بہار الیکشن 2010:چوتھی دنیا کا سروے,لالو -پاسوان بس تھوڑا پیچھے

جنتادل یونائیٹڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا اتحاد کامیابی کی پوزیشن میں اس لیے ہے، کیوںکہ بہار کے عوام یہ مانتے ہیں کہ نتیش کمار کی حکومت لالو یادو کی حکومت سے کافی بہتر ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اطمینان بخش ترقی ہوئی ہے۔ اردو ٹیچروں کی بحالی کی وجہ سے مسلمانوں میں نتیش کمار کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار
بہار کے انتخابات ہمیشہ سے مشکل رہے ہیں۔ فاتح کون ہوگا؟ یہ نتیجہ آنے کے بعد ہی معلوم ہوپاتا ہے۔ چوتھی دنیا کے سروے کے مطابق جنتا دل یونائیٹڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی والے اتحاد کی سیٹوں میں کمی آئے گی، لیکن یہ اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ راشٹریہ جنتادل اور لوک جن شکتی پارٹی کے اتحاد کی سیٹیں گزشتہ انتخابات سے زیادہ ہوںگی، لیکن سب سے بڑا فائدہ کانگریس پارٹی کو ہونے والا ہے۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے اس بار کانگریس دوگنی سیٹوں پر کامیاب ہوگی۔ وہیں دیگر جماعتوں و آزاد امیدواروں کو لوگوں نے سرے سے خارج کردیا ہے۔ ان کے حالات پہلے جیسے ہی رہیںگے۔ بہار کے وزیراعلیٰ کی شکل میں ریاست کے عوام کسے دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس دوڑ میں نتیش کمار سب سے آگے ہیں اور لالو یادو اس دوڑ میں سب سے پیچھے چل رہے ہیں۔
جنتادل یونائیٹڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا اتحاد کامیابی کی پوزیشن میں اس لیے ہے، کیوںکہ بہار کے عوام یہ مانتے ہیں کہ نتیش کمار کی حکومت لالو یادو کی حکومت سے کافی بہتر ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اطمینان بخش ترقی ہوئی ہے۔ اردو ٹیچروں کی بحالی کی وجہ سے مسلمانوں میں نتیش کمار کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کی وجہ سے مسلمان جے ڈی یو کو ووٹ نہیں دیتے ہیں، لیکن چوتھی دنیا کے سروے کے مطابق مسلمانوں کا بھی ووٹ جے ڈی یو- بی جے پی اتحاد کو ملے گا۔ اس کے علاوہ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جرائم میں کمی آئی ہے، یہی وجہ ہے کہ نتیش کی حکومت کو لوگوں کی زیادہ حمایت ہے، لیکن کچھ ایشوز ایسے ہیں، جن کے سبب بہار کے عوام حکومت سے ناراض ہیں جیسے کہ بجلی کا مسئلہ۔ بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بجلی کا مسئلہ بد سے بدتر ہوگیاہے۔ ساتھ ہی بدعنوانی کے حوالے سے بھی لوگ مایوس ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ نتیش کی حکومت کے دوران افسران پہلے سے زیادہ بدعنوان ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ سرکاری منصوبوں میں اب گاؤں کے لوگ بھی بدعنوانی کے مایا جال کے شریک کار ہوگئے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ ریاست میں سڑکیں تو بنی ہیں، لیکن صنعتوں کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے روزگار کے لیے بہار کے غریبوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ نتیش کمار کی حکومت کی کارکردگی پر لوگوں کا ملاجلا رد عمل ہے۔ جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد نے اچھے کام تو کیے ہیں، لیکن کئی شعبہ جات میں اس اتحاد کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے، جس کا خمیازہ نتیش کمار کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سروے میں جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد کی سیٹوں میں کمی ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں بہار میں ذات کا رول اہم ہوجاتا ہے۔ تمام جماعتیں اپنے ہر انتخابی حلقے کے اعداد و شمار کو ذہن میں رکھ کر امیدواروں کا انتخاب کرتی ہیں۔ پچھلی بار جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد کو برہمنوں کی بھر پور حمایت ملی تھی۔ چوتھی دنیا کے سروے کے مطابق اس بار برہمنوں کا بڑا حصہ اس اتحاد سے ناراض ہے۔ اگر یہ ناراضگی ووٹنگ تک برقرار رہتی ہے تویہ نتیش کی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا۔ علاوہ ازیں دیگر پسماندہ طبقات میں بھی جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد کے تئیں ناراضگی کا رجحان ہے۔ سروے کے دوران لوگوں نے بتایا کہ نتیش کی حکومت نے جو کچھ کیا مہادلتوں کے لیے کیا ہے۔ وہ پسماندہ طبقے کو بھول گئے ہیں۔ سروے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد کے تئیں لوگوں میں ناراضگی تو ہے، لیکن اس کا مطلب…

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *