شیئر بازار ۔تابناک مستقبل کا ضامن

فرمان چودھری
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کررہے ہیں اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت، مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں،اس کا نام ہے’شیئر بازار‘
عالم کاری کے اس دور میں روزگار کے متعدد نئے شعبے وجود میں آئے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس میں آپ گھر بیٹھے تجارت کرسکتے ہیں اور اچھی خاصی دولت کما سکتے ہیں۔ اس ے علاوہ آپ ایکسپرٹ بن کر دوسروں کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں، جس سے آپ کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کیا ہے:
اسٹاک ایکسچینج وہ بازار ہے جہاں بروکرس عام لوگوں اور اداروں کے شیئر خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ہندوستان کا شیئر بازار اس وقت شاندار نتائج دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سرمایہ کار بلکہ کریئر کی تلاش میں سرگرداں نوجوان بھی شیئر بازار کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنا رہے ہیں۔ ابھی چند دہائیوں قبل تک اس شعبہ میں صرف ممبئی، کولکاتا اور دہلی کے شیئر بازاروں کے ہی تذکرے ہوتے تھے اور آج حال یہ ہے کہ ملک کے ہر بڑے شہر میں شیئر بازار ہے اور ان ہی بازاروں میں اچھی خاصی ٹریڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیئر بازار کا مستقبل تابناک ہے۔
شیئر بازار میں کریئر:
شیئر بازار میں آپ اپنے کریئر کو کئی طرح سے بناسکتے ہیں۔ مثلاً ماہر معاشیات، اکاؤنٹینٹ، معاشی تجزیہ کار، انویسٹ انالسٹ، کیپٹل مارکیٹ انالسٹ، فیوچر پلانرس، سیکورٹی انالسٹ اور ایکوٹی انالسٹ وغیرہ۔
شیئر بازار میں سب سے اہم شخص اسٹاک بروکر ہوتا ہے۔ اسٹاک بروکر کمیشن لے کر کسی شخص یا ادارے کے لیے شیئر خریدنے کا کام کرتا ہے۔ عام زبان میں اسے شیئر دلال بھی کہتے ہیں، چونکہ شیئر بازار کی مشکلات کو سمجھنا، اس کی پیش گوئی کرنا اور اس پیش گوئی کی بنیاد پر نفع ونقصان کو ذہن میں رکھ کر خرید و فروخت کرنا آسان کام نہیں ہے، اس لیے شیئر بازار میں ان دلالوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جو دلال شیئربازار میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیتے ہیں ان کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہوتی ہے۔ چونکہ یہ کام صلاحیت کے ساتھ مہارت بھی چاہتا ہے، اس لیے اچھا بروکر بننے کے لیے دلچسپی اور لگن کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی ذہانت کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔
کچھ اسٹاک بروکر نجی گاہکوں کے لیے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ تو کچھ مختلف اداروں سے وابستہ ہو کر ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے شیئر بروکر جو اداروں کے لیے کام کرتے ہیں، انہیں سیکورٹی ٹریڈر بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ بروکر مالی اداروں کے لیے کنسلٹنسی کا بھی کام کرتے ہیں۔ اداروں کے لیے سیکورٹی خریدنے اور فروخت کرنے والے اسٹاک بروکر کمیشن کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ یہی طریقہ نجی گاہکوں کے ساتھ بھی اپنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اسٹاک بروکر کسی مالی ادارے کے لیے مشیر کا کام کرتا ہے، اسے ایک متعین تنخواہ ملتی ہے۔ جہاں تک کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ آمدنی کا سوال ہے تو کسی بھی شیئر بروکر کی کم سے کم آمدنی10ہزار روپے فی ماہ سے زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
اسٹاک بروکر کی طرح سیکورٹی انالسٹ جیسے ماہرین کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کیوںکہ شیئر بازار ہمیشہ ہی منافع کا کار و بار نہیں ہے، اس میں کئی بار نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کار دراصل اس رسک فیکٹر کا تجزیہ کرتا ہے، اس لیے اس کی گائڈ لائن پر ہونے والی سرمایہ کاری میں نقصان کے خطرات کم رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف کمپنیاں جو الگ الگ شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، سیکورٹی تجزیہ کاروں کی خدمات لیتی ہیں۔ یہ سیکورٹی تجزیہ کار اپنے نتیجے نکالنے کے لیے بازار کو اپنی کسوٹی میں الگ الگ طریقے سے کستے ہیں اور بازار میں نفع ونقصان کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ایک عام سیکورٹی انالسٹ کی آمدنی 10سے 15ہزار روپے فی ماہ کم سے کم ہوتی ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ آمدنی کی کوئی حد نہیں ہے، جو سیکورٹی انالسٹ جتنا زیادہ صحیح تجزیہ کرتا ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔
شیئر بازار کا ایک اور اہم شخص ایکوٹی انالسٹ ہے۔ یہ ہندوستانی کیپٹل مارکیٹ کی ترقی اور بڑھتی مقابلہ آرائی کے سبب پیدا ہوا نیا پروفیشنل ہے۔ ایکوٹی تجزیہ کار کسی شخص یا ادارے کو سرمایہ کاری کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔ ایسے وقت جب بازار کی طاقتیں اثردار کردار ادا کر رہی ہوں، یعنی جب بازار بناؤٹی تیزی یا مندی کا شکار ہو، اس وقت ایکوٹی انالسٹ ہی سرمایہ کار کو بتاتے ہیں کہ انہیں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا نہیں۔
شیئر بازار کے دیگر اہم انسانی وسائل میں انویسٹمنٹ مینجمنٹ، سیکورٹی ریپرزینٹیٹو اور اکاؤنٹ ایگزیکٹیو بھی ہیں۔ ان سب کے لیے بھی شیئر بازار کی سمجھ ہونا ضروری ہے۔
کیسے بنیں اسٹاک بروکر:
اسٹاک ایکسچینج کا ممبر بننے کے لیے آپ کو ایک تحریری امتحان اسٹاک ایکسچینج میں سیکورٹی کے طور پر کچھ رقم جمع کرانا ہوتی ہے۔ آپ چاہیں تو اسٹاک بروکرنگ کمپنی کے ایجنٹ یا ڈیلر کے طور پر کام کر کے تجربہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ بروکنگ کرنے والی بڑی کمپنیاں فائنانس میں مہارت رکھنے والے ایم بی اے ڈگری والوں، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس اور چارٹرڈ فائنانس انالسٹ کو اولیت دیتی ہیں۔ ایک اسٹاک بروکر کے خاص کاموں میںشیئر بازار کی شرائط کو آسان کرنا اور اپنے گاہک کے لیے تجارتی سرگرمیاں انجام دینا وغیرہ ہیں۔
اسٹاک بروکر ایک ڈیلر اور ایک مشیر کے طور پر کام کرسکتا ہے، جو اپنے علم کی بنیاد پر گاہکوں کو نئے شیئروں کے مستقبل کے بارے میں پوری معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ بازار کے حالات کا تجزیہ کرتا ہے اور اس تجزیہ کی بنیاد پر اپنے گاہک کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ عام طور سے پروفیشنل اہلیت کے ساتھ ایم بی اے اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگری والا کوئی بھی امیدوار اس شعبہ میں اپنا کریئر بناسکتا ہے۔ اس شعبہ میں آمدنی کے لامحدود موا قع ہیں۔
اسٹاک بروکنگ کے ادارے:
1-     ممبئی اسٹاک ایکسچینج ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ
اسٹاک ایکسچینج بھون، فورٹ، ممبئی
2-     انسٹی ٹیوٹ آف فائنانشیل اینڈ انویسٹمنٹ پلاننگ
بی/303وینٹیکس وکاس، اندھیری، ممبئی
3-     انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا
نئی دہلی
4-     انسٹی ٹیوٹ آف کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ
1965آریہ سماج روڈ، قرول باغ، نئی دہلی-5
5-     آل انڈیا سینٹر فار کیپٹل مارکیٹ اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ
ناسک-422005

Latest posts by فرمان چودھری (see all)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *