رام جنم بھومی مکتی آندولن کی قیادت اب سادھو سنت کریں گے

رام جنم بھومی مکتی آندولن کے صف اول کے قائدوں میں سے مہنت اویدھ ناتھ نے اجودھیا مسئلہ پر ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل واضح طور پر سیاسی لائن کھینچ دی ہے۔اویدھ ناتھ نے چوتھی دنیا کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن پربھات رنجن دین کے ساتھ ایک خاص بات چیت کی۔پیش ہیں بات چیت کے اہم اقتباسات:
سوال: کیا بی جے پی پھر سے رام مندر تحریک چلائے گی؟
جواب: گھر میں رام بھکت اور پارلیمنٹ میں سیکولرازم کی چادر اوڑھنے والے بی جے پی لیڈروں کے ہاتھ میں رام جنم بھومی آندولن کی قیادت نہیں دی جائے گی۔رام جنم بھومی آندولن کی باگ ڈور اب سادھو سنتوں کے ہاتھ میں ہوگی۔ بی جے پی لیڈر اپنی صلاحیت و اہلیت پارلیمنٹ میں ثابت کر سکتے ہیں تو کریں۔ رام جنم بھومی مکتی آندولن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کے سبب بکھر کر رہ گیا ۔ اگر پھر سے رام جنم بھومی مکتی آندولن بی جے پی کے ہاتھوں میںگیا تو یہ آندولن ہمیشہ کے لئے ناکام ہو جائے گا۔
سوال: قیادت کون سنبھالے گا؟
جواب: سادھو سنت اور ملک کی نوجوان نسل۔ رام جنم بھومی آندولن کمیٹی کا میں ہی صدر تھا اور اب بھی میں ہی صدر ہوں۔لہٰذا میں ہی یہ طے کروں گا کہ آندولن کی قیادت کون کرے گا۔
سوال:آپ کا آشیرواد کسے ملے گا؟
جواب: میرا اور ملک کے تمام تر سادھو سنتوں کا آشیرواد اس لیڈر کو ملے گا جو ہندوئوں کی عزت کرے گا۔
سوال: کہیں آپ نریندر مودی کی طرف تو اشارہ نہیں کر رہے ہیں؟
جواب:( مہنت ہنسنے لگتے ہیں لیکن ان کی ہنسی مستقبل کی سیاست کی جانب اشارہ کرتی ہے) نریندر مودی جیسے کئی لوگ ہیں۔ اکیلے نریندر مودی کا نام لے لوں تو بی جے پی کے سب لوگ اس کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ رام کرشن اور شنکر ہندو ثقافت کے بنیادی ستون ہیں۔اگر ان کی بے عزتی ہوئی تو ملک کی بے عزتی ہوگی۔ اگر ہائی کورٹ نے ہمارے برعکس فیصلہ دیا تو آنے والی نسلیں اسے بھلا دیں گی۔ رام جنم بھومی کو کیا کوئی بدل سکتا ہے؟
سوال: ملک کے موجودہ سیاسی خاکہ پر آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: سیاست کا جو خاکہ بنتا جا رہا ہے وہ خطرناک ہے۔لیڈروں کو اسلامی دہشت گردی کہتے ہوئے شرم آتی ہے، لیکن بھگوا دہشت گردی کہتے ہوئے شرم نہیں آتی۔
سوال: کیا آپ ابھی سے مان بیٹھیں ہیں کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آپ کے برعکس آئے گا۔
جواب: ججوں نے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیاتو وہ رام جنم بھومی آندولن کی حمایت میں جائے گا۔ رام جنم بھومی مقام کی کھدائی کرا کر عدالت نے تفتیش کرائی۔ پوری تفتیش عدالت کی نگرانی میں ہوئی پھر عدالت برعکس فیصلہ کیسے دے گی؟
سوال: اور اگر برعکس فیصلہ آیا تو ؟
جواب( اس سوال پر مہنت بگڑ جاتے ہیں)اگر فیصلہ غلط ہوا تو گناہ عظیم ہوگا۔آندولن اور بھی خطرناک شکل اختیار کر لے گا اور اس کے قصوروار غلط فیصلہ سنانے والے جج ہوں گے۔ جج انصاف پر مبنی فیصلہ ہی سنائیں گے۔میری صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ میں صرف فیصلہ سننے کے لئے زندہ ہوں ۔ میری خواہش ہے کہ جیتے جی رام جنم بھومی کو آزاد ہوتے ہوئے دیکھ لوں تب میں چین سے مروں گا۔فیصلہ ہمارے حق میں آیا تو میں پھر سے صحتمند ہو جائوں گا۔
سوال: آپ ہمیشہ سے یہی کہتے رہے ہیں کہ رام جنم بھومی کا مسئلہ عدالتوں کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے ۔ پھر آپ عدالت کے فیصلہ کے انتظار میں کیوں ہیں؟
جواب: میں تو ابھی بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ رام جنم بھومی کا مسئلہ عدالت کے دائرۂ اختیار میں ہے ہی نہیں۔ کیا عدالتیں اس ملک میں ہندو وراثتوں کا وجود طے کریں گی۔ عدالت کے فیصلہ پر نظر اس لئے ہے، کیونکہ اس کے بعد ہندوئوں کی عزت و وقار کی سمت طے ہوگی۔غیر ملکی حملہ آوروں نے ہندوستان کے ہزاروں مندر توڑ کر مسجدیں بنائیں۔ کیا ملک میں مسجد بنانے کے لئے جگہ کی کمی تھی ،نہیں۔ یہ سب ہندوئوں کو بے عزت کرنے کے لئے کیا گیا، لیکن اس کے باوجود ہم ان سبھی مندروں کی بات نہیں کرتے ، جن باقیات میں ہندو مندروں کے نشانات واضح ہیں ہم صرف ان کی بات کرتے ہیں۔ جو خود یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ کام کس ارادے سے کئے گئے تھے۔ اس کے لئے کیا نئے سرے سے ثبوت اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔مسجد کی تعمیر کے مسئلہ پر ہمیں عدالت کے فیصلہ کی بجائے ملک کے عام لوگوں کا فیصلہ ماننا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *