یہ کیسا ملک ہے

اقدس وحید
سترہ سالہ حافظ مغیث اور 15سالہ منیب کو گزشتہ 15اگست کو مشتعل بھیڑ نے سیالکوٹ میں مار ڈالا۔ ان پر ڈکیتی اور لوٹ مار کا الزام تھا۔ اگلے دن تقریباً ہر نیوز چینل پر یہ خبر سرخیوں میں بنی رہی۔ اس حادثہ کو فوری انصاف کی مثال کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی یہ عام لوگوں کے ذریعہ فوری انصاف کی ایک مثال ہے۔ اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ اتنا شرمناک ہے کہ ایک ملک کی شکل میں ہم اس جانب دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کرسکتے۔ اب میں آپ کو اس واردات کی حقیقی تصویر بتاتی ہوں۔ منیب اور مغیث سیالکوٹ کے ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اوردونوں بھائی تھے۔ پڑھائی لکھائی میں دونوں کو ہی ذہین طلبا میں شمار کیا جاتا تھا۔ مغیث حافظِ قرآن تھا اور نماز تراویح میں مسجد کا امام بھی تھا۔ دونوں بھائی کرکٹ کے شوقین تھے اور کچھ دنوں پہلے کھیل کے میدان میں ہی دونوں کی اپنے علاقہ کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔15؍اگست کو کچھ لوگوں نے ایک لڑکے کو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور اس کی پٹائی کرنے لگے۔ اسی دوران مغیث اور منیب بھی ادھر سے گزر رہے تھے اوروہ رک کر یہ ماجرا دیکھنے لگے۔
موقع پر ایک اور لڑکا بھی موجود تھا، جو پکڑے گئے چور کا بڑا بھائی تھا۔ اس نے ان دونوں بھائیوں کو دیکھا اور اچانک زور زور سے چلانے لگا کہ یہ دونوں بھائی چور ہیں اور چوری کی اس واردات میں ان کابھی ہاتھ ہے۔ مشتعل بھیڑ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور دونوں بھائیوں کی جم کر پٹائی کرنے لگی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ منیب اور مغیث پر الزام لگانے والا یہ وہی لڑکا تھا، جس سے کچھ دنوں پہلے دونوں بھائیوں کی کھیل کے میدان میں لڑائی ہوئی تھی۔ اس نے بدلہ لینے کے لیے یہ نایاب طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ بھیڑ کو اس جھگڑے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا اور وہ لاٹھی، ڈنڈوں، لات گھونسوں سے دونوں بھائیوں کی تب تک پٹائی کرتی رہی، جب تک کہ دونوں کی موت نہیں ہو گئی۔ میں غلط نہیں کہہ رہی، ان دونوں بھائیوں کو مار دیا گیا۔ چونکیے مت، کیوں کہ ابھی میں آپ کو کچھ اور باتیں بتاؤںگی، جسے سن کر آپ حیران ہو جائیںگے۔ اپنی سانسوں کو تھام کر رکھیے، کیوں کہ آگے جو میں بتانے جا رہی ہوں، اسے سن کر آپ کی آنکھیں پھـٹی رہ جائیںگی۔ بھیڑ میں موجود لوگوں کا غصہ انہیں مار کر ہی سرد پڑا، جان لینے کے بعد انہوں نے دونوں لاشوں کو ننگا کر کے رسی سے لٹکا دیا اور اس پر لاٹھی ڈنڈے برساتے رہے۔
یہ جاننے کے بعد شاید آپ بھی اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پائیںگے کہ اس دوران موقع پر پولس بھی موجود تھی۔ وہی پولس، جسے بے گناہ عوام کا محافظ کہا جاتا ہے، لیکن یہاں موجود پولس والے تو جیسے اپنی ذمہ داری بھول چکے تھے۔ ان کے لیے تو جیسے یہ کوئی تماشہ تھا اور وہ تماش بین کی طرح کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے تھے۔ خوب تالیاں بجائیے، تماشے بازوں کے لیے تالیاں بجائیے اور تماش بینوں کے لیے تالیاں بجائیے۔ پاکستان میں قانون کے نظام کے لیے تالیاں بجائیے، قاتلوں کے لیے تالیاں بجائیے، قتل ہوتے ہوئے دیکھنے والے تماش بین کے لیے تالیاں بجائیے۔ کچھ تالیاں ان خبرنویسوں کے لیے بھی بجائیے، جو بغیر پوری بات جانے سب سے پہلے خبر دینے کے لیے بے چین رہتے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کی مانیں تو پولس بھی اب
یہ مان چکی ہے کہ دونوں بھائیوں کاچوری کی واردات سے کوئی تعلق نہیں تھا اور پرانی رنجش کی وجہ سے ان کو قتل کردیا گیا ۔یہ واردات ہماری آنکھوں پر پڑے پردے کو ہٹانے والی ہے۔ ہم سب، جو اس سماج کا رکن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، سب کے لئے آنکھیں کھولنے والی ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب اپنی اہمیت کھوتا جارہا ہے۔ برداشت کرنے کی ہماری طاقت مسلسل کم ہوتی جارہی ہے، کیوںکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں، جو بے رحم ہوچکا ہے اور مادہ پرستی کے جال میں اس قدر الجھ چکا ہے کہ مستقبل کے لئے کوئی امید ہی نہیں رہ گئی ہے۔ اس سنگین واردات پر ہمارا ردعمل کیا رہا ہے، اس پر نظرڈالنے کی ضرورت ہے۔خود سے ناامید ہوکرہم اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کسی شکاری کی طرح نہیں، بلکہ کمرزوربن کر سہارے کی تلاش کررہے ہیں۔ قیمتی موبائل فون کی مدد سے بنے ویڈیو کلپس دیکھنا ہمیں اچھا لگتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے ہم صرف ناظر بن کر رہ گئے ہیں۔ ان بے قصور بھائیوں پر جب مظالم ڈھائے جارہے تھے تو کوئی ان کی مدد کے لئے آگے نہیں آیا۔ ہم وہی کام کرکے فخر محسوس کرتے ہیں، جسے کرنے سے اللہ ہمیں منع کرتا ہے اور جس کی وجہ سے ہمیں اس کے قہر وغضب کا شکار بننا پڑسکتا ہے۔کیا ایسا نہیں لگتا کہ ہم خدا کے قہر کے شکار ہوسکتے ہیں؟ نہ تو ہمارا مذہب اور نہ ہی ہمارے ملک کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم کسی کی بے عزتی کریں تو پھر بے جان لاشوں کے ساتھ ہوئی اس شرمناک واردات پر ہم بھلا خاموش کیسے رہ سکتے ہیں۔ اس خاموشی کے بعد طالبان اور ہمارے درمیان کیا فرق رہ جاتا ہے؟ طالبان سے جڑا ایک ویڈیو، جس میں ایک لڑکی پر کوڑے برساتے دکھایا گیاہے و ہ عالمی میڈیا میں سرخیوں میں بنا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویڈیو میں لڑکی کے ساتھ دولڑکو ںکو دکھایا گیا ہے۔
ملک کے قانون کے مطابق قصورواروں کو پکڑنے کے لئے ایک الگ محکمہ (پولس) ہے، جبکہ انہیں سزا دینے کے لئے عدالتیں ہیں۔ مذہب کے مطابق ملزم کو قاضی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جو قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کی سزا مقرر کرتا ہے۔ مذہب اور قانون میں ہر طرح کے جرائم اور گناہوں کے لئے الگ الگ سزا ہے۔ لیکن بے قصور لوگوں کی لاشوں کو ننگا کرکے اس طرح لٹکاکر بے عزت کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ ہمارا ملک پہلے ہی سیلاب اور توانائی کے وسائل کی کمی جیسے کئی مسائل سے دوچار ہے، پھر عام لوگوںکے اس رویے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ آیئے، چند ایسی وجوہات کو تلاش کریں، جو اس غیر انسانی فعل کی محرک ہوسکتی ہیں۔
ہمارے ملک کا سب سے بڑ ا مسئلہ ہے قانون کی حکمرانی کا فقدان۔ ملک کی عدلیہ دو حصوں میں منقسم ہے، ایک غریبوں کے لئے اور ایک امیروں کے لئے۔ جب کہ متوسط طبقہ کنویں اور کھائی کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ نیشنل ریکانسی لیشن آڈریننس سے مستفید ہونے والے لوگوں کے کروڑوں روپے معاف کئے جارہے ہیں، سڑک پر ریڈ لائٹ توڑکر آگے نکلنے کی چھوٹی سی غلطی کرنے والا عام انسان عدالتی چکر میں پڑ کرالجھ جاتا ہے۔ عام لوگ اب ناامید ہوچکے ہیں اور قانونی اداروں میں ان کا تھوڑا بھی بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔غریبی، بے روزگاری اور اقتدار پر قابض لوگوں نے سماجی اور معاشرتی توازن کو درہم برہم کردیا ہے ۔ اسی عدم توازن کا نتیجہ ہے کہ ہجوم نے ان دونوں بھائیوں کی حقیقت جانے بغیر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہجوم کا یہ رویہ ملک کے نظام اور پورے سماج کے تئیں اس کی ناامیدی اور غیر یقینی کے اظہار کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ ہمارا ملک کسی انقلاب کی جانب نہیں بڑھ رہا، بلکہ جرائم، تشدد اورمادہ پرستی کے راستے پر چل رہا ہے۔ ہم سننا چاہتے ہیں اوردوسروں کو اپنی باتیں بتانا چاہتے ہیں۔ ہم پورے ملک کے نظم ونسق میں اصلاح کے سپنے نہیں دیکھتے، صرف اپنی مالی حالت میں سدھار چاہتے ہیں، تاکہ زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔ ڈر اس بات کا ہے کہ اگر صحیح راستہ نہیں دکھایا گیا تو یہ ملک اخلاق سے عاری اور بدعنوان لوگوں کی بھیڑ بن کر رہ جائے گا۔ میں یہی دعا کرتی ہوں کہ اللہ ہمیں صحیح راستہ دکھائے، ہمیں عزم وحوصلہ دے، جس سے ملک میں اتحاد کے جذبات پیداہوں۔ خدا مغیث اور منیب کی روحوں کو بھی سکون عطاکرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *