بہار الیکشن:مسلمانوں کی پکار ہمارے ووٹ ہی نہیں ہم پر بھی دھیان دیجئے

ڈاکٹر منیش کمار
ہیرالڈ لاس ویل نے سیاست کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کس نے کیا، کب اور کیسا پایاہی سیاست کی صحیح تعریف ہے۔‘‘ اس کا مطلب ہے کہ سیاست اصل میں سرکاری اداروں کی تقسیم کی لڑائی ہے۔ وسائل کی حصہ داری میں کسے کب اور کتنا حصہ ملتا ہے، اسی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون اقتدار کے نزدیک ہے اور کون سب سے دور۔ جن طبقات کو حکومت سے فائدہ ہوتا ہے، جنہیں ذہن میں رکھ کر حکومت منصوبہ بناتی ہے، وہی سیاست کی مین اسٹریم میں ہوتے ہیں، وہ اقتدار کے قریب ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کو سیاسی پالیسی و منصوبوں سے فائدہ نہیں ہوتا ہے، وہ سیاست کے حاشیے پر ہوتے ہیں، وہ صرف الیکشن میں ووٹ ڈالنے والے ایک ووٹر ہوتے ہیں، جن کا حکومت پر نہ کوئی زور ہوتا ہے اور نہ ہی حکومت ان کے بارے میں سوچنے کے لیے مجبور ہوتی ہے۔ بہار کے مسلمان سیاست کے اعتبار سے حاشیے پرہیں۔انہیں ایسا محسوس کرایا جاتا ہے کہ مسلمان ان جماعتوں کے لیے کتنے اہم ہیں۔ وہ وعدہ بھی کرتے ہیں کہ حکومت بنتے ہی سب سے پہلا کام مسلمانوں کے مسائل کو نمٹانا ہوگا۔ کوئی مسلمانوں کو وزیر اعلیٰ بنانے کا بھروسہ دیتا ہے، تو کوئی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ آزادی ملے ہوئے 60برس ہوگئے، ہر رنگ کی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔ مسلمانوں کی حالت سال بہ سال خراب ہوتی گئیں۔ پہلے اقتدار میں حصہ داری سے گئے، پھر ترقی کے محور سے الگ ہوئے اور اب زمین سے بے دخل ہورہے ہیں۔ بہار میں الیکشن ہے۔ ہر جماعت خود کو مسیحا ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ انہیں مسلمانوں کا ووٹ چاہیے، لیکن ان کے مسائل کو حل کرنے کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
ہندوستان میں اترپردیش کے بعد سب سے زیادہ مسلمان بہار میں رہتے ہیں۔ اگر سرکاری و غیرسرکاری اعداد و شمار کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہاری مسلمانوں کی حالت سماج کے سب سے نچلے طبقے سے بھی بدتر ہے۔ وہ اس لیے بھی کہ دلت، مہادلت اور پسماندہ ذاتوں کو سرکاری مدد ملتی ہے، ریزرویشن ملتا ہے، لال کارڈ بانٹے جاتے ہیں، لیکن مسلمانوں کو ان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آزادی کے وقت مسلمانوں کی حالت کافی بہتر تھی، لیکن سرکاری رویہ کی وجہ سے دوسرے طبقوں کے مقابلے میں مسلمان ہر شعبے میں پچھڑتے چلے گئے۔ بہار میں 16.5فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ بہار کے 87فیصد مسلمان دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، صرف 13فیصد ہی شہروں میں رہتے ہیں۔ بہار میں مسلمان سب سے پسماندہ طبقہ ہے۔ گاؤں کی حالت خراب ہے۔ یہاں غریبی ہے، ناخواندگی ہے اور بیروزگاری ہے۔ گاؤں کی خراب حالت کے باوجود گاؤں میں رہنے والوں میں جو سب سے پسماندہ طبقہ ہے، وہ بھی مسلمان ہی ہیں۔ گاؤں میں رہنے والے بیشتر مسلمان بے زمین کسان یا چھوٹے کسان ہیں۔ بہار میں 28.4فیصد مسلمان بے زمین کسان ہیں۔ گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں میں سے صرف 35فیصد کے پاس زمین ہے۔ جو عام آبادی کے تناسب میں کافی کم ہے۔ بہار میں تقریباً 58فیصد دیہی باشندوں کے پاس زمین ہے۔ بہار میں کاشت کاری کرنے والے مسلمانوں کی تعداد اور بھی کم ہے۔ جن کے پاس زمین ہے، وہ بھی اتنی کم ہے کہ گزر بسر نہیں ہوتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ صرف 3فیصد مسلم کسانوں کے پاس ٹریکٹر ہے اور صرف 10فیصد کے پاس پمپنگ سیٹ ہے۔ ہندؤں کے مقابلے مسلم کسان غریب ہیں، یہی وجہ ہے کہ 75فیصد دیہی مسلمان کھیتوں میں مزدوری کر کے اپنے کنبے کی پرورش کرتے ہیں۔ گزشتہ 5برسوں میں صرف 0.32ایکڑ فی کنبہ کی شرح سے 2.4فیصد مسلمانوں نے زمین خریدی، لیکن 0.49ایکڑ فی کنبہ کی شرح سے 2.5فیصد مسلمانوں نے اپنی زمین فروخت کی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین کے مالکانہ حق سے مسلمان آہستہ آہستہ باہر ہوتے جارہے ہیں۔ بہار کے گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں میں 2.1فیصد کاریگر ہیں، جن کی سالانہ آمدنی محض 16ہزار روپے ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مسلمان کاریگروں کا کنبہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتا ہے۔
بہار میں تعلیم کی حالت بھی ٹھیک نہیںہے۔ بہار کی خواندگی شرح 47فیصدہے۔ پٹنہ، روہتاس اور مونگیر اس میں سب سے آگے ہیں۔ ان تینوں اضلاع میں 60فیصد سے زیادہ خواندگی شرح ہے، جب کہ کشن گنج، ارریا اور کٹیہار سب سے نیچے ہیں۔ یہاں پر صرف 30سے 35فیصد کے آس پاس ہی لوگ خواندہ ہیں۔ کشن گنج اور کٹیہار میں ایسے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے، جنہیں سال بھر میں صرف 203دن ہی کام مل پاتا ہے۔ باقی کے دنوں میں وہ بیروزگار ہوتے ہیں۔ ایک دن کی کمائی 28روپے سے 32روپے ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی ماہانہ آمدنی صرف 600روپے ہے، اس کمائی سے نہ گھر چلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی عزت بچائی جاسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بہار کے مسلمان غریبی اور کمی کا دکھ جھیل رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ان کی آمدنی 4640روپے ہے اور شہر میں رہنے والوں کی آمدنی 6320روپے ہے۔ گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں میں 49.5فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیںا ور شہر کے مسلمانوں میں 44.8فیصد مسلمان خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ یعنی کہ بہار میں مسلمانوں کی تقریباً نصف آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔ ان میں سے بیشتر لوگ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ گھر مکان کے معاملے میں بہاری مسلمانوں میں گاؤں کے لوگ شہر سے بہتر ہیں۔ بہار کے گاؤں میں 10.1فیصد لوگوں کے پا س پکے مکان ہیں، لیکن دیہی مسلمانوں میں 25فیصد کے پاس پکے مکان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گاؤں کے مسلمان آہستہ آہستہ غریب ہوتے چلے گئے، ان کے پاس بزرگوں کے پاس بنائے ہوئے پکے مکان تو ہیں، لیکن کمائی کا ذریعہ نہیں۔ اگر ہم شہروں کی بات کریں تو دوسرے طبقوں سے مسلمانوں کی حالت گاؤں کے مقابلے اور بھی زیادہ خراب ہے۔ گاؤں میں مسلمانوں کے پاس زیادہ پکے مکان ہیں، لیکن شہروں میں دوسرے لوگوں کے مقابلے مسلمانوں کے پاس پکے مکان نہیں ہیں۔ شہر میں مجموعی طور پر 57.3فیصد آبادی پکے مکان میں رہتی ہے، لیکن 51.2فیصد مسلمانوں کے پاس پکے مکان ہیں۔ بہار کے شہروں میں 75فیصد گھروں میں بجلی ہے، لیکن مسلمانوں میں 47.2فیصد لوگوں کے گھروں میں بجلی ہے۔
سیاست میں بھی مسلمان حاشیہ پر چلے گئے ہیں۔ بہار اسمبلی میں کل 243اراکین اسمبلی میں 16اراکین اسمبلی مسلمان ہیں۔ بہار میں یہ صرف 6.6فیصد ہیں، جب کہ بہار میں مسلمانوں کی آبادی 14فیصد ہے۔ ظاہر ہے آبادی کے تناسب میں مسلمانوں کی نمائندگی نصف سے بھی کم ہے۔ گزشتہ الیکشن میں کل 2135امیدوار تھے، جن میں 235امیدوار مسلمان تھے۔ بڑی پارٹیوں میں صرف کانگریس اور لوک جن شکتی پارٹی نے تناسب سے زیادہ مسلمانوں کو امیدوار بنایا۔ کانگریس کے 23.5فیصد اور لوک جن شکتی پارٹی کے 20.8فیصد مسلمان امیدوار کھڑے کیے۔ لالو یادو کی آر جے ڈی نے 14.9فیصد اور سماجوادی پارٹی کے 14.3فیصد امیدوار تھے، جہاں تک کمیونسٹ جماعتوں کی بات ہے تو انہوں نے مسلمانوں کو ٹکٹ دینے میں کنجوسی برتی۔ بی جے پی کو پورے بہار میں ایک ہی مسلم امیدوار مل سکا۔ پچھلی بار الیکشن میں 3بڑی پارٹیوں کے پاس 4-4مسلم ایم ایل اے تھے۔ کانگریس صرف 9سیٹ جیت پائی تھی، ان میں سے چار مسلمان تھے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے پاس بھی 4مسلم ایم ایل اے تھے۔ این سی پی، ایل جے پی اور سی پی آئی ایم ایل کے ایک ایک ایم ایل اے اور ایک آزاد مسلمان ایم ایل اے تھا۔
یہ اعداد و شمار حکومت کے پاس بھی ہیں۔ حکومت کے پاس یہ اطلاع ہے کہ مسلمانوں کی حالت دوسرے طبقوں سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ مسلمانوں کی حالت آج ایسی نہیں ہوئی ہے، بلکہ آزادی کے بعد سے ہی ان کی حالت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ ان کی حالت میں بہتری کے لیے حکومت کو ایک منظم طریقے سے آگے آنا تھا، لیکن کسی بھی حکومت نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بہار میں جس طرح سے نتیش کمار نے مہادلتوں کے لیے منصوبہ بنایا، ویسا ہی منصوبہ مسلمانوں کے لیے بھی ضروری تھا۔ بہاری مسلمانوں کی سکون بھری زندگی پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ایسے میں اسمبلی الیکشن ہو رہے ہیں، مسلمانوں کی تعداد ایسی ہے کہ وہ 50سیٹوں پر فیصلہ کن کردار میں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی مالی حالت پر آواز اٹھانا تو دور اس پر بات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اقلیت کا ووٹ بازار میں نیلام کردیا جاتا ہے۔ غریبی، ناخواندگی اور بیروزگاری کے بھنور میں پھنسے بہاری مسلمانوں کو سیاست کی اس صحیح تعریف کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے، انہیں سیاسی جماعتوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ پچھلے 50برسوں میں مسلمانوں کو سرکاری وسائل میں کب، کسے اور کتنا حصہ ملا ہے۔

بہار الیکشن:مسلمانوں کی پکار ہمارے ووٹ ہی نہیں ہم پر بھی دھیان دیجئے

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *