیں لوگوں کے اچھے خیالات نہیں ہیں۔ وہ اسے کشمیر کے عوام کا مخالف مانتے ہیں، لیکن منموہن کے تعلق سے ایسا نہیں ہے۔ لوگوں کی یہ خواہش بھی ہے کہ تشدد ختم ہوجائے۔ امن وسکون قائم ہوجائے اور کرفیو ہٹ جائے۔ یہ لوگوں کے لئے ایک بڑی ضرورت ہے، کیونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں تھوڑی سی آزادی ملے۔ طبی سہولیات، دوا وغیرہ کی سہولتیں ایک دم ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔ بچوں کا کھانا بازار سے پوری طرح غائب ہوچکا ہے۔ لوگ اس کرفیو سے اب عاجز آچکے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ جس طرح سے املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، لوگ اس کے بھی خلاف ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ اسکول چاہے اقلیتوں کا ہو یا ہندوؤں کا، اسے کوئی نقصان پہنچے۔ دوسری بات یہ کہ قرآن کو جلانے کی اپیل پر ہندوستان میں یا پوری دنیا میں کہیں بھی پیر کو کوئی ہنگامہ نہیں ہوا، لیکن اس جھوٹی خبر کو جان بوجھ کر کشمیر تک پہنچایا گیا اور کشمیر میں تشدد کا سب سے خطرناک دن وہی رہا، جب سرکاری طور پر 17اور غیر سرکاری طور پر 19لوگ مارے گئے۔ موقع پرست لوگ کہاں کہاں ہیں، یعنی کشمیر پر سیاسی آفت ہر طرف سے آ رہی ہے۔ کشمیر کے حالات کے پیش نظر ہر کوئی اپنا ذاتی مفاد دیکھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ جو اعتماد میں کمی ہے وہ مخالفت کرتے وقت نہ صرف سی بی آئی اور ریاستی حکومت کے خلاف نظر آئی، بلکہ مرکزی حکومت کے خلاف بھی نظر آئی۔ اس بات کو بار بار واضح کیا گیا ہے کہ سارا معاملہ صرف اورصرف اعتماد کا ہے۔ایک بار کوئی ایسا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے نئی نسل کا اعتماد بحال ہوجائے، پھر یہ مسئلہ جلد ہی حل ہوجائے گا۔
کشمیری اس وقت گزشتہ 50سال کی مثال بار بار اس لئے دے رہے ہیں کہ جو بھی حکومت آئی مرکزنے ہی اسے گھمایا۔این سی اور پی ڈی پی جیسی پارٹیاں کچھ بھی نہیں کرسکیں۔ اس لئے ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے اور آج ہمیں نہ عمر عبداللہ کی ضرورت ہے اورنہ محبوبہ مفتی کی۔ جب تک یہاں مخلوط حکومت رہے گی، یہ مسئلہ برقرار رہے گا۔ جب تک ایک پارٹی جوابدہ نہیں ہوجاتی ہے اس وقت تک یہ لوگ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہیںگے۔ این سی کہے گی کہ کانگریس ہمارا ساتھ نہیں دے رہی ہے اور کانگریس کہے گی کہ ہم مایوس ہیں اس لئے این سی کے ساتھ نہیں ہیں۔ سیاسی پارٹیاں ذمہ داری نہیں لے رہی ہیں، بلکہ ایک دوسرے پر تھوپ رہی ہیں۔ جب تک ہمارے پاس ایک پارٹی، ایک حکومت، ایک وزیر اعلیٰ نہیں ہوگا، کوئی بھی جوابدہ نہیں ہوگا۔ یہی آج پورے کشمیر کی حقیقت ہے۔ اگر آج کوئی اور پارٹی ہوتی تو شاید تب بھی حالات یہی ہوتے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *