لندن نامہ

حیدر طبا طبائی ، لندن ، یو کے
برف باری، اندھیرا ،کہر ا تند ہوائوں کے ساتھ باران رحمت کے موسموں سے بھرپور شہر لندن کے حسین شب و روز میں کبھی کوئی کمی نہیں آتی۔ اس شہر بیکراں میں ثقافتی ،ادبی، سیاسی اور سازشی چہل پہل جاری رہتی ہیں۔
یہاں کی تہذیب و تمدن کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں ڈسپلن کی مداح سرائی ہوتی ہے۔اب آوازیں آ رہی ہیں کہ برطانیہ کے والدین کو آج کل بچوں کے پاس ہتھیار رکھنے سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ وہ منشیات کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ دس ہزار ماں باپ کے ساتھ ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کو ہتھیار رکھنے کی فکر کم ہے اور نشے کی چیزوں کو رکھنے کی فکر زیادہ ہے۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے لوگوں نے بچوں کو نشے کا عادی بنا دیا ہے۔ 12 برس کی لڑکیاں گانجے کی بھری  ہوئی سگریٹ پیتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی  عجیب قسم کی نشہ آور گولیاں بھی بازاروں میں دلال فروخت کر رہے ہیں۔ تقریباً چالیس فیصد بچے نشے میں ملوث ہیں۔ اس ضمن میں وزارت تعلیم کی جانب سے کھیلوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔وظیفہ اور باہر لے جانے کا لالچ دے کر بچوںکی توجہ نشہ سے ہٹائی جا رہی ہے۔
برطانوی عوام زیادہ تر کوارٹر پلیٹ میں کھانا اور کوارٹر سائز کے پیالوں میں سوپ پینا پسند کرتے تھے، لیکن اب یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ بڑے سائز کی پلیٹ میں کھانا کھایا جائے اورصرف سلاد کوارٹر پلیٹ میں ہو۔ سوپ بھی بڑے پیالوں میں ہو تو غذا مکمل کھائی جاتی ہے اور صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
2003کی ایک صبح ایشیائی آبادی والے علاقہ ٹوٹنگ میں علی الصبح پولس نے چھاپا مارکر ایک پاکستان نژاد کمپیوٹرکے ماہر بابر احمد کو گرفتار کیا ۔ بابر احمد کی عمر 36سال ہے ۔ برطانیہ میں فسادات پر قابو پانے والے رائٹ فورس نے انہیںگرفتار کیا۔ ان پر دہشت گردی کا الزام ہے۔ لیکن اس گرفتاری میں تعجب خیز موڑ اس وقت آیا جب کرائون پراسیکیوشن سروسز کے خصوصی کرائم ڈویژن کے سربراہ سائمن کلمینس نے بتایا کہ گرفتاری کے دوران بابر احمد کے جسم پر مارنے پیٹے جانے کے نشان موجود تھے۔ برطانیہ کی اسکاٹ لینڈ یارڈجبکہ بڑے فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ ملزمان پر قابو پانے کے لئے مارپیـٹ نہیں کرتی ہے۔ بابر احمد کی گرفتاری کے معاملہ میں پولس نے زد وکوب کی بات نہیںکی تھی۔ پراسیکوٹر نے کہا کہ بابر احمد کو گرفتار کرنے والے چار پولس افسران کو جسمانی نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتارکر کے مقدمہ چلایا جائے ۔پولس رپورٹ میں بتایا گیا کہ بابر احمد کا تعلق القاعدہ سے ہے اور وہ بہت ہی خطرناک ملزم ہے۔ عدالت میں کچھ ثابت نہ ہونے پر بابر احمد کو ضمانت مل گئی اور اس نے باہر آتے ہی پولس پر مقدمہ ٹھوک دیا ۔ اب فیصلہ بابر احمد کے حق میں ہوا اور اس کو 60ہزار پونڈ پولس نے بطور ہرجانہ ادا کئے اور ان چاروں پولس والوں پر زیادتی کاکیس درج کر لیا گیا۔ لیکن اگست 2004میں بابر احمد کو C.I.A.کی خفیہ رپورٹ پر دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ اب اس پر افغانستان اور چیچنیا کے انتہا پسندوں کے حق میں ہونے کا  مقدمہ چل رہا ہے جبکہ بابر احمد ان الزامات سے انکار کر رہے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ برطانوی خفیہ پولس بابر احمد سے اس قدر تنگ آ چکی ہے کہ وہ یہ جائزہ لے رہی ہے کہ اس کو ملک بدر کر کے پھر سے پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ اس فیصلے میں حقوق انسانی کے متعلق یوروپی کمیشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ بابر احمد جیل میں انصاف کے لئے منتظر ہے۔ماہ مبارک رمضان کے آغاز پر بلیک برن کے پی پی فورس کے انچارج ایلن نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو تذبذب میں ڈال دیا کہ مکہ مکرمہ سے آنے والے آب زمزم کے پانی کی بوتلوں پر یکسر پابندی لگا دی جائے کیونکہ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ زمزم میں ارسینک اور نائٹریٹ جیسے کیمیکل کی مقدار بہت زیادہ ہے اور اس کے استعمال سے لوگوں کی صحت متاثر ہو جائے گی۔ خاص طور سے بچوں کو آب زمزم کے قریب بھی نہ جانے دیا جائے۔
ایلن نے کہا کہ جلدہی سعودی عرب سے آب زمزم لانے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ یہ معلومات اور ٹیسٹ کی رپورٹ پورے لنکا شائر کی مساجد و مدارس میں بھیجی جا چکی ہے۔ اب اگر کوئی دکاندار نقلی زمزم فروخت کرتے پایا گیا تو سزا ہوگی۔ علماء کرام کے ایک گروپ نے کہا کہ مردے کو دفن کرتے وقت قبر میں آب زم زم چھڑکنے کی اجازت ملنی چاہئے لیکن حکام نے ایسا کرنے سے بھی منع کر دیا ہے۔14اگست کو یونیورسٹی آف لندن کے افروایشین کی اردو سائٹی اور اردو تحریک کی جانب سے ڈاکٹر تقی عابدی کی کناڈا سے آمد پر ایک ادبی نشست کا انعقاد ہوا۔ ڈاکٹر عابدی کا تعارف راقم الحروف نے کرایا کہ وہ 1970سے تقی عابدی کو جانتے ہیں ۔ جب وہ تہران میں ڈاکٹر تھے اور ان کا کلام سناجاتا تھا۔ تقی عابدی کی مجموعی طور پر37کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

Latest posts by حیدر طباطبائی (see all)

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *