ڈاکٹر منیش کمار 
کسی انسان کی طبیعت کتنی خراب ہے، یہ جاننے کے لیے ڈاکٹر تھرما میٹر لگاتا ہے، آلہ لگاتا ہے اور کئی قسم کے ٹیسٹ کرتا ہے۔ جسم کا بلڈ پریشر وغیرہ جان کر وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کی حالت کیسی ہے۔ ملک کی صحت جاننے کے لیے بھی ایک طریقہ ہے۔ جس ملک میں حکومت کو اپنے عوام پر طاقت کا استعمال کرنا پڑے، اس ملک کی صحت ٹھیک نہیں ہوتی۔ جس ملک کی پولس یا نیم فوجی دستے یا فوج جس تعداد میں طاقت کا استعمال کرتی ہے، اس ملک کی صحت اتنی ہی خراب ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کی طبیعت خراب ہے۔ خطرہ منڈلا رہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جن لوگوں پر اس خطرے سے نمٹنے کی ذمہ داری ہے، انہیں اس کا اندازہ تک نہیں ہے۔ ملک چلانے والوں کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ اگر کسان انقلابی ہوگئے تو ملک کو فوج کے ذریعے چلانا بھی مشکل ہوجائے گا۔
15اگست کے دن ہمارے ملک کے ہر شہر میں جشن منایا جارہا تھا۔ اخباروں میں سیاست دانوں کے مسکراتے ہوئے چہرے تھے اور ٹی وی پر آزادی کے فلسفے پر بحث ہورہی تھی۔ سرکاری دفتروں پر ترنگا لہرایا جارہا تھا۔ ایس ایم ایس کے ذریعہ لوگ اپنے دوست احباب کو مبارکباد دے رہے تھے۔ دہلی کے لال قلعہ پر وزیر اعظم کاخطاب چل رہا تھا، لیکن دہلی کے چاروں طرف کسان سڑک پر تحریک چلارہے تھے۔ اترپردیش میں اس وقت کسانوں کے پاس ایک ہیکٹر سے بھی کم زمین ہے۔ علی گڑھ کے ان پانچ گاؤں میں بھی بیشتر چھوٹے کسان ہیں۔ کاشت کاری ہی ان کی روزی روٹی کا وسیلہ ہے۔ علی گڑھ، متھرا، ہاتھرس، آگرہ، مہامایانگر اور گوتم بدھ نگر میں ترنگے کی جگہ کسان ہاتھ میں لاٹھی لے کر پولس و انتظامیہ سے نبردآزما تھے۔ پولس کی لاٹھیاں کھا رہے تھے۔ گولیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اس تحریک میں دو کسانوں کی موت اور کئی درجن کسان زخمی ہوگئے۔ حکومت نے فوری طور پر اعلانات بھی کیے۔ اگلے روز پارلیمنٹ میں بھی معاملہ اٹھا، لیکن تحریک جاری ہے۔ کسانوں کا غصہ برقرار ہے۔ کسان زمین پر قبضے سے اتنے ناراض ہیں کہ علی گڑھ کی آگ پورے اترپردیش میں پھیل گئی۔ بلیا سے لے کر وارانسی، بھدوہی، مرزا پور اور الٰہ آباد میں بھی کسان اراضی پر قبضے سے ناراض ہیں۔ فیروز آباد میں 1775ایکٹر کسانوں کی زمین پر قبضہ کے خلاف 29گاؤں میں کسان تحریک چلارہے ہیں۔ یمنا ایکسپریس وے کے خلاف علی گڑھ سے شروع ہوئی تحریک اب گنگا ایکسپریس وے تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کا نتیجہ یہ ہے کہ کسان اب یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں معاوضہ نہیں زمین واپس چاہیے۔ ان انقلابیوں کو دور دور سے حمایت مل رہی ہے۔ دادری کے کسانوں نے پنچایت بلا کر ان لوگوں کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ علی گڑھ کے کسانوں کو یوت مال، وردھا اور ناگپور کے کسانوں نے بھی حمایت دی ہے اور یہاں آنے کی تیاری میں ہیں۔ علاوہ ازیں گنگا ایکسپریس وے کے خلاف تحریک چلارہے کسانوں نے بھی احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کردیا۔ تحریک کے تیور کو دیکھتے ہوئے کئی سیاسی جماعتیں بھی اپنی حمایت دینے پہنچ گئیں۔ حکومت کو اس خطرے کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے۔ کسانوں کی تحریک بغاوت کی شکل اختیار کر رہی ہے اور اترپردیش اس کا مرکز بن گیا ہے۔ اگر اس بغاوت نے آگ پکڑ لی تو اس پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا۔
15؍اگست کے دن ٹی وی پر کسانوں کو لاٹھی لیے دیکھ کر سوامی سہجانند سرسوتی کی یاد آتی ہے۔ وہ کہتے تھے کیسے لوگے مال گزاری۔ لٹھ ہمارا زندہ باد۔ ہندوستان میں منظم کسان تحریک کا کریڈٹ سوامی سہجا نند سرسوتی کو جاتا ہے۔ انہوں نے انگریزوں اور زمینداروں کے استحصال کے خلاف فیصلہ کن لڑائی لڑی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو اناج اور کپڑا پیدا کرے گا، اب وہی قانون بنائے گا۔ یہ ہندوستان اسی کاہے، اب حکومت وہی کرے گا۔ انہوں نے گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو انگریزوں کے خلاف کھڑا کیا۔ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ انگریز حکومت کی آڑ میں زمیندار غریب کسانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے 1929میں بہار میں کسان سبھا کا قیام کیا اور زمینداروں کے استحصال سے آزادی دلانے اور زمین پر مالکانہ حق دلانے کی مہم شروع کی۔ سوامی سہجا نند نے سیکڑوں ریلیاں اور میٹنگیں کیں، جس میں کانگریس کی میٹنگوں سے زیادہ لوگ جمع ہوتے تھے۔ سہجا نند اب زندہ نہیں ہیں، لیکن جس استحصال کے خلاف انہوں نے لڑائی لڑی، وہ آج بھی موجود ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت کے کسان انگریزوں سے لڑ رہے تھے اور آج بدقسمتی سے اپنی ہی حکومت سے۔ اصل میں غلامی ہو یا آزادی ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بس استحصال کرنے والوں کا چہرہ بدل گیا ہے۔ آزادی کا یہ کون سا منظر ہے، جہاں چند صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے غریب کسانوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ چاہے وہ دادری ہو، علی گڑھ ہو، آگرہ ہویا پھر کوئی اور شہر۔ زمین پر قبضہ کے حوالے سے چل رہی تحریک میں شامل کسان کسی سیاسی جماعت، نظریہ یا تنظیم سے وابستہ نہیں ہیں۔ وہ عام کسان ہیں۔ جن کی زمین چھن گئی ہے، یا چھینی جارہی ہے۔ ان میں وہ لوگ ہیں، جن کے پا س کھیتی کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آگرہ کے اعتماد پور گاؤں کو ہی لے لیجئے، یہاں کے باشندوں نے مقبوضہ زمین کا زیادہ معاوضہ دیے جانے کے مطالبے کے سبب پولس چوکیوں پر حملہ کیا۔ ان کی بھیڑ میں بھاری تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ پولس نے لاٹھی چارج کرانے کے ساتھ ہی ربر کی گولیاں چلائیں۔ کئی خواتین اور بچے زخمی ہوئے۔ کافی دیر تک پولس اور کسانوں کے درمیان پتھر بازی ہوتی رہی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس علاقہ میں کئی کسان لیڈر ہیں جیسے کہ اجیت سنگھ اور مہندر سنگھ ٹکیت، لیکن ان غریب کسانوں نے ان کی قیادت کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ یہ لوگ منظم نہیں ہیں۔ یہ تحریک اس لیے چلارہے ہیں، کیوںکہ یہ ناراض ہیں۔ یہ غصہ اس لیے ہوجاتے ہیں، کیوںکہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں ایک نئی رسم چلی ہے۔ صنعت کاروں، امیروں اور رسوخ والوں کے مطالبات کو حکومت اور افسران بند کمرے میں پورا کردیتے ہیں،لیکن ملک کے غریب، مزدور اور کسانوں کو اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لیے بھی خون دینا پڑتاہے۔ یمنا ایکسپریس وے 9ہزار کروڑ روپے کا پروجیکٹ ہے۔ دہلی سے آگرہ تک کے لیے اس پروجیکٹ میں 165ہائی وے بننے ہیں، جس کے لیے حکومت نے کسانوں کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔ اس پروجیکٹ میں اترپردیش کے چار اضلاع کے 1192گاؤں کے کسانوں کی زمین لی گئی ہے۔ کسانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح کا معاوضہ نوئیڈا کے کسانوں کو ملا ہے، وہی معاوضہ انہیں بھی ملنا چاہیے۔ حال ہی میں پیدا ہوئی کسان تحریک اس بات کا ثبوت ہے کہ ایکسپریس وے کے حوالے سے حکومت نے کسانوں کے ساتھ نہ صرف ناانصافی کی ہے، بلکہ ان کی باتوں کو سننے سے بھی انکار کردیا۔ گزشتہ پارلیمانی انتخابات کا واقعہ ہے۔ گریٹر نوئیڈا کے سکندر آباد کے چولا انڈسٹریل ایریا میں آنے والے 15گائوں کے کسانوں نے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس کی وجہ وہی تھی جو آج کی تحریک کی ہے۔ ان کسانوں کی زمین پر قبضہ کے لئے 1999میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ اس وقت کسانوں نے نوئیڈا ،گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کے کے سامنے معاوضہ اور مقبوضہ زمین کے عوض پانچ فیصد پلاٹ دینے کا مطالبہ کر تے ہوئے تحریک چلائی تھی۔ جسے یو پی ایس آئی ڈی سی نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ 405روپے فی گز معاوضہ اور مقبوضہ زمین کے عوض پانچ فیصد پلاٹ دیا جائے گا۔ آج تک اس قرار پر عمل نہیں ہو ا ہے۔ٹکیت یا اجیت سنگھ جیسے بڑے لیڈران نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کسانوں نے ہر جگہ سیاسی جماعتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا ،لیکن اب یہ کسان سمجھ چکے ہیں کہ انہیں صرف ایک سیاسی مہرے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ آخر کار کسانوں نے خود ہی مورچہ سنبھال لیا۔ علی گڑھ کی چنگاری ایک بڑی تحریک کی شکل لے رہی ہے۔ اس بات کے پورے امکان ہیں کہ اس تحریک کے بھڑکنے سے گنگا ایکسپریس وے، ہنڈن ایکسپریس وے اور دیگر دوسری جگہ کے کسان بھی معاوضہ بڑھانے کا مطالبہ شروع کر دیں گے، تب یہ تحریک مغرب سے مشرق تک پھیل جائے گی۔ کسان حکومت کی پالیسیوں ، افسران کی نظر اندازی اور سیاسی جماعتوں کے فریب سے مایوس ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب، جہاں کہیں بھی معاوضہ کا سوال اٹھا وہاں پولس کی لاٹھی اور گولی چلتی ہے۔ ایسے میں خطرہ اس بات کا ہے کہ اگر یہ کسان پر تشدد ہو جاتے ہیں تو اس میں ان کا کوئی بھی قصور نہیں ہوگا۔ یہ حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ ملک کے غریب کسانوں کے مسئلہ کو حل کرنے اور ان کے ساتھ برتائو کرنے میں انسانی اقدار کو بالائے طاق کیوں رکھ دیا جاتا ہے۔
تحریک کو دبانے کے لیے حکومت نے پریس ریلیز جاری کر دی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ جن کسانوں کی بیشتر زمین پر قبضہ کر لیا گیا ہے ایسے کسانوں کے کنبہ کے ایک ممبر کو جے پی انفراٹیک کے ذریعہ ان گائوں میں مقبوضہ زمین پر ٹائون شپ بنانے کا کام شروع ہونے پر ان کی اہلیت کے مطابق شامل کیا جائے گا۔ لیکن اس طرح کے فریب سے کسان عاجز آ چکے ہیں۔ ٹپل اور آس پاس کے دیگر گائوں کے کسانوں نے واپس جا کر معاوضہ بڑھانے کے لئے مظاہرہ جاری رکھا۔ علی گڑھ، متھرا، آگرہ، مہا مایا نگر اور گوتم بدھ نگر چاروں جانب کے کسان بھی نوئیڈا کے برابر معاوضہ کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کسانوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے پیچھے کیا دلیل ہے۔
اس منتازعہ پروجیکٹ کا پورا نام ’یمنا ایکسپریس وے انڈسٹریل اتھارٹی‘ ہے۔نام سے ہی سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ صرف سڑک بنانے کا منصوبہ نہیں ہے۔ یہاں کاروباری مراکز بھی بنیں گے۔اس میں کسانوں کی زمین پر قبضہ کر کے جے پی ایسو سی ایٹس نام کی کمپنی کو سڑک بنانے کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کی ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ جے پی ایسو سی ایٹس ہی یہاں سرمایہ کاری کرکے صنعتی ترقی کرے گی۔ یہ اتھارٹی رہائشی پلاٹ تقریباً پانچ ہزار فی مربع میٹر کے حساب سے زمین فروخت کر رہی ہے۔ بعد میں اس کی قیمت اور بھی زیادہ ہوگی۔ حکومت کسانوں کی زرخیز زمین پر ہائی وے، ایکسپریس وے یا انڈسٹری یا پھر ایس ای زیڈ بنانا چاہتی ہے۔ جس کا فائدہ غریب کسانوں کو نہیں بلکہ ملک کے صنعت کاروں اور امیروں کو ملے گا۔ ان کھیتوں میں ٹاؤن شپ، مال، دفاتر، تھیٹر وغیرہ کی تعمیر ہوگی، لیکن جس کی زمین ہے اس کو کیا ملے گا؟ یہی وجہ ہے کہ غریب کسانوں کا غصہ حکومت کے ساتھ ساتھ ان بڑی بڑی کمپنیوں پر بھی ہے، جن کو ان پالیسیوں کا براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ ناراضگی اس قدر ہے کہ احتجاج کرنے والے کسانوں نے جے پی کمپنی کے آفس کو آگ کے حوالے کردیا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ یہ آفس اتنا بڑا تھا کہ اسے جلانے میں دودن لگیں گے، لیکن تین چار گھنٹے میں سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔ حکومت کے سامنے دوسرا خطرہ یہ ہے کہ کسانوں نے اب معاوضہ مانگنا بند کردیا ہے۔ وہ اب اپنی زمین کی واپسی چاہتے ہیں۔ اگر یہ تحریک زمین کی واپسی کے مطالبہ کی جانب مڑگئی تو صورت حال خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔کسان زمین چھوڑیں گے نہیں اور حکومت ترقی کے نام پر پیچھے نہیں ہٹے گی۔ پرتشدد تحریک کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ ایسے میں کسی بھی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کی ترقی کے لئے وہ کسانوں کی زمین پرجبراًقبضہ کرلے۔ ملک میں ایسے قانون کی ضرورت ہے جس میں کسانوں کی زمین کا الاٹمنٹ ان کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جاسکے اور اگر حکومت زمین الاٹ کرتی بھی ہے تو معاوضہ کی رقم اور کسانو ںکے مستقبل کا پورا پورا خیال رکھاجائے۔
ملک کے بارے میں سوچتے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ڈر لگنے لگتا ہے۔ ملک میں کسان تحریک بغاوت کی شکل اختیار کررہی ہے۔ آدیواسی نکسلیوں کے ساتھ مل کر بغاوت کررہے ہیں۔ سرکاری اسکیموں کے نام پر ملک کے چند گھرانوں کو فائدہ ہورہا ہے۔ بدعنوانی کے نئے روپ دیکھنے میں آرہے ہیں۔ افسران اور سرکاری محکمے ہر محاذ پر ناکام ہورہے ہیں۔ حکومت کی لیزی ٹمیسی پر سوال اٹھنے لگا ہے۔ سنبھلنے کا شاید یہ آخری موقع ہو۔


