یہ ایک منصوبہ بند لوٹ ہے

پربھات رنجن دین
پی ایف گھوٹالہ دیگر گھوٹالوں کی طرح نہیںہے، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند گھوٹالہ ہے، جس میں ججوں نے اپنے ماتحت ملازمین کو اکسا کر کروڑوں روپے کا چونا لگایا۔ اسی پیسے سے عیاشیاں کیں، لیکن خودکو علیحدہ رکھا۔ اطمینان بخش طریقہ سے سوچ سمجھ کر کئے گئے کروڑوں روپے کی سرکاری دولت کے گھپلے میں کسی بھی جج یا جوڈیشل افسرکی گرفتاری تو دور رہی کسی کو مجرم تک نہیں بنایا گیا ۔ملازمین اور ان کے رشتہ داروں کی گرفتاریاں ہوئیں۔ اہم مجرم پراسرار موت کا شکار ہو گیا، جس سے کئی جج بے داغ بچ گئے۔  اس معاملہ کی تفتیش پہلے اتر پردیش پولس کر رہی تھی۔ یو پی پولس نے اپنی ترجیحی چھان بین میں اہم ثبوت ، دستاویز اور گواہوں سے سراغ حاصل کئے ۔ پھر بھی معاملہ اس بنا پر سی بی آئی کو دیا گیا کہ یو پی پولس پر دبائو پڑنے کا اندیشہ تھا۔ پھر سی بی آئی پر کون سا دبائو تھا، جس سے سی بی آئی کی چھان بین ڈھاک کے تین پات بن کر رہ گئی؟قابل ذکر ہے کہ جس یو پی پو لس پر دبائو کا اندیشہ ظاہر کیا گیا اسی پولس نے معاملہ کی سی بی آئی جانچ کرانے کی پہل کی تھی۔ غازی آباد کے اس وقت کے ایس ایس پی دیپک رتن نے اس و قت کے ڈی جی پی وکرم سنگھ کو رپورٹ لکھ کر سی بی آئی جانچ کی سفارش کی تھی او رکہا تھا کہ ججوں سے پوچھ گچھ کرنا مقامی پولس کے لئے مشکل کام ہے۔ ایس ایس پی نے لکھا تھا کہ پی ایف معاملہ میں جن ججوں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں ایک جج اتراکھنڈ میں تعینات ہے تو دوسرا مغربی بنگال میں،آٹھ جج الہ آباد ہائی کورٹ میں تعینات ہیں اور باقی دیگر مختلف اضلاع کے ضلع جج ہیں۔ ایسے حالات میں مقامی پولس کے لئے ریاست کے مختلف اضلاع کے علاوہ دیگر ریاستوں میں جا کر ان سے غیر جانبدرانہ پوچھ گچھ کر پانا مشکل ہے۔ پی ایف گھوٹالہ عدالت کا ایک بڑا اسکیم ہے اور غازی آباد میں تعینات رہے کئی جج اس اسکیم میں راست طور پر شامل پائے جا رہے ہیں۔ لہٰذا اس معاملہ کو سی بی آئی کی جانچ کے لئے دینا مناسب ہوگا۔
پولس اور سی بی آئی دونوں کی چھان بین میں یہ سرکاری طور پر ثابت ہوا کہ ججوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹریزری انچارج آشوتوش استھانہ اور دیگر ملازمین نے تمام فرضی دستاویز تیار کیے۔تیسرے درجہ کے ملازمین کو چوتھے درجہ کا ملازم دکھادیا اور اپنے رشتہ داروں کو چوتھے درجہ کا ملازم دکھا کر جی پی ایف اکائونٹ سے کروڑوں روپے نکال لئے۔گھوٹالہ کرنے کے لئے کورٹ کے ملازم ہتھیارتھے اور دماغ جج تھے۔ فرضی دستاویز بنا کر تیسرے درجہ کے ملازمین نے چوتھے درجہ کے ملازمین بن کر کس طرح پیسے لوٹے ۔
یعنی ایک جھٹکے میں مذکورہ ملازمین نے فرضی دستاویز بنا کر کروڑوں روپے نکال لئے۔ اس طرح کی بے شمار نکاسیاں ہوئیں۔ اس پر ہم سلسلہ وار گفتگو کریں گے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان ملازمین کی اتنی حیثیت تھی کہ وہ اتنا بڑا گھوٹالہ بنا کسی کی پشت پناہی کے کر پاتے؟ دراصل انہیں باقاعدہ ججوں کی پشت پناہی حاصل تھی اور ان کا سرغنہ سرکاری خزانہ کا انچارج آشوتوش استھانہ بنا ہوا تھا۔ گھوٹالہ ملازمین کے نام پر ہوا، لیکن عیاشی ججوں نے کی۔آپ کے سامنے ہم اس طرح کی کئی فہرست پیش کریں گے اور پی ایف لوٹ کی حقیقی تصویر دکھائیں گے کہ کس طرح ججوں کی پشت پناہی میں گھوٹالہ کرنے والے طاقتور کورٹ ملازمین نے اپنے رشتہ داروں اور نوکروں کے نام پر پی ایف اکائونٹ سے رقمیں نکالیں اور اناپ شناپ جائداد یںجمع کی۔ہم ججوں کی وہ فہرست بھی آپ کے سامنے پیش کریں گے، جنھوں نے پی ایف گھوٹالہ کی رقم سے عیاشیاں کی ہیں اور تولئے تک خریدے ہیں۔ پی ایف گھوٹالہ کی جو چارج شیٹ پہلے مقامی پولس نے فائل کی اور بعد میں جسے سی بی آئی نے فائل کیا، اس میں فرق یہی ہے کہ سی بی آئی نے کئی ججوں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کرنے کے لائق ثبوت تو پائے، مگر استغاثہ کے لائق نہیں پائے۔ قانونی اصطلاحات کے چکر میں پھنساکر ہی ملک میں بدعنوانی جیسے شدید غیر اخلاقی کاموں پر پردہ ڈالا جاتا رہا ہے۔ ملک کے عوام کو ان اصطلاحات میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں صاف صاف ججوں کے کارنامے جاننے کی ضرورت ہے۔
سی بی آئی کی چارج شیٹ میں جن 39باہری اشخاص کا ذکر ہے، وہ کون لوگ ہیں؟ وہ گھوٹالہ باز ملازمین کے سگے رشتے دار ہیں، سالے ،سالیاںہیں، بیٹے ، بیٹیاں ہیں اور نوکر تک ہیں۔ آپ نمونہ دیکھئے، اہم مجرم آشوتوش استھانہ کی ساس ساوتری استھانہ، سالہ دھرمیندر استھانہ، بیٹی چنچل کماری ، بیوی سشما استھانہ کے ساتھ ساتھ مجرم سری کانت یادو کا بیٹا کبیر یادو ،مجرم وید پرکاش کی بیوی شکنتلا، مجرم کھیم راج کا بیٹاچمن لال، مجرم نریندر کمار کی بیوی میگھا ، کندن لال کا بیٹا، رام بابو، مجرم بھوپال سنگھ کی بیوی پشپا،متھلیش شرما کی بیوی آشا شرما، سنجیو تیاگی کی بیوی سویتا تیاگی، رام اوتار تیاگی کی بیوی امریش تیاگی، ایشور داس کا بیٹا چنچل کمار، آتم پرکاش اگروال کا بیٹا روی اگروال، رام سنگھ کا بیٹا ستیہ پال چودھری، ممتاز کا بیٹا مبین ، ہریش چندر کا بیٹا راجن شرما، ٹیک چند کا بیٹا ہیمیندر تیاگی، کرشنا شرما کا بیٹا ارون کمار،جگدیش کی بیوی لکشمی عرف کملیش، پریم چند کی بیوی گیتا سمیت ایسے کئی لوگوں کے نام ہیں جنھوں نے اپنے رشتہ دار ملازمین کے ذریعہ فرضی طور پر خود کو کورٹ کا چوتھے درجہ کا ملازم بتا دیا اور پی ایف اکائونٹ سے کروڑوں روپے صاف کر دئے۔ ملازمین کے یہ رشتہ دار بھی پی ایف گھوٹالہ کے مجرم ہیں۔ واضح ہو کہ کورٹ کے جتنے بھی گھوٹالہ کرنے والے ملازمین پکڑے گئے سبھی نے اپنے رشتہ داروں اور کنبوں کے نام پر پی ایف اکائونٹ سے روپے نکالے اور دولت جمع کی۔ علاوہ ازیں کورٹ کے تیسرے درجہ کے 13ملازمین کو چوتھے درجہ کا ملازم بتا کرپی ایف اکائونٹ سے کروڑوں روپے لوٹ کر لے گئے۔ اس کے لئے فرضی دستاویز بنائی گئیں اور اس پر مختلف ججوں سے رسمی اتفاق رائے کی گئی۔خود چارج شیٹ بتاتی ہے کہ سات سال میں سات کروڑ روپے تو ایسے ہی نکال لئے۔ علاوہ ازیں باہری لوگوں سے معاہدہ کر کے 2007میں چار کروڑ روپے نکال لئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ باہری لوگ کورٹ کے ملازمین نہیں   ہیں، لیکن فرضی دستاویزات پر انہیں کورٹ کے چوتھے درجہ کا ملازم بتایا گیا اور پی ایف اکائونٹ سے بڑی رقومات نکالی گئیں۔ان سب پر ججوں کا اتفاق رائے ہے۔ آپ دیکھئے ججوں کی پشت پناہی میں کس طرح کا فرضی کارنامہ انجام دیاگیا۔ باہری لوگوں کو کورٹ کے چوتھے درجہ کا ملازم بتایا گیا، اس کے لئے فرضی دستاویز تیار کی گئیں ، جی پی ایف کا فرضی اکائونٹ تیار کیا گیا، جی پی ایف کی ضمانتی رقم منظور کرائی گئی، کھاتوں میں پیسہ نہیں تھا پھر بھی ججوں نے بڑی رقومات منظور کر دیں، اس پر باقاعدہ سرکاری خزانہ سے چیک حاصل کئے گئے اور فرضی ملازمین کے فرضی کھاتوں میں جمع کرائے گئے اور سرکاری خزانہ لوٹ لیا گیا۔
بہر حال، سی بی آئی کی جانچ سے قبل ہی یو پی پولس نے اہم ملزم سمیت دیگر کئی ملزموں کو گرفتار کرنے اور ثبوت وغیرہ اکٹھا کرنے کا کام بہت حد تک پورا کرلیا تھا۔ پی ایف گھوٹالے کے اہم قصوروار آشوتوش استھانہ کا اقبالیہ بیان ،آئی پی سی کی دفعہ164کے تحت باقاعدہ غازی آباد کے جوڈیشیل مجسٹریٹ دنیش کمار کی موجودگی میں درج کیا گیا تھا۔ یہی اقبالیہ بیان سی بی آئی کی جانچ کی اہم بنیاد بنااور سی بی آئی نے کیا کیا؟ سی بی آئی نے کہا کہ 41ججوں اور عدالتی افسران میں سے 17کے خلاف پختہ ثبوت نہیں مل پائے۔ بقیہ 24ججوں کے خلاف کرمنل کیس نہیں بنتا صرف محکمہ جاتی کارروائی کا معاملہ بنتا ہے۔ ان 24ججوں میں ایک سپریم کورٹ کے جج بھی شامل ہیں، جو اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔ کل 78 لوگوں کے خلاف سی بی آئی نے چارج شیٹ داخل کی ہے، ان میں چھ ریٹائرڈ جج شامل ہیں۔سی بی آئی نے کہا کہ پی ایف گھوٹالے کے دوران غازی آباد کی عدالت میں تعینات رہے اور جانچ کے گھیرے میں آئے 17ججوں کے خلاف ثبوت نہیں ملے ہیں۔ جن ججوں کو کلین چٹ دی گئی ہے، ان میں سے دو ابھی الہ آباد ہائی کورٹ میں جج ہیں اور ایک گھوٹالے کے وقت ہائی کورٹ کے چیف رجسٹرار تھے۔ جن کو سی بی آئی کی کلین چٹ ملی ان میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جج سبھاش چند نگم، جج وشنو سہائے اور گھوٹالے کے دوران رجسٹرار جنرل رہے پی کے گوئل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گھوٹالے کے وقت غازی آباد میں ایڈیشنل ضلع جج کے عہدے پر تعینات رہے آر اے کوشک، حمیداللہ، سی کے تیاگی، سبھاش چند اگروال، نروکارگپتا، اشوک کمار چودھری، شری پربھو، اے کے اگروال، رمیش چند سنگھ اور غازی آباد میں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ رہے وی کے شریواستو، کوشلیندر یادو، اکھلیش دوبے،ہمانشو بھٹناگر اور وی ایس پٹیل شامل ہیں۔ سی بی آئی نے 24ججوں پر محکمہ جاتی کارروائی کئے جانے کی سفارش کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *