بابری مسجد کا فیصلہ

عفاف اظہر ، کناڈا
الہ آباد کی ہائیکورٹ نے بابری مسجد کے تنازعہ پر اپنے فیصلے میں متنازعہ اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے جس کا ایک حصہ رام جنم بھومی کو ایک نرموہی اکھاڑہ کو اور ایک حصہ مسلمانوں کو ملے گا۔ فیصلہ آنے سے قبل حکومت اور ملک بھر کے سبھی طبقوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور حساس علاقوں سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دِیے گئے ۔بابری مسجد کا تنازعہ یوں تو کافی پرانا ہے جسے پندرہ سو اٹھائیس میں مغل بادشاہ بابر کے ایک اہلکار نے تعمیر کروایا تھا ۔ ہندوں کا دعویٰ ہے کہ اس مقام پر پہلے رام کا مندر تھا اور یہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے ۔ تاریخی حوالوں سے اس مندر- مسجد تنازعہ نے پہلی دفعہ اٹھارہ سو تریپن میں سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسقدر شدت پکڑ گیا کہ اٹھارہ سو انسٹھ میں برطانوی حکمرانوں نے ایک بار تعمیر کروا کر مسجد کے اندرونی احاطے میں مسلمانوں کو اور بیرونی احاطے میں ہندوں کو عبادت کی اجازت دے دی ، لیکن یہ مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ انیس سو اننچاس میں اس فتنہ نے ایک دفعہ پھر سر اٹھایا ،جب چند عقیدت پسند ہندئوں نے مسجد میں داخل ہو کر وہاں بھگوان رام کی مورتیاں نصب کر دیں اور اس کے بعد دونوں فریقین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ حکومت نے اس علاقہ کو متنازعہ قرار دے کر مسجد کے دروازوں پر قفل ڈلوا دِیے اور پھر اسی کی دہائی میں تو اس تاریخی تنازعہ نے سیاسی شکل اختیار کر لی۔ انیس سو چوراسی میں وشو ہند پر یشد کے پرچم تلے اس رام جنم بھومی کو آزاد کرانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ،جس تحریک کی قیادت بی جے پی کے سربراہ لال کرشن اڈوانی نے کی ۔انیس سو چھیاسی میں فیض آباد کے جج نے مسجد کا دروازہ کھلوا کر وہاں ہندئوں کو پوجا کرنے کی اجازت دے دی اور مسلمانوں نے جواب میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائم کی ۔انیس سو نواسی میں راجیو گاندھی نے مسجد کے قریب غیر متنازعہ مقام پر رام مندر کی بنیاد رکھنے کی اجازت دے دی، جس کے ایک سال بعد ہندو شدت پسندوں نے بابری مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا، لیکن چندر شیکھر نے مذاکرات سے معاملہ حل کروانے کی کوشش کی لیکن چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندو کار سیو کوں نے بابری مسجد مسمار کر کے ہی دم لیا اور پھر پورا ملک ہندو مسلم فسادات کی آگ میں جھلسنے لگا ،جن میں دو ہزار سے زائد لوگ مارے گئے، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے ۔ اپریل دو ہزار دو سے الہ آباد ہائی کورٹ نے اس متنازعہ زمین کی حق ملکیت جاننے کے لئے مقدموں کی سماعت کی۔ عدالت کے حکم پر ماہرین آثار قدیمہ نے یہ پتہ لگانے کے لئے کھدائی کی کہ آیا اس جگہ پر کبھی رام کا مندر تعمیر تھا یا نہیں ۔ اگست دو ہزار تین کی ماہرین کی رپورٹ میں پتہ چلا کہ انھیں وہاں مندر کی موجوگی کے شواہد ملے ہیں، لیکن مسلمانوں نے اس رپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بالآخر ساٹھ سال کا سفر کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنائی دیا جس پر تینوں فریقوں میں سے کوئی بھی خوش دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
بابری مسجد کے حق ملکیت کے کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بظاہر دو مختلف پہلو نظر آتے ہیں ۔ایک وہ پہلو جس کی بنیاد قانون پر ہے۔ جس جگہ پر بابری مسجد تعمیر تھی وہ دراصل کس کی ملکیت ہے ؟ عدالت کے مطابق تمام فریقین یہ ثابت کرنے سے قاصر رہے ہیں کہ اس اراضی پر اس کا کلی اختیار رہا ہے، لہٰذا اس اراضی کو تمام فریقین میں برابر تقسیم کر دیا گیا اور دوسرا پہلو تاریخ پر مبنی ہے کہ یہ مسجد کب کس نے کیوں اور کیسے تعمیر کی تھی اور کیا اس کی تعمیر سے پہلے وہاں موجود مندر کو گرایا گیا تھا ؟؟؟ جو کہ بیحد پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے کی بھر پور گنجائش رکھتا ہے ۔سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ” سوال صرف عقائد کا نہیں یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے حکومت یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کس کو کتنی جگہ دینی ہے، لیکن عدالت کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ یہ فیصلہ قانون کے نظریہ سے سپریم کورٹ میں نہیں ٹک سکتا ۔اگر عقائد کی بنا پر اس طرح فیصلے آنے لگیں تو ملک کے سیکولر تانے بانے کو بہت خطرہ لاحق ہو گا ”  سپریم کورٹ کے ایک اور وکیل اور دستور ہند کے ماہر راجیو دھون کا کہنا ہے کہ یہ کچھ اس طرح کا فیصلہ ہے جیسا کہ پنچایتیں سناتی ہیں ۔
ایک طرف تو یہ سوال ہے کہ مسجد مندر کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ تو سامنے آ گیا۔ اس پر بحث اور اثرات ایک طرف لیکن گزشتہ دہائیوں میں ہزاروں کی تعداد میں جو لوگ لقمہ اجل بنے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کیا عدالت عظمہ لبراہن کمیشن کی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوے سیکولرزم کے علمبردار ہونے کے تمام تقاضے نبھاتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف بھی کوئی فیصلہ یا کاروائی کرے گی ؟ تو دوسری طرف اس فیصلے سے انحراف کرنے کا کوئی جواز بھی پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول تو اس خطہ کی ہمیشہ سے ایک خاص پہچان رہی ہے جیسا کہ اگر اسی فیصلے کو لیکر اگر پاکستان کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے کہ کیا ایسا کوئی فیصلہ پاکستانی عدلیہ سے ممکن بھی تھا جس میں اکثریت کے مقابل اقلیت کو اس طرح ایک حصہ بھی ملتا ؟ ہرگز نہیں اس صدیوں پر محیط تنازعہ میں ہونے والے جانی نقصان کا ہی اگر ہم موازنہ پاکستان میں گزشتہ دو سالوں میں ہونے والی بنا کسی تنازعہ اراضی کے فقط عقائد کی بنا پر ہونے والی اقلیتی اموات سے کریں تو سر شرم سے جھک جائے ۔ دوسروں کو دوش دینے سے پہلے ہمیں ایک نظر اپنے گریبان پر ضرور ڈالنی چاہئے کہ اگر ہم اسلام کے نام پر حیوانیت برپا کر سکتے ہیں اور ہماری عدالتیں اکثریت کے ہاتھوں کھلونا بن سکتی ہیں تو پھر یہ نظریہ ضرورت ہندوستانی عدالتوں میں کیوں نہیں چل سکتا ؟ بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کو تو شکر گزار ہونا چاہئے کہ انڈیا نے سیکولر دکھانے کے لئے ہی سہی کم سے کم تینوں فریقین کو برابر حصہ دیا اور مسلمانوں کو بھی ایک حصہ ملا ۔ اگر یہی کیس پاکستان میں ہوتا تو عدالت تک پہنچے کی بھی نوبت نہ آتی اور جان ہاتھ سے الگ جاتی اور پھر جب دنیا کا ہر مذہب فتنہ و فساد کی نفی اور انسانیت کی تلقین کرتا ہے بنیاد ذاتی ملکیت ہوتی تو حق ملکیت جائز تھا مگریہ مذہبی اور پھر خاص طور پر عبادت گاہوں کے لئے صدیوں پر محیط جھگڑے اور جانوں کا قتل عام یہ سراسر حماقت نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟ بھارت ہو یا پاکستان دونوں ممالک کے عوام خواہ مسلم ہوں یا پھر ہندو عقل سے پیدل مگر اندھے عقائد اور جنونی ایمان کی حرارت سے مالامال ہیں اگر دونوں اطراف میں سے کوئی بھی ذرا سا ہی با شعور ہوتا تو اس تنازعہ کو عدالت تک لے جانے کی نوبت لانے اور بیشمار معصوم جانوں کے قتل عام سے پہلے دستبردار ہو کر اپنی تعلیمات سے وفاداری کا ثبوت دیتا ،لیکن نہیں دونوں اطراف تو یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ ہم آج بھی زمانہ جاہلیت میں رہ رہے ہیں ورنہ مندر ہو یا پھر مسجد عبادت ہی تو کرنی ہے۔ بھگوان یا خدا کے آگے سر ہی جھکانا ہے جس کے لئے نیت نیک دل صاف ہونا ضروری ہے ۔تاریخی اہمیت کے حامل زمین کے ٹکڑوں اور بلند و بالا عمارات کی نہیں۔ تاریخیں تو ہمیشہ سے بنتی بگڑتی آئی ہیں اور عالیشان عمارات کے بھی زمیں بوس ہونے میں کچھ دیر نہیں لگتی لیکن اگر کچھ سلامت رہا ہے تو وہ فقط مذاہب و عقائد کی تعلیمات ہی ہیں جو ایک دوسرے کی عزت نفس کی حفاظت اور انسانیت پر مبنی ہیں۔
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے ڈھا دے جو کچھ ڈھینڈا
پر کسے دا دل نہ ڈھا نویں رب دلان وچ رہندا
مذہبی فیصلے عدلیہ میں لے کر جانا اور پھر توقعات وابستہ کر لینے کہ وہ آپ کے عقائد کا پاس کریں گے بیوقوفی ہے کیوں کہ اصولا ًتو عدالت کی نظر میں تمام فریقین برابر کے شہری اور ہر کسی کے  عقائد کا احترام مساوی ہے، لیکن فیصلہ عقائد کی بنیاد پر نہیں قانون کے مطابق ہوتا ہے ۔ مذہبی فیصلے عدالتوں میں لے کر جانے اور سالہا سال انتظار میں وقت کے ساتھ ساتھ فتنہ فساد پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ دونوں قومیں ذہنی طور پر بے شعور ہیں ۔ مسجد خدا کی عبادت کے لئے ہے جھگڑوں کے لئے نہیں اور جس خدا کے گھر سے فتنہ و فساد اٹھے وہاں مسلمان پر فرض تھا کہ حب الوطنی کا فرض نبھاتے ہوئے امن و سکوں کی خاطر اپنا حق ملکیت چھوڑ دیتے اور اب بھی حالات کا تقاضہ ہے کہ جوشیلی تقاریر اور احتجاج اور پیشہ ورانہ انتہا پسند مشورے کہ جنہوں نے پاکستان کو اس حال تک پہنچایا ہے میں آ کر حالات مزید ابتر کرنے کی بجائے موقعہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی کمزوریوں کی وجوہات تلاش کر کے ان کا ازالہ کیا جائے ۔ مسجد کے اندر مورتی رکھنے سے یا پھر مورتیوں کے پاس نماز پڑھ لینے سے نہ بھگوان تعیش میں آئے گا نہ اور نہ ہی خدا غضب میں ۔مورتیوں سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں اصل خطرہ ہے تو ان فسادی ذہنوں اور فتنہ پرداروں سے ہے جو مذاہب کی آڑ لیکر اپنی سیاست چمکاتے اور عوام کی جہالت کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
جب سامنا جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسے جنگل کے اصول سے ہو تو کمزوریوں پر غلبہ پانے کی ضرورت ہے نہ کہ سیاست کا نوالہ بننے کی۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب اسرائیل فلسطین پر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ تین ہزار سال پہلےیہ ان کا وطن تھا تو بابری مسجد بھی صدیوں پہلے رام جنم بھومی کیوں نہیں ہو سکتی ۔ تنازعے بھلے مختلف ہی سہی مگر پس پردہ حقائق ایک سے ہیں اور وہ ہیں ، پارہ پارہ ہوئی امت مسلمہ کی وحدت …علم دشمنی جہل دوستی …ہاں علم و ٹیکنالوجی کی لاٹھی آج اسرائیل کے ہاتھ میں ہے تو ہم نہتے ہیں۔ قومی وحدت کی لاٹھی آج بھارت کے پاس ہے مگر ہم پارہ پارہ ..

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *