ہندی سنیما: وہ بھی ایک دور تھا

سلمان علی
ہندی فلم انڈسٹری نے 1950، 60، 70 اور 80کی دہائی میں ہندوستان کو ایسی کامیاب ترین فلمیں دیں جن کا جادو آج بھی ناظرین کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔’’مغل اعظم‘‘(1960)’’کاغذکے پھول‘‘(1959)’’مدر انڈیا‘‘(1957)، ’’پاکیزہ‘‘(1972)، ’’ہاف ٹکٹ‘‘ (1962)، ’’پڑوسن‘‘ (1962)،امرائو جان (1981)ایسی کامیاب ترین فلمیں ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے لوگ آج بھی بے چین رہتے ہیں۔ آج بھی پرانی فلموں کے مکالمے لوگوں کی زبان پر ہیں۔ ان کے گانے دل ودماغ کو تسکین پہنچاتے ہیں۔شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کی ’’سنگ دل‘‘،’’امر‘‘، ’’اڑن کھٹولہ‘‘، ’’آن‘‘، ’’انداز‘‘، ’’نیادور‘‘، ’’مدھومتی‘‘، ’’یہودی‘‘، ’’مغل اعظم‘‘ وغیرہ ایسی کئی فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے بعد انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دکھائی دیتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا فن بھی جانتا ہے۔ساری دنیا انہیں آج بھی بہترین فلم اداکار مانتی ہے ۔ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم’’لارنس آف عربیہ‘‘ میںایک رول کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن دلیپ کمار نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ 70سے زائد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والے راجکمار کا تکیہ کلام اور ترنگا فلم کا وہ مکالمہ(جانی یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے) آج بھی اکثر بچے، نوجوان سب دہراتے نظر آتے ہیں۔رنگیلی(1952)،’’مدر انڈیا‘‘ (1957)’’پیغام(1969)،’’دل اپنا اور پریت پرائی‘‘ (1960)، ’’گھرانا‘‘(1971)،’’دل ایک مندر‘‘ (1963)، ’’وقت‘‘ (1965)، ’’ہمراز‘‘(1967)،’’نیل کمل‘‘(1968)،’’پاکیزہ‘‘(1972)،’’لال پتھر‘‘(1971)،’’ہیررانجھا‘‘(1971)،’’مرتے دم تک‘‘(1987) ان کی وہ کامیاب ترین فلمیں ہیں جن سے انہیں عالمی شہرت حاصل ہوئی۔فلم ’’کالیا ‘‘  میں پران کے ذریعہ ادا کیا گیا ڈائیلاگ ’’کالیا تونے یہ خواب دیکھا تو کیوں دیکھا‘‘آج بھی پران کا نام سنتے ہی یاد آ جاتا ہے ۔125سے زائد فلموں میں کام کرنے والے امریش پوری نے اپنی زبر دست آواز اوربے مثال اداکارانہ صلاحیت سے بالی ووڈ کو ایک نئی سمت عطا کی۔1975میں بنی کامیاب ترین فلم ’’شعلے ‘‘کے گبر سنگھ(امجد خان) کو کون بھول سکتا ہے ۔انھوں نے اپنی زندگی میں 130سے زائد فلموں میں کام کیا اور بے پناہ شہرت حاصل کی۔امجد خان نے بطور ڈائریکٹر 1983میں فلم ’’چور پولس‘‘ اور 1985میں ’’امیر آدمی غریب آدمی ‘‘بھی بنائیں جنہیں کوئی خاص کامیابی نہیں مل پائی۔ہندوستانی سنیما کاجب آغاز ہواتو اس وقت فلمیں روایتی کہانیوںپر مبنی ہوا کرتی تھیں۔ اسی لئے ہمارے اداکار بھی بیشتر ہریش چندر ، رام یا وشنو کے کرداروں میںنظر آیا کرتے تھے۔بالی ووڈ میں پہلی بولتی فلم ’’عالم آرا‘‘ (1931) کے ذریعہ ہندی سنیما میں نئے دور کا آغاز ہو ا،لیکن جب پردے پر آواز سنائی دینے لگی تب اداکارائوں کے چہرے اور زبان کے ساتھ ساتھ اداکاری اورگلے کی آواز کو بھی اہمیت دی جانے لگی۔1940ہندی سنیما کا ایک بہترین اورپروان چڑھتا دور تھا۔وہ سہگل، پرتھوی راج کپور،سہراب مودی ،جے رام، پریم ادیب، کشور ساہو ،موتی لال، اشوک کمار جیسے پسندیدہ اداکارائوں کا زمانہ تھا تو دوسری جانب دلیپ کمار، کشورکمار، دیو آنند اور بھارت بھوشن جیسے نئے لوگ فلمی صنعت میں دستک دے رہے تھے۔اچانک سہگل اور سہراب مودی جیسے قائم مقام اداکار طرز اداکاری میںتبدیلی کے سبب پرانے پڑنے لگے۔موتی لال اور اشوک کمار پرانی اور نئی اداکاری کے بیچ کی دو اہم کڑیاں ہیں۔جب فلموں کے طور طریقوں سے لے کر صنعت تک اداکاروں نے بہترین اداکاری کی اور سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کو اٹھایا۔پھر آئی 80کی دہائی جس میں خون خرابہ، غنڈہ گردی، لوٹ مار، ڈاکہ زنی جیسی فلموں کو ترجیح دی جانے لگی۔فلموں میں اداکارائوں کے مقابلہ اداکاروں کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔پھر امرائو جان، نکاح، آہستہ آہستہ، جیسی فلمیں بھی آئیں جن کو آج بھی ناظرین یاد کرتے ہیں۔یہ وہ دور تھاجب فلم کی اداکارائیں یا تو صرف گلیمر کا شو پیس بن کر رہ گئی تھیں یا ویلن کے سامنے پیڑوں کے ارد گرد ناچنے، اغوا، آبروریزی یا مار دئے جانے کا سامان بن گئیں۔اس کو ہندوستانی فلمی صنعت کا سب سے خراب دورکہا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا دور جب کچھ بھی ممکن تھا ایک ہیرو50غنڈوںپر بھاری پڑ تا تھا۔دسویں منزل سے نیچے کود سکتا تھا اور شدید چوٹ لگنے کے باوجود بھی اپنی ماں یا معشوقہ کو بچا سکتا تھا۔یہ بالکل پاگلپن کا دور تھا۔ہندوستان میں اب فلموں کا بازار ہی بدل چکا ہے۔ہندوستانی فلموں نے ملکی سرحدیں پار کرلی ہیں اور بیرونی ممالک میں دھوم مچا رکھی ہے۔فلم سازوں کو اب نئے موضوعات پر فلم سازی کرنے کی دھن لگ گئی ہے۔اب فلمساز اور اداکار ایک وقت میں ایک ہی فلم کرنا پسند کرتے ہیں اسی لئے فلم تین سے چھ ماہ میں مکمل ہو جاتی ہے۔راج کپور ایک اچھے اداکارہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ہدایت کار بھی تھے ۔اپنی فلم میں ہمیشہ انھوں نے عام آدمی سے جڑے مسائل کوسامنے لانے کی کوشش کی۔ آر کے لکشمن کے عام آدمی کے کردار کو رپردۂ سیمیں پر ہمیشہ کامیاب کرنے کی کوشش کی۔راجکمار، دلیپ کماراور دیو آنند یہ تینوں اسٹائل آئکون تھے، لیکن ان تینوں کا جادواس وقت ختم ہونے لگا ، جب ایک طریقہ کا ریئلٹی چیک زندگی میں آیا۔اس تکڑی کے عروج کے دنوں میں بلراج ساہنی نے ’’دو بیگھا زمین ‘‘ کے ذریعہ کمیونسٹ خیالات پیش کئے۔’’دوبیگھا زمین اس زمانہ کی پہلی فلم تھی، جس نے نصف درجن ایوارڈ اپنے نام درج کئے اور سرٹیفکیٹ آف میرٹ حاصل کیا۔1953کی اس فلم نے اس زمانہ میں بہترین کاروبار کیا۔فلم میں کسان کے کردارکو بلراج ساہنی نے زندہ جاویدکر دیا۔اس فلم میں بلراج ساہنی اصل کسان مزدور کی شکل میں پہچانے گئے۔
موجودہ دور کے بالی ووڈ، جس میںگلیمر اورنئے اداکار اور اداکارائیں دستک دے رہے ہیں اور ہر سال سیکڑوں نئی فلمیں بن کر آ رہی ہیں،لیکن نہ تو اب یہاں کوئی دلیپ کمار کی طرح کامیاب اداکارو شہنشاہ جذبات نظر آتا ہے اور نہ ہی ’’شعلے ‘‘کا گبر سنگھ۔آج بالی ووڈ میں ایسے اداکاروں کا فقدان ہے جنھوں نے اپنی آواز، اداکارانہ صلاحیت اور فنکاری کے دم پر اپنی شناخت بنائی۔آج جدید فیشن کے اس دور میں فلمیں صرف گلیمر اور رومانس کاشو پیس بن کر رہ گئی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *