بالی ووڈ: کامیڈی کا نیا انداز

پرینکا پریم تیواری

کامیڈی بالی ووڈ فلموں کا ایک خاص اور اہم حصہ ہوتی ہے۔ کامیڈی وہ ہے، جس کے ذریعہ لوگوں کی تفریح ہوتی ہے۔مسلسل بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ  فلم انڈسٹری میں کئی تجربے ہوئے ہیں۔ایسے میں کامیڈی کو لے کر بھی فلمسازوں کے نظریہ میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے۔پرانی ہندی فلموں میں کامیڈین کا ایک کردار ہوتا تھا، جو کہانی کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ اس زمانہ میں کامیڈین اور اداکار کے مکالمے الگ الگ ہوتے تھے۔ کامیڈین کا کردار اداکار کا دوست یا آس پاس کے لوگ ادا کرتے تھے، مگر اب فلم کا ہیرو ہی کامیڈین انداز میں نظر آتا ہے۔بالی ووڈ میں فل ٹائم کامیڈین کی جگہ ختم سی ہو کر رہ گئی ہے۔ موجودہ دور کے اداکاروں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھے انھوں خود کو کامیڈین کے کردار میں بھی فٹ کر لیا ہے۔وہ گانا، ڈانس، رومانس اور ایکشن تو کرتے ہی ہیں، ساتھ ہی ساتھ کامیڈی کرنا بھی بخوبی سیکھ گئے ہیں۔ گووندا کے بعد اکشے کمار اور اجے دیوگن جیسے اداکاروں نے اہم کڑی میں کئی کامیاب ترین کامیڈی فلمیں کی ہیں۔
ایک زمانہ وہ بھی تھا، جب فلموں میں کامیڈین کا کردار ہیرو سے کم نہیں ہوتا تھا۔ اس دور میں محمود ، جانی واکر، اسرانی،جگدیپ، راجیندر ناتھ اور کیسٹو مکھر جی جیسے کامیڈین ہوئے ۔ جنھوں نے ہندی فلموں میں کامیڈی کے بل پر اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ محمود کی کچھ اہم فلمیں تھیں جن میں پڑوسن، گمنام، پیار کئے جا، بھوت بنگلا ،بامبے ٹو گووا،سب سے بڑا روپیا،پتھر کے سنم، انوکھی ادا، نیلا آکاش، نیل کمل اور کنوارا باپ وغیر ہ۔ وہ اپنی کئی فلموں میں تو فلم کے ہیرو کے کردار میں بھی بھاری نظر آئے۔ اداکار اور گلوکار کشور کمار نے ایک نئی ہی شروعات کی تھی۔ چلتی کا نام گاڑی، جھمرو، ہاف ٹکٹ اور پڑوسن جیسی ہٹ فلموں میں ہیرو کے کردار کے ساتھ ساتھ وہ کامیڈی کرتے بھی نظر آئے۔ کامیڈین جانی واکر نے سر جو تیرا چکرائے یا دل ڈوبا جائے، اے دل ہے مشکل جینا یہاں، آل لائن کلیئر، جنگل میں مورناچا کسی نے نہ دیکھا، یہ دنیا گول ہے اور میرا یار بنا ہے دولہا جیسے گانوں پر بہترین کامیڈی پیش کی تھی۔
قادر خان اور گوونداکی جوڑی نے کئی ہٹ کامیڈی فلمیں دیں۔ پھر بالی ووڈ میں  کامیڈی کو ہی بنیاد بنا کر کئی فلمیں بنائی گئیں۔ کئی بڑے ستاروں نے کامیڈی فلموں کی جانب رخ کیا۔ اکشے کمار نے بھی اپنی ایکشن ہیرو کی شبیہ توڑ کر کامیڈی کی جانب رخ کیا اور انہیں اس میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ہیرا پھیری، آوارہ پاگل دیوانہ،گرم مسالہ،پھر ہیرا پھیری ، بھاگم بھاگ بھول بھولئیا، ویلکم اور سنگھ از کنگ ان کی کامیاب فلموں میں اکشے کا کام بخوبی نظر آتا ہے۔ ولین کے اثردار کردار کے بعد پریش راول نے بھی کامیڈی میں قسمت آزمائی ۔ فلم ہیرا پھیری میں بابو بھائی کے رول میں ناظرین کو انھوں نے خوب ہنسایا۔ اداکار سنجے دت نے بھی منا بھائی سیریز کی فلموں سے کامیڈی میں اپنا ہاتھ آزمایا اور کامیاب رہے۔ بالی ووڈ میں اہم کڑی کے اداکاروں کی ایک طویل فہرست ہے ، جو کامیڈی کی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ اجے دیوگن نے گول مال ریٹرن اور آل دی بیسٹ میں کامیڈی کی، وہیں خان تکڑی بھی کئی بار کامیڈی کرتی نظر آئی۔
دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی اب اسٹینڈ اپ کامیڈی کو شناخت ملنے لگی ہے۔ایسے کئی کامیڈین تھے، جنہیں فلموں میں کردار نہیں ملا۔ تب انھوں نے اسٹینڈ اپ کامیڈی اور ممکری میں اپنا اپنا ہنر دکھانا چاہا۔ اس کی شروعات ہندوستان میں جانی لیور نے کی۔ بڑے بڑے ستاروں، گلوکاروں، موسیقی کاروں کے اسٹیج شو ہوتے تو ان اسٹینڈ اپ مزاحیہ اداکاروں یا ممکری کرنے والے اداکاروں کو بطور فلر یعنی بیچ بیچ میں ٹائم پاس کے لئے بلایا جاتاتھا۔ ہندوستان میں چار سال قبل شروع ہوئے لافٹر چیلنج پروگرام کو ناظرین نے فوری طور پر لیا۔ راجو سری واستو، سنیل پال اور احسان قریشی جیسے فنکاروں نے خوب شہرت حاصل کی۔ اب تو تقریباً ہر چینل پر کامیڈی کے پروگرام دکھائے جا رہے ہیں چونکہ اب اہم کڑی میں کامیڈی فلمیں بننے لگی ہیں، ہیرو خود کامیڈین کا کردار ادا کرنے لگے ہیں، ساتھ ہی تقریباً ہر چینل پر اسٹینڈ اپ کامیڈی پرگرام نشر ہونے سے ناظرین اس کامیڈی کا موازنہ فلموں میں دکھائی جانے والی کامیڈی سے کرنے لگے ہیں۔پہلے کامیڈین کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی انہیں ہنسا دیتی تھی،لیکن اب وہ بات نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *