جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں

ہمارے پاس قارئین کے ایسے کئی خطوط آئے ہیں، جن میں بتایا گیا کہ آرٹی آئی کے استعمال کے بعد کس طرح انہیں پریشان کیا جارہا ہے یا جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر ان کا ذہنی اور مالی استحصال کیا جارہا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور آرٹی آئی قانون کے وجود میں آنے کے فوراً بعدسے ہی اس طرح کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ درخواست دہندوں کو دھمکیاں دی گئیں، جیل بھیجا گیا، یہاں تک کہ کئی آرٹی آئی کارکنان پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔جھارکھنڈ کے للت مہتا، پنے کے ستیش شیٹی جیسے آرٹی آئی کارکنان کا قتل تک کردیا گیا۔ باوجود اس کے ہم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ان سب باتوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں اس قانون کا استعمال اس طرح کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ مطلب زیادہ جوش کے بجائے تھوڑی سمجھداری دکھانی ہوگی۔ خصوصاً ایسے معاملوں میں جو مفاد عامہ سے جڑے ہوں اور جس اطلاع کے عام ہونے سے طاقتور لوگوں کا پردہ فاش ہوتا ہو، کیونکہ سفید پوش طاقتور لوگ خود کو محفوظ رکھنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ وہ سام، دام، دنڈاور بھید کوئی بھی پالیسی اپناسکتے ہیں۔ یہیں پر ایک آرٹی آئی درخواست دہندہ کو زیادہ ہوشیاری اور سمجھداری دکھانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طورپر مان لیجئے کہ آپ کو ایک ایسے معاملے کی اطلاع ہے، جس کا عام ہونا ضروری ہے، لیکن اس سے آپ کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے، ایسی صورت میں آپ کیاکریںگے؟ ہماری سمجھ اور مشورہ کے مطابق آپ کو خود آرٹی آئی درخواست دینے کی بجائے کسی اور سے درخواست دلوانی چاہئے۔ خصوصاً اس ضلع سے باہر کے کسی شخص کی جانب سے۔ آپ یہ کوشش بھی کرسکتے ہیں کہ اگر آپ کے کوئی دوست ریاست سے باہر رہتے ہوں تو آپ ان سے بھی اس معاملے پر آرٹی آئی درخواست دلواسکتے ہیں۔ اس سے ہوگا یہ کہ جو لوگ آپ کو دھمکیاں دے سکتے ہیں، وہ ایک ساتھ کئی لوگوں یا دوسری ریاست میں رہنے والے درخواست دہندہ کو دھمکیاں نہیں دے پائیںگے۔ آپ چاہیں تو یہ بھی کرسکتے ہیں کہ ایک معاملے میں سیکڑوں لوگوں سے درخواست دلواسکتے ہیں۔ اس سے دباؤ کافی بڑھ جائے گا۔ اگر آپ کا بذات خود کوئی معاملہ ہو تو بھی کوشش کریں کہ ایک سے زیادہ لوگ آپ کے معاملے میں آرٹی آئی درخواست ڈالیں۔ اس کے لئے آپ اپنے علاقے میں کام کرنے والے کسی غیر سرکاری ادارے کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔ گزشتہ شمارے میں ہم نے اپنے قارئین کے سوالوں کو شامل کیا تھا۔ ہم نے اپنی طرف سے ان کے مسائل کے حل کے لئے مشورے بھی دئے تھے۔ توقع ہے کہ ہمارے قارئین ان مشوروں پر عمل کرتے ہوئے زنگ آلودہ سرکاری انتظامیہ کو اپنے سوالوں سے صاف کرنے کی کوشش کریں گے۔ مطلب یہ کہ آرٹی آئی درخواست داخل کرکے اپنی اور عام آدمی کی پریشانیوں کے بارے میںاطلاع ضرور طلب کریںگے۔ اس شمارے میں ہم ان قارئین کے خطوط شائع کررہے ہیں، جنہوں نے ہمیں بتایا کہ آرٹی آئی کے استعمال میں انہیں کن کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ کے سوال-ہمارے جواب

جھوٹے مقدمے میں پھنسایا
میں نے سڑک کی زمین کوغاصبوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے حق اطلاعات قانون کا سہارا لیا۔ انفارمیشن کمیشن کے حکم پر نامکمل اطلاع ملی اور مجھے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا گیا۔ اس وجہ سے مجھے ذہنی اور مالی خسارہ برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
___راجیندر کمار گوٹھوال، باندی کوئی، دوسہ، راجستھان
راجیندرصاحب، ہم آپ کی لڑائی کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جیسا ہم نے اس شمارے میں بتایا ہے کہ ایسے معاملوں میں خود آرٹی آئی درخواست داخل کرنے کی بجائے کسی اور سے درخواست دلوانی چاہئے اور ایک نہیں ، بلکہ متعدد لوگوں سے درخواست دلوائیں۔ آپ تنہا تھے اس لئے آپ کو مقدمہ میں پھنسادیا گیا۔ ذرا سوچئے اگر ایک ساتھ کئی سارے لوگ اس معاملے میں آرٹی آئی درخواست ڈالتے تو کیا سبھی لوگوں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانا ممکن ہوتا۔
آرٹی آئی کی ناقدری
میںنے آرٹی آئی کے تحت اپنے سسر جانکی شرن سنہا، جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں، کے توسط سے بہار پولس کوآپریٹیو سوسائٹی پٹنہ میںجمع کرائی گئی رقم کے تعلق سے اطلاع طلب کی تھی۔ ریاستی انفارمیشن کمیشن میںجانے کے باجود مجھے اطلاع نہیں ملی۔
_______پریہ ورت کمار امبشٹھ، گیا، بہار
آپ فی الحال ایک اور یاددہانی کاخط ریاستی انفارمیشن کمیشن میں بھیج سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے تو آپ اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ جاسکتے ہیں۔
اندرا آواس میں دھاندلی
میری پنچایت میں اندرا آواس ویٹنگ لسٹ بنی ہوئی ہے، لیکن پنچایت سکریٹری دھاندلی کرکے کسی کو بھی اندرا آواس الاٹ کردیتا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت جب میں نے اس بارے میں اطلاع طلب کی تو معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اپیل افسر بھی معلومات فراہم کرانے میں ناکام رہے۔ میں نے ریاستی انفارمیشن کمیشن میں اپیل کردی ہے۔ آخر پبلک انفارمیشن افسر اور اپیل افسر مل کر اس قانون کا مذاق کیوں بنارہے ہیں؟
_______شیوانند جھا، مدھوبنی، بہار
کوئی بھی قانون ایک طے شدہ خطوط پر چل کر ہی اپنا کام کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ مل کر آرٹی آئی قانون کی دھجیاں اڑانے سے باز نہیں آتے۔ آپ نے انفارمیشن کمیشن میں جاکر اچھا کام کیا ہے۔ فی الحال آپ کو ریاستی انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *