نصیحت کرو لیکن خود بھی عمل کرو

دلیپ چیرین
چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ اگلے مہینے عالمی بینک کے ساتھ جڑ رہے ہیں۔ وہاں بھی ان کی ذمہ داریاں ان کے موجودہ کام کی ہی طرح ہوںگی،لیکن حبیب اللہ انفارمیشن کمیشن سے متعلق کئی مسائل کو حل کئے بغیر ہی جارہے ہیں۔ اس میں سب سے بڑا معاملہ کمیشن کی معتبریت کا ہے، جو ایک آرٹی آئی کارکن کے ذریعہ دائر کی گئی اپیل کے بعد پیدا ہوا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ انفارمیشن کمشنر خود ان رہنما اصولوں پر عمل نہیں کرتے، جن کی نصیحت وہ دوسروں کو دیتے ہیں۔ انفارمیشن کمیشن وزیروں اور نوکر شاہوں کی جائیدادوں کی تفصیل فراہم کرنے کا حکم تو دیتا ہے، لیکن انفارمیشن کمشنر خود ایسا کرنے سے انکار کررہاہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک صرف شیلیش گاندھی نے ہی اپنی جائیداد کی تفصیل عام کی ہے۔اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کمیشن کے اندر اس موضوع پر اتفاق رائے نہیں ہے اور حبیب اللہ کے جاںنشین کو اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تحت انفارمیشن کمیشن کے زیادہ تر عہدوں پر سبکدوش نوکرشاہ جلوہ نشیں ہیں۔ آر ٹی آئی کارکن اروند کیجریوال کے مطابق ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے ا س عہدے کے لئے درخواست بھی نہیں دی تھی، پھر بھی انہیں مقرر کردیا گیا۔ اس سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ نوکر شاہوںکے علاوہ کسی اور کو ان عہدوں کے لئے درخواست دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ چیف انفارمیشن کمشنر کو ان معاملوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *