ہندوستان آن لائن فلم پائریسی کا اڈہ

پرینکا پریم تیواری
ہندوستان آن لائن فلم پائریسی کا ایک بڑااڈہ بن چکا ہے۔ یہاں غیر قانونی ڈائون لوڈنگ کرنے میں ملک کی راجدھانی دہلی، اقتصادی راجدھانی ممبئی اور آئی ٹی ہب بنگلور سب سے اول ہیں۔ہندوستان میں موشن پکچر ڈسٹری بیوٹر ایسو سی ایشن کے ذریعہ تصدیق شدہ انٹر نیٹ پائریسی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں براڈبینڈ نیٹ ورک سبسکرائبر کی تعداد پر غور کریں تو یہاں سب سے زیادہ فلم پائریسی ہوتی ہے۔ فلم ڈائون لوڈنگ میں امریکہ اول نمبر پر ہے۔اس کے بعد برطانیہ، کناڈا اور ہندوستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ وشال بھاردواج کی فلم ’’کمینے‘‘ بٹ ٹورینٹ سافٹ ویئر سے 3,50000مرتبہ ڈائون لوڈ کی گئی ہے۔ اس کاایک تہائی حصہ ہندوستان میں ہی ڈائون لوڈ کیا گیا ہے۔اس سال اپریل سے ستمبر تک کی مدت میں ہندوستان غیر قانونی پی ٹو پی سرگرمی میں دنیا میں دسویں مقام پر رہا ہے۔ انٹر نیٹ کمپنی اینوژنل کی انٹر نیٹ پائریسی لینڈ اسکیپ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں آن لائن پائریسی بٹ ٹورینٹ اور سائبر لاکر اور ویب پر مبنی فائل ہوسٹ جیسے ریپڈ شیئر یا ہاٹ فائل جیسے فائل شیئرنگ نیٹ ورک سے ہوتا ہے۔ویڈیو اسٹریمنگ سائٹ بھی خوب رائج ہیں، لیکن ان کا استعمال سائبر لاکرس اور بٹ ٹورینٹ سے کم ہوتا ہے۔ویڈیو اسٹریمنگ سائٹ ہیں یو ٹیوب، جسٹ ان ڈاٹ ٹی وی، یو اسٹریم ڈاٹ ٹی وی۔2008میں آئی اینرسٹ اینڈ ینگ کی رپورٹ کے مطابق، جعلسازی اور پائریسی سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو 16,000کروڑ روپے کا نقصان ہر سال ہوتا ہے۔ ہندوستان میں میڈیا اور انٹر ٹنمنٹ انڈسٹری مستقبل میں کافی فروغ پانے والا شعبہ ہے۔یہ ہر سال 11بلین ڈالر کی کمائی کرتا ہے اور اس میں ہر سال 18فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔اگر پائریسی کو روک دیا جائے تو اس میں بھاری اضافہ ہونے کے امکانات ہیں، جس سے زیادہ سے زیادہ آمدنی ہو سکتی ہے۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے حال ہی میں پائریسی پر تشکیل شدہ کمیٹی کے اسپیشل سکریٹری اور صدر ادے ورما نے اپنی رپورٹ وزیر اطلاعات و نشریات امبیکا سونی کو سونپ دی ہے۔ کمیٹی نے مسلسل بڑھ رہی پائریسی کے اسباب کا پتہ لگانے اور اس پر ریسرچ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ تیار کی ہے۔ رپورٹ میں پائریسی روکنے کے لئے ضروری ضوابط اور حقائق کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔اپنی سفارشات میں کمیٹی نے خاص طورسے تھیٹر میں کیمرا اور دیگر کیپچر ڈوائسس لے جانے سے متعلق ضوابط کو سخت بنانے کی بات رکھی ہے۔ ساتھ ہی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایسے طریقۂ ہائے کار اپنائے جانے چاہئیں جن سے پائریسی کا دھندہ مہنگاہو جائے، اس سے خود بخود پائریسی سی ڈی کی قیمتیں بڑھیں گی اور خریداروں کے حوصلے پست ہوجائیںگے۔ کمیٹی کی اہم سفارشات اس طرح ہیں:فلموں کی نمائش کے دوران سنیما ہالوں میں پائریسی روکنے کی ذمہ داری اہم طور سے تھیٹر اور ملٹی پلیکس آپریٹروں پر ہونی چاہئے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ ان شرائط کو تھیٹروں اور ملٹی پلیکس کو لائسنس دئے جانے کے وقت معاہدہ میں شامل کیا جانا چاہئے۔ علاوہ ازیں کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ چھوٹے قصبوں میں رائٹرس ، ڈسٹری بیوٹرس ، ڈائریکٹرس اور تھیٹر – ملٹی پلیکس آپریٹروں کو متحد کر کے اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی روائتی تھیٹروں کو ڈجیٹل تھیڑوں میں بدلنے اور صحیح ڈی وی ڈی جاری کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *