ملک کی اقلیتیں اور نئے سیاسی رجحانات

بدر کاظمی
ہندوستان معاہداتی سیاست و حکومت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی ایک پارٹی کی حکمرانی کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔ منڈل کمیشن نے پسماندہ، محروم و مایوس طبقات میں بیداری کی ایسی لہر پیدا کردی ہے جس کے نتیجے میں علاقائی پارٹیاں اتنی مضبوط و منظم ہو گئی ہیں، جنہیں نظر انداز کرکے کانگریس ہو یا بی جے پی تنہا اپنی بنیادپر حکمرانی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
اس تبدیلی کے ساتھ ایک اور خوشگوار تبدیلی بھی آئی ہے اور ایک ایسا وقت آیا ہے جب قومی سطح پر اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کا احساس ابھرا ہے۔ اجتماعی ذہن میں تبدیلی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں اور بے اطمینانی، عدم تحفظ کے اعتراف کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ جارحانہ طرز عمل کی اس آہنی دیوار میں شگاف پڑنے لگے ہیں جو ایک مدت سے ناقابل تسخیر سمجھی جاتی تھی اور اقلیتوں کے چاروں طرف کھڑی تھی۔ اس ماحول میں کافی فرق آگیاہے،جس میں اقلیتیں اور صاف الفاظ میں مسلمان اپنے آپ کو چاروں طرف خطرات میں گھرا ہوا پاتے تھے اور بے بسی کے احساس سے مایوس و دنگ رہ جاتے تھے۔وہ زمانہ، وہ حالات اتنے خطرناک اور پرخطر تھے کہ اقلیتوں پر چاروں طرف سے یورش ہوتی، فسادات کی تباہی و تاراجی سے، قتل و غارت گری سے، ناموس و جان ومال کی بربادی سے، دہشت گردی کے نام پر اس عفریت سے جو بے گناہ مسلمانوں کو نگل لیتا، ظلم و ناانصافی سے جو بلا کسی ثبوت کے قید و بند میں ڈال دیے جاتے، درد سے چیختی ہوئی مخلوق ہمدردی و چارہ گری کی امید میں چاروں طرف نگاہ دوڑاتی اور مایوسیوں کے سوا اس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا، بعض اوقات بے رحمی اور سنگ دلی کا ایسا بدنما مظاہرہ دیکھنے میں آتا کہ عین اس وقت جب کہ کچھ بدنصیب لوگ دکھ اور تکلیف سے کراہ رہے ہوتے تو ملک کے باہر ’’کچھ خوش نصیب سرکاری گماشتے‘‘ ساری دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کرتے نظر آتے کہ ہندوستان کی اقلیتیں نہ صرف مطمئن مامون و محفوظ ہیں بلکہ جمہوریت کی عطا کردہ برکتوں اور آسائشوں سے مستفیض ہو رہی ہیں،لیکن حالات ایک بار پھر تبدیل ہوئے ہیں اور اس تبدیلی نے تاریخ کے دھارے کو ایک نئی جہت دی ہے۔ ذہنوں پر، افکار پر، عقیدوں پر جمی ہوئی برف کی تہہ پگھلنے لگی ہے اور اس کے نیچے صاف و شفاف پانی کا ابلتا ہوا چشمہ صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ مسئلہ اردو زبان کا ہو یا اوقاف کے تحفظ کا، جامعہ ملیہ کا ہو یا مسلم یونیورسٹی کا، ملازمتوں کا ہو یا سرکاری اداروں میں مسلمانوں کے تناسب میں کمی کا، معاملہ سچر کمیٹی کا ہو یا مشرا کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کا، تعلیم و ترقی روزگار کا ہو یا سیاست میں حصہ داری کا۔ قومی سطح پر اب وہ لوگ بھی ان مسائل کو سنجیدہ اور قابل توجہ سمجھنے لگے ہیں، جو مسلمانوں کا نام آتے ہی چراغ پا ہوجاتے تھے اب یہ ان کے لئے ناگواری کا باعث نہیں ہوتا۔یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے جو قومی سطح پر ابھر کر آئی ہے ۔ یہ نتیجہ ہے مسلمانوں میں پیدا ہوئی سیاسی بیداری اور ووٹ کے صحیح استعمال کا۔ اس لئے کہ آج کسی ایک سیاسی جماعت کو مسلمانوں کے ووٹوں پر اجارہ داری حاصل نہیں رہ گئی ہے۔ اس لئے سیاسی سطح پر برسراقتدار محاذ کے علاوہ مخالف محاذ و جماعتوںمیں بھی اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی خواہش پیدا ہوئی ہے اور یہ خواہش اتنی عام اور نمایاں ہے کہ آسانی کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔ غرض کہ انکار کا، انحراف کا، ضد اور ہٹ دھرمی کا، تنگ نظری اور جہالت کا ایک پورا دور اپنے خاتمے کی علامت ظاہر کر رہا ہے۔ دانش و تدبر کا، نرمی اور دل جوئی کا ایک متحرک جذبہ ہر جگہ ابھر رہا ہے یہ ایک بہتر صورت حال کی نوید ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کے ساتھ بدگمانی اور بے اعتباری کا سلوک روا رکھا جائے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہے کہ مشکلات اورآزمائشوں کا دور ختم اور نئے عہد کے آفتاب کا سورج طلوع ہوگیا ہے اور اب آگے جو کچھ بھی ہے وہ برکت ہی برکت ، فرحت و شادمانی ہی شادمانی ہے۔
آزادی کے 63 سال بعد ہندوستانی پارلیمنٹ میں اردو نوازی کا یہ منظر پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ پورے ایوان نے ایک آواز میں اس کا اعتراف کیا کہ اردو زبان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ اہم یہ کہ بی جے پی کے ڈپٹی لیڈر گوپی ناتھ منڈے اور شترو گھن سنھا نے کہا کہ ’’اردو نہ صرف اس ملک کی زبان ہے بلکہ یہ ہماری تہذیب و تمدن کی علامت بھی ہے۔ اس کی مثال دنیا کے کسی گوشے میں نہیں ملتی۔ اس کو زندہ رکھنا اور فروغ دینا ہم سب کا فرض ہے‘‘۔دوسری طرف بی جے پی کے صدر نتن گڈکری نے وزیر اعظم کو تفصیلی خط لکھ کر مقبوضہ وقف جائیدادوں کو آزاد کرانے اور اس کی آمدنی کو ضرورت مند مسلمانوں کی فلاح و بہبود میں استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے ایسی تجاویز پیش کی ہیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مسٹر گڈکری کے مطابق ملک بھر میں کم و بیش پانچ لاکھ رجسٹرڈ اوقاف ہیں جو کہ پچاس سال قبل ہوئے تخمینہ کے مطابق چھ ہزار کروڑ روپے مالیت کی چھ لاکھ مربع ہیکٹر پر پھیلی وقف اراضی ہے اور سچر کمیٹی کے موجودہ تخمینہ کے مطابق یہ اراضی ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ روپے کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو توجہ دلائی کہ سچر کمیٹی کے مطابق وقف جائیدادوں سے موجودہ بازاری قیمت کے مطابق بارہ ہزار کروڑ کی سالانہ آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے اور اس آمدنی کااستعمال مسلمانوں کے اقتصادی، سماجی، تعلیمی فروغ کے لئے کیا جاسکتا ہے، لیکن ایسا اس لئے نہیں ہو پارہا ہے، کیوںکہ مسلمانوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی نقلی سیکولرازم کی سیاسی جماعتوں، لیڈروں، مذہبی رہنمائوں اور دیگر عناصر نے ان جائیدادوں پر قبضہ کر رکھا ہے، جنہیں آزاد کرانے کے لئے حکومت کو عملی اقدام کرنا چاہئے۔ بی جے پی کے صدر نے وزیر اعظم کو جو تجاویز پیش کی ہیں ان کے مطابق مسلم طبقے کے نوجوانوں کے لئے پیشہ ورانہ تعلیم کے انجینئرنگ، میڈیکل، آئی ٹی آئی اور نظم و نسق عامہ جیسے جدید تعلیمی اداروں کے قیام، طلبہ کے لئے ہاسٹل، کتابیں، کھیلوں کے فروغ، وظائف کا انتظام، آئی اے ایس جیسے کورسز اور ریاستی سطح کی خدمات کے لئے کوچنگ سینٹرز، کمیونٹی کی ضرورتوں کے مطابق مسافر خانہ، شادی و تقریبات کے ہال، مسجد، درگاہوں اور قبرستانوں کا انتظام و انصرام، وقف جائیدادوں کا ڈلپمنٹ، غریب بیوائوں کی مالی امداد اور انہیں روزگار مہیا کرانے کے لئے بڑے شہروں میں ریڈیمیڈ کپڑوں کی سلائی کے لئے ٹریننگ سینٹرز، ضعیفوں اور معذوروں کی امداد، طلاق شدہ اور مسلم غریب بچیوں کی شادی جیسے کاموں کے لئے کافی کچھ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کے وزراء اعلیٰ کو اس تعلق سے ہدایات دے دی ہیں۔ اس لئے مرکزی حکومت کو بھی اس پر سنجیدگی سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
بہرحال یہ خوش آئند پہلو ہے کہ اقلیتوں کے بارے میں مکمل انکار کی منزل سے یہ ملک نکل آیا ہے۔ اعتراف کے باوجود تلافی کاجذبہ گو ابھی کمزور ہے۔ اب ان لوگوں میں ناانصافی کا احساس عام ہو رہا ہے جو اپنے آپ کو احیاء پسندی اور مذہب کی سیاست سے جوڑتے ہیں اور حزب مخالف کا رول ادا کر رہے ہیں۔ آج کے نئے حالات کا اندازہ نتن گڈکری کے اس خط سے ہوجاتا ہے جس کے ذریعہ بی جے پی جیسی جماعت کو جمہوری لائن پر چلانے اور اس کی حدود کو اقلیتوں تک وسیع کرنے اور ان کے مطالبات کو واضح الفاظ میں اٹھاکر جو موقف اختیار کیا گیا ہے اسے ملک کی سیاسی فضا میں ایک نئی تبدیلی کا آغاز کہا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اترپردیش میں مایاوتی کی حکومت نے لکھنؤ میں اردو، فارسی، عربی یونیورسٹی قائم کرکے محبان اردو کے ایک دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کرتے ہوئے اردو زبان کے فروغ اور اسے روزی روٹی سے جوڑنے کا قابل تحسین قدم اٹھایا ہے، تو بہار میں نتیش کمار کی حکومت کے ذریعے مسلمانوں کو روزگار فراہم کرنے اور تعلیم و ترقی کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اقلیتی طلبہ راحتی اسکیم، اقلیتی طلبہ کوچنگ اسکیم، اقلیتی طلبہ طالبات کے لئے ہوسٹل کی تعمیر، بڑی تعداد میں ایسے مکتبوں اور مدرسوں کو جو بنیادی ضرورت پوری کرتے ہیں ڈیولپ کرنے کا حکومت کا فیصلہ، ستائیس ہزار اردو ٹیچروں کی تقرری کا اعلان،تمام قبرستانوں کی پیمائش کرا کر حصاربندی کا کام حکومت شروع کرچکی ہے۔ غرض یہ تبدیلی ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں صاف نظر آرہی ہے۔
کانگریس کی صفوں میں اور حکومتی سطح پر زیادہ صاف اور واضح انداز میں اس نئے رجحان کا اثر و نفوذ نظر آتا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری سے لے کر اقلیتی امور کے وزیر سلمان خورشید تک بے باکانہ طور پر مسلم مسائل کے حل اور اس سلسلے میں کئے جارہے اقدامات پر کھل کر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ کانگریس کا اقلیتی شعبہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی وکالت کرتے ہوئے سرکاری زمروں میں مسلمانوں کو زیادہ حصہ دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مدرسہ بورڈ، اوقاف بل، لازمی تعلیمی بل جیسے اقدامات مسلمانوں کی تعمیر و ترقی، اوقاف کا تحفظ اور اس کی آمدنی کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانا، ہر بچے کی ابتدائی تعلیم کا بندوبست، مسلم اکثریتی اضلاع میں اسکولوں، کالجوں کا قیام، اقلیتی طلبہ کو تعلیمی وظائف کا اجراء، اعلیٰ تعلیم کے لئے بینکوں سے قرض کی سہولیات وغیرہ۔ وزیر اعظم کا بار بار یہ اعلان کہ اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی ان ساری تجویزوں اور خیالات کی نئی رو کا ایک خاص پس منظر ہے۔ یہ پس منظر مخصوص محرکات اور مخصوص اسباب نے مل کر تیار کیا ہے۔ ان اسباب میں انتخابی مصلحتوں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،لیکن انتخابی سیاست کے علاوہ بھی دوسری ضرورتیں اور ان ضرورتوں کے تقاضے ہیںجو گزشتہ ساٹھ برس کی سیاست کے تجربوں کی کوکھ سے برآمد ہوئے ہیں اور ’’ناکامیوں کے احساس نے اس کی اہمیت واضح کردی ہے‘‘۔
مسلمانوں کو ان لوگوں سے چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو مذہبی و نیم مذہبی لبادوں میں مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں کے نام کے ساتھ آل انڈیا کے لاحقے لگائے سرکاری و غیر سرکاری اقدامات کی مخالفت میں جارحانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے مذہبی جذبات بھڑکانے اور خود کو نمایاں کرنے کے لئے بدگمانی اور شکوک و شبہات پید اکرتے اور ہر ایسے اقدام کو اسلامی تشخص اور مذہب کے لئے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس میں پیش پیش وہ لوگ ہیں جن کے آباء و اجداد ایک زمانہ پہلے واردھا اسکیم اور ودھیا مندر اسکیم میں مسلمانوں کی نجات مضمر سمجھتے تھے ،مگر آج جب کہ مسلمانوں کی تعلیم و ترقی، مناسب نمائندگی، تعلیمی اداروں کے موڈرانائزیشن، ڈیولپمنٹ، اوقاف کا تحفظ اور ہر بچے کی ابتدائی تعلیم کی ضرورت پر حکومت سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے تو اس پر مثبت غور و فکر کئے بغیر اور بلا سوچے سمجھے واویلا شروع کردیتے ہیں۔ جب کہ ایوان پارلیمنٹ میں ان کے دو دو نمائندے بدرالدین اجمل اور اسرار الحق موجود ہیں جو اس موقع پر لب کشائی کی جرأت نہیں کرتے۔ بہرحال یہ لوگ متعلقہ وزراء سے وفود کی شکل میں ملتے اور قوم کو یہ مژدۂ جانفزا سناتے ہیں کہ اس سلسلے میںہمارے جو شکوک و شبہات اور خدشات تھے ان سے ہم نے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے اور وزیر موصوف نے اس سلسلے میں ان خدشات کو دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے لہٰذا اب مسلمان مطمئن رہیں۔ ان کا دین و ایمان اور تشخص محفوظ ہے۔
یہ انتہائی شرمناک کریہہ اور بدنما تصویر ہے، جو مسلمانوں کی بنائی گئی ہے، جس کا مصور یہ گروہ ہے جس کی فکر کی جولانیوں سے افغانستان جہنم اور پاکستان خون کا آتش فشاںبنا ہوا ہے۔ اس پر مسلمانوں کو خاص توجہ دینی چاہئے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمان سماجی طور پر بھی اسی طرح بیداری کا مظاہرہ کریںاور اپنے اپنے مقام پر جملہ سیاسی پارٹیوں کے مقامی لیڈروں سے سماجی رابطہ اور دوستانہ مراسم پیدا کریں۔ خوشامد و چاپلوسی سے اجتناب کرتے ہوئے ان سے اپنے مسائل پر افہام و تفہیم کے ساتھ کھلے دل سے ان کے ہر اس قدم کی ستائش کریں جو ملک و قوم کی بھلائی اور ترقی و خوشحالی کے لئے ہو ،تاکہ ملک و قوم کی ترقی میں شانہ بشانہ ایک خود مختار ذمہ دار ، باشعور، ترقی یافتہ قوم کا درجہ حاصل کر سکیں اور خوش گوار تبدیلی کا یہ سفر جاری و ساری رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *