آپ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے خدا کو خوش نہیں کر سکتے

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
گیارہ ستمبر2010کو امریکہ پر دہشت گردانہ حملے کے نوسال مکمل ہوگئے۔ اس واقعہ نے دنیا کی سیاست کا رخ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے تئیں لوگوں کے نظریہ میں تبدیلی درآئی ہے، جو کہ سراسر منفی ہے۔ مسلمان دفاعی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ حال ہی میں گراؤنڈ زیرو (وہ جگہ جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر تباہ ہوا تھا) کے قریب مسجد کی تعمیر کی تجویز کے بعد امریکہ میں ایک بڑے طبقے نے مسجد کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے اس پر تنقید شروع کردی ہے اور کہا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر امریکہ اور امریکیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش ہے۔
نیویارک میں لگ بھگ پانچ لاکھ مسلمان ہیں۔ پورے نیویارک میں سوسے زیادہ مساجد ہیں۔ اس لئے اس وقت 62فیصدامریکی گراؤنڈ زیرو کے قریب مسجد اور مسلم کلچرل سینٹر کے قیام کے مخالف ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تازہ صورت حال 9/11کے بعد کی صورت حال سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر کشیدگی میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس کے باوجود کہ سابق امریکی صدر جارج بش اور موجودہ صدر اوبامہ نے اسلام کو القاعدہ کی کارروائیوں سے الگ ثابت کرنے کے لئے باربار بیانات دئے اور امریکہ کی بڑی مسلم، یہودی اور عیسائی تنظیموں نے بھی بار بار یہ اعلانا ت کئے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ان کی یہ آواز ہمیشہ القاعدہ، طالبان اور دیگر دہشت گرد و انتہا پسندوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی وجہ سے دب کررہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کو دہشت گردی سے الگ قرار دینے کی کوششوں کے سلسلے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب مسلم کلچرل سینٹر یا مسجد کی تعمیر کے لئے گزشتہ نوسال سے جاری کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں۔ مسجد کے حامیوں اور مخالفین نے کئی مظاہرے کئے ہیں۔ دونوں گروپ ہاتھوں میں پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ مسجد کی مخالفت کرنے والوں نے  ’’نوموسک نووے‘‘ یعنی’’ مسجد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘ جب کہ مسجد کی تعمیر کے حامی مسلمانوں نے ’’نوٹولریٹ فیئر‘‘ یعنی ’’نسلی ڈر قبول نہیں‘‘کے نعرے لگائے۔ ایک طبقے کاخیال ہے کہ انہیں(مسلمانوںکو) مسجد مشرق وسطیٰ یا پاکستان میں تعمیر کرنی چاہئے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کے منصوبے کے پیچھے وہی لوگ ہیں ، جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو اڑایا تھا۔ دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ اس حادثے میں مسلمان بھی ہلاک ہوئے تھے اور مسجد کی مخالفت کرنے والے نان امریکن ہیں۔ اس منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے اسلامی دہشت گردوں نے کئے تھے، لہٰذا یہاں مسجد کی تعمیر کا منصوبہ انتہائی بے حسی کا مظاہرہ ہے اور حملے میں مرنے والے تین ہزار افراد کے لواحقین کے جذبات کو مجروح کرکے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس منصوبے کی یپبلکن اور کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے بھی مخالفت کی ہے، خاص طورپر پارٹی لیڈر ساراپالن کے بیانات سے پارٹی کی لائن واضح طورپر نظر آتی ہے۔ امریکی صدر اوبامہ نے پہلے تو اس مسجد کی تعمیر کی کھل کر حمایت کی تھی لیکن جب ساراپالن اور دیگر افراد کی جانب سے ان پر تنقیدیں ہونے لگیں اور ان کے مسلمان ہونے کے چرچے ہونے لگے تو اوبامہ اپنے موقف سے منحرف ہوگئے اور محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ’’ اگر وہاں چرچ اور سیناگوگ یا مندر بنائے جاسکتے ہیں توپھر مسلمانوں کے ساتھ الگ برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
میرے حساب سے پوری دنیا کے عوام کے ذہنوں میں یہ بات پیوست ہوگئی ہے یا کردی گئی ہے کہ دہشت گردی کا تعلق مسلمانوں یا اسلام سے ہے۔ امریکہ میں بھی ایک بڑا طبقہ ایسا ہی سوچتا ہے۔ اب جہاں تک مسلم کلچرل سینٹر یا مسجد یا قرطبہ ہاؤس کی تعمیر کا تعلق ہے تو گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکہ کے دیگر علاقوں میں جن میں آئی لینڈ، بروکلین، اوہائیو وغیرہ بھی شامل ہیں مساجد کی تعمیر کی گئی تھیں۔ ان منصوبوں کی مخالفت میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے،لیکن بعد میں انہوں نے اپنی مخالفت واپس لے لی تھی۔ لیکن گراؤنڈ زیرو پر کلچرل سینٹرل اور مسجد کی مخالفت اور وہ بھی اس بڑے پیمانے پر، معاملہ کچھ اور لگتا ہے۔ کلچرل سینٹر کی تعمیر کا پروجیکٹ اصل میں قرطبہ ہاؤس (ـCORDOBA INITIATIVE )کی تجویز تھی۔ اس ادارے کا نام دسویں صدی کے اس ہسپانوی شہر کے نام پر رکھا گیا ہے(جو مسلمانوں کے لئے نو سلجٹیابن گیا ہے) جہاں عیسائی ، یہودی اور مسلمان مل جل کر رہتے تھے۔ قرطبہ انیشیٹیو کی خواہش تھی کہ وہ اس تعمیر کے ذریعہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نظریے کو بدلنے کی کوشش کریںگے اور تہذیبی تنوع اور امن وسکون کی امریکی اقدار کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ کیونکہ اسامہ بن لادن دنیا بھر کے 125کروڑمسلمانوں کا نمائندہ نہیں ہے۔ لیکن دوسرا طبقہ جو کلچرل سینٹر اور مسجد کی تعمیر کو انتشار پسندانہ اقدام سمجھتا ہے، اس کے خیال میں اس منصوبے سے زخموں کو مندمل کرنے کے بجائے نفرت کو فروغ دیا جائے گااور لوگوں میں پھوٹ ڈالی جائے گی۔ اس کلچرل سینٹر سے مزید برہمی اور تنفر پیدا ہوگا۔100ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ قرطبہ ہاؤس جس کی کویتی نژاد امام فیصل عبدالرؤف امامت کریںگے۔ ان کے خیال میں یہ مرکز تمام نیویارک کے شہریوں کے لئے ہوگا اور اس کا مقصد امریکہ کی مسلم آبادی کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ جب کہ نیو یارک کے 62فیصد شہری اسلامی سینٹر اور مسجد کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ زیرو کے نزدیک کسی بھی مسجد کی تعمیر ایسے ہی ہے جیسے کہ آشویز میں ہٹلر کی یادگا تعمیر کردی جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *