فیصلہ انصاف اور دستور کی روح کے منافی

سندیپ پانڈے (میگ سیسے ایوارڈ یافتہ)
اجودھیا معاملے پر فیصلہ آچکا ہے۔ چاروں طرف فیصلے کی تعریف ہورہی ہے۔ کسی کو بھی مایوس نہیں کیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ امن وسکون غارت ہونے کا جو خطرہ تھا، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔انتظامیہ نے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پورا بندوبست کررکھاتھا،لیکن ایسا کوئی بھی قابل ذکر حادثہ رونما نہیں ہوا۔امن وسکون برقرار رہا، لوگوں نے بڑی سنجیدگی سے فیصلہ سنا اور معاملے کی نزاکت کو سمجھ کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا۔
سبھی مان رہے ہیں کہ فیصلہ عقیدت کی بنیاد پر ہوا ہے۔ ججوں کی منشا یہ تھی کہ تنازع کا حل نکل آئے۔ یہ فیصلہ تمام فریقوں کو ’تنازع کا حل‘ پیش کرنے کے نقطہ نظر سے تو بہت اچھا ہے، لیکن یہ آئین کی روح کے منافی اور قانونی نقطہ نظر سے غلط ہے۔ اس فیصلے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مستقبل میں اس نوعیت کے نئے تنازعات اٹھ کھڑے ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔
آئین ہند میں ہندوستان کو واضح طور پر ایک سیکولر ملک قرار دیا گیا ہے۔ ہم کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کے جذبات کو کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہیں دے سکتے، لیکن اجودھیا تنازع کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ  ہندوؤں کے اس عقیدے کی بنیاد پر دیا گیا ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ بھگوان رام بابری مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے پیداہوئے تھے۔ عدالتی نظام کی بنیاد ہی دلائل و ثبوتوں پر قائم ہے اورقانون کی نظر میں ہمیشہ ثبوت کو اہمیت حاصل ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ واضح ثبوت کے طور پر صدیوں سے کھڑی بابری مسجد ، جس کو 6دسمبر 1992کو منہدم کردیا گیا اور جس میں 1949تک نماز ادا کی جاتی رہی، کو ہندوؤں کے عقیدے کے مقابلے میں کم اہمیت دی گئی ہے۔
ایک طرف بابری مسجد تھی تو دوسری طرف عقیدے کے علاوہ عدالت کے حکم پر 2003میں متنازع مقام پر کروائی گئی کھدائی میں نکلے ایک مندر کے باقیات۔ ویسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ میں مندر کے باقیات کے علاوہ دیگر اشیاء کی برآمدگی کا بھی ذکر ہے، تاہم اس بات پر زیادہ زور دیا گیا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر سے قبل اس جگہ پر مندر تھا۔ ویسے اگر اس بات کو تسلیم بھی کرلیا جائے کہ اس مقام پر پہلے مندر تھا، تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ ٹھیک وہی جگہ رام کی جائے پیدائش ہے۔ کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
اپنے ملک میں یہ ضابطہ نافذ ہے کہ آزادی کے دن جو مذہبی مقام جس حالت میں تھا اس کو اسی حالت میں تسلیم کیا جائے، لیکن اجودھیا معاملے میں قریب 500سالوں سے بھی پہلے بنے مندر ، جس کے ثبوت واضح نہیں ہیں، کو چند برس پہلے تک قائم مسجد کے مقابلے میں زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔
ایک فاضل جج نے تو اپنے فیصلے میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اب متنازع مقام پر رام مندر کی تعمیر کا راستہ صا ف ہوگیا۔ واضح رہے کہ اصل تنازع متنازع اراضی کی ملکیت کا ہے، نہ کہ رام مندر کی تعمیر کا۔ عدالت عالیہ کو 22/23دسمبر، 1949کی شب جو رام للا کی مورتیاں رام چبوترے سے مسجد کے اندر رکھی گئیں، اس پر بھی فیصلہ سنانا تھا۔ متنازع جگہ پر مندر کی تعمیر ہو یا نہ ہو،اس پر عدالت کو کوئی فیصلہ نہیں دینا تھا۔ ویسے بھی رام مندر بنانے کی بات تو 80کی دہائی میں پہلی بار کی گئی تھی۔ یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ جن نکات پر عدالت سے فیصلہ کی اپیل کی گئی تھی، ان پر کوئی فیصلہ نہ دے کر ، وہ اپنے دائرہ عمل سے باہر نکل کر فیصلے سنارہی ہے۔
متنازع مقام پر رام مندر کی تعمیر کی بات کر کے فاضل جج نے 6دسمبر، 1992کو بابری مسجد کے انہدام کی کارروائی، جس پر ابھی ایک مقدمہ چل رہا ہے، کو یک لخت جائز ٹھہرادیا ہے، کیونکہ اگر عدالت یہ مانتی ہے کہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق متنازع مقام ہی رام کی جائے پیدائش ہے اور ایک جج کو یہ لگتا ہے کہ وہاں رام مندر بننا چاہئے تو یہ رام مندر وہاں سے بابری مسجد کو ہٹائے بغیر تو بن نہیں سکتا۔ یہ دلچسپ ہوتا اگر بابری مسجد ابھی بھی قائم ہوتی تو فاضل جج کیا فیصلہ سناتے؟
اس فیصلے سے مستقبل میں نئے تنازعات کھڑے ہوسکتے ہیں۔ عقیدے کی بنیاد پر کوئی غیر قانو نی کارروائی کرکے کسی جگہ پر دعویٰ کرسکتا ہے۔ ایسی کارروائی ہو اور اکثریت کے ایک مخصوص طبقے کی حمایت حاصل ہو تو عدلیہ کے لئے منصفانہ فیصلہ لینا مشکل ہوجائے گا۔ پھر اجودھیا فیصلہ تو ایک نظیر بن جائے گا۔
اس تنازع نے ملک کی سیاست کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ مہنگائی، فوڈ کارپوریشن کے گوداموں میں سڑتا اناج، وزیر زراعت کا یہ کہنا کہ بھلے ہی یہ اناج سڑ جائے لیکن غریبوں کو نہیں دیا جاسکتا، پہلے آئی پی ایل گھوٹالہ اور پھر دولت مشترکہ کھیلوں میں شرمناک بدعنوانی، جموں وکشمیر کے عوام میں بے اطمینانی کی کیفیت اور حکومت ہند کی صورت حال سے نمٹنے میں ناکامی، کمرشیلائزیشن کے دور میں جگہ جگہ لوگوں کی اپنی زمین کو بچانے کی کوشش اور سپریم کورٹ کے اہم ججوں کی بدعنوانی،ایسے سارے  موضوعات جن سے اس ملک کے عوام کا سروکار ہے، دب گئے ۔ یہ خیال کہ فیصلہ آنے سے ہی امن وسکون غارت ہونے کا خطرہ تھا، ثابت کرتا ہے کہ اس ایشو میں تشدد کے بیج چھپے ہیں۔ پہلے ہی ملک اس ایشو کی وجہ سے پیش آئے پرتشدد واقعات اور فرقہ وارانہ فسادات جھیل چکا ہے۔
اصل میں بابری مسجد کے مرکزی گنبد کے ٹھیک نیچے رام جنم بھومی بتانا ہی جھگڑا کھڑا کرنے والی بات ہے۔ اگر عام ہندو جس کے عقیدے کے نام پر فیصلہ ہوا ہے، سے پوچھا جائے تو شاید وہ یہ کہے کہ اس کا کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ جھگڑا چاہے گا۔ اگر ہندوانتہا پسند تنظیمیں رام مندر بنانے کی اتنی ہی خواہش مند ہیں تو وہ اس مندر کو اجودھیا میں واقع وشو ہندو پریشد کی زیر ملکیت کارسیوک پورم کی زمین پر کیوں نہیں بنالیتے؟ کیا بھگوان رام کو اس بات کا ملال رہے گا کہ ان کے نام کا مندر ان کی جائے پیدائش پر نہیں بنایا گیا؟ یا اسے ہندوؤں کے عقیدے، جو فی الحال ہندو انتہا پسند تنظیموں نے یرغمال بنا لیا ہے، میں کوئی کمی رہ جائے گی؟ اہم سوال یہ ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست کو ہندوستان کی جمہوریت میں کتنی جگہ دی جائے گی؟ یہ بات ہم کب کہیں گے کہ مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے میں ضم نہیں کرنا چاہئے۔
اجودھیا تنازع پر الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین کے جمہوری اصولوں اور قانون وانصاف کے اصول کے مطابق نہیںہے۔ اس سے ہندوستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *