ہاں یہی ہے مکافات عمل

عفاف اظہر
برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے جو کھلاڑی حالیہ اسکینڈل میں ’ملوث‘ قرار دیے گئے ہیں ،خود ان کی درخواست پر انھیں دورۂ انگلینڈ کے باقی میچوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے مخصوص مواقع پر دانستہ طور پر نوبال کرانے کے بدلے خفیہ طور پر پیسے وصول کئے ہیں۔ برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ اس کے ایک نمائندے نے ڈیڑھ لاکھ پائونڈ اس شخص کو دئے جس نے اسے یقین دلایا کہ دو پاکستانی کھلاڑی چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران پہلے سے مخصوص مواقع پر نو بالز کرائیں گے۔اس دعوے کے منظر عام پر آنے کے بعد لندن پولیس نے ایک پینتیس سالہ شخص کوگرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ لارڈز ٹیسٹ کے دوران شرطوں کے فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں پر ’اسپاٹ فکسنگ‘ کا الزام لگائے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر یاور سعید نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ الزامات سنگین ہیں تاہم فی الحال یہ صرف الزامات ہی ہیں۔
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیا کسی کا گلہ کرے کوئی
جب سے پاکستانی کرکٹ کے کھلاڑیوں کے خلاف سٹہ بازی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ میڈیا ملکی عزت و ناموس کو داؤ پر لگا دینے ،جگ ہنسائی کا خوف لئے وہی پرانے راگ الاپ رہا ہے تو حکمران ہمیشہ کی طرح کانوں میں انگلیاں ٹھونسے ان تمام الزامات کو سازش قرار دینے کی روش اپنائے ہوئے ہیں جب کہ ہمارے بھولے بھالے سے عوام ہمیشہ کی طرح جزا و سزا کی جا ئدادیں ضبط کر لینے، غداری کے مقدمات چلانے اور  سخت سے سخت سزا کے مطالبوں کی بانسری بجا رہے ہیں ہر کوئی کھلاڑیوں کو قصوروار اور اس حرکت کو کرکٹ کی دنیا کا سیاہ ترین دن قرار دے رہا ہے ۔میڈیا کا غصہ سیاسی و سماجی قیادت کا رد عمل اور عوام کا جوش و خروش دیکھ کر تو یوں گمان ہوتا ہے کہ گویا یہ کوئی پہلا واقعہ ہو یا پھر یہ کوئی ایسی انہونی ہو جو پہلے کبھی نہ ہوئی ہو۔ شاید یہاں بھی بحیثیت قوم ہماری حافظے کی کمزوری آڑے آ رہی ہے ورنہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں سٹہ بازی کو متعارف کروانے کا بانی تو ضیاء الحق تھا جس نے کرکٹ ٹیم کو سٹہ بازی کی راہ پر چلانے میں ایک اہم کردار ادا کیا اور تب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم ہر دور میں ایسے الزامات سے گھری رہی ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم تو نوے کی دہائی سے ایسے الزامات میں سر فہرست رہی ہے۔ سن دو ہزار میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جنوبی افریقہ اور ہندوستان کے کچھ کھلاڑیوں کا رول بھی بے نقاب ہوا تھا، جس کی تفصیل پاکستان میں جسٹس قیوم سے اور جنوبی افریقہ میں کنگس کمیشن اور ہندوستان کے مرکزی تفتیشی بیورو کی رپورٹوں سے با خوبی ظاہر ہو جاتی ہے ۔ اب جہاں تک تعلق ہے ان الزامات کے ثابت ہونے کا تو اس کا جواب بھی ہمارے معاشرے کے مجموعی تناظر میں ہی مل جاتا ہے کیوں کہ یہاں چند کھلاڑیوں کو قصوروار ٹھہرا کر معطل کر دینا کافی نہیںہے، کیوں کہ بات ان چند بلے بازوں سے بہت آگے کی ہے ۔جن کٹھ پتلیوں کی ڈور اوپر سے ہلائی جا رہی ہو تو وہاں فقط کٹھ پتلیوں کوقصوروار ٹھہرا کر معاملہ حل نہیں ہو سکتااور پھر جس ملک کی تمام تر سیاسی قیادت اورحکمران بدعنوانی کے پرانے کھلاڑی ہوں حتیٰ کہ حکمران ا علیٰ ہی تین پرسنٹ کے نام سے مقبول ہوں۔ جس مالک کے چپراسی سے لے کر ا علی ترین عہدوں تک سب ہی اس حمام میں ننگے ہوں، جس ملک کے حکام ذاتی مفاد کو ملکی مفادات پر ترجیح دینے والے ہوں ، جس ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے خود ہی قانون شکن ہوں ، جس ملک کی عدلیہ کے فیصلوں پر مذاق اڑایا جاتا ہواور مرضی کے فیصلے لینے کے لئے ججوں کی کردار کشی کی جاتی ہو،دن دہاڑے سپریم کورٹ پر مسلح حملے کئے جاتے ہوں ، جہاں سارے کا سارا آوا ہی بگڑا ہو ،وہاں یہ معصوم بلے باز بھلا بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے خود کو کیوں کر محفوظ رکھ سکیں گے ؟ یہ جھوٹ ،رشوت، دھوکہ دہی چور بازاری ،فراڈ، لوٹ مار قانون کا استعمال ہی توآج ہماری معاشرتی اقدار ہیں اور پھر بچے بڑوں سے ہی تو سیکھتے ہیں ،تو پھر شور کی بات کیا ؟ آخر ان بچوں نے ایسا کون سا جرم کر دیا کہ سبھی فرشتے ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں ؟
جب ملکی ساکھ ہے ہی نہیں تو پھرعزت و ناموس کے رونے کیا رونا۔ عوام کو میڈیا کو تو اب تک ان سب کا عادی ہو جانا چاہیے کہ یہ تو آئے دن ہوتا ہے اور یہی اب بھی ہونا ہے چار دن مقدموں کا شور ہو گا ،انکوائریاں ہوں گی، کمیشن بیٹھیں گے اور پھر و ہی اندھیری رات ۔کیوں کہ ان لونڈوں کی گردنیں ناپنے سے پہلے کرکٹ بورڈ کے مگر مچھوں اور سلیکشن کمیٹی کی کالی بھیڑوں کی نقاب کشائی ضروری ہے جو کہ ہونے سے رہا۔ جہاں آج تک نہ تو زرداری پر کوئی الزام ثابت ہو سکا اور نہ ہی قانون کی گرفت نواز شریف کی گردن تک پہنچ سکی ،نہ کسی جاگیردار کو سزا مل سکی، نہ ہی کوئی طاقتور قصوروار ثابت ہو سکا ہو۔ جوشیلی قوم ایسی کہ ہر آدمی ہی بیک وقت مفتی اور جج ہو ۔سڑک پر کھڑے کھڑے الزام لگا کر فیصلہ سنا کر سزا دینے والی وہ قوم جس کے حکمران ہر ججمنٹ سے بالاتر ہوں ۔ وہاں عزت و ناموس کے بھاشن کچھ عجیب سے نہیں لگتے ؟
دستور یہاں بھی اندھے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
سونے پر سہاگہ یہ کہ سب کچھ جانتے سمجھتے ،قصوروار ہوتے ہوئے بھی سازشیں تلاش کرنا ہمارا المیہ بن چکا ہے ۔ایک پاکستانی کا بس چلے تو بیوی کے ساتھ لڑائی کو بھی انڈیا کی شرارت یا امریکہ و برطانیہ کی سازش قرار دے دے ۔ اپنے گریبانوں میں جھانکے بنا دوسروں پر انگلیاں اٹھا دینا تو ہماری فطرت بن چکی ہے، جن سازشوں کا اشارہ ہماری اٹھی انگلیاں دوسروں پر کر رہی ہیں مگر ہمارے اپنے ہی گریبان چیخ چیخ کر تمام سوالوں کے جوابات لئے دہائی  دے رہے ہیں ۔ جو میڈیا قوم کا سر شرم سے جھکنے کی دہائیاں دے رہا ہے وہ ذرا اپنے گریبان میں  تو جھانکے کہ اس نے کھیل کے میدان کو کرپشن سے صاف کرنے کے لئے کیا کردار ادا کیا ہے ؟ سیاسی قائدین جو صرف انہی الزامات کو لے کر تاویلیں گڑھ رہے ہیں وہ ذرا آ ئی پی ایل کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے اس پر آج تک لگنے والے سنگین الزامات کی طویل فہرست کو تو اٹھا کر دیکھیں کہ کس کس کا جواز پیش کریں گے ؟ اور ہماری قوم جو کھلاڑیوں کو قومی ہیروز کا درجہ دے کر اپنی عزت و ناموس ان سے وابستہ کر بیٹھی شاید بھول گئی کہ یہ ہمارے خود ساختہ ہیروز بھی ہمیں میں سے ایک ہیں۔ اسی معاشرے میں سانس لے کر پلتے ہیں اور اسی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اور وہ بھی معاشرے کی برائیوں سے اتنے ہی متاثر ہوتے ہیں جتنے کہ ہم …جب ہم نے معاشرتی سطح پر تعلیم کو خیر آباد کہہ کر جہالت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ،علم سے دامن چھڑا کر زندگی کو ہی کھیل بنا لیا ، روشنی سے منھ موڑ کر اندھیروں سے دل لگا لئے تو پھر ملکی وقار کے یہ نعرے عزت و ناموس کی یہ بڑکیں   احساس ندامت اور ملکی ساکھ کا تصور ہمیں زیب نہیں دیتا ۔ کیوں کہ یہ ہماری وہ قسمت ہے جسے ہم نے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ۔
دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم نے علم کے میدان میں جھنڈے گاڑ کر فراغت کے اوقات میں کھیل سے دل بہلایا مگر ہم نے اس کے برعکس اپنی  پوری زندگی کو ہی کھیل بنا ڈالا ۔ جب وطن عزیز کے وہ گوہر نایاب وطن کی مٹی کے وہ بد نصیب حقیقی ہیروجنہوں نے اپنے علم کی طاقت اور کردار کی عظمت کی بنا پرعلم وسائنس کی   ترقی یافتہ دنیاؤں کے اونچے آسمان پر وطن عزیز کا نام بھی لکھ ڈالا۔ چمن کا وہ دیدہ ور وہ مایہ ناز دماغ جس کے لئے ہزاروں سال نرگس کو  اپنی بے نوری پر رونا پڑے . مگر ستم ظریفی کہ جہالت کی اس اندھیر نگری نے خود ہی علم کے اس آفتاب سے نگاہیں پھیر لیں ۔اندھیروں کے ان باسیوں نے یہ روشنی کی کرن بھی مٹا ڈالی …اپنے اصل ہیروز قوم کے حقیقی مسیحاؤں کو تعصبات میں اندھے ہو کر ملک بدر کرنے والی قوم کے لئے اس سے بہتر سزا اور ہو بھی کیا سکتی ہے کہ ہمیں اب  ایسے ہی قومی ہیروز نصیب ہوں جو ذلت کی گہرائیوں سے نکلنے کا ایک بھی موقع نہ دیں .. ایسے حکمران ہمارا مقدر بنیں جو دنیا کی نظر میں ہمارا وقار بحال ہونے کی ایک بھی کوشش کامیاب نہ ہونے دیں ۔ ایسے مسیحا نصیب ہوں جو مسیحاؤں کے بھیس میں زخموں پر زہر چھڑکیں ،ایسے اپنے نصیب ہوں جن کو دیکھ کر غیر ہی بھلے لگیں ۔ ہاں شاید یہی ہے ہمارے لئے سب سے بہتر سزا کہ دنیا بھر کی قوموں کے لئے انکے ہیروز ملک و قوم کا وہ قابل ناز سرمایہ ہوتے ہیں جو ان کا سر فخر سے اونچا رکھتے ہیں مگر اسکے بر عکس آج ہمارے ہیروز ہماری احسان فراموش قوم کا وہ قابل ذلت وجود ہیں جن کی ایک ایک حرکت قوم کی بد صورتی اس طرح عیاں کر رہی ہے کہ کوئی راستہ ہی باقی نہیںبچا ،سوائے شرمندہ ہونے کے ،اور ہوتے رہنے کے .. ماضی کے آئینے میں خود کو دیکھیں اور اپنے گریبان کی دہائی غور سے سنیں تو ہمیں آج فقط یہی صدا  سنائی دے گی کہ ’’ہاں یہی تو ہے مکافات عمل۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *