آپ بھی دیکھئے کیسے ہیں ہمارے جج

پربھات رنجن دین
جج کورٹ کی کرسی، میز، پنکھے، کولر اور بلب سب بیچ کر کھا گئے۔ ایک دو جج نہیں، بلکہ ججوں کی پوری ٹیم، جنہوں نے معمولی ملازمین کے پی ایف اکاؤنٹ سے جعل سازی کر کے نکالے گئے کروڑوں روپے سے اپنے گھروں کے لیے سامان خریدا۔ اے سی کولر لگوائے۔ ٹیکسیوں پر پیسے پھونکے۔ بچوں کی فیس بھری۔ ہوائی جہاز کے ٹکٹ کٹوائے اور تمام تر عیاشیاں کیں۔ گھر کے لیے سبزیاں تک خریدیں۔ اس کے علاوہ کورٹ کی خریداری کے نام پر بھی کروڑوں روپے کھا گئے۔ یہ ان لوگوں کی بدعنوانی کی سنگین حرکتیں ہیں، جو ملک کا عدالتی نظام چلاتے ہیں۔
جی ہاں! حوالہ غازی آباد کے پی ایف گھوٹالے کا ہے۔ ملک میں جیسا حشر دیگر گھوٹالوں کا ہوا، ویسا ہی پی ایف گھوٹالوں کا ہوگا۔ یہاں گھوٹالہ منظر عام پر آتا ہے تو تفتیش ہوتی ہے اور تفتیش ہوتی ہے تو اس میں کچھ خاص نہیں پایا جاتا۔ خاص ان کے ساتھ ہوتا ہے جن کا مستقبل ختم کردیاجاتا ہے اور خاص ان کے لیے ہوتا ہے جو ججوں کے ساتھ مل کر انہیں عیش کرانے کے لیے گھوٹالہ کر کے سرکاری فنڈ سے پیسہ نکالتے ہیں۔ پکڑے جاتے ہیں اور جیل ہی میں مار ڈالے جاتے ہیں۔ آپ یاد کریں اربوں روپے کے شیئر گھوٹالے میں گرفتار ہرشد مہتا بھی جیل میں ایسے ہی مشتبہ موت کا شکار بنا تھا اور شیئر گھوٹالہ عدالتی نظام کی اندھی سرنگ میں کہیں غائب ہوگیا۔ ہندوستان کے لوگوں کو ایسے ہی انصاف ملتا ہے۔
ججوں نے ملازمین کے پی ایف کے کروڑوں روپے ہضم کرلیے۔ معاملہ سی بی آئی کی تفتیش تک پہنچا۔ تفتیش کے بعد سی بی آئی کی چارج شیٹ پر جب سماعت ہوئی تب میڈیا کی توجہ پھر سے پی ایف گھوٹالے کی طرف گئی۔ سی بی آئی کو کچھ ججوں کے خلاف ثبوت ملے تو کچھ کے خلاف نہیں۔ سی بی آئی کا حال سب جانتے ہیں۔ ملک کے تمام تر حساس معاملوں کی ایسی تیسی کرنے کے لیے ہی اب سی بی آئی کو درمیان میں لایا جاتا ہے۔ آج تک کسی بھی اہم معاملے میں سی بی آئی کسی نتیجے تک نہیں پہنچی۔ پہلے سی بی آئی سیاسی لوگوں کے دباؤ میں کام کرتی تھی، اب سی بی آئی خود سیاسی دھار دیکھ کر اپنا تیل بہاتی ہے۔ سی بی آئی نے پی ایف گھوٹالہ معاملہ میں جب چارج شیٹ داخل کی تو اس شخص کے قتل کا ذکر نہیں تھا، جس کا اقبالیہ بیان سی بی آئی کی تفتیش کی بنیاد بنا۔ جس اہم ملزم کی گرفتاری سے ملک کے سامنے پی ایف گھوٹالے کی تفصیل منظر عام پر آسکی، اسے منظم طریقے سے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اس پر سی بی آئی نے توجہ کیوں نہیں دی، اہم ملزم کے راستے سے ہٹنے سے کتنے جج بچ گئے یا اہم ملزم کے زندہ رہنے سے اور کتنے ججوں کا کچا چٹھا سامنے آتا۔ یہ سوال سامنے ہے، لیکن ملک کے لوگ ان سوالوں کا جواب جانتے ہیں۔ میڈیا نے بھی اس پر توجہ نہیں دی۔
بہرحال اسی عدالتی نظام سے وابستہ افسر ہیں محترمہ رما جین، جنہوں نے پی ایف گھوٹالے کا پردہ فاش کیا اور ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ محترمہ رما جین فی الوقت فروخ آباد کی ایڈیشنل ضلع و سیشن جج ہیں۔ محترمہ جین کی تحریر پر ہی چیف ٹریزرار(سینٹرل ٹریزرار) آشوتوش  سمیت غازی آباد کورٹ میں تیسرے درجے کے 13ملازمین، چوتھے درجے کے 30ملازمین اور 39باہری افراد کے خلاف غازی آباد کے کوی نگر تھانہ میں ایف آئی آر درج ہوئی اور چھان بین میں یہ معاملہ سامنے آیا کہ قصورواروں نے غازی آباد ٹریزری کے پی ایف اکاؤنٹ میں لوٹ مچا رکھی تھی۔ ججوں سے رسمی رضامندی حاصل کر کے ٹریزری انچارج آشوتوش استھانہ نے فرضی دستاویز بنوا بنوا کر کروڑوں روپے لوٹے۔ اندھی لوٹ کا حال یہ تھا کہ جو ملازم نہیں تھا اس نے بھی فرضی دستاویزوں پر پی ایف سے پیسہ نکالنے کی منظوری لے لی اور اناپ شناپ طریقے سے پیسے نکالے۔ سی بی آئی اور پولس دونوں کی چھان بین میں یہ راز فاش ہو کر دستاویزوں پر درج ہوگیا کہ ججوں اور عدالتی افسران کے کہنے پر ہی فرضی چوتھے درجے کے ملازم کے نام پر بل تیار کرایا جاتا تھا۔ اس پر باقاعدہ جج صاحبان کے دستخط ہوتے تھے اور اسے سرکاری ٹریزری بھیجا جاتا تھا، وہاں سے بل پاس ہونے کے بعد متعلقہ ملازم کے اکاؤنٹ میں پیسہ جمع ہوجاتا تھا۔ وہ پیسہ ججوں کی عیاشیوں پر خرچ ہوتا تھا اور ملازم بھی موج مستی کرتے تھے۔ ججوں نے قانون کی بھی ایسی تیسی کرکے رکھ دی۔ تفتیش کا عمل شروع ہونے کے بعد بھی قصورواروں کو بچانے کی غیرقانونی کوششیں کیں۔ گھوٹالے باز ملازمین کی غیرقانونی ملکیت کی جانچ کرنے والی پولس ٹیم کو گمراہ کیا۔ جانچ میں نہ صرف تعاون نہیں کیا، بلکہ جانچ کارخ بھی موڑنے کی کوشش کی۔یہاں تک کہ گھوٹالے کا پردہ فاش کرنے والی غازی آباد کورٹ کی وجلینس افسر و سی بی آئی کی اسپیشل جسٹس محترمہ رما جین کا ہی تبادلہ کرادیا گیا۔
گھوٹالے باز ملازمین کو تحفظ دینے اور انہیں بچانے میں غازی آباد کے اس وقت کے ضلع جج آر ایس چوبے کا نام سب سے اوپر ہے۔ جسٹس کی سطح کے اعلیٰ افسران اور گھوٹالہ کرنے والے چھوٹی سطح کے ملازم آشوتوش استھانہ کی ملی بھگت کے تمام کاغذی ثبوت پولس کو بھی ملے اور سی بی آئی کو بھی۔ دستاویز بتاتے ہیں کہ ٹریزری انچارج آشوتوش استھانہ، ملازم موہن سنگھ بشٹ، راماشیش، اندر بہادر، کلوا، اور ستیہ پال کے گینگ میں ضلع جج آرایس چوبے شامل تھے۔
استھانہ کا اقبالیہ بیان کہتا ہے کہ ضلع جج آر ایس چوبے اور قائم مقام ارون کمار ٹریزری انچارج آشوتوش استھانہ سے ہر ماہ خرچ کے لیے 30سے 35ہزار روپے مانگا کر تے تھے۔ قائم مقام ضلع جج ارون کمار عموماً 50ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے مانگ لیتے تھے۔ اس کے علاوہ جج ارون کمار کے اہل کنبہ کی تفریح کے لیے گاڑیوں کا انتظام بھی کیا جاتا تھا۔ آشوتوش استھانہ یہ گاڑیاں تیاگی ٹریولز کے ذریعہ فراہم کراتا تھا۔ جج ارون کمار کی بیٹی کی شادی میں ٹاٹا سومو اور ٹویوٹاکوالس جیسی 4گاڑیوں کا انتظام آشوتوش استھانہ نے کیا تھا۔ اس کے علاوہ شادی میں پانی، بجلی وغیرہ کا انتظام اور مہمانوں کے کلکتہ سے آنے جانے کا انتظام بھی استھانہ نے ہی کیا تھا۔ استھانہ نے جج ارون کمار کی بیٹی کی شادی میں نقد دو لاکھ روپے اس کے علاوہ دیے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *