یہ ہے امریکہ کا اصل چہرہ

Share Article

محمود ایاز
اگر ہم تاریخ کا عمیق نظر سے مطالعہ کریں تو یہ بات ہم پرروزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ قومیں ہمیشہ اپنی تاریخ سے پہچانی جاتی ہیں۔ تاریخ نے ہمیشہ قوموں کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی دہشت گردی کی اس جنگ میں ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد ہے کون؟ پاکستان، افغانستان،  بوسنیا، چیچنیا، یمن، عراق اور دیگر ممالک میں بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں سے کون واقف نہیں ہے؟ ان ممالک پر ہونے والے مظالم، درد انگیز داستانیں اور نت نئے ہنگامے، انسان تو انسان، زمین و آسمان، جبال و جبل کو بھی لرزا دینے والے ہیں۔ آخر ان شعلوں کو بھڑکانے والا ہے کون ہے؟
جمہوریت اور عالمی امن کے ٹھیکیدار، امریکا کا ماضی دہشت گردی کی تاریخ سے بھرا پڑا ہے۔ دہشت گردی کی تاریخ بھی انسان کی طرح قدیم ہے، اس کے مناظرمیں تاریخ کے مختلف ادوار دکھائی دیتے ہیں۔ جابروں نے دنیا کے معصوم عوام کو خوف زدہ کرنے کے لیے ان کے وسائل پر قبضہ کرکے اپنی سامراجی ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔ دورِ حاضر میں بھی انہی قوتوں نے دہشت گردی کو ہتھار بنا لیا ہے۔ امریکہ نے نام نہاد امن کی آڑ میں دنیا میں فساد برپا کر رکھا ہے، دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے جوہری بم استعمال کرکے لاکھوں معصوم انسانوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ 6 اگست 1945 کی صبح اینولا گے نامی جی 29 بمبار طیارہ جاپان کی فضائوں میں داخل ہوا اور 2 ہزار فٹ کی بلندی سے لٹل بوا ئے نامی یورنیم گرا کر اپنے نزدیک واپسی اختیار کی۔ 8 بج کر 15 منٹ پر انسانوں کے ہاتھوں انسانوں پر ڈھا ئی جانے والی قیامت کے بارے میں اینولاگے کا پا ئلٹ پاول کہتا ہے ’’ جب میں نے پیچھے مڑ کر ہیروشیما کی طرف دیکھا تو سارا شہر دھو ئیں کی لپیٹ میں تھا۔ چند لمحوں کے لیے ہم خاموش ہوگئے ۔ذہن خالی ہوگئے پھر ساتھی پا ئلٹ چلانے لگا ۔وہ دیکھو وہ دیکھو اوہ میرے خدایا ہم نے کیا کردیا‘‘اس سانحہ میں 2 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ صرف 3 روز گزرنے کے بعد 9 اگست 1945 کو امریکہ نے ناگاساکی کے مکینوں کو fat man نامی بم کا شکار بنایا۔ ان دونوں واقعات میں امریکہ نے لاکھوں انسانوں کی زندگی چھین لی۔
اس وقت امریکہ کے پاس 10 ہزار سے زیادہ ایٹم بم موجود ہیں اور وہ امن کا علمبردار بن کر ملکوں کو دھمکاتا رہتا ہے اور ان کی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیتا ہے، حالانکہ امریکی تاریخ صرف دہشت گردی کی تاریخ ہے۔ عراق پر اقتصادی پابندیوں کے باعث بچوں کو دودھ اور ادویات کی عدم دستیابی سے 5 لاکھ اموات اور ہزاروں میل دور ویت نام، لائوس اور کمبوڈیا میں 32 سال تک بمباری کرنا۔ سی آئی اے کے ذریعے ایک سازش کے تحت 1962 میں انڈونیشا میں 20 لاکھ انسانوں کا قتل عام ، فلسطین اور افغانستان میں بمباری کرکے ظلم و ستم کی بھیانک داستانیں رقم کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے سوویت یونین سمیت دوسرے ممالک کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ،جو کہ 28 فروری 1946 سے لیکر 25 دسمبر 1991 تک جاری رہا۔ 26 جون 1948 سے 30 ستمبر 1949 تک امریکی فوجیوں نے برلن میں ظلم کا بازار گرم کیا۔ کوریا سے جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا تو امریکہ نے 27 جون 1950 سے 27 جولا ئی 1953 تک جارجیت کی پالیسی اپنا ئے رکھی۔
11 اگست 1954 کو تا ئیوان پر حملوں کی ابتدا کی اوریہ سلسلہ 1955 تک جاری رہا۔ نہر سوئیز کے مسلئے پر 26 جولا ئی سے 15 نومبر تک مصر پر حملے کیے۔ 23 اگست 1958 کو تا ئیوان پر پھر حملہ کیا گیا، جو یکم جنوری 1959 تک جاری رہا۔ 14 جولا ئی 1960 کو امریکہ نے کانگو پر لشکر کشی کی اور یہ سلسلہ یکم اکتوبر 1962 تک جاری رہا۔ جرمنی کے شہر برلن پر امریکہ نے دوبارہ حملہ 14 اگست 1961 کو کیا۔ جنوری 1962 میں امریکہ نے رینچ ہینڈ آپریشن کے نام سے ویت نام پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ 24 فروری 1965 سے آپریشن رولنگ تھنڈر کے نام سے امریکہ نے دلدلی علاقوں میں جنگ لڑی۔ 18 جون 1965 سے اپریل 1970 تک آپریشن آرک لا ئٹ کے ذریعے ویت نام کو امریکی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 6 اپریل 1972 سے 27 جولا ئی 1973 تک امریکہ نے آپریشن فریڈم اور آپریشن لا ئن بیکر کے نام سے شمالی ویت نام پر متعدد حملے کیے۔ ویت نام سے جنگ کے دوران امریکہ نے دنیا میں دیگر محاذ بھی کھولے۔ 24 اکتوبر 1962 سے یکم جون 1963 تک کیوبا پر میزائلوں سے حملے کیے گئے۔
اکتوبر 1964 میں چین کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ریڈ ڈریگن آپریشن کے نام سے 23 نومبر 1964 سے 27 نومبر 1964 تک کانگو پر حملے کیے گئے۔ 28 اپریل 1965 سے 21 ستمبر 1966 تک پاور پیک آپریشن کے ذریعے امریکہ نے ڈومینکین ری پبلک پر حملے کیے۔ امریکہ نے سکس وار آپریشن کے ذریعے 13 مئی سے 10 جون 1967 تک مشرق وسطٰی پر حملے کیے۔ امریکہ نے 11 اپریل سے 15 اپریل 1975 تک کمبوڈیا پر ایگل پل کے نام سے آپریشن کیا۔ ٹری انسیڈنٹ آپریشن کے ذریعے کوریا پر 18 سے 21 اگست 1976 تک حملے ہوئے۔ 1978 میں کولوراڈو پر مزاحمت کی گئی، فروری سے 23 مارچ 1978 تک صومالیہ اور ایتھوپیا میں فوجیں اتاری گئیں۔ 6 دسمبر 1978 سے 6 جنوری 1979 تک امریکی فوجیں ایران، یمن اور بحر ہند کے ساحلوں پر گردش کرتی رہیں۔ ڈیزرٹ ون کے نام سے 25 اپریل 1980 کو امریکی فوجیوں نے ایران پر حملہ کیا۔ یکم جنوری 1981 سے یکم فروری 1992 تک امریکہ نے ایل سلویڈور اور نکارا گوا پر لشکر کشی کی۔ گلف آف سدرہ آپریشن کے ذریعے 18 اگست 1981 کو لیبیا پر فضائی حملے کیے۔
6 اکتوبر 1981 کو آپریشن برائٹ اسٹار کے ذریعے مصر پر حملہ ہوا۔ امریکی ملٹی نیشنل فورسز نے لبنان پر 25 اگست 1982 سے یکم دسمبر 1987 تک حملے کیے۔ 18 مارچ 1983 کو اری کال آپریشن کے سوڈان پر حملہ کیا۔ جنٹ فیوری آپریشن کے نام سے 23 اکتوبر سے 21 نومبر 1983 تک گریناڈا پر حملے ہوئے۔ 26 جنوری 1986 کو لیبیا پر دوبارہ حملہ ہوا اور یہ مارچ تک جاری رہا۔ جولائی 1986 میں بلاسٹ فرینس کے ذریعے بولیویا پر حملے کیے گئے۔ 17 اپریل 1988 کو خلیج فارس پر حملہ ہوا۔امریکی فوجوں نے پروموٹ برٹی آپریشن کے نام سے 31 دسمبر 1990 کوپانامہ پر حملہ کیا۔ مئی 1990 کو امریکہ نے لائبریا پر حملہ کیا، ڈیزرٹ اسٹارم آپریشن کے ذریعے یکم فروری سے 28 فروری 1991 تک عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بے شمار حملے کیے۔ جن میں بڑی تعداد میں عراقی مارے گئے۔ 2 جنوری 1991 کو صومالیہ پر حملہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے ذریعے اس پر پابندیاں لگائی گئیں، جس کے باعث وہاں کے لوگ بھوکے مرنے لگے۔اشیائے ضروریہ کی وہاں اس قدر قلت ہوئی کہ صومالیہ غربت کا استعارہ بن گیا۔
نائن الیون کے حملوں کے بعد تو امریکی خوبصورت چہرے کا نقاب اترگیا۔ ان مشکوک حملوں کے ذریعے اس نے افغانستان کے نہتے عوام پر جنگ مسلط کی اور لاکھوں افغانیوں کو جرم بے گناہی کی سزا میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 20 مارچ 2003کو عراق کو ایٹمی ہتھیار سے پاک کرنے اور عوام کو صدام حسین کی ٰ آمریت سے چھٹکارا دلانے کا عزم لیے وہاں آیا اور اب تک وہ 10 لاکھ سے زیادہ عراقیوں کی جانیں لے چکا ہے اور زندہ بچ جانے والوں کو بھوک، افلاس اور مہنگائی کا تحفہ دے چکا ہے۔ اب امریکا کے خونی پنجے پاکستان اور ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ڈرون حملوں کے ذریعے وہ ایک حد تک اپنا مقصد حاصل کر رہا ہے اور دوسری طرف یہ شوشا چھوڑا جا رہا ہے کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے یا کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ نائن الیون حملوں کے ذمہ دار پاکستان میں ہیں۔ یہ سب وہ سفید جھوٹ ہیں جو دوسرے ممالک پر حملوں کے وقت بھی تراشے گئے اور انہیں پھر استعمال کیا جارہا ہے۔  امریکی دہشت گردی کی تاریخ دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کو اصل دہشت گرد کون ہے؟ اور کس نے امن کا علمبردار بن کر دنیا کو جنگوں، مسائل اور دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *