شیلا جی! پیرس تو نہیں بن پائی دلی، کوڑے کا ڈھیر بن گئی

وسیم راشد
یاد نہیں آتا کہ بچپن میں یا شعور کی منزلیں طے کرتے ہوئے کب یہ شعر سنا تھا :
کس کس کو یاد کیجئے کس کس کو روئیے
آرام بڑی چیز ہے منہ ڈھک کے سوئیے
دیکھا جائے تواب اس شعر کا صحیح مفہوم سمجھ میں آیا ہے۔ اگر کوئی اس کی تشریح کرنے بیٹھے تو یہی ہوگی نا کہ کس کس چیز کو انسان یاد رکھے اور کس کس بات کا ماتم کرتا رہے، اس سے بہتر ہے کہ وہ سب کی طرف سے منہ پھیر کر اپنی آنکھیں بند کر کے آرام سے سوجائے کہ نہ وہ کچھ دیکھے گا نہ ہی اس کو تکلیف ہوگی اور نہ ہی وہ اس کا سد باب تلاش کرنے کی زحمت سے گزرے گا۔ یہی حال دہلی حکومت کا ہے اور شیلا جی تو ویسے بھی خود ہی All is wellکا نعرہ لگاتی رہتی ہیں اور بار بار یہی کہنے کی کوشش کرتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ نہ ہی ان کو دہلی کے ہر علاقہ ، ہر محلہ میں کوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، نہ ان کو سڑتی بدبو دار گلیاں نظر آتی ہیں، نہ ان کو بارش کے بعد دہلی کا سوئمنگ پول میں بدل جانا نظر آتا ہے، نہ ہی ان کو 2-3گھنٹے تک کسی جام میں پھنسنا پڑتا ہے کہ بارش کے بعد کی رکی تھمی دہلی نظر آسکے۔ دولت مشترکہ کھیلوں کی کہانی تو بہت سن لی، اس کھیل نے ایک طوائف کی طرح اپنی ناز و ادا اور اپنی چمک دمک سے اچھے اچھوں کا ایمان ڈگمگا دیا۔ سبھی نے خوب دولت کمائی۔ سبھی نے 10-10گنا پیسہ کمایا اور شیلا جی All is wellہی کہتی رہیں اور سونیا جی بھی اور ہمارے محترم وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اب جاگے جب اس دولت مشترکہ کھیل کے بہانے سب کی تجوریاں بھر گئیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں ہندوستان میں اس کھیل کے انعقاد سے متعلق تشویش نظر آرہی ہے۔ تقریباً 2ماہ سے دنیا بھرکے تمام تر اخبارات ہندوستان میں اس کھیل کے انعقاد پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں اور ہندوستان کی نااہلی پر تاثرات پیش کررہے ہیں، مگر ہماری حکومت تب جاگی ہے، جب ہر طرف ہاہاکار مچ گئی اور بارات دروازے پر آکھڑی ہوئی، جب پورا دارالخلافہ کوڑے کے ڈھیر میں بدل گیا ہے۔ بارش سے اسٹیڈیمس کی چھتیں ٹپکنے لگیں، بلکہ خود پارلیمنٹ کی چھت بھی ٹپکنے لگی ہے ساتھ ہی بارش سے ایم سی ڈی کی پول بھی کھل گئی، کیونکہ پانی کی نکاسی کا انتظام بالکل ناکارہ ہوکر رہ گیا۔ چلئے ایسا کرتے ہیں آپ کو پوری دہلی کی سیر کراتے ہیں۔یہ مشرقی دہلی کے علاقے ہیں، جس میں میوروہار، پٹ پڑ گنج، پریت وہار اور شاہدرہ وغیرہ آتے ہیں۔ یہاں جب آپ شاہدرہ زون میں داخل ہوتے ہیں تو میٹرو اسٹیشن سے تھوڑا آگے کوڑے کے کئی ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ یہاں کی سڑکیں بے حد خستہ حال ہیں۔ یہاں اتنے گڈھے ہیں کہ آپ اگر رکشہ میں بیٹھے ہیں تو گرنے کا پورا پورا خدشہ رہتا ہے۔یہاں کے کوڑے گھر کے آس پاس جنگلی سور منڈلا رہے ہیں اور پاس ہی میں علاقے کے بچے کھیل رہے ہیں۔ مغربی دہلی میں جہاں نہ صرف اشوک نگر، تلک نگر، وکاس پوری، دھولاکنواں، ہری نگر، سبھاش نگر وغیرہ جیسے علاقے ہیں بلکہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی ہے ۔ اس علاقہ کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ میٹرو کے کام کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں جس کے سبب بارش کے بعد راستے اتنے جام ہو جاتے ہیں کہ ایئرپورٹ تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہاں کے پچھم پوری اور ہری نگر وغیرہ میں بھی سڑکوں کی حالت بے حد خراب ہے اور بارش کے بعد سڑکیں تالاب کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اب اگر جنوبی دہلی کی بات کریں تو آر کے پورم، حوض خاص، ڈیفنس کالونی، کالکا جی، لاجپت نگر، گریٹر کیلاش، چانکیہ پوری، اوکھلا اورنیو فرینڈس کالونی وغیرہ  علاقوں کی حالت کا  توآپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ کالکاجی سے آپ نہروپلیس کی طرف جائیے تو برا حال اور آشرم سے لاجپت نگر کی طرف جائیے تو 2گھنٹے سے پہلے نہیں پہنچ پائیںگے۔ راستے میں آشرم سے لاجپت نگر کی طرف ہر جگہ کوڑے کا ڈھیر اور ملبہ نظر آئے گا۔جب نیو فرینڈس کالونی سے اوکھلا کی جانب آتے ہیں تو کوڑے کے بے شمار ڈھیر راستے میں لگے ہیں۔ سڑکیں نہایت خستہ حالت میں ہیں۔ اوکھلا علاقہ کی گلیوں کا تو بہت برا حال ہے۔ پورا علاقہ جیسے گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور اسی وجہ سے شاید اس وقت پوری دہلی میں سب سے زیادہ بیماریاں اوکھلا علاقہ میں ہی پھیلی ہوئی ہیں۔ پورا علاقہ ڈینگو کی زد میں ہے اور مضمون لکھے جانے تک اوکھلا میں تقریباً 200لوگ ڈینگو کا شکار ہوچکے ہیں، جس میں کئی افراد موت کی آغوش میں چلے گئے۔ پورا علاقہ دہشت زدہ ہے۔ ہر گھر کا ایک نہ ایک افراد وائرل یا ڈینگو کا شکار ہے۔ اوکھلا کے ایم ایل اے آصف محمد خان اور حلقہ چاندنی چوک کے ایم ایل اے شعیب اقبال اس معاملہ کو اسمبلی تک لے گئے ، لیکن دہلی حکوت ان کی بات پر توجہ دینا تو دور ان کو بولنے تک کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ وزیر صحت کرن والیہ ایم سی ڈی کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔ سندیپ دیکشت جی دعوے کر رہے ہیں کہ وہ اوکھلا کا دورہ کر کے وہاں کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور صفائی کا انتظام کرا رہے ہیں، لیکن اس دعوے کے ایک ہفتہ بعدبھی اوکھلا میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ چشم دید گواہوں کا بیان ہے کہ کچھ علاقوں میں تو ابھی تک دوا تک نہیں چھڑکی گئی۔ اوکھلا کے علاقے میں وبا کی طرح پھیل رہی بیماری اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ حکومت وہاں رہنے والوں کا خیال کرے نہ کرے وہاں کے لوگ تو بے چارے جیسے تیسے اس مصیبت کو جھیل ہی لیںگے، مگر جامعہ میں جو اسپورٹس کمپلیکس کھلاڑیوں کی پریکٹس کے لیے بنایا گیا ہے، وہاں اگر دولت مشترکہ کھیلوں کے درمیان یہ بیماری آنے والے مہمانوں میں بھی پھیل گئی تو کیا ہوگا؟ اور اوکھلا کے بعد اب تو شمال مشرقی دہلی کے بیشتر علاقے جیسے سلیم پور، ویلکم، موج پور، نیو جعفرآباد اور مصطفی آباد وغیرہ میں بھی جلد ہی ڈینگو پھیلنے کا خطرہ ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے اسپتالوں میں وہ سہولت نہیں ہے کہ اتنی بڑی وبا پر قابو پایا جا سکے اور مناسب اقدام کیے جا سکیں اور نہ ہی ہمارے اسپتالوں میں اتنی دوائی ہے کہ ان مریضوں کا صحیح ڈھنگ سے علاج کیا جا سکے۔ ان علاقوں میں ایک بڑی آبادی غریبوں کی ہے جوجھگی جھونپڑیوں میں رہتی ہے۔ ان غریبوں کے پاس نہ تو پرائیویٹ اسپتالوں کے لیے پیسہ ہے اور نہ ہی دہلی میں کوئی ایسی سہولت کہ بیماریاں رجسٹر ڈہوسکیں۔ کیا ہوگا؟ کیسے ہوگا؟کس طرح ہوگا؟مرکزی دہلی میں چاندنی چوک، کناٹ پلیس، پرانی دہلی سب کی حالت خراب ہے۔ پرانی دہلی غلاظت، گندگی اور کوڑے کا انبار بنی ہوئی ہے۔ شمالی دہلی کی حالت بھی کچھ الگ نہیں ہے اور یہ سب کچھ دہلی سرکار دیکھ رہی ہے، سن رہی ہے مگر دولت مشترکہ کھیلوں کے گھوٹالہ میں سرکار یہ بھول رہی ہے کہ اگر یہ وبائی امراض اکتوبر میں آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں تو حکومت کیا کرے گی؟ خستہ حال سڑکیں، کوڑے سے پٹی گلیاں، ملبے کے ڈھیر پر بیٹھا شہر 70ممالک کی میزبانی کیسے کرپائے گا؟۔ 1982کے بعد یعنی پورے 28سال بعد ہمارے پاس یہ موقع تھا کہ ہم دنیا کو یہ دکھاسکیں کہ ہم  ترقی پذیر ممالک کی صف سے ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہونے جارہے ہیں۔ ہماری وزیر اعلیٰ محترمہ شیلادیکشت جی کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف پرانی دہلی کو ’ہیریٹیچ سٹی‘ یاعالمی معیار کے شہر کا درجہ دلائیں گی بلکہ پوری دہلی کو دولت مشترکہ کھیلوں تک پیرس جیسا بنادیںگی۔ کہاں گئے وہ دعوے؟نہ ہی تو دہلی گرین شہر بن پایا اور نہ ہی پیرس بن سکا بلکہ ملبے کا ڈھیر ضرور بن گیا۔ ہوسکتا ہے کہ دولت مشترکہ کھیلوں تک یہ سب ملبہ اٹھا دیا جائے اور اس گندگی کو ایسی جگہ ڈھک کر رکھ دیا جائے کہ کسی کو نظر نہ ٓآئے۔
جنوری 2010میں میکنسی نام کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی۔ رپورٹ کے 2008کے سروے کے مطابق دہلی کو 25سب سے گندے شہروں میں 24واں درجہ دیا گیا تھا۔ کتنے سال لگیںگے دہلی کو شفاف بنانے میں، نہیں معلوم، مگر اس وقت دہلی کا جو حال ہے، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ 50سالوں بھی دہلی عالمی معیار کا شہر نہیں بن سکتی۔ اگریہاں پانی کی نکاسی کا نظام ہی سدھر جائے تو بھی غنیمت ہے۔
دہلی میںصرف ڈینگو اور وائرل کا ہی خطرہ نہیں ہے، بلکہ سوائن فلو کا خطرہ بھی ہے ۔ ڈاکٹروں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اکتوبر تک ڈینگو اور سوائن فلو دونوں ہی بیماریاں بے قابو ہوسکتی ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ سب کچھ ہوسکتا ہے۔ دہلی سے کوڑے کے ڈھیرے بھی ہٹائے جاسکتے ہیں۔ دہلی میں دوائیاں بھی چھڑکی جاسکتی ہیں۔ دہلی میں دوائیوں کا بھی انتظام ہوسکتا ہے، مگر یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہمارے لیڈر و افسران اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گے اوراپنا کام  ایمانداری سے انجام دیں گے۔ عجیب بات ہے کہ ہر کوئی اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہونا چاہتا ہے۔ کسی بھی کام کے لیے ایم سی ڈی کارپوریشن کو اور کارپوریشن ایم سی ڈی قصور وار ٹھہرا دیتا ہے اور ہر ذمہ دار افسر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتا ہے۔ خدا کرے دولت مشترکہ کھیل صحیح ڈھنگ سے اختتام پذیر ہو جائیں جس سے ملک کی عزت و آبرو محفوظ رہ سکے۔ورنہ بڑی رسوائی ہوگی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *