!سیکو لر ازم کے حق میں دلائل کی کمی نہیں

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
ترکی کی عدالت نے اپنے ایک فیصلہ میں یونیورسٹی کی طالبات پر دوران تعلیم اسکارف پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت کے ترجمان نے اخباری نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول کالج اور یونیورسٹی میں طالبات میں مذہبی علامت کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جن میں مسلم طالبات بھی شامل ہیں ،جو اسکارف نہیں پہن سکیں گی۔ ترجمان کے خیال میں اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔
حجاب یا اسکارف ایسا سماجی اور مذہبی مسئلہ ہے جو ایک ’’ڈیلمیا‘‘ کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ڈیلمیا حل نہیں ہوتا اس کے ساتھ ہی جینا پڑتا ہے۔ جب قرآن میں بالوں اور چہرے کو اتنی سختی سے ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہو تو ظاہر ہے انتہا پسندوں کی طرف سے گولی مار دینے کو کون برا سمجھے گا؟ میرے حساب سے مسلمان دین اور دنیا کی آویزش کا کوئی اطمینان بخش اور معقول حل تلاش نہیں کر سکے اور نہ آئندہ اس کی امید ہے۔ شاید ڈیلمیا میں جینا ہی اسلام کے پیروکاروں کا مقدر ہے۔ سات کروڑ سے زائد آبادی والے ملک ترکی میں دین اور دنیا یا دین اور سیاست کے درمیان تصادم کا آغاز ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال ترکی میں سیکولر نظام کے حامیوں نے کروڑوں کی تعداد میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایک ماہ میں حکومت کے خلاف یہ دوسرا بڑا اجتماع اور مظاہرہ تھا،جس کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی۔ ترکی میں سیکولر آبادی کی واضح اکثریت ہے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سیکولر رہنمائوں نے یہ بات ایک سے زائد مرتبہ کہی ہے کہ ’’ترکی ایک سیکولر ملک ہے اور سیکولر ہی رہے گا۔ موجودہ حکومت جدید ترکی کے بانی اتا ترک اور اس کے نظریات کی دشمن ہے اور یہ ترکی کو ایام جہالت میں واپس لے جانا چاہتی ہے جو ترکی عوام کبھی نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
ترکی کا لفظ لاطینی زبان سے نکلا ہے جسے’’ترشیا‘‘ کہا جاتا ہے اور اس لفظ کے معنی’’مضبوطی‘‘کے ہیں۔مصطفیٰ کمال اتاترک موجودہ ترکی کا پہلا حکمراں تھا جس نے 625سالہ خلافت اسلامیہ کے فرسودہ نظام کو ختم کرتے ہوئے جدید ترکی کی بنیاد رکھی اور ملک کو سیکولر ازم کی راہ پر گامزن کیا۔ چھ صدیوں سے زیادہ ترکی نے خلافت عثمانیہ یا اسلامیہ کی قیادت کی۔ جنگ عظیم اول کے بعد عثمانی دور کا زوال ہوا اور بیسویں صدی کے آغاز(1922)میں بالآخر خلافت عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔خلافت کو مسلمانوں کے اتحاد کا نشان سمجھا جاتا تھا جو کہ تاریخی حقائق کے برعکس ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے مغل حکومت کے زوال کے بعد عثمانی خلیفہ استنبول کا نام اپنے خطبوں میں لینا شروع کر دیا تھا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی ترکی سے خاص محبت اور تعلق ہی کی وجہ سے 1857کی پہلی جنگ آزادی میں خلافت عثمانیہ کے شیخ اسلام کی طرف سے ہندوستان میں انگریزی حکومت کی حمایت میں فتویٰ جاری کر دیا گیا ۔ جس کے نتیجہ میں ہندوستانی مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک برطانیہ بھی ترکی کی حمایت کرتا رہا کیونکہ روس ترکی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا تھا اور برطانیہ کو خطرہ تھا کہ اس سے ہندوستان میں اس کی حکمرانی خطرے میں پڑ جائے گی۔ جنگ عظیم اول میں ترکی نے جرمنی کی حمایت کی اور جرمنی کی حمایت میں اعلان جنگ کر دیا۔ہندوستان کے مسلمانوں کے جذبات برطانیہ کے خلاف بھڑک اٹھے۔ اس جنگ میں جرمنی کوشکست ہوئی اور اس کا سارا نقصان ترکی کو برداشت کرنا پڑا۔ 10اگست 1920کو جنگ عظیم اول کے فاتحین نے ترکی کے ساتھ اپنی مرضی کے ’’صلح نامے‘‘ پر دستخط کئے جس کی شرائط انتہائی ہتک آمیز تھیں ۔ اس صلح نامے یا معاہدہ کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی ۔ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی تحریک خلافت شروع کی جس کے اثرات آج تک ہندوستانی مسلمانوں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ترکی کی سرحدیں آٹھ ملکوں سے ملتی ہیں جن میں ملباریہ ، جارجیا، ایران، یونان، آرمینیا، آذربائجان، عراق و شام شامل ہیں۔ا گر امریکہ کو بھی شامل کر لیا جائے جو کہ سب ملکوں کا ہمسایہ ہونے کا دعویٰ دار ہے تو پھر نو ممالک ایسے ہیں جن کی سرحدیں ترکی سے ملتی ہیں۔
یوروپی ملکوں میں گھرا ہوا آج کا ترکی جہاں کی موجودہ حکمراں جماعت ’’ اے کے پارٹی‘‘ سیاسی اسلام کی بیگ گرائونڈ رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو لبرل جماعت ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ لیکن سیکولر اسٹبلشمینٹ کے شدید ردعمل کی وجہ سے اس کے بیشتر ’’لبرل کارنامے‘‘ خطرے میں پڑے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ہالینڈ کے روزنامہ کے صحافی نے ترکی کے صدر عبداللہ گل سے انٹرویو کیا جس کی تفصیلات اس نے اپنے اخبار میں شائع کیں۔نامہ نگار نے عبد اللہ گل سے سوال کیا کہ ’’کیا اے کے پارٹی کا کوئی خفیہ اسلامی ایجنڈا ہے جسے وہ آہستہ آہستہ نافذ کرنا چاہتی ہے؟‘‘اس کے جواب میں صدر عبد اللہ گل نے کہا’’نہیں! آپ خود دیکھئے کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں ہماری حکومت نے کیا کیا کارنامے سرانجام دئے ۔ ہم نے ترکی کو یوروپی یونین کا ممبر بنانے کے لئے ترکی کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت کے مقابلہ میں زیادہ تگ ودو کی ہے‘‘۔ عبد اللہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم نے سیکڑوں ایسے قوانین بنائے ہیں جنھوں نے معیشت کو آزاد کیا اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں مضبوط کیا۔ اگر ہم ترکی کو اسلامی ملک بنانے کی کوشش کررہے ہوتے تو ہم یہ سب کچھ کیوں کرتے؟‘‘نامہ نگار نے دوسرا سوال کیا’’جس طرح دنیا بھر کی اسلامی جماعتوں کا طریقہ کار اور ہدف ہوتا ہے کیا آپ بھی ایسا سوچتے ہیں کہ حکومت کی مضبوطی کے بعد آپ ترکی میں شریعت اور اسلامی قوانین نافذ کردیں گے؟‘‘تو انھوں نے جواب دیا’’ نہیں!ہر گز نہیں ، ترکی میں شریعت کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں۔ ہم تو ترکی کے قوانین کی ہر شعبہ زندگی میں یوروپی یونین کے قوانین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں، کیا شریعت ایسی ہوتی ہے؟‘‘۔عبد اللہ گل کا موقف صحیح ہے یا مصلحت سے کام لے رہے ہیں اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ البتہ چلتے چلتے یہ بات بتاتا چلوں کہ عبد اللہ گل کی بیوی سر پر اسکارف اوڑھتی ہیں اور سیکولر ترکی عوام کی پریشانی یہ ہے کہ جو شخص کمال اتا ترک کے منصب پر فائز ہو اور اس کی بیوی سر پر اسکارف اوڑھتی ہو تو بات کچھ بنتی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *