بہار الیکشن: آزمائش سخت ہے

ڈاکٹر منیش کمار
بہار  کے الیکشن پر پورے ملک کی نظر ہے۔ کیانتیش کمار پھر سے وزیراعلیٰ بن جائیںگے؟ کیا لالو یادو اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیںگے؟ کیا رام ولاس پاسوان کے پاس حکومت بنانے کی چابی آجائے گی؟ کیا مسلمان اس بار بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کے ساتھ چلے جائیںگے؟ کیا بہار کے الیکشن میں لوگ ترقی کے ایشو پر ووٹ دیںگے؟ یا پھر ذات برادری کا بول بالا رہے گا؟ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی بہار میں ہندوتو کے ایجنڈے کو چھوڑ دے گی وغیرہ جیسے کئی سوال ہیں، جن پر بہار ہی نہیں پورے ملک کے عوام غور کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بہار کے الیکشن کا اثر قومی سیاست پر ہوگا،کیوں کہ دہلی کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ رکھنے والے بڑے بڑے لیڈروں کا وقار داؤں پر لگا ہوا ہے۔ بہار الیکشن نہ صرف نتیش کمار، لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان کی آزمائش ہے، بلکہ یہ الیکشن راہل گاندھی کا بھی امتحان لے گا۔ بہار کے الیکشن میں یہ بھی فیصلہ ہونا ہے کہ کیا راہل گاندھی کا کرشمہ الیکشن پر اثر ڈال سکتا ہے یا نہیں؟ راہل گاندھی اور ان کے مشیروں کے لیے یہ الیکشن اس لیے اہم ہے کیوں کہ یہ الیکشن راہل گاندھی اور ان کے ارد گرد چلائی جارہی تشہیری مہم کا لٹ مس ٹیسٹ ہے، سخت آزمائش ہے۔
بہار کی سیاست ایسی ہے کہ کوئی بھی الیکشن آسان نہیں ہوتا۔ چھوٹی سی غلطی ہوئی اور جیتا ہوا امیدوار ہار جاتا ہے۔ بیشتر لوگوں کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار آسانی سے الیکشن جیت جائیںگے، لیکن یہ الیکشن آسان نہیں ہونے والا ہے۔ نتیش کمار کے سامنے بھی چیلنجز ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بہار کے عوام ان کے پانچ سال کے دور اقتدار پر ووٹ دینے والے ہیں۔ نتیش کمار کی شبیہ اچھی ہے۔ لوگوں کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ ایک ایماندار انتظامیہ یعنی بہترین حکومت دینے کی سمت میں وزیراعلیٰ نے اچھی کوشش کی ہے۔ نتیش کمار پھر سے وزیراعلیٰ بنیں، ایسا بیشتر لوگ چاہتے ہیں، لیکن سمجھنے والی بات یہ ہے کہ الیکشن میں عوام وزیراعلیٰ کوووٹ نہیں دیتے، بلکہ مقامی لیڈر کو ووٹ دیتے ہیں، اس لیے وزیراعلیٰ کا چہرہ دیکھ کر لوگ ایم ایل اے کا انتخاب نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ضمنی انتخابات میں نتیش کمار کی پارٹی بیشتر نشستوں پر ہار گئی۔ ایسی مثال لوک سبھا انتخابات میں بھی ملتی ہے، جب مرکز میں این ڈی اے کی حکومت تھی اور اٹل بہاری واجپئی وزیراعظم تھے۔ ہر اوپینین پول اور سروے میں اٹل بہاری واجپئی وزیراعظم کے عہدے کی دوڑ میں ہمیشہ سب سے آگے رہے، لیکن این ڈی اے الیکشن ہار گیا۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ وزیراعظم کے عہدے کے لیے ووٹ نہیں دیتے، وہ تو رکن پارلیمنٹ کا انتخاب کرتے ہیں۔ نتیش کمار کی انتخابی تیاریاں بالکل ویسی ہی نظر آرہی ہیں، جیسی اٹل بہاری واجپئی کی این ڈی اے حکومت کی تھیں۔ انڈیا شائننگ کی طرز پر اب بہار شائننگ کی مارکیٹنگ ہو رہی ہے۔ نتیش کمار بھی اس این ڈی اے کی حکومت کی طرح احساس برتری میں مبتلا نظر آرہے ہیں۔ بہار کا انتخابی ماحول بالکل ویسا ہے جیسا 2004کے لوک سبھا انتخابات کا تھا۔ نتیش کمار کا چیلنج یہ ہوگا کہ جو غلطیاں این ڈی اے نے 2004میں کی تھیں، وہی غلطیاں بہار میں نہ دوہرائی جائیں۔
نتیش کمارکو مخالفوں سے زیادہ خطرہ پارٹی کارکنان اور قریبی لیڈروں سے ہے، کیوں کہ وہ ناراض ہیں۔ ناراض لیڈروں کی لسٹ میں نتیش کمار کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سب سے اوپر ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کی شکایت ہے کہ نتیش کمار بہار کے معاملے میں ان سے بات تک نہیں کرتے۔ پارٹی کے سینئر رکن پارلیمنٹ رام سندر داس کی لاکھ کوشش کے باوجود ایک مہینہ سے نتیش کمار نے نہ تو انہیں ملنے کا وقت دیا اور نہ ہی انہیں فون کر کے بات کرنے کے لائق سمجھا۔ الیکشن کے وقت ایسی غلطیاں کبھی کبھی مہنگی پڑجاتی ہیں۔ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پارٹی کے ناراض لوگ اپوزیشن سے زیادہ خطرناک ہوجاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے نتیش کمار پارٹی کارکنان اور لیڈروں سے دور چلے گئے ہیں۔ پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ نتیش کمار مغرور ہوگئے ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں اور کارکنان کے بجائے نتیش کمار کی حکومت افسران کے من مطابق چل رہی ہے۔ کچھ گنے چنے افسران ہی حکومت کے تمام تر فیصلے لے رہے ہیں۔ پچھلی بار جب نتیش الیکشن جیتے تھے، تب بہار کے کئی بڑے لیڈر ان کے ساتھ تھے۔ نتیش کے برتاؤ کی وجہ سے ان میں سے کئی لیڈروں نے پارٹی چھوڑ دی اور اب یہ لوگ نتیش کمار کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ افسران کو ملی کھلی چھوٹ کی وجہ سے مقامی کارکنان کی اہمیت گویا ختم سی ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں کارکنان کی ناراضگی بڑھتی چلی گئی۔ کسی بھی پارٹی کے لیے یہ سب سے بڑے خطرے کی بات ہوتی ہے جب اس کے زمینی کارکنان ناراض ہوجاتے ہیں۔ نتیش کمار کی جنتادل یونائیٹڈ کی یہ سب سے بڑی تشویش ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ بی جے پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر بی جے پی کارکنان بھی نتیش کمار کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ نتیش کمار کی کمزوریوں کا فائدہ کیا لالو یادو اٹھاپائیںگے۔
لالو یادو کی پریشانی یہ ہے کہ وہ اپنی ہی امیج کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی شخصیت کا جو سب سے مضبوط پہلو ہے، وہی ان کی سب سے کمزور کڑی ہے۔ شروعاتی دنوں میں جب لالو یادو بولتے تھے تو پورا ملک سنتا تھا، ان کی باتوں میں دلچسپی لیتا تھا اور انہیں عوام کی نبض کو سمجھنے والا سب سے بہترین زمینی لیڈر مانتا تھا۔ آج جب لالو بولتے ہیں تو لوگ انہیں نکار دیتے ہیں۔ لالو یادو کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ انہیں بہار کے عوام میں اپنے کھوئے ہوئے اعتماد کو پھر سے بحال کرنا ہے۔ اپنی عزت بچانی ہے۔ لالو یادو شاید اس بات کو سمجھتے ہیں،اس لیے رابڑی دیوی کو وزیراعلیٰ کی دوڑ سے باہر رکھا ہے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ لالو، نتیش، رام ولاس پاسوان اور سشیل مودی جیسے لیڈروں نے نسل پرستی کی سیڑھی پکڑ کر سیاست نہیں کی۔ لوگ انہیں اس لیے پیار کرتے ہیں، کیوںکہ یہ سب تحریکات سے پیدا ہوئے لیڈر ہیں، لیکن نسل پرستی کے گھن نے راشٹریہ جنتادل کو کھوکھلا کردیا ہے۔ لالو یادو نے اپنے بیٹے کو جانشین مقرر کر کے اس سمت میں ایک اور قدم اٹھالیا ہے۔ یہ بات لوک جن شکتی پارٹی کے لیے بھی درست ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب لالو یادو اسے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو دونوں سالے صاحب بغاوت کردیتے ہیں،ا س کانقصان ووٹ شمار کرنے میں تو نہیں ہوگا، لیکن ریاست کے عوام پر نفسیاتی اثر ضرور پڑے گا۔ پارٹی کی ذہنیت پر ضرور پڑے گا۔
15سال کے دور اقتدار میں بہار کی جو حالت ہوئی، اس کی یادوں کو مٹانا لالو یادو کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بہار کے عوام جب بھی ان برسوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو کراہ اٹھتے ہیں۔ لالو یادو نے سوشل انجینئرنگ کے ذریعہ پسماندہ اور اقلیتوں کی حمایت سے الیکشن جیتا، لیکن ان 15سالوں میں ان کی اقتصادی حالت میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی۔ راشٹریہ جنتا دل کے دور اقتدار میں بے روزگاری، صحت، تعلیم، روڈ، بجلی، پانی اور قانونی نظام کی حالت بد سے بدتر ہوگئی۔ ان 15برسوں میں حکومت نام کی چیز بہار سے غائب ہوگئی۔ لالو یادو کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ وہ بہار کے عوام کے کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کریں، پہلے کی غلطیاں دوبارہ نہیں دوہرائی جائیںگی، یہ بھروسہ دیں۔ اس کے لیے لالو یادو کو اپنے منصوبے کا اعلان کرنا ہوگا کہ اگر ان کی پارٹی کامیاب ہوتی ہے تو بہار کے لیے کیا کریںگے اور کیسے کریںگے۔ لالو یادو اس الیکشن میں کرو یا مرو کی حالت میں آگئے ہیں، جس طرح لوک سبھا انتخابات میں ان کی شکست ہوئی ہے۔ اگر بہار کے عوام نے ویسی ہی حمایت اسمبلی انتخابات میں دی تو لالو یادو کی پارٹی کا مستقبل خطرہ میں پڑسکتا ہے۔ لالو یادو زمینی حقیقت کو جانتے ہیں، اس لیے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے اپنے مخالف رام ولاس پاسوان سے ہاتھ ملا لیا اور یہ دوستی اسمبلی انتخابات میں بھی قائم ہے۔
رام ولاس پاسوان کے سامنے چیلنجز کا پہاڑ ہے۔ رام ولاس پاسوان آج بھی بہار کے سب سے بڑے دلت لیڈر ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں ان کی شبیہ ایک محنت کش اور عوام کے محبوب لیڈر کی رہی۔ 2004کے انتخابات میں بہار کے عوام نے انہیں بھر پور حمایت دی تھی۔ لوگوں نے انہیں اتنی سیٹ دلا دیں کہ رام ولاس پاسوان کے پاس حکومت بنانے کی چابی آگئی۔ کئی روز تک حکومت بنانے کی پہل ہوتی رہی ، لیکن وہ اس موقع کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ وزیراعلیٰ بھی بن سکتے تھے، لیکن انہوں نے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کی بجائے وزیراعلیٰ کی کرسی کو ٹھوکر مار دی۔ اس تاریخی بھول کے بعد سے رام ولاس پاسوان کی پارٹی کی مقبولیت میں مسلسل گراوٹ نظر آئی۔
گزشتہ لوک انتخابات میں وہ اپنی بھی سیٹ ہار گئے۔ رام ولاس پاسوان کی مقبولیت کی وجہ دلتوں و اقلیتوں کی حمایت اور لالو کی مخالفت تھی۔ اس بار وہ لالو یادو کی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس اتحاد سے رام ولاس پاسوان کو نقصا ن اور فائدہ دونوں ہونے والا ہے۔ ان کی لالو مخالف شبیہ ختم ہوگئی ہے، لیکن اس نقصان کی تلافی آرجے ڈی کے ووٹ بینک سے پورا ہونے کی امید ہے۔
بہار کے تمام اہم لیڈروں میں رام ولاس پاسوان نے اس الیکشن میں سب سے زیادہ مقامات کا دورہ کیا ہے۔ وہ گزشتہ ایک سال سے عوام کے درمیان رہے ہیں، اس کا فائدہ لوک جن شکتی پارٹی کو ضرور ملے گا، لیکن رام ولاس پاسوان سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔ انہیں دلتوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کا بھی ووٹ ملتا رہاہے۔ اس بار الیکشن سے ٹھیک پہلے انہیں زبردست جھٹکااس وقت لگا جب پارٹی کے اقلیتی مورچہ کے سربراہ نے پارٹی کوالوداع کہہ دیا۔ سوال کسی کے پارٹی سے جانے کا نہیں ہے۔
اگر وہ پارٹی کے لئے اہم نہیں تھے تو انہیں اتنی بڑی ذمہ داری کیوں سونپی گئی تھی۔ الیکشن سے ٹھیک پہلے اس طرح کی خبروں کو اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا ہے۔ جہاں تک دلتوں کے ووٹ کا سوال ہے تو رام ولاس پاسوان کے سامنے ایک چیلنج نتیش کمار کا ’مہا دلت کارڈ‘ بھی ہے۔ اس کا توڑ نکالنا بہت ضروری ہے، ورنہ اس الیکشن میں رام ولاس پاسوان کے دلت ووٹ بینک میں این ڈی اے شگاف ڈال دے گا۔
لالو پرساد یادو کی طرح رام ولاس پاسوان کے لئے بھی یہ الیکشن بقا کی جنگ ہے۔ دونوں اس بات کو جاتنے ہیں کہ نتیش کمار کی حکومت کی مقبولیت کتنی ہے۔ سیاست میں حالات ہی حکمت عملی کو پیدا کرتے ہیں۔ دشمن دوست ہوجاتے ہیں اور دوست دشمن۔ کبھی نتیش کمار کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بننے والے لیڈر لالو یادو کے ساتھ بیٹھ کر امیدوار طے کررہے ہیں۔ ہر انتخابی حلقے میں امیدوار کے لئے دونوں عمیق غور وخوض کررہے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کا تال میل کافی اچھا ہے۔ کئی مقامات پر لالو یادو کے امیدوار لوک جن شکتی پارٹی کے انتخابی نشان سے میدان میں اترے ہیں تو کہیں رام ولاس پاسوان کے امیدوار نے راشٹریہ جنتا دل کے لالٹین کو تھام لیا ہے۔ مطلب یہ کہ دونوں ہی لیڈر اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ اگر اس الیکشن کا نتیجہ ان کی منشا کے مطابق نہیں آیا تو بہار کی سیاست کے افق پران کی واپسی مشکل ہوجائے گی۔ لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کی سیاست بی جے پی کی مخالفت پر ٹکی ہوئی ہے۔مشکل یہ ہے کہ بہار میں بی جے پی ایک سائڈ ہیرو کی طرح نتیش کمار کے پیچھے کھڑی ہے۔ نتیش کمار کی شبیہ ایک سیکولر لیڈر کی ہے، اس لئے ان کا ہر دائوں خالی چلاجاتا ہے۔ رام ولاس پاسوان اور لالو یادو کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ انہیں اقلیتوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ بی جے پی اور نتیش کمار میں کوئی فرق نہیں ہے۔
بہار میں بی جے پی نتیش کمار جے ڈی (یو) کی بی ٹیم ہے۔ یہی بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بہار میں اس پارٹی کے پاس لیڈر ہے، کارکن ہیںاور حامی بھی ہیں۔ الیکشن میں بی جے پی کی کارکردگی جے ڈی یو سے کافی بہتر ہوتی ہے اس کے باوجود گزشتہ کئی سالوں سے بہار میں بی جے پی نتیش کمار کے سائے میں سانس لے رہی ہے۔ بہار کی نتیش کمار کی حکومت بی جے پی- جے ڈی یو اتحاد کی حکومت ہے، لیکن سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت کے ہر اچھے کام کا کریڈٹ نتیش کمار کو مل جاتا ہے اور جو کچھ برا ہوتا ہے تو اس کا ٹھیکرا بی جے پی اور ان کے لیڈروں کے سر پھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ بہار کی موجودہ حکومت کو بہتر بنانے میں سشیل مودی کا بہت بڑا تعاون ہے، لیکن ان کو بہار میں اچھی حکومت کا کریڈیٹ نہیں دیا جاتا ہے۔ اس بات کےحوالہ سے آر ایس ایس اور بی جے پی کارکنان میں کافی غصہ بھی ہے۔ خواہ وہ معاملہ نریندر مودی کا ہو یا پھر بی جے پی کے نظریہ کا یا پھر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ سے رشتے کا ہو نتیش کمار کو جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ بی جے پی کی عزت اتارنے میں وقت نہیں لگاتے ۔ بی جے پی کے ایک سابق صدر نے کہا کہ سوال مودی کے بہار میں آنے یا نہ آنے کا نہیں ہے سوال یہ ہے کہ دوسری پارٹی کا لیڈر ہماری پارٹی کو ڈکٹیٹ کیسے کر سکتا ہے۔ اتحاد کے لیے آپ دعا کر سکتے ہیں ، گزارش کر سکتے ہیں، درخواست کر سکتے ہیں، لیکن حکم نہیں دے سکتے ۔ بی جے پی کے سرفہرست لیڈران اور کارکنان نتیش کے اس رویہ سے کافی ناراض ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران کا غصہ اس لئے بھی ہے، کیونکہ سشیل مودی خاموش رہ کر لکشمن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔وہ پارٹی لیڈران کی ناراضگی کو دور کرنے میں مصروف ہیں۔بی جے پی کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ پارٹی کو نتیش کمار کے سائے سے الگ ہٹ کر اپنی شناخت قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
بہار انتخابات کی قومی اہمیت ہے ، اس کی وجہ صرف لالو یادو، رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار نہیں ہیں۔ بہار کے انتخابات راہل گاندھی کے ویژن، تنظیمی طاقت، مقبولیت اور انتخاب جیتنے کی قابلیت کی سخت آزمائش ہیں۔بہار میں کانگریس بیس سالوں سے اقتدار سے محروم رہی ہے۔ راہل گاندھی نے بہار کے انتخابات میں پہلی بار بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ تنظیم کو مضبوط کرنے میں پوری طاقت جھونک دی ہے۔ راہل کے کئی نزدیکی مشیر بہار میں کئی ماہ پہلے سے کیمپ کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کہاں جائیں، کس سے ملیں گے، کیا بولیں گے اور کن لوگوں کو تنظیم کی ذمہ داری سوپیں گے اور کن لوگوں کو انتخابات میں ٹکٹ دیا جائے گا یہ سب منصوبہ بند اور کامیابی کے ساتھ کیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ راہل گاندھی کے مستقل کا وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار کرنے کے تمام تر تجربات ان کے مشیروں نے بہار میں کئے ہیں۔ راہل گاندھی کے سیاسی مستقبل کے لئے یہ انتخاب ایک میل کا پتھر ثابت ہوگا۔یہ انتخاب راہل گاندھی کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ انتخابی نتائج سے ہی انہیں علم ہوپائے گا کہ ان کے مشیر انہیں صحیح مشورہ دیتے ہیں یا غلط۔ ان کی حکمت عملی انتخابی جنگ میں کچھ اثر دکھا سکتی ہے یا نہیں۔ راہل گاندھی نوجوانوں کو سیاست میں سامنے لانے کی بات کرتے ہیں۔ بہار الیکشن ان کے لئے سخت آزمائش ہے کہ کیا بہار میں 60فیصد کانگریس امیدوار 25-40سال کی عمر کے ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ راہل گاندھی اس امتحان میں پاس ہوتے ہیں یا فیل۔بہار انتخابات کے سلسلہ میں راہل گاندھی کی سیاست پر غور کرنا ضروری ہے۔ معاملہ کسانوں کا ہو یا پھر اڑیسہ کے نیم گری کے قبائلیوں کا، راہل گاندھی کے نظریہ اور مرکزی حکومت میں اختلاف ہے۔ راہل گاندھی غریبوں ، کسانوں اور قبائلیوں کے ساتھ نظر آتے ہیں، لیکن وزیر اعظم کی لائن دوسری ہے۔ راہل گاندھی کی کتھنی اور کرنی میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی بہار کے عوام کو یہ یقین دلا پائیں گے کہ بنیادی سوالوں کے اوپر جو وہ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے، وہ جس اصول کو لے کر چل رہے ہیں وہ صحیح ہے۔
کچھ دن قبل راہل گاندھی بنگال کے شانتی نکیتن گئے تھے۔ وہاں کچھ نوجوانوں نے راہل گاندھی سے سوال کیا کہ اگر آپ وزیر اعظم بنیں گے تو تعلیمی پالیسی میں تبدیلیاں کریں گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ وزیر اعظم ان کے لئے اہم نہیں ہے۔ راہل گاندھی شاید سوال کو ٹالنا چاہتے تھے، لیکن شانتی نکیتن کے لوگوں کو محسوس ہوا کہ راہل گاندھی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ تعلیمی پالیسی میں اصلاح کا مطلب کیا ہے۔ بنگال میں زبان کے فرق کی وجہ سے معاملہ نے طول نہیں پکڑا، لیکن کانگریس کے پالیسی سازوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ راہل گاندھی کوسمجھائیں کہ کن سوالوں کے کیاجواب ہوں اور راہل گاندھی کو بھی دل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر شانتی نکیتن جیسی غلطی بہار میں ہو گئی تو گڑ بڑ ہو جائے گی۔ بہار کے لوگ ملک کے دوسرے حصوں سے زیادہ سیاسی سمجھ رکھتے ہیں۔ وہ اشارہ سمجھتے ہیں۔ بہار انتخابات راہل گاندھی کے لئے اس لئے اہم ہیں کیونکہ اگر ان کا تجربہ یہاں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہی تجربہ وہ اتر پردیش میں کر سکتے ہیں۔ بہار اور اترپردیش ایسی ریاستیں ہیں جن کی بنیاد پر ہی راہل گاندھی مکمل اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *