“کیسی ہوگی فلم ’’انجانا انجانی

فلم انجانا انجانی ناڈیاڈوالا گرینڈسن انٹرٹینمنٹ اور ایروز انٹرٹینمنٹ کے بینر تلے بنی ہے۔ اس کے پرڈیوسر ساجدناڈیاڈ والا اور ڈائرکٹر سدھارتھ آنند ہیں۔
موسیقی وشال شیکھر نے دی ہے ۔ فلم کے اہم اداکاررنبیر کپوراورپرینکا چوپڑا ہیں۔ یہ ایک لو اسٹوری ہے۔ فلم کی کہانی آکاش (رنبیر کپور) اور کیارا (پرینکا چوپڑا)کے ارد گرد گھومتی ہے۔پرینکا یعنی کیارا سین فرانسکو میں رہنے والی لڑکی کے کردار میں ہے، جب کہ رنبیر یعنی آکاش نیویارک سٹی میں رہتا ہے۔ دونوں کی ملاقات نیویارک سٹی میں ہوتی ہے۔ یہ ملاقات عجیب وغریب صورت حال میں ایک سفر کے دوران ہوتی ہے۔ اس سفر کے دوران آکاش اور کیارا اجنبی ہی بنے رہنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس سفر کی داستان میں درد بھی ہے، مستی بھی ہے اور پیار بھی ہے، لیکن وہ اسے محسوس نہیں کر پاتے ہیں۔ سفر میں بھی وہ ایک شرط سے بندھے ہوتے ہیں کہ انہیں آئندہ بیس دنوں تک ہی جینا ہے اور پھر خودکشی کرلینا ہے۔ان دونوں کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے لئے صرف بیس دن ہوتے ہیں۔ ان بیس دنوں میں وہ ہر پل کا مزہ لینا چاہتے ہیں اور اس کے بعد دونوں خود کشی کرنے والے ہوتے ہیں۔ دونوں ہر دن کو ایسے جیتے ہیں گویا وہ دن ہی ان کا دنیا میں آخری دن ہو۔ اس درمیان وہ آسمان چھونا چاہتے ہیں اور  روئے زمین کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں۔لیکن جب یہ شرط ختم ہوتی ہے، یعنی بیس دن کی میعاد پوری ہوتی ہے، تب انجانا انجانی کے سامنے ایک ایسی صورت حال پیش آجاتی ہے، جو انہیں جینے کے لئے مجبور کردیتی ہے، لیکن اس موت کی شرط کا کیا ہوگا، وہ کیا کرتے ہیں، یہی کہانی ہے فلم انجانا انجانی کی۔ چند ایسے مضحکہ خیزواقعات پیش آتے ہیں جن کی وجہ سے آکاش اور کیارا کو الگ ہونا پڑتا ہے۔ دونوں یہ سوچ کر الگ ہوتے ہیں کہ ساتھ بتائے گئے کچھ دن سوائے پاگل پن کے کچھ نہیں تھے۔ الگ بھی وہ ویسے ہی ہوتے ہیں، جیسے ملے تھے۔ اجنبیوں کی طرح، لیکن کیا وہ پیار جس سے وہ انجان ہیں دونوں کو ایک دوسرے کی جانب کھینچ لے گا، جاننے کے لئے آپ کو یہ فلم دیکھنی ہوگی۔ اس فلم کو نیویارک ، لاس انجلس، لاس ویگاس اور سین فرانسسکو میں فلمایا گیا ہے۔
ایک الگ کہانی پر مبنی یہ فلم دراصل ایک لو اسٹوری ہے جو اسی سال آسکر کے لئے نامزد ہالی ووڈ فلم این ایجوکیشن کی کاپی ہے۔فلم کی کہانی ہی نہیں فلم کا پوسٹر بھی لون شرفگ کی فلم ’این ایجوکیشن‘ کی کاپی ہے۔ صرف یہی نہیں فلم میں کہانی کو دیا گیا پلاٹ بھی فرانسیسی فلم ’سرلی پونٹ: دی گرل آن دی بریج ‘کی کاپی ہے۔
ایسا مانا جاتا ہے کہ ساجدناڈیاڈوالا فلمیں بناتے وقت دل کھول کر پیسہ خرچ کرتے ہیں، اس لئے ان کی فلموں میں آن بان اور شان وشوکت نظر آتی ہے۔ سدھارتھ آنند اس سے پہلے بھی تین بار اس بینر کے لئے فلم بنا چکے ہیں۔ سلام نمستے(2005)اور بچنا اے حسینوں(2008 )نے ہلچل ضرور مچائی، لیکن کامیابی حاصل نہیں کرپائی، جب کہ’تارارم پم‘(2007)بری طرح فلاپ رہی۔ اب تک ناکامیوں کا سامنا کرنے والے سدھارتھ کی شاید یہ ہٹ فلم ثابت ہو۔24ستمبر کو ان کی یہ فلم ریلیز ہونے والی ہے۔اپنی اسفلم کے بارے میں ساجد کہتے ہیں، یہ میرے بینر کی پہلی ینگ اورفل لواسٹوری ہے، جس میں رنبیر کپور اور پرینکا چوپڑا جیسے سپر اسٹارس موجود ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *