اب سٹہ بازی ہی اصل کھیل ہے

آدتیہ پوجن
تمہیں بھروسہ نہیں تو میں ابھی بتاتا ہوں۔ نئی گیند سے پہلا اوور محمد عامر کرے گا اور تیسرے اوور کی پہلی گیند نو بال ہوگی۔ دسواں اوور محمد آصف کرے گا اور اس کی پانچویں گیند نو بال ہوگی۔ یہ بیان ہیں سٹے باز مظہر مجید کے ،اور اب تو سب جانتے ہیں کہ اس کا ہر لفظ سچ تھا۔ اس نے یہ ساری باتیں کھیل شروع ہونے سے پہلے کہی تھیں، لیکن میدان پر ہوبہو ویساہی ہوا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اس گھناؤنے کھیل میں ٹیم کا کپتان بھی شامل ہے، کیونکہ میدان پر کس سے کب گیند بازی کرانی ہے، اس کا فیصلہ کپتان ہی کرتا ہے۔ کرکٹ کا مکہ کہے جانے والے لاڈرس کے میدان پر انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ کے دوران پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے سٹے بازوں کے ساتھ مل کر اپنی ٹیم کو جیت کی حالت سے شکست کے منہ میںدھکیل دیا۔ ٹیم کے سات کھلاڑیو ںنے اسپاٹ فکسنگ کر کے کروڑوں کی کمائی کی۔ اسپاٹ فکسنگ کا یہ اوپن اینڈ شٹ معاملہ ہے، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) ایسا ماننے کو تیار نہیں ہے۔ تبھی تو پی سی بی کسی بھی کارروائی سے پہلے اپنی جانچ کمیٹی کی رپورٹ کے انتظار میں بیٹھا رہا۔ تمام لوگوں کا یہی ماننا تھا کہ اتنے پختہ ثبوتوں کے ملنے کے بعد پی سی بی کو قصوروار کھلاڑیوں پر پابندی عائد کرکے ٹیم کو واپس بلالینا چاہئے تھا، لیکن نہ تو پی سی بی نے ایسا کیا اور نہ ہی آئی سی سی نے۔ ٹیسٹ میچ ختم ہونے کے بعد ون ڈے سیریز بھی بدستور جاری رہی اور کرکٹ کے کھیل میں فکسنگ کا تماشا کھیل افسران کے اسی ناپاک اور غیر ذمہ دار رویے کا نتیجہ ہے۔
فکسنگ کا بھوت کرکٹ کے لئے نیا نہیں ہے۔ بیٹ اور بال کے درمیان لڑائی کے اس کھیل میں پیسہ، سیکس اور ڈرگس کا کھیل بھی طویل عرصے سے چلتا آرہا ہے۔ پیسوں کے لالچ میں اپنی ٹیم کے ساتھ اور اپنے ملک کے ساتھ غداری کرنے کی کھلاڑیوں کی تاریخ پرانی ہے، لیکن سٹے بازی کا کھیل اتنی صفائی سے کھیلا جاتا ہے کہ اس کے ثبوت کا حصول تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔1990کی دہائی کے آخری دنوں میں جنوبی افریقی ٹیم کے سابق کپتان ہینسی کرونے کے انکشاف نے عالمی کرکٹ میں بھونچال لا دیا تھا۔ دہلی پولس نے سٹے بازوں کے ساتھ کرونے کی فون پر ہوئی بات چیت کو ریکارڈ کر لیا اور پہلی بار کرکٹ میں پردے کے پیچھے چل رہے اس کھیل کے ثبوت ملے۔ پوچھ تاچھ میں کرونے نے قبول کیا کہ اس نے میچ ہارنے کے لئے پیسے لئے تھے۔ کرونے کے علاوہ ہر شل گبس، نکی بوئے اور پیٹر اسٹائرڈم بھی پیسے لینے والوں میں شامل تھے۔ کرونے معاملے پر اٹھے ہنگامہ سے ہندوستان بھی اچھوتا نہیں تھا۔ کرونے نے اپنے بیان میں ہندوستان کے سابق کپتان محمد اظہرالدین اور اجے جڈیجہ اور پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کا نام بھی لیا تھا۔ بی سی سی آئی نے اظہرالدین پر تاحیات اور جڈیجہ پر چار سال کی پابندی عائد کردی تھی۔ پاکستان میں ملک کے ساتھ ساتھ تیز گیند باز عطاء الرحمن پر عالمی کرکٹ سے تاحیات پابندی لگادی گئی تھی۔ آئی سی سی کے تیوروں کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے کرکٹ سے میچ فکسنگ کا سایہ ہمیشہ کے لئے دور ہوجائے گا، لیکن آئی سی سی کی تدبیریں ناکافی ثابت ہوئیں۔ میچوں کو فکس کرنے کی خبریں گاہے بگاہے اخباروں کی سرخیاں اس کے بعد بھی بنتی رہیں اور پاکستان اس میں سب سے آگے رہا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا شاید ہی ایسا کوئی کھلاڑی ہو، جس کا نام سٹے بازوں کے ساتھ نہ جوڑا گیا ہو، لیکن پی سی بی نے کبھی اس کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی۔ یاتو کھلاڑیو ںکو چھوٹی موٹی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا یا معاملے پر پردہ ڈال دیا گیا۔ سچائی تو یہ ہے کہ کرکٹ بورڈوں کا حال کم وبیش ایک جیسا ہے۔1998 میں آسٹریلیا کے سابق کھلاڑیوں شین وارن اور مارک وا کو سٹے بازوںکے ساتھ سانٹھ گانٹھ کا قصور وار پایا گیاتھا، لیکن دونوں ہی کھلاڑیو ںکو صرف جرمانہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ قریب دو سال پہلے ویسٹ انڈیز کے بلے باز مرلان سیموئلس کے خلاف بھی سٹے بازوں کے ساتھ ملی بھگت کے ثبوت ملے تھے، لیکن سیموئلس کو صرف دو سال کے لئے پابندی لگاکر چھوڑ دیا گیا۔
یہ بھی سچ ہے کہ میچ فکسنگ میں ہر ملک کے کھلاڑی شامل ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کرکٹ کا بڑھتا کمرشیلائزیشن ۔ کرکٹ کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ سے اس کا بازار مسلسل بڑھ رہا ہے اور یہ گلوبل اسپورٹ کی شکل میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ آج ایک میچ کے لئے ہر کھلاڑی کو لاکھوں روپے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ اشتہارات، ماڈلنگ، اسپانسر شپ وغیرہ سے ہونے والی آمدنی سے ہر ایک کھلاڑی سال میں کروڑوں کی کمائی کر لیتا ہے۔ کرکٹ بورڈوں کی کمائی بھی اسی طرح آسمان چھورہی ہے۔ ٹیلی کاسٹ رائٹس، اسپانسر رائٹس اور دیگر صورتوں سے ہر ملک کا کرکٹ بورڈ آج اربوں میںکھیل رہا ہے۔ جب کھیل میں اتنا پیسہ ہو، تو پاؤں بہکنے کا امکان ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ انڈین پریمئر لیگ جیسے کھیل کے انعقاد نے ان امکانات کو اور بھی استحکام بخشا ہے۔ چوتھی دنیا آئی پی ایل میں چلنے والے فکسنگ کے کھیل کا پہلے ہی انکشاف کرچکا ہے، لیکن ملکی کرکٹ ادارے اور آئی سی سی نے اس جانب سے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔
سچائی یہ بھی ہے کہ میچ فکسنگ کے اس کھیل میں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ بھی برابر کا حصہ دار ہے۔ محمد آصف کی سابق گرل فرینڈ وینا ملک نے تو پی سی بی کے افسروں پر کھلے عام میچ فکسنگ میں شامل ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ان کی باتوں کو اتنی آسانی سے خارج بھی نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اتنا بڑا اسکینڈل سامنے آنے کے باوجود پی سی بی جس طرح اپنے کھلاڑیو ںکو بچانے کی کوشش کررہا ہے، اس سے کسی گہری سازش کی بو آتی ہے۔ یہی بات آئی سی سی کے لئے بھی کہی جاسکتی ہے۔ پہلے کے واقعات کو چھوڑ بھی دیں تو گزشتہ ایک سال میں کم سے کم دو ممالک کے کرکٹ کھلاڑیوں نے آئی سی سی کو سٹے بازوں کے خلاف ثبوت فراہم کرائے ہیں، لیکن آئی سی سی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ بنگلہ دیشی ٹیم کے دو کھلاڑیوں سے سٹے بازوں نے گزشتہ سال دورۂ ہندوستان کے دوران رابطہ قائم کیا تھا۔ ان کھلاڑیوں نے فوراً ہی اس بابت آئی سی سی کو مطلع کردیا ، لیکن کاؤنسلنگ کی بدعنوانی مخالف یونٹ کچھ بھی نہیں کرپائی۔ آسٹریلیا کے شین وارن نے تو واضح طور پر کہا ہے کہ میچ فکسنگ کے بڑھتے واقعات کے لئے سب سے بڑا قصوروار آئی سی سی ہی ہے، لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے۔ میچ فکسنگ کی یہ دیمک جس طرح کرکٹ کے کھیل کوچاٹ چاٹ کر مسلسل کھوکھلا کرتی جارہی ہے، اس سے یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں اس کھیل پر سے بھروسہ ہی نہ اٹھ جائے۔ آئی سی سی کے ساتھ ساتھ تمام ممالک کے کرکٹ بورڈوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اب سخت اقدامات نہیں کئے گئے تو کرکٹ کے وجود پر ہی سوالیہ نشان کھڑے ہوجائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *